میرے مطابق

بانیانِ پاکستان کے افکار، فلسفہ اور ویژن

Syeda Ayesha Mustafa

آزادیِ افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

”پاکستان کے مصور، مفکر اور مجوز“ حکیم الامت علامہ محمد اقبال ہیں، جبکہ اس مملکتِ خداداد کے معمار، اور بانی ”قائد اعظم محمد علی جناح“ ہیں۔ ”قیامِ پاکستان کی عظیم جدوجہد پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ آخر برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ اگر ہم قیامِ پاکستان سے پہلے کے تاریخی مناظر کا جائزہ لیں، تو یہ وہ دور تھا جب ایک طرف مغل سلطنت داخلی انتشار کے باعث زوال پذیر ہو رہی تھی، تو دوسری طرف انگریزوں کی نوآبادیاتی چالیں عروج پر تھیں۔ اس فکری اور سیاسی زوال کے سائے میں برصغیر کے اندر ایسے نئے گمراہ کن افکار نے جنم لیا جو مسلمانوں کے بنیادی اسلامی عقائد اور ان کے جداگانہ وجود کے لیے شدید خطرہ بن رہے تھے۔ یہ وہ نازک وقت تھا جب مسلمانوں نے اپنے فکری اور روحانی دفاع کا آغاز کیا، جسے تحریکِ پاکستان کا“ فکری کتب نما ”کہا جا سکتا ہے۔ اس فکری بیداری میں پہلا نامور اور جرات مندانہ کردار“ حضرت مجدد الف ثانی ”کا ہے، جنہوں نے مغل دربار کے اندر رہ کر ’دربارِ اکبری‘ کے غیر اسلامی نظام کے خلاف کلمہِ حق بلند کیا اور اسلام کے حقیقی تشخص کا دفاع کیا۔ اسی طرح صوفیائے کرام نے خانقاہوں سے باہر نکل کر ذات پات کے استحصالی نظام کو توڑا۔ بعد ازاں،“ شاہ ولی اللہ دہلوی ”نے قرآن مجید کا فارسی میں ترجمہ کر کے عام مسلمانوں کو علم کے نور سے روشناس کرایا اور فکری تحفظ فراہم کیا۔

اس فکری پس منظر کے بعد برصغیر کی تاریخ کا وہ موڑ آتا ہے جہاں سے ”نوآبادیاتی مظالم“ کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ یہاں یہ دیکھنا اہم ہے کہ مسلمان 1857 ء کی جنگِ آزادی کے مقام تک کیسے پہنچے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ انگریز تاجر تھے، جو تجارت کا لبادہ اوڑھ کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے روپ میں یہاں وارد ہوئے تھے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ان تاجروں نے یہاں کی مقامی سیاست کے اندرونی انتشار کا فائدہ اٹھایا اور مکارانہ پالیسیوں کے ذریعے مقامی زمینوں پر قبضے شروع کر دیے۔ مسلمانوں نے ان بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے بھرپور مزاحمت کی۔ اس سلسلے میں ”نواب سراج الدولہ“ نے 1757 ء میں ”جنگِ پلاسی“ لڑی اور بعد میں 1764 ء میں انگریزوں کے خلاف ”جنگِ بکسر“ لڑی گئی۔ جنوبی ہند میں میسور کے ”سلطان فتح علی خان ٹیپو“ نے انگریزوں کے خلاف تاریخی اور بہادرانہ جنگیں لڑیں اور جامِ شہادت نوش کیا۔ جب یہ انفرادی کوششیں بارآور نہ ہوئیں، تو بالآخر 1857 ء میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف پہلی بڑی مشترکہ ”جنگِ آزادی“ لڑی۔ لیکن داخلی کمزوریوں، جدید ہتھیاروں کی کمی اور ”میر جعفر و میر صادق“ جیسے مقامی غداروں کی منافقت کے باعث اس جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد پورے ملک پر برطانوی تاج کی حکومت قائم ہو گئی اور یہاں کے باسی غلام بن کر رہ گئے۔

1857 ء کی جنگِ آزادی تو ختم ہو گئی، لیکن اس کی ناکامی کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کا اصل امتحان شروع ہوا۔ انگریزوں نے اس جنگ کا تمام تر غصہ مسلمانوں پر نکالنا شروع کر دیا، کیونکہ وہ مسلمانوں کو اپنا اصل سیاسی حریف اور دشمن سمجھتے تھے۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے گئے، ان کی عزت و ناموس کو پامال کیا گیا، اور ان کی املاک، زمینیں اور جاگیریں زبردستی ضبط کر کے ہندوؤں اور سکھوں میں بانٹ دی گئیں۔ سرکاری ملازمتوں کے دروازے مسلمانوں پر بند کر دیے گئے اور ان پر بھاری ٹیکس عائد کر دیے گئے۔ ان معاشی مظالم کے خلاف ”تیتو میر“ نے کسانوں اور کاشتکاروں کو منظم کر کے تحریک کا آغاز کیا تاکہ مظالم کے خلاف آواز اٹھائی جا سکے۔ اس سے قبل ”سید احمد شہید“ نے بھی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ”تحریکِ مجاہدین“ چلائی تھی۔ سیاسی محاذ کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی شاندار کردار ادا کیے گئے۔ ”مولانا ابوالکلام آزاد“ نے اپنے اخبارات ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں سے برطانوی خوف کو کھرچ کر نکال دیا۔ دوسری طرف ”مولانا محمد علی جوہر“ نے انگریزی اخبار ’کامریڈ‘ اور اردو اخبار ’ہمدرد‘ کے ذریعے عوام کو سیاسی طور پر منظم کیا۔ اس تحریک میں خواتین کا کردار بھی کسی سے پیچھے نہ تھا بیگماتِ بھوپال، جن میں نواب شاہ جہاں بیگم اور نواب سلطان جہاں بیگم شامل ہیں، انہوں نے پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی تحریکوں کی زبردست مالی معاونت کی، جبکہ بیگم رسول جیسی شخصیات نے سیاسی میدان میں خدمات انجام دیں۔

دوسری جانب انگریزوں کے مظالم نہایت ہولناک تھے ؛ علماء کرام کو توپوں کے سامنے باندھ کر اڑا دیا جاتا، ان کی لاشوں کو درختوں پر لٹکایا گیا اور انہیں کالے پانی کی سزائیں دی گئیں۔ اس دور کے ہولناک برطانوی مظالم کی گواہی خود انگریز مورخین نے دی ہے۔ ولیم ہنٹر اپنی مشہور کتاب ”آور انڈین مسلمانز“ (Our Indian Musalmans) میں لکھتے ہیں :

”اس دور میں مسلمان ہونا حرام قرار پایا۔ مسلمانوں کی جائیدادیں، ان کی املاک تمام کی تمام ہندوؤں اور سکھوں میں تقسیم کر دی گئیں۔“

اسی طرح ”لارڈ رابرٹس“ نے دہلی کے چاندنی چوک کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھا کہ وہاں ہر طرف لاشوں کے ڈھیر تھے اور موت کا راج تھا۔ مورخ ”باسوورتھ سمتھ“ لکھتا ہے کہ انگریز فوج شکاری کتوں کی طرح گلیوں اور محلوں میں پھیل گئی، وہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں داخل ہوتے اور لوٹ مار کرتے۔ ان ہولناک حالات کو دیکھ کر مسلمانوں کے سچے ہمدرد ”سرسید احمد خان“ کا دل خون کے آنسو رویا۔ انہوں نے اس مایوس کن صورتحال میں فرمایا تھا کہ آسمان سے کوئی ایسی بلا زمین پر نہیں اتری جس نے نیچے آنے سے پہلے کسی مسلمان کا گھر نہ ڈھونڈا ہو۔

ان کٹھن حالات میں جب مسلمانوں کے لیے چاروں طرف اندھیرا تھا، سرسید احمد خان ایک مسیحا بن کر ابھرے۔ وہ مسلمانوں کی بدحالی دیکھ کر اس قدر دلبرداشتہ تھے کہ انہوں نے ایک وقت میں ہجرت کا ارادہ کر لیا تھا، لیکن انہوں نے اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑنا گوارا نہ کیا اور قلم کے ذریعے مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو انگریزوں کی الزام تراشیوں سے آزاد کروانے کے لیے 1858 ء میں اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ”اسبابِ بغاوتِ ہند“ لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے انتہائی دلیرانہ انداز میں انگریز حکومت کی غلط پالیسیوں کا پردہ چاک کیا اور ثابت کیا کہ 1857 ء کا واقعہ کوئی اچانک اٹھنے والی بغاوت نہیں تھی، بلکہ یہ انگریزوں کے معاشی، سماجی اور مذہبی مظالم کا ناگزیر نتیجہ تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب قوموں کے معاشی حقوق چھینے جاتے ہیں، تو ان کے ہاتھ خود بخود تلوار کی طرف بڑھتے ہیں، اور برصغیر کے لوگوں کو غلام بنا کر ان سے وفاداری کی امید رکھنا حماقت ہے۔ سرسید کے اس تدبر اور سیاسی بصیرت کے نتیجے میں انگریزوں کا غصہ کم ہوا اور مسلمانوں کو آگے بڑھنے کا راستہ ملا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ کا یہ سارا سفر آخر کس منزل کی طرف جا رہا تھا؟ تو دراصل یہ ”تسلسل اور بقا کی وہ منزل“ تھی جس نے آگے چل کر ”قیامِ پاکستان“ کی شکل اختیار کی۔ جب ”سرسید احمد خان“ اور دیگر مفکرین نے برصغیر کے سیاسی حالات کا گہرا مشاہدہ کیا، تو ان کے ذہن میں ایک الگ خطے کا تصور ابھرا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ برصغیر میں ہندو اکثریت تقریباً 75 فیصد تھی، جبکہ مسلمان محض 25 فیصد اقلیت تھے۔ انگریزوں نے یہاں جو مغربی طرز کا انتخابی نظام متعارف کروایا تھا، وہ عددی اکثریت کی حکومت کے اصول پر مبنی تھا۔ اس جمہوری نظام کا مطلب یہ تھا کہ اکثریت کی بنیاد پر ہندو ہمیشہ حکومت میں رہتے اور مسلمان کبھی بھی آئینی اور سیاسی طور پر فتح حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اپنے اسلامی اقدار کے تحفظ، الگ تشخص اور فلاح کے لیے ایک شعوری جدوجہد کا عزم کیا۔ قیامِ پاکستان کی اس کوشش کے پیچھے گہرے سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی محرکات تھے۔ مسلمانوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ ایک متحدہ ہندوستان میں رہے، تو ان کی تہذیب، زبان اور مذہب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تہذیب اور ایمان کو بچانے کے لیے ”دو قومی نظریے“ کا تصور پیش کیا، جس کے مطابق ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جن کا رہن سہن، تاریخ، ہیرو اور مذہب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔

ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ”حکیم الامت علامہ محمد اقبال“ نے جہاں دو قومی نظریے کو ایک نیا فکری رخ دیا، وہاں انہوں نے پاکستان کا ایک واضح جغرافیائی نقشہ بھی تجویز کیا۔ انہوں نے ایک ایسی الگ ریاست کا خواب دیکھا جہاں ہر مسلمان فرد کو اپنی پہچان اور اسلامی نظام میسر ہو۔ علامہ اقبال کا یہی فلسفہ 1930 ء کے تاریخی خطبہ الٰہ آباد کے آخر میں واضح ہو کر سامنے آیا، جہاں انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں ان الفاظ میں مسلمانوں کی منزل کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:

”ہند کی تاریخ میں موجودہ بحران اس امر کا متقاضی ہے کہ ایک مکمل تنظیم ہو اور مسلم فرقے میں ارادی اور مقصد کا اتحاد بحیثیت ایک فرقے کے آپ کے مفاد میں بھی ہے اور من حیث المجموع ہند کے مفاد میں بھی“

اس خواب کو تعبیر دینے کے لیے ”علامہ اقبال“ نے برصغیر کے افق پر ”قائد اعظم محمد علی جناح“ کا انتخاب کیا۔ علامہ اقبال نظریاتی طور پر کانگریس کے ہندو رہنماؤں کی نیت بھانپ چکے تھے، اور وہ مسلم لیگ کے بعض روایتی سیاست دانوں کی اندرونی دھڑے بندیوں سے بھی مایوس تھے۔ انہوں نے سیاسی انتشار اور فکری بحران کے اس دور میں یہ تعین کیا کہ صرف ”محمد علی جناح“ ہی وہ واحد مخلص رہنما ہیں جو مسلمانوں کے اتحاد کو محفوظ رکھنے اور مسلم سیاست کو با اختیار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ ”علامہ اقبال“ نے ”قائد اعظم“ کو لندن سے واپس آ کر مسلم لیگ کی باقاعدہ قیادت سنبھالنے کے لیے قائل کرنے میں سب سے با اثر کردار ادا کیا۔ علامہ اقبال نے 21 جون 1937 ء کو لاہور سے ”قائد اعظم“ کو ایک تاریخی خط میں لکھا:

”میں جانتا ہوں کہ آپ بہت مصروف آدمی ہیں مگر مجھے توقع ہے کہ میرے بار بار خط لکھنے کو آپ بار خاطر پر نہ خیال کریں گے اس وقت جو طوفان شمال مغربی ہندوستان اور شاید پورے ہندوستان میں برپا ہونے والا ہے اس میں صرف آپ ہی کی ذات گرامی سے قوم محفوظ رہنمائی کی توقع رکھتی ہے“ ۔

دنیا کی تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں، اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا جغرافیائی نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں، اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ ”محمد علی جناح“ وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے یہ تینوں کارنامے ایک ساتھ انجام دیے۔ ”قائد اعظم“ کا ویژن ایک ایسی جدید، جمہوری اور فلاحی ریاست کا تھا جہاں قانون کی بالادستی ہو۔ ان کی سیاسی فلاسفی کا عکاس ان کا وہ تاریخی جملہ ہے جو انہوں نے 11 اگست 1947 ء کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

” آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور کسی بھی اور عبادت گاہ میں جانے کے لیے اس مملکت پاکستان میں آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا عقیدے سے ہو مملکت کا اس سے کوئی سروکار نہیں“ ۔

یہ تقریر 1977 ء تک ریڈیو پاکستان سے نشر کی جاتی رہی لیکن بعد میں اس کا ریکارڈ غائب کر دیا گیا اس تقریر میں ”قائد اعظم“ نے مستقبل کی ریاست کے لیے اپنے خیالات بیان کیے تھے۔

”قائد اعظم“ کی سیاست کا محور جمہوری قومیت، آئینی خودمختاری اور تعمیری اصول تھے۔ انہوں نے اپنی طالب علمی کے دور میں ہی برطانوی پارلیمانی نظام کا گہرا مشاہدہ کیا تھا، جس کے باعث وہ ہندوستان میں آئین سازی اور خود مختار حکومت کے داعی بنے۔ انہوں نے ہمیشہ برطانوی حکام کے امتیازی سلوک کے خلاف ڈٹ کر مزاحمت کی۔ ”قائد اعظم“ اپنی نجی زندگی میں بھی انتہائی نفیس، اصول پسند اور خوش لباس شخصیت کے مالک تھے، جن کی سچی سیاست کا لوہا پوری دنیا مانتی تھی۔

”قائد اعظم“ نے اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز دسمبر 1906 ءمیں ممبئی میں کانگریس کے سالانہ اجلاس میں شرکت سے کیا۔ ابتدا میں ان کا شمار ”ہندو مسلم اتحاد“ کے سب سے بڑے سفیروں میں ہوتا تھا۔ 1906 ء میں آپ نے ”آل انڈیا مسلم لیگ“ کے قیام کے وقت اس میں فوری شمولیت اختیار نہیں کی تھی کیونکہ شروع میں یہ تحریک ایک خاص نہج پر کام کر رہی تھی اور ”قائد اعظم“ پورے ہندوستان کے وسیع تر اتحاد کے حامی تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کانگریس کی متعصب ہندو پرست پالیسیوں نے ”قائد اعظم“ کو کانگریس چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ 1913 ء میں ”قائد اعظم“ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تاریخی ’میثاقِ لکھنؤ‘ مرتب کروانے والے بھی ”قائد اعظم محمد علی جناح“ تھے، تاکہ دونوں اقوام مشترکہ طور پر برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کر سکیں۔ لیکن جب ہندو قیادت نے مسلمانوں کے آئینی حقوق تسلیم کرنے سے انکار کیا، تو ”قائد اعظم“ نے مارچ 1929 ء میں ”نہرو رپورٹ“ کے جواب میں اپنے تاریخی ”14 نکات“ پیش کیے، جو دراصل ایک ”آزاد مسلم ریاست“ کے بنیادی حقوق کا نقشہ تھا۔ اس دور میں اگرچہ بعض فکری گروہوں نے اکھنڈ بھارت کے فریب میں آ کر مسلم لیگ کی مخالفت کی، لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ مسلم لیگ کا موقف ہی حقیقت پسندانہ تھا۔ 1930 ء کی دہائی میں مسلم لیگ کے اندرونی اختلافات سے مایوس ہو کر ”قائد اعظم“ دوبارہ لندن چلے گئے تھے، لیکن ”علامہ اقبال“ اور دیگر مخلص رہنماؤں کی سرتوڑ کوششوں کے بعد وہ 1934 ء میں ہندوستان واپس لوٹ آئے۔

1940 ء میں ”قائد اعظم“ کی صدارت میں ’قراردادِ پاکستان‘ منظور ہوئی، جس کے بعد انہوں نے دن رات ایک کر کے تحریک کو گلی گلی پھیلا دیا۔ 1946 ء کے تاریخی انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی بیشتر نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ اس کامیابی نے مخالفین کے دعووں کو زمین میں بوس کر دیا، جس کے ردِعمل میں کئی مقامات پر مسلمانوں کے خلاف خونی فسادات شروع کر دیے گئے۔ مسلمانوں کو معاشی اور جانی طور پر تباہ کیا گیا، لیکن ان تمام مصائب کے سامنے ”قائد اعظم“ چٹان بن کر کھڑے رہے اور ان کا یہ تاریخی قول فضا میں گونجا:

”پاکستان بنانے کے لیے ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اس کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اور قربانیاں دینا ہوں گی۔ مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔“

اس ساری کامیابی کا سہرا ”علامہ محمد اقبال“ اور ”قائد اعظم محمد علی جناح“ ، جنہیں ”بابائے قوم“ بھی کہا جاتا ہے، ان کے سر جاتا ہے۔ 14 اگست 1947 ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا اور ”قائد اعظم“ پہلے گورنر جنرل بنے۔ لیکن اس طویل اور تھکا دینے والی جدوجہد نے ان کی جسمانی صحت کو نڈھال کر دیا تھا۔ ڈاکٹروں کے اصرار پر وہ زیارت تشریف لے گئے، مگر ملت کا یہ پاسبان 11 ستمبر 1948 ء کو اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ان کے آخری لمحات میں کراچی ائرپورٹ پر ایمبولینس کی خرابی کا دردناک واقعہ قوم کے لیے ایک عظیم المیہ تھا۔ ”قائد اعظم“ کی وفات کے بعد قوم شدید صدمے اور خوف کا شکار ہو گئی، لیکن ’بانیانِ پاکستان ”کی تربیت کا اثر تھا کہ قوم میں انتشار پیدا نہیں ہوا۔“ قائد اعظم ”کے بعد پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم، شہیدِ ملت“ نوابزادہ لیاقت علی خان ”نے قوم کو سنبھالا۔ انہوں نے نو زائیدہ مملکت کو ایک نظریاتی اور آئینی سمت دینے کے لیے 1949 ء میں تاریخی“ قراردادِ مقاصد ”پیش کی، جس نے پاکستان کے مستقبل کے آئین کے لیے اسلامی بنیاد فراہم کی۔ اس کے ساتھ ساتھ، لاکھوں مہاجرین کی آمد اور معاشی وسائل کی شدید کمی کے باوجود،“ لیاقت علی خان ”نے ایک بہترین معاشی حکمتِ عملی تیار کروائی تاکہ ملک معاشی بحران سے بچ سکے۔ “ بانیانِ پاکستان ”کے ان افکار نے قوم کو باہم یکجا اور منظم رکھا۔“ علامہ اقبال ”کا یہ شعر بانیِ قوم اور ان کے رفقا پر بالکل صادق آتا ہے :

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

آج جب ہم پاکستان کے اس طویل سفر اور ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کی حقیقی و عملی تصویر کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ذہن میں یہ سوال بار بار دستک دیتا ہے کہ کہاں ہے وہ تصور؟ کہاں ہے وہ نظریہ اور کہاں ہے وہ عظیم خواب؟ کیا ہمارے قائد اور مفکر اعظم علامہ اقبال ایک ایسا پاکستان بنانا چاہتے تھے جو داخلی طور پر عدم استحکام، بدامنی اور فکری انتشار کا شکار ہو؟ جہاں موروثی سیاست قوم پر مسلط ہو، جہاں سماجی رویے اخلاقیات سے عاری ہو چکے ہوں؟ افسوس! ہم نے فکری زوال کو اپنے معاشرے کا حصہ بنا لیا، بیرونی ایجنڈوں کو فکری آزادی کا نام دے کر نظریاتی سرحدوں کو نقصان پہنچایا، اور قوم کو مذہبی، لسانی و صوبائی تفریق کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ہم نے مادی مفادات کے لیے اپنی قومی بیٹیوں کی تکریم، معاشرتی عدل اور سماجی انصاف کے بنیادی اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔ یہ موجودہ پاکستان کے وہ ناقابلِ فراموش اور تلخ حقائق ہیں جن کا ذمہ دار کوئی اور نہیں، بلکہ ہم خود ہیں۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے ملک کے نظام کو کمزور کیا ہے۔

وقت کے مفکر ”علامہ محمد اقبال“ نے بیسویں صدی کی ابتدا میں جس آزاد ریاست کا خواب دیکھا تھا، وہ خواب محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا نہیں تھا؛ وہ خواب ایک ایسا گلستان بسانے کا تھا جہاں ”بانیانِ پاکستان“ اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے برابر کھڑا دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں کی بیٹیاں معاشرے میں عزت، پاکدامنی اور مکمل تحفظ کے ساتھ جی سکیں، جہاں کے نوجوان علم اور جدید ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوں، اور ایک ایسا وطن ہو جہاں فکر بھی محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہو، فلسفہ بھی محمد ﷺ کا ہو، اور نظریہ بھی محمد ﷺ کا ہو۔ 14 اگست 1947 ء کو ایک کروڑ سے زائد مسلمانوں نے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی، جس میں لاکھوں نفوس مٹی کی نذر ہو گئے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک آزاد اور اسلامی فلاحی ماحول میں سانس لے سکیں۔ انہوں نے نوآبادیاتی سازشوں اور دشمن کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو روند کر ”قائد“ اور ”اقبال“ کے خواب کو سچ کر دکھایا۔ آج ”بانیانِ پاکستان“ کے افکار اور فلسفے کا تقاضا ہے کہ ہم مصلحتوں سے بالاتر ہو کر، فرقہ واریت اور ذاتی مفادات کو چھوڑ کر دوبارہ اسی ویژن کو اپنائیں جس کے لیے پاکستان قائم کیا گیا تھا، تاکہ یہ دیس واقعی ایک عظیم اسلامی فلاحی مملکت بن سکے۔

شریکِ جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Sobia Shafique
Sobia Shafique
23 hours ago

بہت عمدہ ۔ تاریخ کا نہایت عمیق مطالعہ ۔

Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW