منٹو: کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے؟

جو منٹو مٹی کا پتلا تھا وہ تو اٹھارہ جنوری 1955 کو صرف بیالیس سال کی عمر میں مٹی میں جا ملا۔ لیکن اردو افسانے کا شہنشاہ سعادت حسن منٹو آج بھی زندہ ہے۔
اگر آپ نے لالی ووڈ کی پرانی فلمیں دیکھیں ہیں یا ان کے بارے میں سنا ہے تو نا ممکن ہے کہ آپ نے 1966 کی لالی ووڈ فلم بدنام، جو سعادت حسن منٹو کی کہانی ”جھمکے“ پر مبنی تھی، اس کا یہ ڈائیلاگ نہ سنا ہو جو آج بھی ہمارے اجتماعی شعور کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ مکالمے فلم کا بنیادی سوال ہیں ”کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے؟ کس نے دلوائے یہ جھمکے؟“
اور یہ محض زیورات کی بابت نہیں، بلکہ اس معاشرتی نظام پر ایک خاموش مگر گہرا سوال ہے جہاں چمک دمک کے پیچھے چھپی قیمت کو دیکھنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔
منٹو کے ہاں زیور زینت نہیں، بلکہ طاقت، استحقاق اور سماجی منافقت کی علامت ہے۔
آج جب پرتعیش اور نمائشی شادیاں۔ انتہائی مہنگی شادیاں۔ غیر معمولی بڑی شادیاں غیر ضروری طور پر بڑی تقریباتِ شادی سماجی قبولیت اور میڈیا کی توثیق حاصل کر لیتی ہیں، تو یہی سوال نئی شدت کے ساتھ لوٹ آتا ہے : یہ سب کچھ کس قیمت پر ممکن ہوا، اور اس قیمت کو کون ادا کر رہا ہے؟
فلم بدنام ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب سماج نمائش کو معمول اور خاموشی کو دانشمندی سمجھنے لگے، تو اخلاقی معیشت یا مورل اکونومی زوال کا شکار ہو جاتی ہے اور اس زوال کی قیمت اکثر وہ ادا کرتے ہیں جن کی آواز کبھی سنی ہی نہیں جاتی
پاکستان میں حالیہ برسوں میں سیاسی خاندانوں اور عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کی شادیاں یا ان کے خاندان میں ہونے والی شادیاں محض نجی تقاریب نہیں رہیں۔ ان کی غیر معمولی تشہیر، میڈیا کوریج، اور ان پر ہونے والی بحث نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی اخلاقی ترجیحات کہاں کھو بیٹھے ہیں؟
اس کالم میں، میں واضح طور پر ان گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹس، غیر ذمہ دار ٹویٹس، فیس بک پوسٹس یا ذاتی اور بازاری تبصروں کو زیرِ بحث نہیں لا رہی چاہے ان کے پیچھے فالوونگ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ میری توجہ اُن آوازوں پر ہے جو واقعی اثر رکھتی ہیں :سینئر صحافی، سیاست دان، تجزیہ کار، اور وہ افراد جو رائے عامہ کی سمت متعین کرتے ہیں۔
شاہانہ اور نمائشی شادیاں: مسئلہ شادی نہیں،
مسئلہ بے گانگی ہے، اپاتھی ہے، مسئلہ نمائش ہے
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ سوال یہ نہیں کہ Lavish شادی ہونی چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا طاقت، دولت اور عوامی حیثیت کے ساتھ بے لگام نمائش کو معمول بنایا جانا چاہیے؟
جب غیر معمولی بڑی شادیاں عوامی عہدے رکھنے والوں سے جڑ جائیں، تو وہ محض ذاتی خوشی نہیں رہتیں۔ وہ ایک سماجی پیغام بن جاتی ہیں ایسا پیغام جو موازنہ، احساسِ محرومی اور ناکامی کو جنم دیتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل نوجوانوں کو گھیرے ہوئے ہے، اور دوسری طرف طاقت کے مراکز سے دولت کی کھلی نمائش دکھائی جاتی ہے۔ یہ تضاد محض سماجی نہیں، بلکہ ذہنی صحت پر براہِ راست اثر ڈالنے والا ہے۔
تحقیقی شواہد بتاتے ہیں کہ مسلسل سماجی موازنہ، طبقاتی دباؤ اور شادی کو اسٹیٹس شو سے جوڑ دینا ڈپریشن، اضطراب اور خاندانی تنازعات میں اضافہ کرتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان خواتین میں۔
(Moral Economy) اور میڈیا کے کردار پر ابھی تک بات نہیں ہوئی ہے
اخلاقی معیشت وہ غیر تحریری سماجی معاہدہ ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ کیا قابلِ فخر ہے، کیا قابلِ سوال، اور کیا ناقابلِ قبول۔
جب میڈیا گھنٹوں ایسی تقریبات کو دکھاتا ہے، جب معروف قلم کار یا تجزیہ کار یا فیمنسٹ چیمپئنز ان کا دفاع ”ثقافت“ ، ”روایت“ یا ”نجی معاملہ“ یا ”مسوجنی“ کہہ کر کرتے ہیں، تو درحقیقت ہم اجتماعی طور پر اپنی اخلاقی معیشت کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔
یہی خاموشی اور جانبداری اس سوال کو جنم دیتی ہے : کیا سادگی، قانون اور کفایت شعاری صرف عام شہریوں کے لیے ہے؟
میری تین دہائیوں پر محیط جہیز بطور تشدد پر مبنی جدوجہد جس میں مہنگی بری ’اعلی شان مینو‘ برانڈڈ آئٹمز سے لدی ہوئی شادی کی تقریبات سے چھٹکارے کی درخواست بھی شامل رہی ہے ’شادی مگر سادی‘ کی اپیل بھی شامل رہی ہے
کے لیے یہ سوال اور موقف نا تو نیا ہے نا ہی حیران کن۔
میں نے ہمیشہ واضح طور پر جہیز کو ”روایت کے نام پر تشدد“ قرار دیا تھا۔
میں 1994 سے بطور بانی (FADAN (Fight Against Dowry Advocacy Network) پرتکلف شادیوں، جہیز، اور ان تمام رسومات کے خلاف آواز اٹھا رہی ہوں جنہیں ثقافت اور روایت کا لبادہ اوڑھا کر قابلِ قبول بنا دیا گیا ہے حالانکہ ان کے اثرات واضح طور پر تشدد آمیز ہیں۔
یہ بات بھی ریکارڈ پر رہنی چاہیے کہ FADAN کوئی این جی او نہیں، بلکہ ایک نان فنڈڈ، نان الیٹ نیٹ ورک ہے ایک اخلاقی اور فکری جدوجہد۔
ان تین دہائیوں میں نے کوشش کر کے اس تشدد پر مختلف پلیٹ فارمز پر گفتگو کروائی۔ کچھ شعور بیدار ہوا۔ تحقیق سامنے آئی اور قریہ قریہ گھوم کر پاکستانی نوجوانوں سے جہیز سے انکار کے حلف لیے گئے۔
مگر اس کے باوجود یہ تلخ حقیقت برقرار ہے کہ پاکستان کی ہر اسمبلی آج بھی جہیز کی مکمل ممانعت کے لیے جامع اور موثر قومی قانون سازی سے محروم ہے۔ جہاں سادہ شادی یا ون ڈش جیسے قوانین موجود ہیں، وہاں عملدرآمد کمزور ہے یا وہ صرف کمزور طبقات تک محدود ہو جاتے ہیں۔ یہ عدم توازن مسئلے کو مزید گہرا کرتا ہے۔
میں اس پر پہلے بھی لکھ چکی ہوں، جن میں IBC Urdu میں 19 جنوری 2026 کو شائع ہونے والا میرا حالیہ کالم ”پی ٹی وی کا ایک ڈرامہ، جہیز، اور میری تین دہائیوں پر محیط جدوجہد“ بھی شامل ہے۔ اس کالم سے پہلے بھی میں نے پی ٹی وی کے 1986 کے اس لانگ پلے کے بارے میں لکھا ہے
استانی راحت اور بیٹی فہمیدہ کی اذیتیں خاموش تشدد کی علامت ہیں۔ یہ محض فکشن رائٹر اشفاق احمد کا تخیل نہیں، بلکہ ایک سماجی حقیقت کی علامت ہے۔
راحت ایک بیوہ اسکول ٹیچر ہے، محدود آمدن، غیر یقینی رہائش اور سماجی دباؤ اس کی زندگی کا حصہ ہیں۔ ایک با اثر گھرانے کے قریب یا ان کے سرونٹ کوارٹر میں رہائش اختیار کرنے کے بعد ، وہاں کی آسودہ زندگی، شادیوں کی تیاری اور جہیز کی نمائش فہمیدہ کے احساسِ کمتری کو شدید کر دیتی ہے۔
ماں کی دیانت دار محنت سے جوڑی گئی چند سادہ چیزیں بھی فہمیدہ کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتی ہیں اور یہ دباؤ بالآخر ایک المناک انجام میں بدل جاتا ہے۔ فہمیدہ دماغ کی رگ پھٹنے سے مر جاتی ہے اور استانی صاحبہ اس کے ”قتل“ کی ایف ای آر درج کرانے تھانے چلی جاتی ہیں۔ مگر قانون اسے قتل نہیں مانتا، مگر سماجیات اور نفسیات کی زبان میں یہ خاموش قتل ہے۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
دولت کی بے جا نمائش بھی ذہنی اور سماجی تشدد کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔
معاشیات میں ڈیمونسٹریشن ایفیکٹ (Demonstration Effect) جسے اکثر ڈیو سن بیری ایفیکٹ یا ”جونز خاندان کے برابر آنے کی کوشش“ سے جوڑا جاتا ہے۔ اس رجحان کو کہا جاتا ہے جس میں افراد یا گھرانے اپنی کھپت، طرزِ زندگی اور اخراجات کو دوسروں کی نقل کرتے ہوئے تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ سماجی موازنہ، سماجی حیثیت کے حصول، اور وقار و وقعت کی خواہش سے جنم لیتا ہے۔
جدید معاشرے میں سوشل میڈیا اور عالمگیریت نے اس رجحان کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں زندگی کے اہم مواقع خصوصاً ہماری دیسی شادیاں ( گر وہ بدیس بھی ہوں تو ) دولت کی نمائش اور تفاخر کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔
آخر میں میرے جیسی معاشرے کی ایک کمزور فرد کے لیے لازم ہے کہ میں یہ لکھوں کہ یہ تحریر کسی فرد، خاندان یا جماعت کے خلاف نہیں۔
یہ ایک ناتواں ’بے طاقت اور سوچنے والی ایک عام خاتون شہری، ایک سماجی کارکن، اور ایک محقق کی فکری تشویش ہے۔
اگر ہم واقعی ایک صحت مند، منصف اور باوقار معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں دکھاوے، خاموشی اور دوہرے معیار پر بات کرنا ہوگی سنجیدگی سے، شائستگی سے، اور اصولی انداز میں۔
اور یاد رکھیے، ’’زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں، اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو منٹو کے افسانے پڑھیے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں، وہ اس عہد کی برائیاں ہیں۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں۔ جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔‘‘

بہترین مضمون لکھا ہے. ایک رانی نے اپنے بیٹے کی شادی کرکے. ہم غریبوں کی غربت کا اڑایا ہے مزاق