پیچھے کیا چھوڑ آئے
برصغیر کی تاریخ میں 1947 کا سال محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ انسانی ہجرت، یادوں کے انہدام اور شناخت کے ازسرِ نو تعین کا سال تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب لاکھوں انسانوں نے سرحدیں نہیں، اپنے ماضی، اپنے گھر، اپنی گلیاں اور اپنی پہچانیں چھوڑ دیں۔ انہی لاکھوں کہانیوں میں ایک کہانی ہمارے خاندان کی بھی ہے، امرتسر سے لاہور کی ہجرت کی کہانی، جو صرف فاصلے کی نہیں بلکہ وقت اور یادوں کی ہجرت بھی ہے۔
یونیسیف کی ایک تحقیق کے مطابق، کسی بھی خطے میں بسنے والی تیسری نسل کو وہاں کی حقیقی مقامی نسل تصور کیا جاتا ہے۔ اس پیمانے پر دیکھا جائے تو ہم لاہور کے ہیں۔ یہ شہر ہماری شناخت، ہماری زبان اور ہماری روزمرہ زندگی کا مرکز ہے۔ مگر تاریخ کے کچھ دھاگے ایسے ہوتے ہیں جو نسلوں کے بدلنے سے بھی نہیں ٹوٹتے۔ ہمارے لیے امرتسر ایسا ہی ایک دھاگا ہے، نظر نہ آنے والا مگر شدت سے محسوس ہونے والا۔
میرے والد اپنے والدین کے ساتھ تقسیمِ ہند کے نتیجے میں امرتسر سے لاہور ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس ہجرت کی داستان وہی تھی جو اس دور کے بیشتر مہاجروں کی تھی، جانوں کا ضیاع، جائیدادوں کا بچھڑنا، اور ایک ایسے سفر کا آغاز جس میں انسان اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر بھی اس سے آزاد نہیں ہو پاتا۔ ہمارے بزرگوں کی گفتگو میں امرتسر بارہا زندہ ہوتا رہا، اتنا کہ اس شہر کا نقشہ ہمارے ذہنوں میں کسی دیکھی ہوئی حقیقت کی طرح نقش ہو گیا۔
یہ ایک عجیب نفسیاتی وراثت ہے : ہم نے وہ شہر نہیں دیکھا تھا، مگر اس کی گلیاں، بازار، اور محلے ہمیں اپنے لگتے تھے۔ جیسے یادیں جینیاتی طور پر منتقل ہو گئی ہوں۔
1998 میں جب میں پہلی بار دہلی گیا اور ٹرین امرتسر سے گزری تو دل میں ایک بے نام سی کسک جاگی۔ خواہش ہوئی کہ ٹرین کچھ دیر کے لیے رک جائے اور میں چند لمحوں کے لیے ہی سہی، اس شہر کو دیکھ سکوں جہاں سے میری کہانی کا ایک حصہ شروع ہوتا ہے۔ مگر اس وقت سرحدیں صرف جغرافیائی نہیں تھیں، اجازت ناموں اور ضابطوں کی دیواریں بھی ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔
پھر 2007 آیا۔ آزادی کے ساٹھ برس مکمل ہونے پر مجھے امرتسر میں ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت ملی۔ یہ محض ایک دعوت نہیں تھی، یہ ماضی سے ایک ملاقات کا موقع تھا۔ میں نے سب سے پہلے اپنے والد کو یہ خبر سنائی۔ ان کے چہرے پر جو چمک آئی، وہ کسی شہر کی نہیں، اپنی کھوئی ہوئی دنیا کی واپسی کی چمک تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر امرتسر کا نقشہ کھینچا، گلیاں، چوک، بازار جیسے وہ آج بھی ان کے سامنے موجود ہوں۔
جب میں امرتسر پہنچا تو ایک عجیب سی کیفیت تھی، جیسے دل سینے سے باہر آ جائے گا۔ یہ ایک اجنبی شہر تھا، مگر اس کی ہوا میں ایک مانوسیت تھی۔ خالصہ کالج کی عمارت دیکھ کر لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی یاد آئی۔ تاریخ جیسے دونوں شہروں کے درمیان ایک پل بناتی نظر آئی۔
سیمینار کے بعد میری جستجو واضح تھی: مجھے اپنے بزرگوں کا گھر تلاش کرنا تھا۔ ہال بازار، کوتوالی، گورنمنٹ ہائی اسکول، ملکہ کی یادگار، یہ سب وہ نشانیاں تھیں جو میرے ذہن میں برسوں سے محفوظ تھیں۔ میں کٹرا ماہن سنگھ تک پہنچا، پانی کی ٹینکیاں بھی مل گئیں، مگر وہ گلی نہ مل سکی جہاں کبھی ہمارا گھر تھا۔ یہ تلاش محض ایک مکان کی نہیں تھی، ایک گمشدہ وقت کی تھی، جو شاید کسی نقشے میں نہیں مل سکتا۔
اگلے دن جلیانوالہ باغ اور دربار صاحب کی زیارت نے اس سفر کو ایک اور تاریخی گہرائی دے دی۔ دربار صاحب میں داخل ہوتے ہوئے آپریشن بلیو اسٹار کی گونج ذہن میں ابھری، اور جلیانوالہ باغ میں قدم رکھتے ہی اپنے پردادا اور دادا کی وہ کہانی یاد آئی جب وہ اس قتلِ عام میں بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہ کنواں، وہ راستہ، یہ سب محض تاریخی مقامات نہیں تھے، یہ میرے اپنے خاندان کی تاریخ کے زندہ استعارے تھے۔
ان لمحوں میں تاریخ، ذاتی یادداشت اور اجتماعی شعور ایک ہو گئے تھے۔
امرتسر میں جس سے بھی بات ہوتی، دل چاہتا کہ اسے بتاؤں یہ شہر میرے بزرگوں کا ہے، یہ میری یادوں میں بھی زندہ ہے، چاہے میں نے اسے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو۔ یہ تعلق کسی قانونی دستاویز یا شناختی کارڈ کا محتاج نہیں، یہ ایک داخلی نسبت ہے، جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی۔
آج کی نسل کے لیے امرتسر شاید صرف ایک شہر ہے جس کا ذکر فلموں یا خبروں میں آتا ہے۔ ان کے لیے یہ ایک جغرافیائی حقیقت ہے، ایک جذباتی وراثت نہیں۔ مگر ہمارے لیے یہ ایک ایسا ماضی ہے جو حال کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ ہم نے پیچھے کیا چھوڑا؟
گھر؟ زمین؟ سامان؟
نہیں، ہم نے اپنے وقت کا ایک حصہ، اپنی پہچان کا ایک رخ، اور اپنی یادوں کا ایک مستقل باب پیچھے چھوڑا ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ امرتسر ہمارے لیے صرف ایک شہر نہیں، بلکہ ایک ایسا سوال ہے، جو ہر نسل اپنے اپنے انداز میں دوبارہ پوچھتی ہے۔

