میرے مطابق

ووٹ کی حرمت کا سوال

Mussawir Khan

جمہوری نظام حکومت کی بنیاد عوام کی رائے پر قائم ہوتی ہے، اور اس رائے کے اظہار کا سب سے موثر ذریعہ ووٹ ہے۔ ووٹ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک شہری کی طاقت، اس کا حق اور اس کی آواز ہے۔ جمہوریت میں امیر اور غریب، تعلیم یافتہ اور ناخواندہ سب کے ووٹ کی قدر برابر ہوتی ہے۔ یہی مساوات جمہوریت کو دیگر نظاموں سے ممتاز بناتی ہے۔ ووٹ کے ذریعے عوام نہ صرف اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کی سمت کا تعین بھی کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ووٹ کی اہمیت کو وہ مقام حاصل نہیں ہو سکا جو اسے ہونا چاہیے تھا۔ ہر انتخابی عمل کے بعد ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جو عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیتے ہیں۔ جب ووٹ کی عزت پامال ہوتی ہے، نتائج متنازع بنتے ہیں یا عوام کی رائے کو پس پشت ڈالا جاتا ہے تو جمہوریت کی روح مجروح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عوام کا نظام پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور وہ خود کو بے اختیار محسوس کرنے لگتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس عمل میں غیر سیاسی عناصر کا کردار اکثر زیر بحث رہتا ہے۔ تاہم اس سے بھی بڑھ کر ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ جب سیاسی قیادت اقتدار کے حصول کے لیے عوامی طاقت کے بجائے غیر منتخب قوتوں کی طرف دیکھتی ہے تو وہ درحقیقت اپنے ہی منشور اور عوامی مینڈیٹ کی نفی کرتی ہے۔ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب سیاسی جماعتیں اصولوں پر قائم رہیں اور عوامی فیصلے کو دل سے قبول کریں۔

حالیہ سیاسی منظرنامے میں ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے شکوک و شبہات نے شدت اختیار کر لی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بعض نمائندے حقیقی عوامی حمایت کے بجائے متنازع انتخابی طریقہ کار کے ذریعے سامنے آئے ہیں، جنہیں طنزاً ”فارم 47 کی پیداوار“ کہا جاتا ہے۔ یہ تاثر اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ عام شہری یہ سوال اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر عوامی مینڈیٹ واضح تھا تو پھر ایسے نمائندوں سے جوابدہی کیوں نہیں کی جاتی جو بظاہر ہارے ہوئے نظر آتے تھے مگر اقتدار کا حصہ بن گئے۔ اس قسم کے خدشات جمہوریت کے لیے نہایت نقصان دہ ہیں کیونکہ یہ عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کرتے ہیں۔

پاکستان میں بارہا یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ووٹ کے مقابلے میں ”بوٹ“ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ سوچ نہ صرف جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے بلکہ اداروں کے درمیان توازن کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اگر عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ ان کا ووٹ فیصلہ کن نہیں ہے تو وہ سیاسی عمل سے کنارہ کش ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں نظام مزید کمزور ہو جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ووٹ کی حرمت کو یقینی بنایا جائے۔ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد، اداروں کی آئینی حدود کا احترام اور سیاسی جماعتوں کا اصولی کردار وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھیں اور اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ جمہوریت کی بقا ووٹ کے احترام سے مشروط ہے۔ جب تک ووٹ کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جائے گا، جمہوریت ایک نعرے سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ووٹ کی حرمت کو صرف تسلیم ہی نہ کیا جائے بلکہ اسے عملی طور پر یقینی بھی بنایا جائے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW