میرے مطابق

پلاننگ اہداف کی بنیاد پر ہوتی ہے یا افراد کی بنیاد پر؟

Sajid mehmood Chohan

یہ ایک بنیادی سوال ہے کہ کامیاب منصوبہ بندی کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟ کیا پہلے افراد کو سامنے رکھ کر منصوبہ بنایا جائے یا پہلے اہداف طے کیے جائیں اور پھر ان کے مطابق افراد اور وسائل کا انتخاب کیا جائے؟

اس فرق کو سمجھنے کے لیے خاندان اور ادارے کی مثال بہت مددگار ہے۔

ایک خاندان جب اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے تو اس کی توجہ اپنے افراد پر ہوتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم، شادی، رہائش، صحت اور مالی ضروریات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ خاندان افراد کے لیے وجود رکھتا ہے، اس لیے اس کی پلاننگ بھی افراد کے گرد گھومتی ہے۔ اگر کسی بچے کو بیرونِ ملک تعلیم دلوانی ہو یا کسی بزرگ کو علاج کی ضرورت ہو تو پورا بجٹ اور ترجیحات اسی کے مطابق بدل جاتی ہیں۔

لیکن ایک کمپنی، ادارہ یا کاروبار مختلف اصول پر چلتا ہے۔ اس کا مقصد مخصوص اہداف حاصل کرنا ہوتا ہے ؛ مثلاً ایک سال میں ایک ارب روپے کی سیلز، دس نئی برانچز کا قیام یا پچاس ہزار نئے صارفین تک رسائی۔ جب اہداف واضح ہوتے ہیں تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ ہمارے پاس کتنے لوگ موجود ہیں، بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ ان اہداف کے حصول کے لیے کتنے اور کس معیار کے افراد، کس مہارت، کس ٹیکنالوجی اور کتنے وسائل کی ضرورت ہے۔

اگر موجودہ ٹیم کافی نہ ہو تو ادارہ نئے ملازمین بھرتی کرتا ہے، کنسلٹنٹس کی خدمات لیتا ہے، کمیشن ایجنٹس شامل کرتا ہے، آؤٹ سورسنگ کرتا ہے یا جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ یعنی اہداف تبدیل نہیں کیے جاتے بلکہ وسائل کو اہداف کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔

اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ادارے اس اصول کو الٹا کر دیتے ہیں۔ وہ پہلے موجود افراد کو دیکھتے ہیں اور پھر انہی کی صلاحیت کے مطابق اپنے اہداف چھوٹے کر لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارہ کبھی اپنی حقیقی صلاحیت تک نہیں پہنچ پاتا۔ اگر کسی کمپنی کے پاس صرف پانچ سیلزمین ہیں اور وہ اسی بنیاد پر اپنے کاروباری خواب محدود کر لے، تو وہ دراصل اپنی ٹیم کی موجودہ حالت کو اپنی مستقبل کی حد بنا رہی ہے۔

کامیاب ادارے اس کے برعکس سوچتے ہیں۔ وہ پہلے منزل کا تعین کرتے ہیں، پھر راستہ بناتے ہیں، پھر اس سفر کے لیے مناسب لوگ، وسائل اور نظام اکٹھا کرتے ہیں۔ اسی لیے بڑی کمپنیاں ضرورت پڑنے پر سینکڑوں نئی بھرتیاں کرتی ہیں، نئی مہارتیں حاصل کرتی ہیں اور اپنے ڈھانچے میں تبدیلی لاتی ہیں، مگر اپنے اسٹریٹجک اہداف آسانی سے تبدیل نہیں کرتیں۔

البتہ اس اصول کا ایک اہم استثنا بھی ہے۔ اگر ادارہ علم پر مبنی ہو، جیسے کسی عالمی شہرت یافتہ سائنسدان کی ریسرچ لیب، کسی غیر معمولی تخلیقی ڈیزائنر کا اسٹوڈیو یا کسی منفرد بانی (Founder) پر قائم اسٹارٹ اپ، تو بعض اوقات مخصوص افراد خود ادارے کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں منصوبہ بندی جزوی طور پر افراد کے گرد بھی گھوم سکتی ہے۔ لیکن عام کاروباری اور انتظامی اداروں میں اصول یہی رہتا ہے کہ افراد اہداف کے لیے ہوتے ہیں، اہداف افراد کے لیے نہیں۔

ایک اور بات جو اکثر کاروباری حلقوں میں سننے کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ: ”ہم اتنا ہی کام کریں گے جتنا ہم سنبھال سکتے ہیں۔“ پہلی نظر میں یہ بات بڑی معقول لگتی ہے، اور ایک حد تک درست بھی ہے۔ کوئی بھی ذمہ دار ادارہ اتنا کام نہیں لیتا کہ معیار گر جائے، گاہک ناراض ہو جائیں یا ٹیم دباؤ کا شکار ہو جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی سوچ ہمیشہ برقرار رہنی چاہیے؟

اگر ایک کمپنی آج سو گاہک سنبھال سکتی ہے تو کیا اسے ہمیشہ صرف سو گاہکوں تک محدود رہنا چاہیے؟ اگر ایک فیکٹری روزانہ ایک ہزار یونٹ بنا سکتی ہے تو کیا وہ اپنی پوری زندگی ایک ہزار یونٹ ہی بناتی رہے؟

اگر دنیا کی کامیاب کمپنیاں یہی سوچتیں تو وہ کبھی اپنے ابتدائی سائز سے آگے نہ بڑھ پاتیں۔
اصل فرق سوچ کا ہے۔

عام ادارے اپنی موجودہ صلاحیت کو اپنی آخری حد سمجھ لیتے ہیں، جبکہ کامیاب ادارے اسے اپنی اگلی منزل کا نقطۂ آغاز سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : ”آج ہم اتنا سنبھال سکتے ہیں، لیکن کل اس سے زیادہ سنبھالنے کے لیے آج ہی تیاری شروع کرتے ہیں۔“

اسی لیے وہ نئے افراد شامل کرتے ہیں، نظام بہتر بناتے ہیں، ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، ذمہ داریاں تقسیم کرتے ہیں اور اپنی انتظامی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔

اس لیے میرے نزدیک درست جملہ یہ نہیں کہ ”ہم اتنا ہی کام کریں گے جتنا ہم سنبھال سکتے ہیں۔“ بلکہ زیادہ درست بات یہ ہے کہ:

”ہم اتنا مضبوط نظام بنائیں گے کہ ہر سال پہلے سے زیادہ کام اعتماد اور معیار کے ساتھ سنبھال سکیں۔“
ترقی کا راز کام کو محدود کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی صلاحیت کو مسلسل وسیع کرنے میں ہے۔
اس لیے ہر لیڈر کو وقتاً فوقتاً خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے :
کیا میں اپنے اہداف کے مطابق ٹیم بنا رہا ہوں، یا اپنی موجودہ ٹیم کے مطابق اہداف چھوٹے کر رہا ہوں؟
اسی ایک سوال کا جواب اکثر اداروں کی ترقی اور جمود کے درمیان فرق پیدا کر دیتا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
3 Comments
Razia Noor
Razia Noor
6 days ago

Great

Aman Butt
Aman Butt
5 days ago

Masha Allah ,great analysis for setting targets and achieving methodology

M. Asad Ayub
M. Asad Ayub
2 days ago

Great insight

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW