بلاگ

بندن میاں کی پھیکی چائے، 53 سالہ چینی چور اور میٹھے وعدوں کی تلخ حقیقت

anwar bhatti

سورج سوا نیزے پر کھڑا تھا، تپش نے آسمان کی ساری کرم کی خبریں واپس اوپر بھیج دی تھیں۔ محلے کا ہر کتا اپنی دُم سمیت کسی چھوٹی سی چھاؤں میں دبکا بیٹھا تھا، اور ہم۔ انسان کہلانے والے۔ انسانوں ہی سے ایک کپ چائے کی بھیک مانگ رہے تھے۔ میں نے آواز دی: ”او بندن میاں! جان نکلی جا رہی ہے، ایک کپ چائے تو پلا دو۔”

بندن میاں کا تعارف بھی ہو جائے۔ قد چھوٹا، جوتے ہمیشہ ایک نمبر بڑے، اور چہرے پر عینک ایسی جس کے پیچھے دو شرارتی آنکھیں سلسلہ وار لطیفے سنانے کے لیے ہمیشہ تیار۔ نقلی کھانسی لگا کر بات شروع کرنے کی عادت، اور اصل کھانسی پر بھی وہی نقلی والا اسٹائل۔ بندن میاں گلی کے واحد سپر ہیرو ہیں جو تھرماس کی جگہ جیب میں ہاضمے کا نمک رکھتے ہیں۔ احتیاطاً، کیونکہ جس ملک میں چینی پر دسترس نہ ہو وہاں گیسٹرو ہی اصلی دشمن ٹھہرتا ہے۔

بندن میاں کچن میں ایسے داخل ہوئے جیسے ناسا کا سائنس دان مریخ پر پہلا قدم رکھ رہا ہو۔ کچھ دیر بعد ہاتھ میں سجی ڈھیلی سی چائے لے کر لوٹے۔ کپ سے ایسی خوشبو اٹھ رہی تھی گویا سیلون سے تازہ مہندی رکھوا کر نکلی ہو۔ پہلا گھونٹ اندر گیا تو زبان پر ایمرجنسی بریک لگ گئی۔

میں نے آنکھیں تریڑ کر پوچھا یہ چائے ہے یا پارلیمنٹ میں بجٹ تقریر؟ خوشبو ڈھیروں، میٹھا زیرو بندن میاں ہانپتے کانپتے، ماتھے پر پسینہ اور ہونٹوں پر وہی معصومیت سجائے بولے صاحب چائے ہم نے بنائی ہے، چینی بھی ہم ہی نے ڈالی ہے۔ جتنی میسر تھی۔ یہ سن کر غصہ چائے کی تلخی سے بھی تیز ہو گیا۔ میں نے جھنجھلا کر سوال پھینکا چینی کہاں گئی؟ کیا یوٹیلٹی اسٹور پر اب میٹھا صرف شوگر کے مریضوں کے لیے بانٹا جا رہا ہے؟

بندن میاں نے گہرا سانس کھینچا، جیسے دل کے سارے گِلے ایک قطار میں لا رہے ہوں

صاحب! یہ کہانی 1972 سے چلی آ رہی ہے۔ ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ سے لے کر ’مجھے کیوں نکالا‘ تک۔ عوام کے نصیب میں ہمیشہ لائن ہی لکھی گئی کبھی راشن کارڈ کی، کبھی یوٹیلٹی اسٹور کی، کبھی ووٹ کی۔ انہوں نے ماضی کی یادوں کو خوب سے جھنجھوڑتے ہوئے یاد دلایا کہ جب ایک پاؤ چینی فی کس ملتی تھی، چوری پورے ملک میں کلو کے حساب سے ہوا کرتی تھی۔

اب منظر بدل گیا ہے : راشن ڈپو سے یوٹیلٹی اسٹور تک فاصلہ صرف بورڈ بدلنے جتنا ہے، درد وہی پرانا۔ راشن کارڈ کی جگہ شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی، انگوٹھے کا نشان، اور چینی پھر بھی لُوڈو کے چھکے کی طرح کبھی نکلے، کبھی نہ نکلے۔

میں نے پوچھا: ”آخر یہ چینی چور ہیں کون؟ پچپن برس میں کوئی پکڑا کیوں نہیں گیا بندن میاں نے عینک کے اوپر سے جھانک کر سرگوشی کی۔

”صاحب! نام جان گئے تو آئندہ کابینہ میں آپ کی وزارت پکی۔ چینی چور وہی ہیں جو روز ہمیں میٹھے وعدے اور کڑوے فیصلے ایک ہی چمچ میں گھول کر پلاتے ہیں۔“

میں نے دبی آواز میں کہا: ”حکومت کہتی ہے سب ٹھیک ہے۔“

بندن میاں ہنس دیے حکومت کی چائے ہمیشہ میٹھی ہوتی ہے کیونکہ اُن کے کپ میں چینی نہیں، سبسڈی ہوتی ہے۔ عوام کا کپ؟ اُس میں صبر گھولا جاتا ہے۔ ساٹھ روپے کا صبر کبھی اسٹاک میں شارٹ نہیں ہوتا۔

بندن میاں نے قہقہہ لگاتے ہوئے تجویز دی اگر حکومت واقعی چینی چور پکڑنا چاہتی ہے تو ہر محلے میں ایک ’بندن میاں کمیشن‘ بنا دے۔ ہر کمشنر کو بس ایک وزن مشین اور ایک چائے کا ڈبہ پکڑا دے ؛ چینی کا فرق دیکھ کر چور خود چل کر سامنے آ جائے گا۔ ایسا کہتے کہتے ان کے ہاتھ میں پکڑا کپ ہلکے سے لرزا۔ بالکل ویسے جیسے یہ نظام لرزتا ہے جب کوئی سچ کا نام لیتا ہے۔

بندن میاں کی بات سن کر ریڈیو پاکستان کی ماضی کی ایک صدا میرے کانوں میں گونجی کہ حکومت نے چینی کے مصنوعی بحران کا نوٹس لے لیا ہے۔ چینی چوروں کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔ پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے : حکومت نے نوٹس لیا، عوام نے سانس لی، اور چینی چوروں نے دانت نکال کر کہا، ”اور چائے میں کتنی چینی؟”

چائے کا آخری گھونٹ ہمارے حلق سے زیادہ ضمیر پر اتر رہا تھا۔ بندن میاں کپ اٹھا کر چل دیے، مگر دروازے پر رک کر پلٹے صاحب! دل چاہتا ہے اب چینی کے بجائے نمک ڈال کر چائے بنائیں۔ کم از کم ذائقہ سچ کا تو ہو گا

میں نے نظریں جھکا لیں۔ بندن میاں کے لرزتے ہاتھوں میں کپ نہیں، پورے سسٹم کی کمزور دھڑکن تھی۔

اگر 2025 میں بھی چینی مہنگی بکتی ہے تو یاد رکھیے، یہ صرف مٹھاس نہیں، آپ کی برداشت ہے جو 200 روپے فی کلو بیچی جا رہی ہے۔ اور عوام خرید کر سکون سے چائے پی رہے ہیں۔

ہاں چینی چور اگر کہیں نظر آئیں تو اطلاع دیں۔ انعام میں ایک کلو چینی ملے گی وہ بھی قسطوں پر۔
(بندن میاں کی قسم، یہ پیشکش مشروط سبسڈی کے تابع ہے )

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW