
ڈاکٹر رچرڈ آسٹن فری مین ( 1862 سے 1943 ) ، MRCS ممبرشپ آف دی رائل کالج آف سرجنز کے ڈاکٹر اور جاسوسی کہانیوں کے ایک برطانوی مصنف تھے۔ انہوں نے Inverted جاسوسی کہانی ایجاد کی۔ جس میں الٹا یا غیر روایتی تسلسل ہو، واقعات ترتیب سے نہ ہوں، شروع آخر سے ملے یا کہانی کا اختتام اس طرح ہو کہ وہ قاری کو چونکا دے، جسے اردو میں”الٹی کہانی“ ، یا”غیر تسلسلی کہانی“ کہا جا سکتا ہے۔ درجِ ذیل ان کی کتاب ’دی میجک کاسکٹ‘ ( 1927 ) کی چھٹی کہانی”Pandora ’s Box“ سے اخذ کردہ ہے۔
*** ***
”ارے بھئی طارق، اِس اخبار میں تمہارے مطلب کی خبر ہے“۔
”چشتی۔ تم بھی ایسی خبریں ڈھونڈتے ہو جو بظاہر غیر اہم لیکن ہمارے لئے کیس ثابت ہوتی ہیں“۔
”دیکھو“۔ چشتی نے پُرجوش انداز میں اخبار سامنے کر دیا۔
منیجر سہون ہوٹل، حیدرآباد کی جانب سے اشتہار تھا کہ اگر سات روز میں فیروز اختر نے ہمارے ہوٹل سے اپنا سامان نہیں اُٹھایا تو سامان فروخت کر کے کرایہ وصول کر لیا جائے گا۔
”ہمارا تو کام ہی ہر خبر اور اشتہار پر نظر رکھنا ہے۔ یہ اشتہار تین چار مرتبہ پہلے بھی شائع ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ہوٹل انتظامیہ آخر اب تک اس نوٹس پر عمل کیوں نہیں کروا سکی؟ ’۔ طارق نے کہا
ڈاکٹر طارق نذیر میڈیکو لیگل کا ماہر تھا۔ قانون کی ڈگری کا حامل ہونے کی وجہ سے بعض اوقات عدالتوں میں بھی نظر آتا۔ سلیم چشتی نیوز رپورٹنگ سے وابستہ تھا اور ’مخصوص‘ کیسوں کی بھاگ دوڑ میں طارق کا ہم رکاب تھا۔
*** ***
اس بات کو مشکل سے دو دن ہوئے ہوں گے جب ایک پریشان صورت شخص طارق کے دفتر میں داخل ہوا۔
”بغیر پیشگی اطلاع آنے کی معذرت۔ میرا نام نوروز اختر ہے۔ مجھے میرے وکیل نے آپ سے ملنے کو کہا ہے۔ میں اپنے چھوٹے بھائی، فیروز اختر کے سلسلے میں آپ کی مدد لینے آیا ہوں جو قتل کے الزام میں پولیس کی تحویل میں ہے“۔
”یہ تو سنگین صورتِ حال ہے۔ بہتر ہو گا کہ شروع سے بتائیں“۔ طارق نے سوال کیا۔
”شروع کہاں سے کروں؟ بھائی کے کاروبار یا گھر کے مسائل سے“۔ نو وارد نے خود کلامی کے انداز میں کہا۔
وہ دونوں ہمہ تن گوش ہو گئے۔ طارق کے لئے یہ ملاقات روزگار کا سبب بن سکتی تھی اور چشتی کے لئے کوئی چٹ پٹی کہانی۔
”میرا بھائی زیورات کا تاجر تھا۔ اکثر دوسرے شہروں میں اپنے ہاں کے ڈیزائن کردہ زیورات کی مارکیٹنگ اور نئے گاہکوں سے کاروبار کرنے خود جاتا۔ نمونوں یا چھوٹے آرڈر کے لئے ایک مخصوص بیگ اور بڑے آرڈر کے لئے خاص طور پر بنائے گئے چھوٹے صندوق میں زیورات لے کر سفر کرتا۔ تقریباً دو ماہ قبل وہ ڈیزائنوں کے کئی البم چھوٹے صندوق میں لے کر حیدرآباد گیا۔ وہاں سہون ہوٹل میں ٹھہرا اور خاص طور پر بنائے گئے اسٹور روم میں اپنا صندوق رکھوا دیا۔ میرا بھائی پہلے بھی کئی مرتبہ یہاں آ چکا تھا۔ اگلے ہی دن ایک عجیب واقعہ ہو گیا“۔
کمرے میں سکوت طاری تھا۔ طارق اور چشتی دونوں ہی بہترین سامع تھے۔ بیچ میں کوئی سوال کیا نہ لقمہ دیا۔
”میرا بھائی صبح ہوٹل سے نکل کر چند قدم ہی دور گیا ہو گا کہ بس اسٹاپ کے قریب اُسے ایک چھوٹا لیڈیز پرس گرا نظر آیا۔ اُس نے آ بیل مجھے مار والی حرکت کی۔ اُس کو اُٹھا کر کھول لیا۔ پرس میں تھوڑے سے پیسے اور لِپ اسٹِک کے علاوہ نام پتہ کی کوئی شناخت نہیں تھی۔ یہاں سے کچھ فاصلے پر پولیس چوکی تھی۔ اُس نے یہ پرس وہاں جمع کرانے کا سوچا ہی تھا کہ اُسی طرف جاتی بس آ کر رُکی۔ وہ بس میں سوار ہو گیا۔ اُس کے ساتھ ہی لیڈیز کے حصے میں ایک خاتون بھی میں سوار ہو گئی۔ بس نے بہ مشکل حرکت کی ہو گی کہ کنڈکٹر نے اس خاتون سے ٹکٹ کے پیسے مانگے۔ اس خاتون نے شور مچا دیا کہ میرا پرس پیچھے بیٹھے ہوئے شخص نے چرایا ہے۔ اور یہ کہتے ہوئے اُس نے میرے بھائی کی جانب اشارہ کیا۔ بات اتنی بڑھی کہ ڈرائیور بس سیدھا پولیس چوکی پر لے آیا۔ وہاں جب اُس خاتون نے اپنے پرس کی نشانی اور اُس میں رکھی رقم بتلائی تو میرا بھائی سکتے میں آ گیا کیوں کہ پرس میں رقم بالکل وہی تھی۔ بھائی نے اپنا موقف بتایا لیکن پولیس نے اس کا یقین نہیں کیا“۔
”اُس رات پولیس لاک اَپ میں رکھ کر اگلے روز میرے بھائی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اُس نے پولیس والے اور اُس خاتون کی شہادتوں کو سُن کر میرے بھائی کی بات کو بس کاغذی کارروائی کے طور پر سُنا اور درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔ کیس فوجداری عدالت میں بھیج دیا گیا جہاں ایک ماہ بعد کی تاریخ ملی“۔
”اللہ اللہ کر کے کیس کی تاریخ آئی تو ایک نئی کہانی سامنے آ گئی۔ کیس کی مدعیہ نے اپنا پتہ بوگس لکھوایا تھا اور اُس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ پھر وہ عورت عدالت میں حاضر بھی نہیں ہوئی اور یوں وہی مشکوک ثابت ہوئی۔ اس طرح میرے بھائی کا کیس ختم ہو گیا اور اُسے رہا کر دیا گیا۔ عدالت سے نکل کر اس نے سیدھا ہوٹل کا رُخ کیا جہاں وہ آسمان سے گر کر سیدھا کھجور میں جا اٹکا۔ راستے میں ایک معروف روزنامہ خریدا۔ یوں ہی اشتہارات پر سرسری نظر ڈالی تو اپنے ہی نام کے اشتہار پر نظر ٹِک گئی“۔
”صندوق سے متعلق؟“ چشتی نے سوال کیا۔
”جی بالکل، وہ سیدھا سہون ہوٹل پہنچا۔ کچھ دیر بعد اسے منیجر کے دفتر بھیجا گیا جہاں داخل ہوتے ہی اسے وہاں بیٹھے تین پولیس والوں نے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اس قتل پر بات کرنے سے پہلے اپنے بھائی کی خانگی زندگی کا ذکر کرنا ضروری ہو گا“۔
طارق اور چشتی خاموشی سے گفتگو سنتے رہے۔
”بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میرے بھائی کی گھریلو زندگی تکلیف دہ تھی۔ اُس کی بیوی، روبینہ مزاج کی تیز تھی۔ اِن میاں بیوی نے کم و بیش چھ سال پھر بھی ساتھ گزار ہی لئے لیکن اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ اُس کی ایک سہیلی بیگم توصیف اور اس کے شوہر کا میرے بھائی کے ہاں کافی آناطجانا تھا۔ ایک دن اُس کی قوتِ برداشت جواب دے گئی اور اِن میاں بیوی کی سخت لڑائی ہوئی جس میں میرے بھائی نے غصے میں اسے گھر سے چلے جانے کو کہا۔ وہ بھی غصہ میں خواتین کے ہاسٹل میں منتقل ہو گئی۔ ہم سب جان گئے کہ اب یہ کہانی ختم ہو نے والی ہے“۔
”لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ وہ پھر بھی و قتاً فوقتاً آتی جاتی رہی۔ یہ سلسلہ چھ ماہ چلتا رہا۔ آخری مرتبہ تو خاصی بدمزگی ہو گئی جب ایک شام میرے بھائی نے اُس پر دروازہ بند کر دیا تو اُس نے چیخ چلّا کر محلے والوں کو جمع کر لیا کہ میری ضروری اشیا اندر ہیں۔ بہرحال اہلِ محلّہ کے زور دینے پر وہ گھر میں آ گئی۔ آہستہ آہستہ آس پڑوس والے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ تقر یباً رات ساڑھے نو بجے وہ گھر سے چلی گئی۔ واپس جاتے ہوئے میرے بھائی کے علاوہ اسے کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ اس سے اگلے دن میرا بھائی حیدرآباد چلا گیا۔ دوسری طرف روبینہ اُس رات خواتین کے ہاسٹل میں نہیں پہنچی۔ بس ایک دم لاپتہ ہو گئی۔ اب میں حیدرآباد والے واقعہ کی جانب آتا ہوں”۔
”پرسوں مجھے حیدرآباد پولیس نے اطّلاع دی کہ میرے بھائی کو اپنی بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہاں پہنچ کر مجھے بتلایا گیا کہ میرے بھائی کے ہوٹل سے اچانک غائب ہو جانے کے کچھ ر وز بعد سفری سیلزمینوں کے سامان رکھے جانے کی جگہ سے ایک ناگوار بو آنے لگی۔ تفتیش کی تو پتہ چلا کہ وہ بو میرے بھائی کے صندوق میں سے آ رہی تھی۔ ہوٹل انتظامیہ کو شک ہوا اور پولیس سے رابطہ کیا۔ انہوں نے کراچی پولیس سے تفتے ش کی تو پتا چلا کہ میرے بھائی کا گھر ہفتوں سے بند ہے۔ اس پر جب حیدرآباد پولیس نے تالے توڑ کر صندوق کھولا تو اُس میں کسی عورت کا بایاں بازو اور خون میں رنگے ملبوسات نکلے۔ تب ایک منصوبہ کے تحت ہوٹل منیجر کی جانب سے اخبار میں اشتہار شائع کرایا گیا کہ فیروز اختر اگر سات روز میں تم نے ہمارے ہوٹل سے اپنا سامان نہیں اُٹھایا تو اسے فروخت کر کے کرایہ وصول کر لیا جائے گا۔ اس دوران کراچی میں میرے بھائی کے بارے میں مزید چھان بین کی گئی۔ جو بازو حیدرآباد کے صندوق سے برآمد ہوا تھا وہ مقتولہ روبینہ کی شناخت کو کافی تھا کیوں کہ اس دردناک انجام کو پہنچنے سے پندرہ روز قبل روبینہ، بیگم توصیف اور چند دوسری بیگمات نے شہر کے ایک پوش علاقے میں واقع ’ٹِیٹو پارلر‘ tattoo parlour سے اپنے ناموں کے ابتدائی حروف اور پھول بازو پر گدوائے تھے۔ صندوق سے نکلنے والے بازو پر انگریزی میں ’آر‘ R گودا ہوا تھا ساتھ ہی ایک پھول بھی۔ جب قریبی لوگوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اِس بات سے اتفاق کیا کہ یہ دونوں علامتیں روبینہ کے بازو پر تھیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ آخری مرتبہ روبینہ کو زندہ میرے بھائی کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس پس منظر میں پولیس نے سرچ وارنٹ کے ساتھ بھائی کے کراچی والے گھر کا دروازہ توڑ کر تمام گھر کی تلاشی لی”۔
”کیا اُن کو وہاں سے کچھ مِلا؟“۔ طارق نے سوال کیا۔
”مجھے علم نہیں“۔ یہ کہہ کر نو روز اختر خاموش ہو گیا۔
”کیا تمہاری بات ختم ہو گئی؟“۔ طارق نے کہا۔
”جی ہاں۔ میں اپنے بھائی کی کہانی پر کسی قسم کا کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ البتہ آپ سے اپنے بھائی کے دفاع میں کیس لڑنے کا ضرور کہوں گا۔ میرے خیال میں وکیل کو اپنے موکل کی بے گناہی پر یقین ہونا ضروری ہوتا ہے تا کہ وہ عدالت میں اُس کی بے گناہی ثابت کر سکے“۔
”تم شاید مجھے اپنا وکیل کرنے کا سوچ رہے ہو، میں وکیل نہیں البتہ میں اس کیس کی صحیح خطوط پر تفتیش میں مدد کر سکتا ہوں، اگر ابتدائی تفتیش سے تمہارے بھائی پر کیے گئے شکوک درست ثابت ہوئے تو میں اس سے آگے نہیں جاؤں گا۔ پھر تم اپنے بھائی کے لئے عدالتِ عالیہ کا کوئی وکیل کر لینا۔ اور اس کے برعکس اگر مجھے تمہارے بھائی کی بے گناہی کی وجوہات نظر آئیں تو میں اس کے ذریعے تمہارے بھائی کے وکیل کی مدد کروں گا۔ ٹھیک“۔ طارق نے مسکراتے ہوئے نوروز اختر سے کہا۔
نوروز نے بے چارگی سے ان دونوں کو دیکھا۔
”تمہارا بھائی اپنے صندوق میں سے انسانی اعضاءکے پائے جانے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟“۔
”اُس کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں اُس کے صندوق سے اشیا نکال کر یہ اعضا ڈالے گئے ہیں“۔
”کیا کسی نے تمہارے بھائی کو پھنسانے کی کوشش کی ہے؟ اگر کی ہے تو کیوں؟“۔
”میں کچھ نہیں جانتا“۔
”تم نے کسی بیگم توصیف کا ذکر کیا تھا۔ شاید یہ روبینہ کے قریب تھیں۔ یقیناً ان سے خوش گوار تعلقات ہوں گے“۔
”جی ہاں“۔
”توصیف کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہو؟“۔
”اتنا ہی علم ہے کہ وہ جانوروں کی کھال میں بھس بھرنے کا ماہر ہے (Taxidermist)“۔
”ارے واہ“۔ چشتی کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
”ہمارے ہاں تو اس فن کے قدر داں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ شاید میوزیم وغیرہ یہ کام کرواتے ہوں“۔ طارق نے گفتگو میں حصہ ڈالا۔
”بھس بھرنے سے پہلے کاٹا پیٹی بھی تو ضروری ہے“۔ چشتی نے جوش میں آ کر کہا۔
”لیکن انسانی اعضا کاٹنے کی نہیں“۔ طارق نے مسکراتے ہوئے کہا۔”فرض کرو وہ ایسا کر بھی لیتا تب بھی اس قتل سے اُس کو کیا فائدہ حاصل ہوتا؟“۔
نوروز اختر انہماک سے طارق کی بات سن رہا تھا۔
”البتہ تمہارے بھائی کے پاس مقصد اور موقع دونوں ہیں۔ کیا اُس نے کبھی لوگوں کے سامنے روبینہ کو مارنے کی دھمکی دی تھی؟“۔ طارق نے غیر متوقع سوال کر دیا۔
”افسوس ہے کہ ایسا کئی مرتبہ ہوا۔ وہ تو بہت دھیمے مزاج کا آدمی تھا۔ لیکن منہ سے نکلے الفاظ کبھی وبالِ جان بن جائیں گے، کون جانتا تھا“۔
”ٹھیک ہے۔ میں اس پورے معاملے کو دیکھ کر رابطہ کروں گا۔ ویسے تمہارے بھائی کے لئے حالات سازگار نہیں“۔
”مجھے معلوم ہے“۔ نوروز نے اُٹھتے ہوئے کہا اور اپنا تعارفی کارڈ نکال کر میز پر رکھتے ہوئے افسردہ لہجہ میں کہا،”لیکن ہمیں امید تو اچھی رکھنا چاہیے“۔ یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔
”میرے خیال سے تم تفتیش کا آغاز حیدرآباد سے کرو گے۔ کیوں ایسا ہی ہے نا؟“۔ چشتی نے کہا۔
”ہاں۔ ہم حقائق اپنے حساب سے دیکھیں گے۔ پھر طے کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ ہمیں اب فو راً چل دینا چاہیے۔ تمام شواہد اپنی اصلی حالت میں دیکھے جانا ضروری ہیں۔ میں پولیس سے رابطہ کرتا ہوں کہ ہمیں حیدرآباد پولیس سے ممکن حد تک تعاون حاصل ہو جائے اور اُس بدنصیب عورت کی لاش تک رسائی بھی مل جائے“۔
انہوں نے اپنی تیاری کر لی۔ اس میں طارق کا مخصوص ’تحقیقی بیگ‘ بھی شامل تھا۔ پولیس حکام نے انہیں حیدرآباد کے ایس پی آفس سے تعاون حاصل ہونے کا بھی بتلا دیا۔
وہ حیدرآباد ریلو ے جنکشن سے سیدھے متعلقہ پولیس اسٹیشن پہنچے۔ وہاں ضروری بات چیت کے بعد اس کیس کے تفتیتشی پولیس افسر پرویز ترین کے ہمراہ طارق اور چشتی مردہ خانہ گئے۔ راستے میں پولیس افسر سے گفتگو بھی ہوتی رہی جس کا کہنا تھا کہ اس کیس سے اِن کو کچھ نہیں ملے گا۔
”فیروز اختر کے گھر سے پولیس کو کیا ملا تھا؟“۔ لوہا گرم جانتے ہوئے طارق نے اُس سے پوچھا۔
”اُس کے بیڈ روم کی الماری سے خواب آور گولیوں کی شیشی برآمد ہوئی جو ایک تہائی خالی تھی۔ ممکن ہے اُس نے خود استعمال کی ہوں لیکن جب پولیس والے پچھلے صحن میں آئے تو محسوس ہوا گویا ایک جگہ تازہ کھدائی کے آثار ہیں۔ احتیاط سے جب وہاں سے مٹی ہٹائی گئی تو ایک چادر میں انسانی باقیات برآمد ہوئیں“۔
”کیا اِن میں سر شامل تھا؟“۔ طارق نے بے ساختہ سوال کیا۔
”نہیں وہ تو ہمیں ملا ہی نہیں۔ البتہ جسم کے اندرونی اعضاء ملے جو ماہرین کے مطابق ایک پینتیس سالہ عورت کے ہیں۔ اُس کے معدے میں بڑی تعداد میں خواب آور گولیاں بھی پائی گئیں“۔
”اندر کی معلومات دینے کا بہت شکریہ۔ میں اس کیس میں نامزد ملزم کی وکالت کو نہیں بلکہ حقائق جاننے کے لئے یہاں آیا ہوں کہ اس کے دفاع کے لئے کچھ ہے بھی یا نہیں“۔
گفتگو کے دوران یہ لوگ مردہ خانے پہنچ گئے۔ دروازے پر مردہ خانے کے عملے کے علاوہ پولیس کا سپاہی بھی موجود تھا۔ طارق، چشتی اور وہ پولیس افسر اندر آ گئے۔
پتھر کے چبوترے پر لاش کی باقیات ڈھکی ہوئی رکھی تھیں۔ پولیس افسر نے اس جانب اشارہ کیا اور خود دروازے کے قریب اسٹول پر بیٹھ گیا۔ طارق اور چشتی نے چادر سرکائی تو کسی سفّاک درندے کی کارروائی نظر آئی۔ عورت کے بائیں بازو پر انگریزی میں ’آر‘ اور بالکل اوپر ایک پھول گودا ہوا نظر آیا۔ چشتی سوچنے لگا کہ اس بدنصیب کی کتنی آرزوئیں ہوں گی جو کبھی پوری نہ ہو سکیں گی۔ یہ بھی خیال آیا کہ اس کیس کے دفاع میں کوئی جان نہیں ہے۔
طارق اس کے برعکس سوچ رہا تھا۔ اُس کی عادت تھی کہ وہ نئے سرے سے تفتیش کرتا تھا۔ ایک خصوصی سائنسی آلے کی مدد سے بازو اور ٹانگوں کی درست پیمائش کی۔ پھر ایک محدب عدسہ سے گودا گیا حرف، پھول اور گودی گئی جِلد کا بغور معائنہ کیا۔
طارق کو کام کرتے دیکھ کر پولیس افسر سرگوشی کے انداز میں سلیم چشتی سے کہنے لگاؒ،”ڈاکٹر صاحب اِن گودے گئے حرف اور پھول کو عدسہ کی مدد سے نہ جانے کب سے دیکھ رہے ہیں حالانکہ ہم بیس فِٹ دور سے بھی بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں“۔
آس پاس سے بے نیاز طارق اعضا کے معائنہ کے بعد لکڑی کے بینچ پر رکھے صندوق کی جانب آیا۔ ہر طرف سے بغوردیکھا۔ صندوق کے بیرونی طرف سفید رنگ سے انگریزی میں ’ایف اے‘ لکھا ہوا تھا۔ اس نے اِن حروف کی بھی پیمائش کی۔ وہ ایک نوٹ بُک میں تمام اہم نکات اور پیمائشیں لکھ رہا تھا۔ پھر اپنی نوٹ بُک کو بیگ میں ڈال کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
”جناب، یہاں سے سہون ہوٹل کتنا دور ہے؟“
”پیدل کا راستہ ہے۔ میں لے چلتا ہوں“۔ مردہ خانے سے نکلتے ہوئے پولیس افسر نے خوشدلی سے کہا۔”لیکن ڈاکٹر صاحب برا نہ ماننا، آپ لوگ اس کیس پر اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں“۔
(جاری ہے )
