
کراچی کے ہنگامہ خیز شہر میں ایک ایسی عورت رہتی تھی جو ظلم کے خلاف خاموشیوں کو آواز دیتی تھی۔ اس کا نام سَبین محمود تھا۔ ایک ایسا نام جو آج شہر کے زیادہ تر لوگ بھول چکے ہیں۔ سَبین کوئی عام عورت نہیں تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھی جو دنیا کو اس کے اصل رنگوں میں دیکھتے ہیں۔ وہ مکالمے کی معمار تھی، سوال کی سفیر تھی، اور خوف کے خلاف کھڑی ہونے والی ایک روشن علامت تھی۔
سَبین محمود نے کراچی گرامر اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئے کنیئرڈ کالج کا انتخاب کیا۔
بچپن: سوالوں کی پہلی کرن
سَبین کراچی میں 1974 ء میں پیدا ہوئی۔ اس کا بچپن کراچی کی گلیوں میں گزرا۔ وہی شہر جس کی دھول کے پردے میں ظلم اور جرائم کا بازار گرم رہتا ہے۔ اس کی والدہ مہناز محمود ایک تعلیم یافتہ، حساس، اور روشن خیال عورت تھیں، جنہوں نے اپنی بیٹی کو خوف کے بجائے آزادی کے ساتھ جینا سکھایا۔ سَبین نے بچپن ہی میں یہ جان لیا تھا کہ دنیا کو سمجھنے کے لیے اس سے سوال کرنا ضروری ہے۔ وہ چیزوں کو کھول کر دیکھتی، پرزے الگ کرتی، اور پھر انہیں دوبارہ جوڑ کر ایک نئی ترتیب میں رکھ دیتی۔ شاید اسی لیے وہ بعد میں معاشرے کے بکھرے ہوئے پرزوں کو بھی جوڑنے کی کوشش کرتی رہی۔
کراچی کی سڑکیں، اس کی گلیاں، اس کے چوراہے سب اس کے لیے ایک کھلی کتاب تھے۔ وہ سائیکل پر شہر گھومتی، لوگوں کو دیکھتی، ان کے چہروں پر لکھی کہانیاں پڑھتی، اور پھر انہی کہانیوں سے اس کے اندر بے شمار سوالات جنم لیتے۔
ٹیکنالوجی: خیال سے حقیقت تک کا سفر
سَبین محمود نے ظہیر قدوائی، جن کے ساتھ اس نے 14 سال کی عمر سے دو کمپنیوں میں کام کیا تھا، مل کر ایک چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنی ”bits“ قائم کی۔ انہیں وہ اپنا مرشد سمجھتی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب اس نے سمجھا کہ ٹیکنالوجی صرف مشینوں کا کھیل نہیں، بلکہ انسانوں کے درمیان پل بنانے کا فن ہے۔ اس نے ”PeaceNiche“ تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد عوامی بھلائی کے لیے ایک سماجی پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
T 2 F دوسری منزل: ایک بے خوف جگہ
2007 میں، کراچی کے ایک خاموش کونے میں، سَبین نے ایک چھوٹی سی جگہ بنائی۔ The Second Floor (T 2 F) یہ جگہ ایک کیفے بھی تھی، ایک لائبریری بھی، ایک اسٹیج بھی، ایک پناہ گاہ بھی، اور ایک خواب بھی۔
T 2 F میں لوگ آتے، بیٹھتے، چائے پیتے، باتیں کرتے، اختلاف کرتے، ہنستے، روتے، اور سب سے بڑھ کر سوچتے، اور مکالمہ کرتے۔ یہاں کسی کو چیک نہیں کیا جاتا تھا، کسی سے شناخت نہیں مانگی جاتی تھی، کسی پر شک نہیں کیا جاتا تھا۔ سَبین کہتی تھی:
”اگر جگہ عوامی ہے تو خوف کو اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔“
T 2 F میں ہونے والی محفلیں کراچی کے دل میں دھڑکن کی طرح تھیں۔ شاعری کی محفلیں، موسیقی کی راتیں، فلمی گفتگو، سیاسی مباحثے، ٹیکنالوجی ورکشاپس۔ سب کچھ یہاں ہوتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں لوگ بلا خوف اپنی سوچ کو الفاظ کا جامہ پہناتے۔
سماجی جدوجہد: وہ عورت جو خاموشی کے خلاف لڑتی تھی
سَبین کی آواز صرف T 2 F تک محدود نہیں تھی۔ وہ ہر اس جگہ جاتی جہاں ظلم تھا، ہر اس شخص کے ساتھ کھڑی ہوتی جس کی آواز دبائی گئی تھی، اور ہر اس مسئلے پر بات کرتی جس پر بات کرنا خطرناک سمجھا جاتا تھا۔
اس نے :
·لال مسجد پر حملے کے خلاف احتجاج کیا
·اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی
·خواتین کی آزادی کے لیے جدوجہد کی
·ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کو سماجی تبدیلی کے لیے استعمال کیا
·شہری حقوق کے لیے مہمات بنائیں
وہ کہتی تھی: ”سچ بولنے کے لیے بہادری نہیں، انسانیت کافی ہے۔ “
Unsilencing Balochistan : وہ رات جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا
24 اپریل 2015 کی شام T 2 F میں ایک پروگرام ہوا: ”Unsilencing Balochistan: Take 2“ یہ وہ گفتگو تھی جسے کئی جگہوں پر اربابِ اختیار نے روک دیا تھا۔ سَبین نے اسے منعقد کیا۔ پروگرام ختم ہوا تو وہ اپنی والدہ کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہوئی۔ رات کا اندھیرا کراچی کی سڑکوں پر پھیل رہا تھا۔ اور پھر۔ ایک موٹر سائیکل سوار ان کی گاڑی کے قریب آیا۔ گولیاں چلیں۔ خاموشی ٹوٹ گئی۔ اور وہ عورت جو ظلم کے خلاف خاموشیوں کو آواز دیتی تھی، خود ظلم کا شکار بنی اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔ اس رات کراچی نے اپنا سب سے روشن چراغ کھو دیا۔
قاتل اور ختم نہ ہونے والی قانونی کارروائی
سبین محمود کے قتل کا مرکزی ملزم ایک غیر روایتی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ عسکریت پسند تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ قاتل سعد عزیز اور اس کے ساتھی کسی روایتی مذہبی مدرسے کے بجائے، جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ایک ایسے خود ساختہ انتہاپسند گروہ (Self۔ radicalized group) کا حصہ تھے جو القاعدہ اور بعد میں داعش (ISIS) سے متاثر تھے۔ یہ گروہ شہر کے مختلف نمایاں دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تھا۔
2016 ء میں پاک فوج کی عسکری عدالت (ملٹری کورٹ) نے سعد عزیز اور اس کے چار دیگر ساتھیوں (طاہر حسین منہاس، اسد الرحمٰن، حافظ ناصر، اور محمد اظہر عشرت) کو صفورہ گوٹھ حملے، سبین محمود کے قتل، اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کا جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی، جس کی منظوری اس وقت کے آرمی چیف نے دی تھی۔
سعد عزیز اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے سزائے موت کے اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں (سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ) میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں، جس کے باعث ان کی پھانسی کا عمل قانونی کارروائی اور اپیلوں کے فیصلے تک مؤخر ہے۔
سبین محمود کے قتل کے گیارہ سال بعد بھی، ان کے خاندان کو انصاف کی امید بہت کم ہے۔ مایوس ہو کر انہوں نے جوابدہی کے بجائے اس کی میراث کو آگے بڑھانے کی طرف توجہ مرکوز کر لی ہے۔
وراثت: وہ روشنی جو بجھ کر بھی جلتی رہتی ہے
سَبین محمود کی موت نے اسے ختم نہیں کیا۔ اس نے اسے ایک علامت بنا دیا۔
·T 2 F آج بھی قائم ہے : وہی مکالمہ، وہی آزادی، وہی جرات۔ سب کچھ جاری ہے۔
·اس کی سوچ نے نئے راستے کھولے : پاکستان میں کئی نئے فکری مراکز T 2 F سے متاثر ہو کر قائم ہوئے۔
·وہ عالمی سطح پر تسلیم کی گئی: World Economic Forum نے انہیں Young Global Leader قراردیا۔
·وہ خواتین کے لیے امید بنی: اس نے دکھایا کہ عورت بھی خوف کے خلاف سب سے مضبوط دیوار بن سکتی ہے۔
·وہ جبر کے خلاف علامت ہے :اس کی موت یاد دلاتی ہے کہ سچ بولنا خطرناک ہے، مگر ضروری ہے۔
سبین کا جلایا ہوا چراغ آج بھی روشنی ڈھونڈنے والوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے۔ T 2 F میں آج بھی کوئی نوجوان پہلی بار اپنی آواز تلاش کر رہا ہے، کوئی شاعر اپنی نظم میں شہر کا دکھ لکھ رہا ہے، اور کوئی طالب علم پہلی بار کوئی خوف زدہ سوال پوچھ رہا ہے۔
سبین نے کراچی کو یہ سکھایا کہ شہر صرف عمارتوں، سڑکوں اور شور کا نام نہیں ؛ شہر وہ ہوتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوں، جہاں مکالمہ ہو، جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، جہاں سوال جرم نہ ہو، جہاں محبت کمزور نہ ہو، اور جہاں خوف کو دروازے پر چھوڑ کر داخل ہوا جائے۔
سَبین محمود ایک عورت نہیں تھی۔ وہ ایک چراغ تھی۔ اور چراغ کبھی خود نہیں بجھتے، البتہ انہیں بجھانے کی کوشش جاری رہتی ہے۔
اس انتہائی قابل جوان عورت کے قتل کے ذمہ دار صرف پانچ مجرم ہی نہیں، بلکہ وہ پورا معاشرہ بھی ہے جس نے ملک بھر میں مذہبی انتہاپسندی اور عدمِ رواداری کو پنپنے دیا، یا ان عفریتوں کو روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنا رہا۔

An amazing tribute to a brave lady who promoted , inquiry questions and freedom. It’s the faulty law of land that gives benefit to the murderers of innocent.