خواب، محبت اور زندگی 47
کیسے بتاؤں، کیسے چھپاؤں
نکاح کے حوالے سے آخری بات جس قدر علامتی تھی، اسی قدر مزاحیہ بھی۔ نکاح خواں کی فیس سو روپے تھی۔ احفاظ اور وہاں موجود ہمارے دوستوں میں کسی کی جیب میں بھی سو روپے نہیں تھے، سب ایڈیٹرز کی ماہانہ تنخواہ ہی چار سو کے قریب ہوتی تھی۔ اس روز گھر آنے کے بعد جب میں نے پرس کھولا تو اس میں رکھا ہوا سو کا نوٹ غائب تھا۔ مجھے آج بھی علم نہیں کہ کس دوست نے میرے پرس سے سو روپے نکال کے نکاح خواں کو دیے تھے۔ امی سالوں بعد تک یہ بات نہیں بھلا پائیں۔ ”میری بیچاری بیٹی! نکاح کی فیس بھی اس کے پرس سے نکال کر دی گئی۔ ہائے ری قسمت!“ (بعد میں بھٹو نے صحافیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ سینئیر صحافیوں کو پلاٹ بھی دیے گئے۔ ہمارے کنوارے کولیگز بہت خوش تھے کہ اب لڑکی والے رشتہ دینے سے انکار نہیں کریں گے۔ ہماری شادی کے بعد اسلم شاہد، عنایت حسین اور شمیم عالم کی شادیاں بھی مساوات میں ملازمت کے دوران ہی ہوئیں ) ۔
آج بھی جب اس دن کی یاد دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے تو جو کیفیت سب سے نمایاں ہو کر ابھرتی ہے، وہ جذبات کا ایک پیچیدہ مگر لطیف امتزاج ہے۔ سرشاری کا ، اضطراب کا ، بغاوت کی نہاں لذت کا اور ایک ہلکے سے احساس جرم کا ۔ گھر واپس آنے کے بعد سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ امی کو کیسے بتاؤں۔ یہ بھی اچھی طرح جانتی تھی کہ بتانا تو پڑے گا۔ شام کو جب وہ اکیلی باورچی خانے میں کھڑی ہنڈیا میں چمچ چلا رہی تھیں، میں ان کے سر پر جا کے کھڑی ہو گئی اور بلا تمہید انہیں بتا دیا کہ میں اور احفاظ نکاح کر چکے ہیں۔ امی نے ہنڈیا پر ڈھکن رکھا اور ایک لفظ کہے بغیر بیڈ روم میں جا کے ابی کو یہ بات بتا دی۔
ابی پوری رات نہیں سوئے۔ میں کھڑکی سے انہیں لان میں ٹہلتے اور سگریٹ پھونکتے، سوچوں میں گم دیکھ سکتی تھی۔ اگلی صبح ابی اور امی اس نکاح خواں کو ڈھونڈنے صدر پہنچے تا کہ اس سے مل کے نکاح کی تصدیق کر سکیں۔ جب نکاح خواں نے بتایا کہ مہر ساٹھ ہزار لکھا گیا ہے تو ابی کا غصہ قدرے کم ہوا۔ اب تک انہیں احفاظ کی نیک نیتی کے حوالے سے جو شک تھا، وہ بھی دور ہوا اور ان کے دل میں طبقاتی لحاظ سے اس رشتے کی قبولیت میں جو تامل تھا، اس میں کچھ لچک آئی۔ اور وہ شادی کے استقبالیہ یعنی رخصتی کی تقریب کا اہتمام کرنے پر رضامند ہو گئے۔
امی اور خالہ میرے لئے ایک بہت خوبصورت عروسی جوڑا خرید کر لائیں۔ ابی کا غصہ پورے طور پر ختم نہیں ہوا تھا۔ امی نے میری شادی کے لئے پہلے سے بھی کئی جوڑے تیار کروا کے رکھے ہوئے تھے۔ ابی نے میرے لئے سزا یہ تجویز کی کہ امی سے کہا کہ سوائے ان کپڑوں کے مجھے اور کچھ نہ دیا جائے، نہ زیور، نہ کوئی اور چیز۔ جوڑے بھی اس لئے کہ بقول ان کے ”بعد میں امی ان کو دیکھ کر روتی رہیں گی“ ۔
Desdemona ’s Curse?
شادی کی تاریخ مقرر کی گئی۔ دعوت نامے بانٹے گئے مگر گھر کی فضا بجھی بجھی سی تھی۔ شادی کے موقع والی خوشی اور گہما گہمی کا دور دور تک نشان نہ تھا۔ شادی والے روز میں کمرے میں اکیلی بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھ سے چھوٹا بھائی ٹیپ ریکارڈر ہاتھ میں لئے ہوئے اندر داخل ہوا۔ ’ارے بھئی، اتنی خاموشی کیوں؟‘ اور اس نے شادی والے گانے لگا دیے۔ اس زمانے میں بیوٹی پارلرز جانے کا رواج تو تھا نہیں۔ میری خالہ زاد بہن نے گھر پر ہی میرا میکپ کیا اور مجھے نقلی زیورات پہنائے کیونکہ ابی امی کو زیورات دینے سے منع کر چکے تھے۔ اسٹیج پر میری پڑوسن اور گہری سہیلی فرمونہ میرے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اور اسے ان رشتہ دار اور دیگر خواتین کے سوالوں کا جواب دینا پڑ رہا تھا جو جاننا چاہتی تھیں کہ کون سا سیٹ سسرال سے آیا ہے اور کون سا میکے والوں نے دیا ہے۔ میرا ذہن سن ہو چکا تھا۔ بارات کو آنے میں تاخیر ہو رہی تھی۔ جب کہ احفاظ پابندیٔ وقت کے لئے مشہور تھے۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ احفاظ کے دوست خالد حسن جو بھٹو کے پریس سیکریٹری تھے نے بارات لے جانے کے لئے اپنی مرسیڈیز گاڑی بھیج دی تھی اور مسرور کمال اور دیگر کولیگز اور دوست اسے سجانے میں لگے ہوئے تھے۔ شاید اس کا مقصد بھی میرے والدین کو متاثر کرنا تھا۔
رخصتی کے وقت جب مجھے گاڑی میں بٹھایا جانے لگا تو امی نے ابی سے کہا ”بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا تو دے دیں۔“ ابی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا تھا ”کیا دعا دے سکتا ہوں!“ اس وقت میں نے ابی کے الفاظ پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ میں احفاظ کی محبت میں پاگل تھی اور تب مجھے کسی اور بات کی پروا نہیں تھی۔ لیکن بعد میں جب بھی سوچتی تھی تو ابی کا اداس چہرہ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا تھا اور مجھے اوتھیلو کے المیے کی بازگشت سنائی دیتی تھی جیسے ڈیسڈیمونا کے باپ نے اس کے مقدر پر لعنت بھیجی تھی ویسے ہی ابی کی اداسی اس لمحے پر گھنیرے بادل کی طرح چھا گئی تھی۔ اور شاید زندگی نے واقعی وہ لمحہ نوٹ کر لیا تھا۔

