صبر کی روشن شمع: میری نانی صابرہ بی بی

زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی ایک گھرانے کی نہیں بلکہ پورے خاندان، پورے گاؤں اور آنے والی نسلوں کی پہچان بن جاتی ہیں۔ ان کی موجودگی ایک نعمت، ان کی دعائیں ایک سائبان اور ان کی یادیں ایک ایسا خزانہ ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید قیمتی ہوتا جاتا ہے۔ میری نانی، صابرہ بی بی، بھی ایسی ہی ایک باوقار، باکردار اور عظیم خاتون ہیں جن کی پوری زندگی صبر، شکر، محبت، ایثار اور خدمت سے عبارت ہے۔
ان کا نام ”صابرہ“ ہے، اور شاید قدرت نے ان کے نصیب میں بھی صبر ہی سب سے زیادہ لکھ دیا تھا۔ زندگی نے انہیں آزمائشوں سے بارہا گزارا، مگر کبھی ان کی زبان پر شکوہ نہیں آیا۔ وہ ہمیشہ مسکراتے ہوئے حالات کا سامنا کرتی رہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسی برس کی عمر میں بھی وہ ہمارے خاندان کی سب سے مضبوط، باوقار اور قابلِ احترام شخصیت ہیں۔
میری نانی کی چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ میری والدہ ان کی سب سے بڑی بیٹی تھیں جبکہ سب سے چھوٹا ان کا اکلوتا بیٹا ہے۔ میری خوش نصیبی ہے کہ میں ان کی بڑی بیٹی کا بڑا بیٹا ہوں، اس لیے شاید مجھے ان کی محبت کچھ زیادہ ہی نصیب ہوئی۔ بچپن سے لے کر آج تک ان کی شفقت، دعائیں اور محبت میرے ساتھ رہی ہیں۔ میری ہر کامیابی پر ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور آج بھی میری ترقی اور خوش حالی کے لیے ان کے ہاتھ دعا میں اٹھتے ہیں۔
گزشتہ رمضان المبارک، جب میں ان کے پاس گیا تو اسی برس کی عمر میں بھی انہوں نے خود میرے لیے سحری تیار کی۔ یہ منظر میرے لیے صرف ایک گھریلو واقعہ نہیں بلکہ محبت، خدمت اور خلوص کی ایسی تصویر تھا جو ہمیشہ میرے دل میں نقش رہے گا۔ اس عمر میں بھی وہ اپنے روزمرہ کے بیشتر کام خود کرتی ہیں اور کبھی کسی پر بوجھ بننا پسند نہیں کرتیں۔
ضلع پاکپتن میں واقع ہمارے گاؤں فریدکوٹ میں انہیں بے حد عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی خوش اخلاقی، نرم گفتگو اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی عادت نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا ہے۔ وہ صرف اپنے خاندان کی بزرگ نہیں بلکہ پورے گاؤں کی ایک قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ کسی کے گھر خوشی ہو یا غمی، وہ حتیٰ المقدور ضرور شریک ہوتی ہیں اور رشتوں کو جوڑنے کا فن بخوبی جانتی ہیں۔
میری نانی نہایت مذہبی خاتون ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت، نماز، تہجد، ذکر و اذکار اور درود شریف ان کی زندگی کا معمول ہیں۔ ان کی آواز میں ایک عجیب مٹھاس ہے۔ حمد، نعت اور میلاد کی محافل میں جب وہ پڑھتی ہیں تو ماحول روحانیت سے بھر جاتا ہے۔ انہوں نے عمرہ کی سعادت بھی حاصل کر رکھی ہے اور ہمیشہ دین سے وابستگی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھا۔
بچپن کی بے شمار یادیں آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ عید، بقرعید، میلوں اور دیگر تہواروں پر ان کے گھر مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ درجنوں افراد کی مہمان نوازی وہ نہایت خوش دلی سے کرتیں۔ اپنے ہاتھوں سے کھانے تیار کرتیں اور ہر مہمان کی خدمت اس محبت سے کرتیں جیسے وہ ان کے اپنے بچے ہوں۔ ان کی باورچی خانے کی مصروفیات بھی عبادت معلوم ہوتی تھیں کیونکہ ہر کام محبت سے انجام پاتا تھا۔
وہ صرف ایک بہترین میزبان ہی نہیں بلکہ ہنر مند خاتون بھی رہی ہیں۔ روایتی سلائی کڑھائی میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ دیسی علاج، گھریلو ٹوٹکے اور بزرگوں کی روایتی حکمت ان کے سینے میں آج بھی محفوظ ہے۔ ان کی گفتگو میں تجربے کی خوشبو اور زندگی کی دانائی جھلکتی ہے۔ کسی بھی گھریلو مسئلے کو وہ جھگڑے کی بجائے محبت، برداشت اور حکمت سے حل کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔
زندگی نے ان سے بہت کچھ چھین لیا۔ انہوں نے اپنے شریکِ حیات اور اپنی چار جوان بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے رخصت کیا۔ شاید اس سے بڑا امتحان کسی ماں کے لیے نہیں ہو سکتا۔ مگر حیرت ہوتی ہے کہ اتنے بڑے صدمات کے باوجود انہوں نے کبھی اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہیں کیا۔ وہ آج بھی اپنے مرحوم شوہر اور بیٹیوں کو یاد کرتی ہیں، ان کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیں کرتی ہیں، مگر ان کی زبان پر ہمیشہ صبر، شکر اور رضا کے الفاظ ہوتے ہیں۔ یہی ان کی اصل عظمت ہے۔
غربت کے دن بھی انہوں نے دیکھے۔ محدود وسائل، چھ بیٹیوں کی پرورش اور بے شمار معاشی مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ ان کی محنت، میرے نانا جان کی جدوجہد اور خاندان کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ میرے ماموں، ڈاکٹر اللہ دتہ طاہر، آج علمی دنیا کا ایک معتبر نام ہیں۔ وہ درسِ نظامی کے فاضل، اکنامکس میں پی ایچ ڈی، گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر اور شعبۂ اکنامکس کے سربراہ ہیں۔ متعدد تحقیقی مقالات اور مختلف جامعات میں تدریسی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک ماں کی دعائیں اور تربیت کس طرح نسلوں کا مستقبل بدل سکتی ہیں۔
میری نانی کی شخصیت کا ایک اور خوبصورت پہلو ان کی نفاست اور سلیقہ مندی ہے۔ وہ ہمیشہ صاف ستھرے، باوقار اور خوبصورت لباس میں رہتی ہیں۔ صفائی ان کی عادت ہے اور خیالات کی پاکیزگی ان کی پہچان۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی وقار بھری خوبصورتی ہے جو عمر کے کسی مرحلے کی محتاج نہیں۔
آج وہ اپنی اولاد ہی نہیں بلکہ پوتوں، نواسوں، پڑپوتوں اور پڑنواسوں کو بھی اپنی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتے دیکھ رہی ہیں۔ شاید اس سے بڑی خوش نصیبی کسی انسان کے لیے نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنی کئی نسلوں کو ایک ساتھ محبت کے بندھن میں جڑا ہوا دیکھے۔ ہمارے بچے بھی آج ان کے گرد بیٹھ کر کہانیاں سنتے ہیں، ان کی نصیحتوں سے سیکھتے ہیں اور ان کی محبت سے فیض یاب ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کبھی ہم ہوا کرتے تھے۔
مجھے خوش نصیبی سے اسلام آباد میں بھی چند ماہ ان کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ ان دنوں گھر میں ایک عجیب سی رونق رہتی تھی۔ ان کی موجودگی سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے گھر میں برکت، سکون اور دعا نے ڈیرہ ڈال رکھا ہو۔ آج بھی وہ جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہیں تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ایک ماں اور نانی کی دعا اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور قبول ہوتی ہے۔
میری نانی صرف ہمارے خاندان کی بزرگ نہیں بلکہ ایک عہد کی نمائندہ ہیں۔ وہ اس نسل سے تعلق رکھتی ہیں جس نے سادگی میں عظمت، غربت میں عزت، آزمائش میں صبر، خوش حالی میں شکر اور رشتوں میں محبت کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ آج کے دور میں ایسی شخصیات کم ہوتی جا رہی ہیں، اس لیے ان کی موجودگی ہمارے لیے ایک نعمت اور ایک زندہ ورثہ ہے۔
اللہ تعالیٰ میری نانی، صابرہ بی بی، کو صحت، تندرستی، خوشیوں اور برکت والی طویل عمر عطا فرمائے، ان کی دعاؤں کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے، اور ہمیں بھی ان کی طرح صبر، شکر، محبت، خدمت اور انسان دوستی کی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کچھ لوگ کتابوں میں تاریخ لکھتے ہیں، مگر کچھ اپنی زندگی سے تاریخ رقم کرتے ہیں۔ میری نانی صابرہ بی بی انہی عظیم انسانوں میں سے ایک ہیں جن کی پوری زندگی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
