بلاگگوشہ ادب

تنہا: (78)

سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول

salma awan

”شلپی! ملک سلامت رہے۔ زندگی کا کیا ہے؟ یہ ختم ہوتی ہے تو ہو، آبرو لٹتی ہے تو لٹے۔ میں نے تو سوچ لیا ہے۔ اسے سمجھ لیا ہے کہ عزت اور ذلت سبھی اسی کی طرف سے ہیں، وہی انہیں چھینتا اور وہی بخشتا ہے۔“

تو اسے محسوس ہوا تھا کہ اس کا غصہ یکسر ختم ہو گیا ہے۔
”اور رہا مجھے واپس بھجوانے کا سوال۔“
اس نے قدرے توقف کے بعد کہا۔
”تو میں اس کا حق کسی کو نہیں دوں گی۔“
اور وہ کہنی پٹی پر ٹکائے، اب صرف یہ سوچ رہا تھا۔
”میں اس جنونی لڑکی کو جو کنویں میں گرنا چاہتی ہے کیونکر سمجھاؤں؟“

ساڑھے گیارہ بجے وہ اسے گھر لے جا رہا تھا۔ وہ اس معاملے کو اب ماں اور بابا کے سپرد کرنا چاہتا تھا۔ گھر میں سب سو رہے تھے صرف بلبل جاگ رہا تھا، جس نے کار کی آواز سن کر فوراً دروازہ کھولا تھا۔ بلبل شرمسار سا تھا۔

پر اس کے دل میں اس کے لئے ذرا برابر بھی میل نہ تھا۔ اُن تینوں میں سے بلبل اسے یوں بھی بہت پیارا تھا۔ اگلی صبح جب وہ سو رہی تھی، یہ معاملہ ماں اور بابا کی سامنے رکھا گیا۔ ماں تو سنتے ہی بھڑک اٹھیں۔ فخر اور بینو نے بھی ایپسو کو لعن طعن کیا۔ بابا دکھ سے بولے۔

”یہ ہیں منفی سیاست کے کرشمے۔“
”ان باتوں کو چھوڑئیے۔ اس وقت اس مسئلے کا فوری حل سوچنا ہے۔ شلپی بھیا اس کے بھائی بلوانا چاہتے ہیں۔“

اور ماں کا کلیجہ پھٹا۔ انہوں نے یہ تو بُھلا ہی دیا تھا کہ اسے ایک دن یہاں سے جانا بھی ہے۔ وہ تو وہیں بیٹھے بیٹھے رونے لگیں۔ بینو اور فخر بھی افسردہ ہو گئے۔

بابا نے دفتر جانا تھا۔ انہوں نے اٹھتے اٹھتے کہا۔

”شلپی گھر آئے تو کہنا کہ ابھی وہ کچھ نہ کرے۔ میں معاملے کی خود پڑتال کروں گا اور ہاں! اسے فی الحال باہر نہ جانے دینا۔“

دن چڑھے جب وہ جاگی تو اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مہینوں کی بیمار ہے اور اس کی ساری طاقت بیماری کا مقابلہ کرنے میں صرف ہو گئی ہو۔ گزشتہ دن کے واقعات ایک ایک کر کے اسے یاد آئے۔ یہ وہ بھی سمجھتی تھی کہ شلپی اس کے لئے مخلص ہے پر اسے مغربی پاکستان بھجوانے کا حق وہ ہرگز اسے دینا نہیں چاہتی تھی۔

مجھے پاکستان سے پیار ہے۔ میں یہاں کام کرنا چاہتی ہوں تاکہ بنگلہ قومیت کے اس دیو کا جو اس گونگی بہری سرزمین کو بے گناہوں کے خون سے لالہ زار بنانے والا ہے، کا مقابلہ کر سکوں۔

اور پھر منہ ہاتھ دھو کروہ ماں سے ملنے گئی، ماں چوکی پر بیٹھی گہری سوچ میں ڈوبی تھیں۔ انہوں نے جب اسے اپنے گلے سے لگایا تو اس کی سسکیاں نکل گئیں۔ ماں بھی زار زار روتی رہیں۔ اس نے انہیں سب کچھ بتایا۔ ماں کو شلپی کے ساتھ ساتھ بلبل پر بھی شدید غصہ آیا۔ جب وہ کالج سے گھر آیا تو انہوں نے کہا۔

”بلبل! مجھے تم سے ایسی امید نہ تھی۔“
اور اس نے الزام اپنے بھائی کے سر تھوپ دیا اور خود بری الذمہ ہو گیا۔ پر ماں نے پھر بھی طنزاً کہا۔
”اب اتنے دودھ پیتے بچے تو تم بھی نہ تھے۔ مجھ سے ہی مشورہ کر لیا ہوتا۔“
اور اس نے جو اباً صرف اتنا ہی کہا۔
”ماں! آپ کو کیا معلوم میں کس قدر پریشان رہا ہوں۔“

اور سہ پہر کو جب شلپی آیا تو ماں اس پر بھی ناراض ہوئیں۔ انہوں نے تو اسے کم ظرف تک بھی کہہ دیا۔ اس نے اپنی صفائی میں جو کچھ بھی کہا، اس پر ماں بالکل مطمئن نہ ہوئیں اور جلی بھنی بولی۔

”شلپی! تم نے مجھے کچھ دنوں پہلے کہا تھا کہ ماں! سومی سے کہنا وہ محتاط رہے۔ تم نے دو ایک بار مجھے اس کے پچھمی پاکستان بھجوانے کی بات بھی کی تھی۔ اب اگر کوئی ایسی ہی خطرناک بات تھی تو تم اسے گھر لا سکتے تھے۔ کل جو اسے بے دردی سے تڑپایا گیا ہے تو اس میں کیا مصلحت تھی؟ اب اگر میں یہ کہوں کہ تمہارا مقصد اسے اذیت دینا تھا تو تمہیں غصہ لگے گا۔ پر یہ حقیقت ہے اور مجھے اس پر دکھ ہے جو کچھ تم نے کیا۔“

اور حقیقتاً اس نے اپنی ماں کی ان باتوں کا بہت برا منایا تھا۔ بھات کو ادھورا ہی چھوڑ کر وہ اٹھتے ہوئے خاصی تلخی سے بولا۔

”آپ نہ تو کچھ سمجھتی ہیں اور نہ ہی سوچتی۔ بس اعتراض کرنے سے مقصد ہے۔ آپ اسے کل گھر نہیں رکھ سکتی تھیں۔“

”بکواس کرتا ہے۔“ یہ وہ خود سے بولی تھیں۔
”خود تو میرے کہنے میں نہیں رہا اور اسے بھی ایسا ہی سمجھتا ہے۔ لو بھلا میں کہہ دیتی اور وہ نہ رکتی۔“

صبح سے شام ضرور ہوئی پر اس شام کو لانے کے لئے وہ جس سولی پر چڑھی، اس نے اس کی بوٹی بوٹی دھنک کر رکھ دی تھی۔ ماں نے اسے سویرے ہی بتا دیا تھا کہ بابا اسے باہر جانے کو منع کر گئے ہیں۔ وہ خود معاملے کی چھان پھٹک کریں گے۔ ایک کراہ کے ساتھ اس نے سوچا تھا۔

”ایسا کب تک چلے گا؟“

برآمدے میں کھڑی وہ سامنے سڑک پر لوگوں کو آتے جاتے دیکھتی رہی۔ فضا میں اڑتے جیٹ فائٹروں اور پی آئی اے کے فوکر طیاروں کو حسرت سے تکتی رہی۔ اس کے سینے سے گاہے گاہے ہوک سی اٹھتی۔ اس کے لب کانپتے، اس کی آنکھیں گیلی ہوتیں اور بے حد رقت بھری آواز میں خود سے کہتی۔

”یہ یونہی اڑتے رہیں خدایا! ان کی عظمتوں کے پرتو یونہی نظر آتے رہیں۔“

پچھلے برآمدے میں مختلف فلیٹوں میں کام کرتی عورتیں نظر پڑتیں، وہ سوچتی کہ معلوم نہیں ان کے خیالات کیا ہیں؟ کیا انہیں بھی یہ احساس ہے کہ ہم نے انہیں لوٹ لیا ہے اور ہم غاصب ہیں؟

اور پھر وہ اپنے کمرے میں لوٹ آتی۔ بستر پر لیٹ جاتی۔ تب اسے روانگ کی روہنگیائی نسل کی اس مسلمان لڑکی کی باتیں یاد آتیں جو ڈھاکہ میڈیکل کالج میں اسے ملی تھی۔ جس کی افسردہ آنکھوں اور سفید ہونٹوں نے بار بار اس سے یہ سوال کیا تھا۔

”مسلمان کا وطنیت کا تصور اتنا گھٹیا ہو گیا ہے؟“

”مایو“ میرا دیس تھا۔ میرا وطن تھا۔ میرے دادا پردادا کی ہڈیاں وہیں بنیں اور وہیں سڑیں۔ پر برما کی اشتراکی حکومت کی سختیوں نے ہمیں دیس بدر ہونے پر مجبور کر دیا۔ ہم نے تو سوچا تھا کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کے دامن میں پناہ گزین ہو گئے ہیں۔ پر یہاں آ کر ہمیں احساس ہوا ہے ہم نے غلط جگہ چنی ہے۔ تم بتاؤ ہم کہاں جائیں؟ مسلمان کے لئے کون سی جگہ رہ گئی ہے؟

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW