بلاگ

”صرف سم ئنا اجازت اے نمے“ شیتل امر ہو گئی

کچھ لوگ جینے کی محض اداکاری کرتے ہیں مگر حقیقت میں وہ زندگی سے بھاگ رہے ہوتے ہیں، زندگی کی تلخیوں، سچائیوں اور منافقتوں کا سامنا کرنے کی بجائے ریت میں منہ دبائے یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ شاید یہ تلخیاں ہمیں بھول کر آگے بڑھ جائیں اور ہمیں ان کا سامنا نہ ہی کرنا پڑے، ایسا فلموں میں تو ممکن ہے لیکن حقیقی دنیا میں تو یہ سب ممکن نہیں ہو سکتا نا!

جینے کے لیے تو ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے اگر اپنی مرضی و منشا کے مطابق جیا جائے، ورنہ تو ساٹھ ستر سالہ زندگی بھی فضول اور لاحاصل ہوتی ہے اگر دوسروں کے حساب سے جی جائے، بلوچستان کی بہادر بلوچ خاتون اپنی ساری زندگی صرف اس ایک جملے میں جی گئی اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی۔

”صرف سم ئنا اجازت اے نمے“
(صرف گولی مارنے کی اجازت ہے )

بندوق اور اسلحہ سے لیس باغیرت مردوں کی گاڑی سے تنہا اتری اور مطلوبہ جگہ پر کھڑے ہو کر جان دے دی، ثابت کر دیا کہ اگر محبت کرنا جرم ہے سو ہم اس جرم کا اعتراف کرتے ہیں اور بخوشی سزا بھی قبول کرتے ہیں کہ کہیں محبت کے تقدس پر کوئی حرف نہ آ جائے اور صدیوں کی ریت و روایت جس پر محبت کرنے والے چلتے آرہے ہیں کو کوئی ٹھیس نہ پہنچ جائے۔

محبت تو اپنی نوع میں ایک پاکیزہ جذبہ ہوتا ہے بلکہ دو محبت کرنے والوں کے بیچ جو سماجی کیدو غیرت اور عزت کے نام پر مداخلت کرتے ہیں وہی تو محبت ایسے پاکیزہ جذبے میں حسد اور نفرت کی ملاوٹ کر کے اس کے حقیقی تقدس کو مجروح کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں، سزا تو انہیں ملنی چاہیے جو محبت میں شرک کا ارتکاب کرتے ہوئے دو دلوں کے بیچ نفاق کا سبب بنتے ہیں۔

شیتل نے اپنی محبت کو شرمندہ نہیں ہونے دیا، جرگے کے سامنے ببانگ دہل اپنے عشق اور محبت کا اظہار کیا، اور جرگے کی صورت میں صدیوں کی روایت کے آگے سر جھکائے بغیر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنا نام بھاگنے والوں کی فہرست میں لکھوانے کی بجائے تاریخ کے اس پنے پر لکھوانے کو ترجیح دے گی جس پر باغیرت مردوں کی ظلم کی داستانیں رقم ہوں اور اس بیچ ایک باغی لڑکی کا تذکرہ بھی جلی حروف میں ملے گا کہ جس نے نا صرف اپنی محبت کو امر کیا بلکہ بہادری کے ساتھ ظلم کا سامنا بھی کیا اور ظالم سماج کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا۔

دو دلوں کی سچی محبت کم از کم اس ظاہری مکھوٹے سے تو کہیں افضل ہے جو ہم خاندان کا اقبال بلند کرنے کے لیے ارینج میرج کی صورت میں ایک جبری مشقت کے طور پر نبھاتے رہتے ہیں، بچوں کی لائن لگ جاتی ہے لیکن دونوں کے خواب ایک دوسرے سے مختلف ہی رہتے ہیں، ایک چھت کے نیچے زندگیاں گزارنے والوں کے بیچ نجانے کتنی دہائیوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔

اچھا ہوا شیتل مر گئی، اگر زندہ رہتی تو نجانے کتنی بار محبت سے خائف اس سماج کے ہاتھوں مرنا پڑتا، سوال یہ ہے کہ اس سماج کے باغیرت مردوں کی غیرت ایک خاتون کے آزادانہ فیصلے سے اس قدر خائف کیوں رہتی ہے؟

جسے صدیوں کی ریاضت سے کمزور، کم عقل یا جذباتی ثابت کیا گیا ہے کہیں عقلی لحاظ سے مردوں سے برتر تو نہیں؟

جسے لبھانے کے لیے پنکھڑی گلاب کی سی، صنف نازک، بل کھاتی کمر اور ناف پر تل ایسی تشبیہات و استعارات کا استعمال کر کے دل پشوریاں کی گئیں کہیں حقیقت میں ذہین تو نہیں؟

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW