جب شادی محبت نہیں، گھٹن اور قید بن جائے

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی اس موڑ پر آ کر رک جائے گی کاش میرے گھر والے مجھے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے دیتے کاش میں پہلے اپنی تعلیم مکمل کرتی، اپنے خواب پورے کرتی، ایک اچھی ملازمت حاصل کرتی، اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی، زندگی کو سمجھتی، جیتی، محسوس کرتی، اور پھر اپنی مرضی سے اپنا شریکِ سفر منتخب کرتی مگر ہمارے معاشرے میں اکثر لڑکیوں کو ایک ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، ایک ایسا بوجھ جسے جلد از جلد کسی اور کے حوالے کر دینا ضروری سمجھا جاتا ہے جیسے والدین بیٹی کی خواہشات، خوابوں اور شخصیت سے زیادہ صرف اس کی شادی کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں آج میں سوچتی ہوں کہ آخر یہ کون سی ذمہ داری ہے جس میں ایک انسان کی پوری زندگی داؤ پر لگا دی جاتی ہے؟
شادی کو ایک سال ہونے والا ہے، مگر مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں نے کئی سال ایک قید خانے میں گزار دیے ہوں۔
مجھے اپنا محلہ یاد آتا ہے، اپنے دوست یاد آتے ہیں، وہ بے ساختہ قہقہے، وہ شور، وہ ہنسی، وہ آزاد فضا، وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو کبھی میری زندگی کا حصہ تھیں۔
میں کبھی کبھی اُن یادوں کو سوچ کر مسکراتی ہوں، مگر اگلے ہی لمحے یہ احساس دل کو چیر دیتا ہے کہ شاید وہ دن کبھی واپس نہ آئیں۔
میرا شوہر ایک عجیب کشمکش میں پھنسا ہوا انسان محسوس ہوتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے اس کی زندگی کے تمام فیصلوں کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔
کب اٹھنا ہے، کب جانا ہے، کیا کھانا ہے، کہاں جانا ہے، کس سے ملنا ہے ہر بات کے پیچھے کسی اور کی ہدایات موجود ہوتی ہیں۔
کبھی کبھی تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری ازدواجی زندگی تک ہماری نہیں رہی۔ جیسے دو بالغ انسانوں کے درمیان موجود رشتہ بھی کسی تیسرے کی مرضی کا محتاج ہو۔
گھر میں کوئی نجی زندگی نہیں، کوئی ذاتی حدود نہیں، کوئی پرائیویسی نہیں۔
موٹر سائیکل پر ہم اکیلے نہیں جا سکتے اگر کہیں گاڑی میں جانا ہو تو اکثر اگلی نشست پر میرے شوہر کے ساتھ میری ساس بیٹھی ہوتی ہیں، اور میں پیچھے رہ جاتی ہوں۔
میں جانتی ہوں کہ ایک ماں کا اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھنا کوئی غلط بات نہیں، لیکن شاید مسئلہ نشست کا نہیں بلکہ اُن احساسات کا ہے جو مسلسل میرے دل میں جمع ہوتے جا رہے ہیں کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے درمیان ہمیشہ کوئی نہ کوئی موجود ہو۔
بات چیت، وقت، احساسات، ہر چیز نگرانی میں محسوس ہوتی ہے۔ کسی سفر میں بھی ہمارے درمیان کوئی نہ کوئی موجود ہوتا ہے۔
میں جانتی ہوں کہ والدین کا احترام ضروری ہے، لیکن احترام اور مداخلت میں فرق ہوتا ہے۔ رشتہ تب پروان چڑھتا ہے جب دو انسانوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے، سننے اور جینے کا موقع دیا جائے۔ لیکن جب ہر لمحہ نگرانی، ہدایات اور کنٹرول کے سائے میں گزرے تو محبت آہستہ آہستہ گھٹن میں بدلنے لگتی ہے۔
بعض راتوں میں میں واش روم کا نل پوری طرح کھول دیتی ہوں تاکہ بہتے ہوئے پانی کی آواز میری سسکیوں کو چھپا لے۔ میں روتی ہوں۔ اتنا روتی ہوں کہ آنسو اور پانی آپس میں مل جاتے ہیں۔ میں اپنے ہی دل کے شور کو پانی کی آواز میں دفن کرنے کی کوشش کرتی ہوں کوئی نہیں جانتا کہ اس لمحے ایک عورت کتنی بار اندر سے ٹوٹتی ہے۔ کوئی نہیں دیکھتا کہ وہ خاموشی سے خود کو سنبھالنے کی کتنی کوشش کرتی ہے۔ واش روم کے بہتے ہوئے پانی کے شور میں اپنے آنسو چھپاتے ہوئے، طاہرہ خود سے یہی سب باتیں کر رہی تھی۔ وہ اپنے دل میں بسائے برسوں کے خوف، گھٹن، محرومی اور تنہائی کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ شاید یہ شکایت کسی ایک شخص سے نہیں تھی، بلکہ اُس پورے نظام سے تھی جس میں بہت سی لڑکیاں اپنی آواز کھو دیتی ہیں، مگر پھر بھی خاموش رہنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
بچپن سے ہی اکثر لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ شادی کے بعد شوہر کا گھر ہی اُن کا اصل گھر ہے، اور وہاں سے واپس آنا ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ اُنہیں صبر، برداشت اور ہر حال میں ایڈجسٹ کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سی لڑکیاں شدید گھٹن، تنہائی اور ذہنی اذیت کے باوجود خاموش رہتی ہیں۔ وہ اپنے والدین کو اپنی تکلیف نہیں بتاتیں، کیونکہ اُنہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کے ماں باپ اس دکھ کو برداشت نہیں کر پائیں گے۔ وہ نہیں چاہتیں کہ اُن کے والدین خود کو قصوروار سمجھیں یا اُن کی وجہ سے غم اور پریشانی میں مبتلا ہوں۔ چنانچہ وہ اپنے دل کے زخم اپنے اندر ہی دفن کرتی رہتی ہیں، مسکراتی رہتی ہیں، اور دنیا کے سامنے سب کچھ ٹھیک ہونے کا دکھاوا کرتی رہتی ہیں، جبکہ اندر ہی اندر اُن کا وجود خاموشی سے بکھر رہا ہوتا ہے۔ بعض اوقات سب سے زیادہ تکلیف خود درد نہیں دیتا، بلکہ یہ احساس دیتا ہے کہ آپ اپنا درد کسی سے بیان بھی نہیں کر سکتے۔ ایسی مسلسل گھٹن اور کنٹرول کے ماحول میں رہنے والی خواتین پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دائمی ذہنی دباؤ (Chronic Stress)
بے چینی اور اضطراب (Anxiety)
اداسی اور ڈپریشن
خود اعتمادی میں کمی
جذباتی تھکن (Emotional Exhaustion)
احساسِ بے بسی کو سیکھ لینا (Learned Helplessness)
ازدواجی تعلق سے جذباتی دوری
اپنی شناخت کھو دینے کا احساس
مسلسل تنہائی اور غیر محفوظ ہونے کا احساس
وقت گزرنے کے ساتھ انسان صرف خاموش نہیں ہوتا، بلکہ اندر سے جذباتی طور پر سن ہو جاتا ہے۔ وہ جینا نہیں چھوڑتا، مگر محسوس کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
کچھ ساسیں ایسا کیوں کرتی ہیں؟ کیونکہ یہ ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے میں یہاں ہر ساس کی بات نہیں کر رہی کیونکہ ہر ساس ایسی نہیں ہوتی، لیکن بعض اوقات کچھ ماؤں کے رویوں کے پیچھے بھی نفسیاتی عوامل موجود ہوتے ہیں جیسے کہ
بیٹے سے غیر معمولی جذباتی وابستگی،
تنہائی یا چھوڑ دیے جانے کا خوف،
اپنی شناخت کو صرف ”ماں“ کے کردار سے جوڑ لینا،
کنٹرول کے ذریعے خود کو محفوظ محسوس کرنا، اپنے اندر کے عدم تحفظ (Insecurity) ، تنہائی کے خوف، یا اپنی اہمیت کھو دینے کے ڈر کی وجہ سے دوسروں پر کنٹرول قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اگر فیصلے ان کے ہاتھ سے نکل گئے تو شاید ان کی حیثیت یا اہمیت بھی کم ہو جائے گی۔ بعض اوقات یہ رویے شخصیت کی ایسی خصوصیات سے بھی جڑے ہوتے ہیں جن میں انسان ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے، اپنی رائے کو حتمی سمجھتا ہے اور دوسروں کی ذاتی حدود (Boundaries) کا احترام کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے
یہ احساس کہ بہو کی آمد سے بیٹے کی محبت تقسیم ہو جائے گی۔
ماضی میں خود سخت حالات سے گزرنا اور لاشعوری طور پر وہی رویے آگے منتقل کرنا۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ماں اپنے بیٹے سے محبت کرتی ہے۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب محبت، اختیار اور کنٹرول کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ لیکن مسلسل کنٹرول، جذباتی مداخلت اور دوسروں کی آزادی محدود کرنا ایک غیر صحت مند خاندانی ماحول پیدا کر سکتا ہے جس کا اثر پورے گھر پر پڑتا ہے۔
ایک پیغام ساسوں کے نام دینا چاہتی ہوں کہ آپ اپنے بیٹے کی ماں ہیں، مالک نہیں۔ آپ کی بہو آپ کے گھر آئی ہوئی کوئی قیدی نہیں بلکہ ایک انسان ہے، جس کے خواب، احساسات، خوف اور خواہشات ہیں۔
یاد رکھیے!
محبت سے جو رشتہ جڑتا ہے، وہ زندگی بھر قائم رہتا ہے۔
کنٹرول سے جو رشتہ چلایا جاتا ہے، وہ اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے۔
اگر آپ اپنی بہو کو عزت دیں گی، اعتماد دیں گی، سانس لینے کی جگہ دیں گی، تو وہ آپ سے دور نہیں ہو گی بلکہ دل سے آپ کے قریب آئے گی۔
گھر پابندیوں سے نہیں بنتے،
گھر اعتماد سے بنتے ہیں،
گھر خوف سے نہیں بنتے،
گھر محبت سے بنتے ہیں،
اور محبت وہاں پروان چڑھتی ہے جہاں انسان کو جینے، بولنے، مسکرانے اور اپنی شناخت برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے۔
کیونکہ ایک خوش بہو صرف ایک فرد کو خوش نہیں کرتی، بلکہ پورے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر خاندان ایسا ہو، لیکن جہاں ایسا ہوتا ہے وہاں اس کے جذباتی اور نفسیاتی اثرات واقعی بہت گہرے ہو سکتے ہیں۔ میں لڑکیوں کے نام ایک پیغام دینا چاہتی ہوں اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہی ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ صرف کسی کی بیٹی، بہو یا بیوی نہیں، بلکہ ایک مکمل انسان ہیں اپنی تعلیم کو اپنی طاقت بنائیں، اپنے خوابوں کو زندہ رکھیں، مالی اور ذہنی طور پر خود کو مضبوط بنائیں، اور اپنی آواز کی قدر کرنا سیکھیں۔ برداشت ایک خوبی ہے، لیکن خاموشی میں ظلم سہتے رہنا کوئی خوبی نہیں اپنی عزتِ نفس، ذہنی سکون اور جذباتی صحت کو اہمیت دیں۔ اگر آپ تکلیف میں ہیں تو کسی قابلِ اعتماد دوست، خاندان کے فرد یا ماہرِ نفسیات سے بات کریں۔ مضبوط ہونا صرف صبر کرنا نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنی بات کہنا بھی ہے۔ ایک صحت مند رشتہ خوف پر نہیں، اعتماد پر قائم ہوتا ہے، قربانی پر نہیں، باہمی احترام پر قائم ہوتا ہے۔ آپ کو بھی اتنا ہی حق ہے کہ آپ محبت، عزت، آزادی اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
![]()


آپ نے جو کچھ مشورے آخر میں لکھے وہ محض کتابی باتیں ہیں۔
عمومی ہر ماں (بالخصوص اگر ایک لڑکا پاس ہو یا سب سے بڑھ کر اگر ان کا شوہر موجود نہ ہو) احساس کمتری اور خوف کا شکار ہوتی ہیں کہ بہو بیٹے کو ان سے چھین لے گی۔
یہاں معاملہ گربہ کشتن روز اول والا ہوتا ہے تو ساس نے آپ کی بلی ماردی ہے اور اب اسے واپس لانا آسان نہیں۔
ہوسکتا ہے ساس نے بھی اسی طرح کی زندگی گزاری ہو اور وہ اب حساب برابر کررہی ہوں
اس مشکل سے نکلنے کے لئے جو کچھ کرنا ہے آپ نے کرنا ہے
آپ تو رو لیتی ہیں سب سے مشکل زندگی بیٹے یا شوہر کی ہوتی ہے جو سب دیکھ کر بھی درگزر پر مجبور ہوتا ہے کہ اسے مولوی نے یہ بتایا ہے کہ ماں کہے تو لمحے کی تاخیر بغیر بیوی کو طلاق دینی ہوگی / جنت کا دروازہ نہیں کھلے گا۔
میرا ایک عزیز دوست شان دار کیرئیر ۔۔۔ ساتھ کام کرتا تھا ایک دن برین ہیمبرج کے بعد انتقال کرگیا۔
اس کی زندگی آپ کے شوہر جیسی تھی
بیوی اور بیوہ ماں کی دو کشتیوں کے درمیان رہنے والا۔
بمشکل 35 سے 40 عمر تھی۔
متعدد چٹکلے ایسے ہیں جن سے آپ ساس کو مٹھی میں کرسکتی ہیں لیکن وقت لگے گا۔
ساس سے پوچھنا ۔۔۔۔ ایک رسم بنالیں اور انجوائے کریں
بعد میں جو کرنا ہو کرتی رہیں۔
اگر آپ سخت مشکل میں ہیں تو اپنے والدین کو اعتماد میں لیں اور بچوں کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں
اگر ساتھ رہنا ہے تو live in rome as romans do
پر عمل کریں۔
اگر اس گھر میں رہنا ہے تو کوشش کریں کہ شوہر سے کبھی بھی ساس کی کوئی شکایت یا ان کے خلاف بات نہ کریں
یوں سمجھیں آپ کے گھر میں والدہ ہیں۔
اس کا خیال بھی رکھیں کہ وہ خاتون کہاں جائیں گی ؟ یہ بھی سوچیں کہ سال پہلے تک گھر ان کے اشاروں پر چلتا تھا تو یکدم آپ کے اشاروں پر کیسے چل سکتا ہے۔
اپنے آپ کو اتنا معتبر کریں یا ثابت کریں کہ وہ آپ کو ذمہ داری دے سکیں۔
بہر حال بہت کچھ ہوسکتا ہے مگر آپ کریں گی