آج کل بومرز اور جین زی کے بارے میں باتیں چل رہی ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں چاہے معیشت ہو سیاست ہو ثقافت ہو معاشرت ہو مذہبیت ہو تو ہر جگہ بومرز کا سایہ نظر آتا ہے۔ اب تک ملکی حالات ٹھیک نا ہونے کی وجہ سے جین زی ان سے ناراض نظر آتی ہے۔
1947 سے لے کر اب تک ایک ڈکٹیٹر کی سوچ زیادہ پنپتی رہی با نسبت جمہوریت کے۔ اگر پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں تو پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کو کہیں نا کہیں ویلکم کیا گیا اس کی بڑی وجہ اس خطے میں موجود silent gen کا اثر تھا جنھوں نے کوئی مزاحمت نہیں اپنائی۔ اس کی وجہ سے بومرز کو Gen X اور Gen Y پر بھی فوقیت رہی اور طاقت کے بل بوتے پر یا خود کو منوا لیا یا چپ کرا دیا۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اگر بومرز نے جین زی کے لیے کچھ کیا ہوتا تو آج انھیں جین زی کا یوں سامنا نا کرنا پڑتا۔
بومرز اپنے دور اقتدار میں اس ملک کے اندر منیجمنٹ، ادارے، نظم و ضبط، تعلیم، ترقی، انصاف اور مساوات کو فروغ دے دیتی تو جین زی ان کو ویلکم کر کے آگے چلنے کے لیے تیار کھڑی ہوتی جبکہ اب مزاحمت پر آ کھڑی ہوئی۔ یہ حقیقت اور ہے کہ جین زی کو استعمال کرنے والے بھی بومرز ہی ہیں جو کہیں نا کہیں اقتدار کے دور انجوائے کر چکے ہیں۔ لیکن بہت سے مزاحمت کا راستہ اپنائے ہوئے جین زی کے ساتھ بلکہ ان کو آگے لا رہے ہیں۔ یہاں ایک سوال بنتا ہے کہ کیا یہ بومرز جو مزاحمت پر ہیں وہ جین زی کے ساتھ ہمیشہ رہیں گے؟
اس سوال کا جواب اگر جین زی خود کھوجنا شروع کر دے تو Gen Alpha اور آنے والی نسلیں ان کی ہمیشہ شکر گزار رہیں گی۔
ایک سوشل میڈیا پر وائرل بے ہنگم کالم سے ایک بات لیتے ہوئے کہ جین زی مطلب زومر اپنے خیالات اپنے احساسات اور نا انصافی کے خلاف بول نہیں سکتے اگر بولتے ہیں تو اٹھا لیے جاتے ہیں اور نا انصافی، اقربا پروری اور بے روزگاری کے بڑھتے خدشات کی وجہ سے جین زی کا بہت سارا طبقہ ملک چھوڑ کر باہر جا رہا ہے۔ در حقیقت یہ سچ ہے تو پھر جین زی کو اب کچھ سوچنا ہو گا اپنے جوش اور اپنی انرجی کو فکری تدبر کے ساتھ بروئے کار لاتے ہوئے اس ملک کی بہتری کے لیے آگے آنا پڑے گا بجائے ملک چھوڑنے بجائے حالات کو کوسنے بجائے مایوس ہونے کے۔ یہ نا ہو کل کو بومرز کے بعد کوئی اور قابض ہو جائے اور نسل در نسل ایک ہی کھیل چلتا رہے آنے والی نسل جین زی کو کوس رہی ہو۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جین زی کو بہت قربانیاں دینا پڑیں گی ملک کے لیے اور ملک کی بقا اور آنے والی نسل کی خوشحالی کے لیے۔
جین زی کو Nationalism اور Patriotism کو لے کر چلنا ہو گا گر دیکھا جائے تو ساری لڑائی اسی بات پر آتی ہے اگر دونوں چیزیں ہوں گی تو قانون ہو گا انصاف ہو گا معیشت ہوگی معاشرت ہوگی۔ جین زی کو اپنا Motto بنانا ہو گا مطالبات اور مزاحمت کا طریقہ کار طے کرنا ہو گا اس کی سمت بنانا ہوگی بومرز کو مجبور کرنا ہو گا تب جاکر ایک پوزیٹو طریقے سے تبدیلی آئے گی وگرنہ جین زی کے جوش اور حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے غلط سمت بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ جین زی کو فکری اصلاحات کے ساتھ خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے اور تربیت کی ضرورت ہے آیا وہ آنے والی تبدیلی اور حالات کے مطابق چل سکیں گے۔ جین زی کو اپنے کچھ مطالبات بنانے ہوں گے اور رکھنے ہوں گے کہ
1۔ ملکی قانون سازی میں جین زی کا شامل ہونا ان کی confirmation اور انھیں جواب دہ ہونا۔
2۔ تمام صوبوں کے جین زی کے لوگ اور طالب علموں کا مشاورتی عمل میں ہونا اور ان کے سوالوں کے جواب دینا۔
3۔ تمام مسائل اور وسائل جو قومی بنیادوں پر دیکھے اور کیے جا رہے ہیں جین زی کو ان میں شامل کرنا۔
4۔ تعلیمی ایمرجنسی ڈیکلیئر کر کے اس میں جین زی کو شامل کرنا۔ تاکہ نیشنل لیول پر تعلیمی تبدیلیاں اور تعلیمی سرگرمیاں کی جا سکیں۔
5۔ جین زی کو نیشنل ایشوز جو انٹرنیشنل ایشوز کی وجہ سے ہیں کے بارے میں بریف کیا جائے۔
6۔ اظہار رائے آزادی جو کسی کی نفس کو مجروح نا کرے بلکہ تعمیری اور اصلاحی بنیادوں پر ہو۔
7۔ تنقید برائے اصلاح اور غلط بات پر تنقید کا حق ہو تاکہ جین زی کھل کر بول سکے بجائے لاوا بننے کے۔
8۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو سامنے لاکر جین زی کو اس میں شامل کیا جائے۔ بجائے بومرز کو بار بار انٹرٹین کرنے کے۔
9۔ بلوچستان، سندھ، پنجاب، کے پی کے اور کشمیر کی جین زی کو ایک کرنا ہو گا۔
جین زی کو خود کو حالات کو سنبھالنے کے قابل بنانا ہو گا جو کہ ایک لمبا پروسس ہے اور بومرز کو بھی جین زی کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنا ہو گا جین زی کے لیے کچھ کرنا ہو گا تاکہ آنے والی جنریشن خوشحال ہو اور دعا دیتی رہے۔ ناکہ پچھلے چھہتر سالوں کی طرح رونا نا روتی رہے۔ یہ آراء ناصرف ملک پاکستان کے تمام جین زی بلکہ تمام لوگوں کی ہیں خدارا اس پر سوچنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی سالمیت کے لیے بے روزگاری، امن، انصاف، مساوات اور رواداری کو عام کیا جا سکے۔ جو کہ صرف جین زی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

گریٹ کالم سلیم اکبر رئیس صاحب ،سلیم اکبر رئیس کے کالم ہم بہت شوق سے پڑھتے ہیں ،بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملتا ہے ،اللہ تعالیٰ سلیم اکبر رئیس صاحب کو سلامت رکھے مزید ترقی اور کامیابی سے نوازے امین
Wao very good effort keep it up saleem Akbar