تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر: 26

لڑکوں کی ایک ٹولی ماں کو دیکھ کر رک گئی۔ تقریباً سبھوں نے ان کے ساتھ چلتی جدید وضع کی اس خوبصورت اور پر اعتماد لڑکی کو قدرے حیرت سے دیکھا۔ انہوں نے شاید ماں سے یونیورسٹی آنے کی وجہ دریافت کی تھی اور وہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں کچھ بتا رہی تھیں۔ تب وہ لڑکے انہیں ہیڈ آف دی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے کمرے کے سامنے چھوڑ کر چلے گئے۔ کمرے میں آرام دہ کرسی پر نیم دراز ایک بے حد فربہ انسان کو اس نے دیکھا۔
”یہ تمہاری زہرت چچی کے ماموں ہیں۔“ ماں نے اسے بتایا۔
تھوڑی دیر تک بعد وہ ان کی احوال پرسی کرتی رہیں۔ وہ بیمار تھے۔ اس کا تعارف ان سے کروایا گیا۔
”بھئی! میں تو ان کا بہت دنوں سے انتظار کر رہا تھا۔ زہرت نے تو خطوں کی ڈاک بٹھا دی ہے۔ ابھی کل ٹرنک کال بھی کی تھی، بہت فکر ہے اسے اپنے بھتیجی کی۔“
وہ خوش دلی سے اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے تھے۔
انہوں نے فون پر کسی سے کچھ دیر باتیں کیں اور پھر انہیں اپنے ملازم کے ساتھ شعبہ سیاسیات بھیج دیا۔ وہاں سے وہ رجسٹرار آفس گئیں اور جب سمیعہ علی ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایم اے کے سال اول میں داخل ہو گئیں تو اس نے سکھ کا لمبا سانس بھرا۔
اور پھر ہرے بھرے زمین کے اس قطعے میں سے گزرتے ہوئے جس کے ایک ہاتھ ادارۂ تعلیم و تحقیق کی عالیشان عمارت تھی اور دوسری طرف جناح ہال تھا، جہاں فواروں سے پانی اچھل اچھل کر نیچے گرتے ہوئے بہت اچھا لگتا تھا، اس نے ماں سے یہ کہا تھا کہ وہ اب ہوسٹل چلی جانا چاہتی ہے اور ماں نے اسے یوں دیکھا تھا جیسے اس نے کوئی بہت ہی غلط بات کہہ دی ہو۔ انہوں نے مزید کچھ بولنے کا موقع ہی نہ دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر جانے کے لئے رکشہ میں جا بیٹھیں۔
وہ اس گھر میں مزید نہیں رہنا چاہتی تھی۔ یوں اتنے خلوص کا منہ توڑ جواب دینا بھی بری بات تھی۔ بابا کام سے آچکے تھے۔ انہوں نے داخلے کی تمام تفصیل دریافت کی اور سب کچھ بتانے کی بعد اس نے ہوسٹل جانے کا پھر کہا۔
” یہ تمہارا اپنا گھر ہے بیٹے! اور گھر کے ہوتے ہوئے ہوسٹل کس لئے جانا چاہتی ہو؟“
وہ الجھی۔
”اے میرے اللہ! میں اب کیا کروں؟ کس جنجال میں پھنس گئی ہوں؟ اس گھر میں مجھے ہرگز نہیں رہنا، وہ کیا آ کر پھر میری صورت دیکھے گا؟ یہ نہیں ہو گا۔
اس نے یہ سب کڑھ کر سوچا اور ملتجی انداز میں بولی۔
”میں آپ کے خلوص اور محبت کی شکر گزار ہوں لیکن مجھے ہوسٹل میں رہنا زیادہ فائدہ مند نظر آتا ہے۔“
اس نے بہت سی دلیلیں دیں، جھوٹ موٹ اس لڑکی کا حوالہ دیا جو اسے رجسٹرار آفس میں ملی تھی اور جس نے ہال میں سیٹ کے لئے فوری کوشش کے لئے کہا تھا۔
بینو، بلبل اور فخر میں سے کوئی بھی اس کے ہوسٹل جانے پر رضامند نہ تھا۔ پر اس کی ضد کے سامنے بالآخر سبھی خاموش ہو گئے۔
بابا فخر سے کہہ رہے تھے۔
”تم بازار سے دہی کا ایک پیالہ لے آؤ۔ کل تمہاری ماں کو منگوانا یاد نہیں رہا تھا۔“
اور بلبل سے باتیں کرتے کرتے اس نے بابا کی یہ بات سنی اور اپنے دل میں سوچا کہ ”دہی تو مجھے کبھی اچھا نہیں لگا، نہ ہی میں اسے شوق سے کھاتی ہوں اور کہہ دوں کہ یہ اگر میرے لئے منگوانا ہے تو تکلیف نہ کریں۔“
اور یہ کہنے ہی لگی تھی پر جانے کیا سوچ کر چپکی ہو رہی۔
” نہیں کہتی میں، کیا معلوم محسوس کریں۔“
اور کھانے کے بعد جب یہ دہی اس کے سامنے لایا گیا تو وہ حیران ہوئی، یہ گائے کا میٹھا زعفران ڈلا دہی تھا۔ نہایت لذیذ، خوش ہوئی وہ اسے کھا کر۔
اور اب اسے جلدی تھی کہ کسی طرح وہ اسے گھر سے فوراً نکل جائے۔ ہر ہلکی سی آہٹ پر اسے محسوس ہوتا کہ وہ پونے چھ فٹا متعصب نوجوان آ گیا ہے۔
ماں افسردہ تھیں۔
رقیہ ہال کے سامنے گاڑی رکی تو بابا مسکرائے اور بولے۔
”لو یہ تمہارا جیل خانہ۔“
ہال کی پروسٹ سے بابا کی اچھی راہ و رسم تھی۔ سیٹ آسانی سے اسے مل گئی۔ اس کے لوکل گارجین بابا خود بنے تھے اور جب وہ لوگ واپس چلے گئے تو جانے کیا ہوا اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کا سامان آفس کے سامنے برآمدے میں پڑا تھا اور وہ خود وہیں سیمنٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔ باہر بارش کسی مہارانی کی طرح سبک خرامی سے اتر رہی تھی۔
یہ بہت وسیع ہال تھا۔ پانچ منزلہ جدید عمارت ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلی تھی۔ اس کے قریب ہی قوس کی شکل کی ایک اور عمارت تھی۔ ہرے بھرے لان جن میں پتا بہار کے بڑے بڑے بوٹے بہت آن سے کھڑے تھے۔ اسوک کے لال پھول کھلے تھے، خوبصورت روشیں اور دائیں بائیں برآمدے مختلف عمارتوں کو آپس میں ملا رہے تھے۔ سائیکل رکشے دھڑا دھڑ جا رہے تھے۔
گھٹنے پر ٹھوڑی ٹکائے وہ خالی خالی نظروں سے اپنے سامنے دیکھ رہی تھی، بارش تیز ہو گئی تھی۔
اور ملازموں نے اس اتنی اسمارٹ اور خوش شکل لڑکی کو وہاں زمین پر یوں بیٹھے دیکھ کر حیرانی کا اظہار کیا اور اس سے ٹوٹی پھوٹی اردو میں مؤدبانہ درخواست کی کہ وہ ملحقہ کامن روم میں بیٹھے۔ اس کا سامان وہ مین بلڈنگ میں جلد ہی پہنچائے دیتے ہیں۔
پر وہ بال کٹی لڑکی بہت نرمی سے بولی۔
” میں یہاں بالکل ٹھیک ہوں، تم کچھ فکر نہ کرو۔“
اور رقیہ ہال کے یہ ملازم جن کی عمریں یہاں گزر گئی تھیں۔ اس کے اتنے نرم اور میٹھے لہجے میں بات کرنے پر چونکے تھے۔ ان میں سے دو نے ایک دوسرے سے کہا۔
” یہ کسی اعلیٰ گھر کی لڑکی ہے۔“
وہ پژمردہ سی ہو رہی تھی۔ بنگال آ کر پڑھنے کی ساری اُمنگ بلبلے کی طرح بیٹھتی نظر آ رہی تھی۔
یہ حساس ذہن بھی کیا مصیبت ہے؟ بس ذرا تکلیف وہ احساس ملا تو یوں پھٹنے لگتا ہے کہ مانو ابھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔
ایک بوڑھا سائیکل رکشے والا اوپر سے گزرنے کے بجائے برآمدے میں سے گزرا، پھٹی قمیض بھیگی ہوئی تھی۔
”ا اللہ!“
اس نے لمبی سانس لی اور گھٹنے پر رکھی ٹھوڑی اوپر اٹھا لی۔ خود پر اس نے شدید غصہ کھایا۔
”کیا بکواس ہے؟ آتے ہی سوچوں کے کن جھمیلوں میں پھنس گئی ہوں۔“
سامنے آڈیٹوریم میں لگے آٹومیٹک فون کے پاس کھڑی تین چار لڑکیاں باتیں کر رہی تھیں۔ ڈھیلی ڈھالی ساڑھیوں اور کھلے بالوں میں وہ کسی طور بھی یونیورسٹی گرلز نظر نہیں آ رہی تھیں۔
اس کی نظر اپنے پاؤں پر پڑی، سفید گداز نرم پاؤں جن کے بڑھے ناخن سلیقے سے کیوٹکس میں ڈوبے تھے۔
” تمہیں میں اچھی طرح جانتی نہیں تھی وگرنہ بتاتی کہ تم نے جو میرے کٹے بالوں اور فیشن ایبل لباس کو دیکھ کر سوچا ہو گا کہ جانے میرا تعلق کتنی اعلیٰ طبقے سے ہے تو ایسی کوئی بات نہیں۔“
ڈھاکہ کے سینکڑوں گنجان گلی محلوں کی طرح میں بھی لاہور کی ایک ایسی ہی جگہ سے اٹھ کر آئی ہوں۔
اب میں یہ کیا بتاؤں کہ معاشی الجھنوں نے میرے گھرانے کو کتنا پریشان کیا؟ یہ اور بات ہے کہ انھوں نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور معاشرے میں اپنے لیے آبرو مندانہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
جاری ہے۔
