میرے مطابق

بلوچستان میں پنجابی مسافروں کا قتل: سنگین انسانی المیہ اور پاکستان دشمنی

”میرا بیٹا بے گناہ تھا، اسے کیوں مارا گیا؟“ یہ دل دہلا دینے والے الفاظ ایک ایسی والدہ کے ہیں، جس کا بیٹا صرف اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے گھر لوٹ رہا تھا، لیکن شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا۔

بلوچستان کے ضلع ژوب میں حالیہ دنوں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے دو مسافر بسوں کو روک کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کو شناخت کے بعد الگ کر کے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ سرہ ڈاکئی کے مقام پر پیش آیا، جو کوئٹہ کو ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی اہم قومی شاہراہ پر واقع ہے۔

شناخت کی بنیاد پر قتل: ایک سنگین رجحان

اس سانحے کی سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ متاثرین کو ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر الگ کیا گیا، یعنی یہ قتل لسانی بنیادوں پر کیے گئے۔ ہلاک شدگان میں دو سگے بھائی جابر نذیر اور عثمان نذیر شامل تھے، جو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے دنیاپور جا رہے تھے۔ ان کے بھائی صابر نذیر کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ رو کر کہہ رہے ہیں کہ ”میرے بھائیوں کا قصور کیا تھا؟“

ایسے ہی ایک اور مقتول صابر، کوئٹہ میں 15 سال سے باورچی کی نوکری کر رہا تھا اور اپنے بچوں کا واحد کفیل تھا۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ پنجاب کا باشندہ تھا۔

قومی شاہراہ پر، کھلے عام، مسافر بسیں روکی جاتی ہیں، شناختی کارڈ چیک کیے جاتے ہیں، اور لوگ بے دردی سے قتل کر دیے جاتے ہیں۔

بلوچستان میں شدت پسندی، علیحدگی پسندی اور لسانی نفرت کوئی نئی بات نہیں، مگر شناخت کی بنیاد پر منظم ٹارگٹ کلنگ ایک خطرناک موڑ ہے۔ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو یہ پورے ملک میں بین الصوبائی نفرت کو ہوا دے سکتا ہے۔

بلوچستان کی صورتحال کئی دہائیوں سے ابتر ہے۔ یہاں کے لوگ احساس محرومی کا شکار ہیں، جنہیں معاشی و سیاسی طور پر پسماندہ رکھا گیا۔ وفاقی حکومتوں کی عدم توجہی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور وہاں کا سرداری نظام بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

اسی خلاء کو شدت پسند گروہ اور علیحدگی پسند تنظیمیں استعمال کرتی ہیں، اور عام پنجابی، سندھی یا پختون مزدور ان کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

بلوچستان میں موثر اور غیر جانبدار سیکیورٹی نظام قائم کرنا ہو گا۔ ہر شہری کی جان کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قومی شاہراہوں پر چیک پوسٹوں کو مضبوط کیا جائے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے۔

میڈیا، علما، اور تعلیمی اداروں کو شامل کر کے ایک قومی سطح پر مہم چلائی جائے جس میں بتایا جائے کہ پنجابی، بلوچ، پختون، سندھی سب پاکستانی ہیں۔ ہمیں نفرت کی بنیادوں پر نہیں بلکہ محبت، بھائی چارے اور انصاف کی بنیاد پر متحد ہونا ہو گا۔

بلوچستان کے احساس محرومی کو دور کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ اس کے لیے :
صوبے کو اس کے وسائل پر اختیار دیا جائے۔
تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری کی جائے۔

ژوب کے اس سانحے میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے مثالی سزا دی جائے تاکہ لوگوں کا عدلیہ اور ریاست پر اعتماد بحال ہو۔

ژوب کے اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض 9 افراد کا قتل نہیں، بلکہ ایک قوم کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، اور لسانی نفرت کی آگ کو بجھانے کے بجائے مزید ہوا دی، تو خدانخواستہ کل یہ آگ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

ریاست کو جاگنا ہو گا، کیونکہ اگر ریاست سوتی رہی تو پھر ایسے باپوں کی آہیں اور بیٹوں کی لاشیں ہی رہ جائیں گی، جن کا قصور صرف یہ ہو گا کہ وہ ”پنجابی“ تھے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW