میرے مطابق

ویپنگ کا جال: دھوئیں میں لپٹی تباہی

woman Silhouette

سن 2003 ء میں چین میں تجارتی (کمرشل) برقی سگریٹ (ای سگریٹ) متعارف ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں ایک وبا کی طرح پھیل گئی۔ ویپ اور برقی سگریٹ کا استعمال ایک ایسا طریقہ ہے جس میں برقی سگریٹ یا اسی قسم کے کسی برقی آلے کے ذریعے نکوٹین یا کسی خوشبودار مائع کو بخارات میں تبدیل کر کے سانس کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ برقی سگریٹ اس برقی آلے کو کہتے ہیں جس سے یہ عمل انجام دیا جاتا ہے، جبکہ ویپنگ بخارات کو سانس کے ذریعے اندر کھینچنے کا عمل ہے، اس میں موجود نکوٹین سے نشہ سگریٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔

ڈیمن تھامسن اپنی کتاب ”دی فکس“ میں لکھتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں لت (ایڈکشن) ایک وبا کی صورت اختیار کرچکی ہے، جہاں انسان کا چینی سے لے کر منشیات، موبائل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے عناصر پر انحصار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ لت صرف مادے سے ہی وابستہ نہیں بلکہ یہ ایک رویے کی صورت اختیار کرچکی ہے، جسے جنم دینے والے ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ اور سرمایہ دارنہ نظام ہیں۔ ہم اپنی زندگی میں مختلف چیزوں کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ ان سے پیچھا چھوڑنا مشکل ہے۔ ایسی طرح ویپ اور برقی سگریٹ کے شوق میں عالمی سطح پر ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ گلوبل اسٹیٹ آف ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی حالیہ رپوٹ کے مطابق 2011 ء میں دنیا بھر میں ویپ استعمال کرنے والوں کی تعداد 70 لاکھ تھی، جو کہ 2021 ء میں بڑھ کر 8 کروڑ 20 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ویپنگ کی عالمی مارکیٹ کی قدر 22.6 ارب ڈالر ہے، جبکہ 5 سال قبل یہ 4.2 ارب ڈالر تھی اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

خصوصاً نوعمر اور نوجوان طبقہ ویپ اور برقی سگریٹ کی اس وبا کا شکار ہیں یہ صورت حال پورے معاشرے کے لیے تشویشناک ہے۔ 2024 ء کے امریکہ کے نیشنل یوتھ ٹوبیکو سروے کے مطابق، ان کا استعمال اور رجحان نوجوانوں میں اب ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن رہا ہے۔ مزید اس سروے میں انکشاف ہوا کہ مڈل اور ہائی اسکول کے 9.5 فیصد طلباء یعنی تقریباً 16 لاکھ 30 ہزار نوجوان اس کے استعمال کنندہ ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان بھی اس وبا کی لپیٹ میں ہے یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، نوعمر اور نوجوان اس لت کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی ادار‏ۂ جنرل آف کمیونٹی میڈیسن اینڈ پبلک ہیلتھ کی تحقیق بتاتی ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد بچے 18 سال کی عمر سے پہلے ہی ویپ اور برقی سگریٹ کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں اب یہ انتہائی عام ہو چکا ہے اور نوعمر اور نوجوانوں میں تیزی سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب نوعمر اور نوجوان سرعام ان کا استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بلکہ صورت ِ حال اب یہاں تک رسوخ پا چکی ہے کہ تعلیمی اداروں میں بھی استعمال کر رہے ہیں۔

یہ اگر ہمارے لیے لمحۂ تامل نہیں تو کیا ہے؟ بری چیزیں، اچھی چیزوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتی اور اثر رکھتی ہیں۔ انٹرنیشنل جرنل آف کمیونٹی میڈیسن اینڈ پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق، جس میں کراچی کی ایک جامعہ کے 389 طلبہ میں سے 68.4 فیصد ( 266 طلبہ) نے ویپ استعمال کرنے کی تصدیق کی۔ ان میں سے تقریباً ایک تہائی ( 35.5 فیصد) طلبہ روزانہ ویپ استعمال کرتے ہیں، جبکہ 60.9 فیصد طلبہ ایسے ہیں جو ایک سال سے زائد عرصے سے ویپنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ویپنگ اور اس کے استعمال پر مزید تحقیق کی اشد ضرورت ہے، تاکہ اس کے استعمال کرنے والوں کی صحیح تعداد کا تخمینہ لگایا جا سکے اور اس پر پابندی اور موثر تدابیر اپنائی جا سکیں۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں تمباکو استعمال کرنے والے افراد میں سے 19.1 فیصد برقی سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں، جب کہ مجموعی طور پر تقریباً 6.2 فیصد پاکستانی برقی سگریٹ کے صارف ہیں۔

پاکستان میں اس کی تیزی سے پھیلنے اور عام ہونے کی کچھ وجوہات یہ ہیں :

· ویپنگ مصنوعات کی نہ درآمد پر کوئی پابندی ہے اور نہ ہی مقامی سطح پر پیداوار پر، جس کی وجہ سے یہ آسانی سے ہر جگہ دستیاب ہیں، چاہے دکانیں ہوں یا آن لائن پلیٹ فارمز۔

· شہروں میں تیزی سے ویپ کی دکانیں (آؤٹ لیٹس) کھل رہی ہیں، جو چمچماتی، پرکشش اور لگژری انداز میں ویپنگ کو ”ایلیٹ“ ، ”رائج الوقت فیشن“ (ٹرینڈی) اور ”کم نقصان دہ“ کے نعرے کے تحت پیش کر رہے ہیں، جو کہ محض ایک سفید جھوٹ ہے اور نوعمر اور نوجوان اس کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں۔

· ملک میں ابھی تک کوئی جامع قانون سازی موجود نہیں جو ویپنگ کے پھیلاؤ کو روک سکے۔ نہ ہی اس کے خلاف کوئی واضح سزا یا جرمانے متعین کیے گئے ہیں، جس کے باعث نوجوان بے خوفی سے اس کا استعمال کر رہے ہیں۔

· کئی والدین یا تو ویپنگ سے ناواقف ہیں یا انہیں مکمل آگاہی نہیں کہ یہ کیا چیز ہے اور کتنی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

· ویپنگ کو سگریٹ کے محفوظ متبادل، نکوٹین فری کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جو کہ سراسر غلط فہمی اور فریب ہے۔

· فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر ویپنگ کا بے باک استعمال اس کو جدید دور کی ”ضرورت“ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور نوجوانوں کو ویپنگ کی طرف ترغیب دیتے ہیں۔

· ویپ کے خوشبودار اور فینسی فلیورز نوجوانوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں اور وہ اس لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

· عوامی آگہی کی کمی، عوام ویپنگ کے نقصانات پر نہ تحقیق کرتی ہے اور نہ ہی باخبر ہے۔ آگہی مہمات نہ ہونے کے باعث ہر فرد بآسانی اس تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

· ان مصنوعات کو بیچنے والے غیر ذمہ دار دکاندار نہ عمر کی حد کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی نوعمروں پر ان کے نقصانات کا۔ ان کا مقصد صرف اپنی مصنوعات بیچنا ہے۔

ویپ اور برقی سگریٹ کے متعدد نقصانات جو مختلف تحقیقات، مشاہدات اور واقعات سے ثابت ہوئے ہیں، درجہ ذیل ہیں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، ویپنگ میں مضرِ صحت کیمیکل پائے جاتے ہیں، مثلاً نکوٹین، بھاری دھاتیں، نہایت باریک ذرات (الٹرا فائن پارٹیکلز) ، وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز اور دیگر آلودہ عناصر ٹن وغیرہ یہ تمام مادے نہ صرف پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ دل کے امراض، بلڈ پریشر اور خون کی نالیوں کے نظام کو بھی متاثّر کرتے ہیں، جو دل کی بیماریوں اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا سبب بنتے ہیں۔ برقی سگریٹ کے گرم ہونے کے ساتھ ہی اس میں موجود کیمیاوی مادّے (کیمیکلز) کی شدت اور زہریلے پن میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، جو انسانی صحت کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کی صحت پر بھی منفی اثرات ڈالتے ہیں، اس سے پھیپھڑوں کی نالیوں کی سوزش اور دمے کے دوروں میں شدت دیکھی گئی ہے۔

ویپنگ نوجوانوں کی ذہنی نشوونما پر اثر اندا‌ز ہوتی ہے۔ جس کے باعث یاد داشت میں کمی اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ رسالہ برائے صحتِ نوعمر افراد کی 2021 ء کی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ نکوٹین کا مسلسل استعمال متعدد ذہنی تبدیلیوں کو جنم دیتا ہے جو سیکھنے، یاد رکھنے اور جذباتی توازن کو متزلزل کرتی ہیں۔

برقی سگریٹ کے پھٹنے کے واقعات دنیا بھر میں ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں زخمی ہونے کے واقعات اور بعض اوقات اموات بھی ہوئی ہیں۔ 2015 ء میں امریکہ کے شہر فلوریڈا میں ایک شخص کی برقی سگریٹ منہ میں پھٹنے سے ہلاکت ہوئی، سن 2009 ء سے 2016 ء کے درمیان 195 برقی سگریٹ پھٹنے کے واقعات ہوئے جن میں سے کچھ معمولی اور کچھ شدید تھے، مطابق امریکی فائر انتظامیہ۔

عالمی ادارۂ صحت کی جاری کردہ رپوٹ کے مطابق ویپنگ میں استعمال ہونے والی نکوٹین جسم کو نشے کا عادی بنا دیتی ہے۔ اس لت کے نتیجے میں جسمانی نظام متاثّر ہوتا ہے اور قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق ویپنگ کینسر کے خطرات میں بھی اضافہ کرتی ہے، خاص طور پر منہ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر میں۔

اس کا حل کیا ہے؟ کیسے روکا جائے اور اپنے ملک کے قیمتی اثاثے کو اس سے بچایا جائے :

دنیا میں اس وقت بہت سے ممالک نے ویپ اور برقی سگریٹ کی وبا پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین متعارف کروائے اور پابندیاں لگائی ہیں۔ جو اس وبا کی روک تھام میں موثر ثابت ہوئے ہیں۔ جیسے سنگاپور اور تھائی لینڈ میں ویپ اور برقی سگریٹ کو رکھنے، خریدنے، بیچنے، درآمد اور پیداوار پر مکمل پابندی ہے، برآمد ہونے کی صورت میں سزا اور بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، سیاح کو بھی ان دونوں ممالک میں یہ لانے کی اجازت نہیں اور خلاف ورزی پر سزائیں دی جاتی ہیں۔ ہمیں قانون نہ صرف بنانے کی ضرورت ہے بلکہ عملی اقدامات اور اطلاق کی بھی اشد ضرورت ہے۔

اشتہارات، فلیورز، دکانیں کھولنے پر پابندی اور سگریٹ خریدنے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف جرمانے، عوامی آگاہی مہمات، تعلیمی اداروں میں سیمینار، ان تمام تدابیر کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا، فن لینڈ، ناروے، ڈنمارک اور نیوزی لینڈ کے ان عملی اقدامات کی وجہ سے ان ممالک میں سال 2023 ء اور 2024 ء میں تمباکو نوشی استعمال کرنے والوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ جرمانے کے ساتھ ساتھ ویپ استعمال کرنے والوں کی رہنمائی (کونسلنگ) اور بحالی (ری ہیبیلیٹیشن) سے بھی بہتری آئے گی۔

والدین اور تعلیمی اداروں کا کردار مرکزی ہے، بچوں کو ان چیزوں کے مضر اور تباہ کن اثرات سے آگاہ کریں اور ان پر نظر رکھیں۔ ہمارے ادار‏ہ صحت، ہسپتال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے جو اس مسئلے کی روک تھام کے لیے مختلف حکمت عملیاں اپنا سکتے ہیں۔

یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر قابو پانا نہایت ضروری ہے، نہ صرف ہماری موجودہ نسل کے لیے، بلکہ آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے بھی۔ اگر آج کی نوجوان نسل اس خطرناک لت میں گرفتار ہوتی چلی گئی، تو وہ نہ ملک کی خدمت کے قابل رہے گی، نہ ہی آئندہ نسلوں کی درست رہنمائی کر سکے گی۔ ہمارے نوجوان ہی وطن کی ترقی اور تعمیر کا اصل سرمایہ ہیں۔ لہٰذا ان کی صحت، سوچ اور سمت کی حفاظت کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW