کیا معجزے کافی ہیں؟

یہ محض ایک جملہ نہیں، ایک سوال ہے ایسا سوال جو اپنے اندر طنز بھی رکھتا ہے اور تعجب بھی، فخر بھی سمیٹے ہوئے ہے اور اضطراب بھی۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے روایتی پیمانوں سے ناپنا شاید ممکن نہیں۔ یہاں معیشت کی کتاب کچھ اور کہتی ہے اور خارجہ پالیسی کا عملی بیانیہ کچھ اور۔ ایک طرف آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک ہے، تو دوسری جانب عالمی سفارت کاری میں غیر معمولی چابک دستی۔ یہ تضاد نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ حقیقت ہے جسے سمجھنے کے لئے محض اعداد و شمار کافی نہیں، ایک وسیع تر تناظر درکار ہے۔
گزشتہ برسوں میں پاکستان نے جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا، وہ کسی ایک صف میں کھڑا ہونے سے انکار کی کہانی ہے۔ امریکا سے تعلقات بھی برقرار، چین کے ساتھ شراکت بھی مستحکم، ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا تاثر بھی، اور خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی یقین دہانیاں بھی۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں جب اندرونی معیشت دباؤ کا شکار ہو، بظاہر ایک تضاد محسوس ہوتا ہے مگر درحقیقت یہی پاکستان کی جغرافیائی سیاست کی مجبوری اور مہارت دونوں ہے۔
سوال یہ ہے کیا یہ سب محض ”جگاڑ“ ہے یا ایک ایسا غیر رسمی ماڈل جسے دنیا نے ابھی پوری طرح سمجھا نہیں؟ پاکستان کی پوزیشن ہمیشہ ایک ایسے پل کی رہی ہے جو مختلف طاقتوں کو جوڑتا بھی ہے اور خود بوجھ بھی اٹھاتا ہے۔ افغانستان سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک اور جنوبی ایشیا سے عالمی طاقتوں تک ہر محاذ پر اس کی موجودگی کسی نہ کسی صورت ناگزیر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر کمزور معیشت کے باوجود، پاکستان کو نظر انداز کرنا عالمی طاقتوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے اور وہ کم اہم نہیں۔ ایک ایسی قوم جو داخلی سطح پر معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روز گاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے نبرد آزما ہو، اس کے لیے عالمی کردار پر فخر کرنا ایک حد تک فطری ہے، مگر مستقل حل نہیں۔ ریاست کا اصل امتحان عالمی ثالث بننے سے زیادہ اپنے شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانا ہے۔ یہ کہنا کہ ”ہم بیک وقت قرض بھی لیتے ہیں اور دنیا بھی بچاتے ہیں“ ، ایک دلچسپ بیانیہ تو ہو سکتا ہے، مگر اس میں ایک سنجیدہ سوال پوشیدہ ہے، کیا ہم اپنی ترجیحات درست ترتیب میں رکھے ہوئے ہیں؟
پاکستان کا اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو معاشی استحکام میں کیسے تبدیل کرے۔ عالمی وقار تب ہی پائیدار بنتا ہے جب داخلی بنیادیں مضبوط ہوں۔ ورنہ یہ تاثر وقتی ہو سکتا ہے، مستقل نہیں۔ اور جہاں تک قوم کا تعلق ہے، وہ بھی اسی کہانی کا حصہ ہے۔ کھیل، تفریح، اور روزمرہ زندگی اپنی جگہ، مگر اجتماعی شعور اور ذمہ داری کا احساس بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ایک متحرک ریاست کے لئے متحرک معاشرہ ناگزیر ہوتا ہے۔ آخر میں، یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پاکستان واقعی ایک غیر معمولی ریاست ہے مگر اس غیر معمولیت کو پائیدار کامیابی میں بدلنے کے لیے سنجیدگی، تسلسل اور داخلی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
یہ دیس معجزوں پر ضرور کھڑا ہے، مگر اسے نظام کی ضرورت ہے۔
