بلاگ

پاکستان میں اشرافیائی قبضہ

muhammad imran mahmood

پاکستان میں جب بھی ریاستی وسائل، سیاسی اختیار یا سرکاری اداروں کے غلط استعمال کی بات ہوتی ہے تو ہماری گفتگو فوراً کرپشن تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن شاید ہمارے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایک وسیع تر تصور کی ضرورت ہے : Elite Capture، یعنی اشرافیائی قبضہ۔

کرپشن میں کوئی فرد اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ اشرافیائی قبضہ اس سے آگے کی چیز ہے۔ اس میں طاقتور گروہ ریاستی اداروں، پالیسیوں، وسائل اور فیصلوں پر اس حد تک اثرانداز ہونے لگتے ہیں کہ نظام کے فوائد مسلسل انہی کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی معیشت کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کا آئینی ڈھانچہ وفاقی پارلیمانی جمہوریت پر قائم ہے۔ 1973 کے آئین نے پارلیمنٹ، وزیراعظم اور منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کا ایک واضح نظام دیا۔ لیکن آئینی ڈھانچہ اور عملی طاقت ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کن طبقات اور اداروں کے پاس زیادہ ہے۔

پاکستان میں طاقت کسی ایک گروہ کے پاس نہیں۔ فوج، بیوروکریسی، سیاسی خاندان، بڑے کاروباری مفادات، بڑے زمیندار اور دیگر با اثر حلقے اپنی اپنی جگہ اثر رکھتے ہیں۔ عالمی بینک کی پاکستان سے متعلق تحقیق بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مختلف اشرافیائی گروہ پالیسی اور اصلاحات پر اثرانداز ہوتے ہیں اور اس صورتحال سے ادارہ جاتی اصلاح مشکل ہو سکتی ہے۔

یہاں مسئلہ کسی ایک ادارے یا ہر فرد کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں۔ مسئلہ اس نظام کو سمجھنا ہے جس میں طاقت، تعلق اور رسائی بعض لوگوں کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں، جبکہ عام شہری کے لیے قانون اور اداروں تک رسائی زیادہ مشکل رہتی ہے۔

ایک نوجوان میرٹ پر ملازمت چاہتا ہے۔ ایک چھوٹا کاروباری منصفانہ مقابلہ چاہتا ہے۔ ایک کسان شفاف زرعی پالیسی چاہتا ہے۔ ایک عام شہری چاہتا ہے کہ سرکاری دفتر میں اس کا کام سفارش کے بغیر ہو جائے۔ جب اسے بار بار یہ محسوس ہو کہ تعلقات میرٹ سے زیادہ اہم ہیں تو ریاست پر اعتماد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

یہیں سے مسئلہ سیاسی سے معاشی بن جاتا ہے۔

اگر سرمایہ کاری، سرکاری ٹھیکے، زمین، لائسنس، مراعات یا پالیسی کے فوائد مسابقت کے بجائے تعلقات کے ذریعے تقسیم ہوں تو معیشت کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ وسائل وہاں نہیں جاتے جہاں ان کا بہترین استعمال ہو سکتا ہے بلکہ وہاں جاتے ہیں جہاں اثر و رسوخ زیادہ ہو۔

نتیجہ صرف دولت کی غیر مساوی تقسیم نہیں ہوتا۔ مواقع کی غیر مساوی تقسیم بھی پیدا ہوتی ہے۔

یہ صورتحال متوسط طبقے کے لیے خاص طور پر خطرناک ہے۔ متوسط طبقہ ریاست سے یہ توقع رکھتا ہے کہ تعلیم، محنت، قانون کی پابندی اور کاروباری کوشش کے ذریعے اس کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے محسوس ہو کہ کامیابی کے لیے قابلیت سے زیادہ تعلقات ضروری ہیں تو اس کا ریاست کے ساتھ سماجی معاہدہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔

پھر ایک خطرناک سوال پیدا ہوتا ہے : اگر طاقتور لوگ قواعد سے باہر جا سکتے ہیں تو عام شہری قواعد کی پابندی کیوں کرے؟ یہ سوال صرف اخلاقی نہیں بلکہ ریاستی استحکام کا سوال ہے۔

اشرافیائی قبضے کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ حکومتیں بدلنے کے باوجود بنیادی مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔ ایک جماعت دوسری جماعت کی جگہ لے سکتی ہے، ایک حکمران کی جگہ دوسرا آ سکتا ہے، لیکن اگر اداروں کے اندر طاقت اور مراعات کے بنیادی ڈھانچے تبدیل نہ ہوں تو نظام کی بنیادی نوعیت زیادہ نہیں بدلتی۔

اسی لیے پاکستان کو صرف حکومت بدلنے کی نہیں بلکہ قواعد بدلنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں ایسے ادارے چاہئیں جہاں تقرری میرٹ پر ہو، سرکاری خریداری شفاف ہو، سیاسی مالیات قابلِ جانچ ہوں، قوانین سب کے لیے یکساں ہوں اور احتساب کسی سیاسی وابستگی کا محتاج نہ ہو۔

سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری کلچر ضروری ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں خود چند خاندانوں یا شخصیات کے گرد محدود رہیں تو وہ ملک میں جمہوری ادارہ سازی کی مکمل مثال نہیں بن سکتیں۔

اسی طرح فوج ایک قومی ادارہ ہے اور قومی دفاع کے لیے مضبوط فوج ضروری ہے۔ بیوروکریسی بھی ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔ کاروباری طبقہ معیشت کے لیے ضروری ہے۔ سیاست دان جمہوری نمائندگی کے لیے ضروری ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ان میں سے کون موجود ہو اور کون نہ ہو۔ اصل سوال یہ ہے : کیا ہر طاقت آئین اور قانون کے تابع ہے؟

ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جہاں کوئی طاقتور طبقہ نہ ہو۔ ایسی ریاست شاید ممکن بھی نہ ہو۔ مضبوط ریاست وہ ہے جہاں طاقتور طبقات بھی ایسے اداروں کے سامنے جواب دہ ہوں جو قانون کے تحت ان سے سوال کر سکیں۔

پاکستان کا مسئلہ اس لیے صرف کرپشن نہیں۔ مسئلہ طاقت کے ارتکاز، غیر مساوی رسائی اور ادارہ جاتی کمزوری کا بھی ہے۔

اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں کسی ایک طبقے کو شکست دینے کے بجائے ایسے ادارے بنانے ہوں گے جو کسی بھی طبقے کو ریاست پر مستقل قبضہ کرنے سے روک سکیں۔

پاکستان کو طاقت ختم کرنے کی ضرورت نہیں ؛ طاقت کو قانون کے تابع کرنے کی ضرورت ہے۔ اور شاید ہماری سیاسی بحث کا اصل سوال بھی یہی ہونا چاہیے : ریاست پر کون حکومت کرے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ریاست میں طاقت کو جواب دہ کیسے بنایا جائے؟

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW