میرے مطابق

چودہ اگست۔ خیال رکھنا

dr muhammad zaheer lahore

ہم جنریشن ایکس والے جو 1965 سے 1980 کے درمیان پیدا ہوئے کچھ الگ ہی یادیں رکھتے ہیں۔ ہمارا بچپن جنرل محمد ضیاء الحق کے دور حکومت میں گزرا۔ جنرل صاحب نے جہاں ہمیں مزید مسلمان کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی وہیں انہوں نے ہمیں پاکستانیت کا درس بھی تمام دستیاب ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیا اور خوب دیا۔

جنرل صاحب کے سیاسی عزائم، طرز حکومت اور وعدہ خلافی پر تو تبرا ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا مگر ان کے گھٹن زدہ دور میں اہل قلم نے اپنے قلم کا بہترین استعمال کیا۔ جیسے جلسہ جلوس پر پابندی تھی تو جناب مجیب الرحمان شامی نے اپنے کالم کا نام ہی جلسہ عام رکھ لیا۔ اور مرحوم عبدالقادر حسن نے اپنے کالم کا نام غیر سیاسی باتیں رکھ چھوڑا اور اس میں خوب سیاسی باتیں کیں۔ جنرل صاحب کے دور میں 14 اگست یعنی یوم آزادی بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ ہر طرف جھنڈیاں اور سبز ہلالی پرچم، گویا کہ سب کچھ سبز ہو جاتا تھا۔ اور کیا خوب جذبہ ہوا کرتا تھا 13 اگست کی رات ہم لوگ چراغاں بھی کیا کرتے تھے۔ 14 اگست کا دن عید سے کم نہ تھا ہماری اماں ہمارے لیے سبز کرتہ اور سفید شلوار خود سیا کرتی تھیں۔ ہم صبح ہی اٹھ جایا کرتے اور واحد تفریح ٹیلی ویژن پر پی ٹی وی دیکھا کرتے۔ جنرل صاحب جنہیں سندھ میں رہنے والے پنجابی لوگ بہت پیار کیا کرتے تھے، پرچم کشائی کرتے اس کے بعد سہیل رعنا اپنے بچوں کی ٹولی کے ہمراہ ملی نغمے پیش کرتے۔ اور بعد میں جنرل صاحب سب بچوں کو فرداً فرداً ملتے۔ غالباً یہ سلسلہ بھٹو صاحب نے شروع کیا تھا۔ سارا دن ملی نغمے نشر ہوا کرتے اور دل وطن عزیز کی محبت اور ہندوستان کی نفرت سے بھر جاتا۔ مزے مزے کے کھانے بنتے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے، خوب مزہ آتا۔

محلے میں سب بچوں کے درمیان بہترین گھر سجانے اور بڑا جھنڈا لگانے کا ایک مقابلہ سا برپا ہوتا۔ یہ الگ بات کے ہر سال یہ مقابلہ ہمارے دوست طاہر صدیقی جیت جایا کرتے۔ ان کے والدین ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجرین تھے جن کے زخم کبھی مندمل نہ ہوئے اور یہ سب لوگ بہت شدت اور جذبے کے ساتھ پاکستان کا پرچم لہراتے۔ خوبصورت سنہری کپڑا بانس کے گرد لپیٹ کر بڑا سا جھنڈا رات 12 بجے ہی طاہر کے بڑے بھائی طارق بھائی لہرا دیا کرتے اور اس کے گرد جھنڈیوں کی لڑیاں ایک عجب منظر پیش کرتیں۔ یہ خوبصورت لہراتا ہوا پرچم ہمیں بہت بھاتا اور ہم طاہر سے بہت حسد بھی محسوس کرتے۔ اور اپنے گھر کو بھی بڑے پرچم اور سب جھنڈیوں سے خوب سجاتے، یہ الگ بات کہ وہ بات نہ پیدا کر سکتے جو کہ طاہر کے جھنڈے اور سجائی ہوئی جھنڈیوں میں ہوتی۔ ہم اپنی سی کوشش ضرور کرتے، والدہ آٹے سے ہمیں لئی بنا کر دیتیں، ہم دھاگے میں پرو کر جھنڈیاں بناتے کہ بنی بنائی جھنڈیاں مہنگی ہوا کرتی تھیں۔ تو ہم خود یہ لڑی بناتے، خیرپور کی گرمی میں بھی بار بار چھت پر جا کر جھنڈا ٹھیک کرتے رہتے کہ وہ صحیح سے لہرا رہا ہے۔

نجانے ان دنوں کے لکھے اور گائے ہوئے ملی نغموں میں کیا جادو تھا جو سنتے ہی لہو گرما دیا کرتے۔ سب سے پرانا نغمہ جو ہمیں یاد ہے وہ خالد وحید کا گایا ہوا ”ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم، پاکستانی فوج کے جوان ہیں ہم“ تھا جسے دیکھ کر ہم سب فوجی بننے کی خواہش کیا کرتے۔ ویسے تو 65 کی جنگ میں ملکہ ترنم نور جہاں اور دوسرے لوگوں کے گائے ہوئے نغمے بھی بہت مشہور ہوئے تھے۔ چند نغمے درج ذیل ہیں :

اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے۔ نور جہاں
اے وطن پیارے وطن۔ چاند میری زمین پھول میرا وطن۔ استاد امانت علی
اپنی جان نظر کروں اپنی وفا پیش کروں۔ یہ وطن تمہارا ہے۔ مہدی حسن
جاگ اٹھا ہے سارا وطن۔ شوکت علی مسعود رعنا
زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے۔ افراہیم
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا۔ نیرہ نور
ہم زندہ قوم ہیں۔ امجد حسین اور بنجمن سسٹرز
خیال رکھنا۔ عالمگیر اور بنجمن سسٹرز
میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے۔ محمد علی شہکی
تم ہی سے اے مجاہدو۔ عالمگیر
اے نگار وطن تو سلامت رہے۔ حبیب ولی محمد
ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم۔ ناہید اختر

90 کی دہائی میں جنید جمشید کا گایا ہوا گانا، دل دل پاکستان بہت مشہور ہوا۔ اس کے بعد جذبہ جنوں علی عظمت، اور ماؤں کی دعا پوری ہوئی عالمگیر نے گایا۔ یہ سب گانے بھی بہت مشہور ہوئے۔

ان دنوں کے بنائے ہوئے ملی نغموں کا معیار ہی کچھ اور تھا شاعری، موسیقی، گائیکی اور پیشکش سب کچھ اپنی مثال آپ تھا۔ اب ملی نغموں میں شور زیادہ، آواز کم اور شاعری عنقا ہے۔

رفتہ رفتہ جانے کیوں یہ جذبے ماند ہوتے گئے۔ یار لوگ 14 اگست سو کر گزارتے ہیں۔ اور اس یہ ستم کہ قوم تقسیم ہوتی گئی، احمد فراز نے کہا تھا ”خود کو تقسیم نہ کرنا میرے سارے لوگو!“ ۔ مگر پھر سوشل میڈیا، جھوٹ، بہتان اور الزام پر مبنی سیاست نے ہمیں تقسیم کر دیا۔ اب ہمیں اپنے وطن سے زیادہ اپنے سیاسی قائدین عزیز ہیں۔ اب ہم پاکستان کی کامیابیوں پر خوش ہونے کے بجائے تنقید کرتے ہیں۔ دوستو! پاکستان ہے تو ہم ہیں یہ سیاسی لوگ تو آتے جاتے رہتے ہیں۔ عالمگیر کے ملی نغمے میں کتنی خوبصورت بات ہے، ”خیال رکھنا“ ہمیں اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے وطن کا خیال رکھنا ہے۔

پاکستان زندہ باد۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Qamar Irshad
Qamar Irshad
1 day ago

100% true

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW