مثبت رہنا کیا ہے؟

پانی کا گلاس آدھا بھرا ہوا سامنے میز پر دھرا تھا۔ دیکھنے والوں کو کہا گیا مشاہدہ کریں اور بیان کریں۔ موصول ہونے والے جوابات کچھ یوں تھے ؛
1۔ گلاس شیشے کا ہے۔
2۔ گلاس دھلا ہوا نہیں ہے۔
3۔ گلاس میں دراڑ ہے۔
4۔ گلاس میز پر موجود ہے۔
5۔ گلاس آدھا خالی ہے۔
6۔ شفاف گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔
بس پھر چھٹے نمبر کی آبزرویشن والے امیدوار کو آفس مزید انٹرویو کے لئے بلا لیا گیا۔ آج کل واقعی اتنا وقت نہیں کہ سو پچاس امیدواروں اور گھنٹے گھنٹے کے انٹرویو پر وقت ضائع کیا جائے۔ اس کے بجائے کمپنی اسی طرح کے فارمولے ترتیب دیتی ہے۔ اور پھر جب وہ لاگو کیے جاتے ہیں تو حیرت انگیز نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ درج بالا واقع تو ابھی ایک معمولی کمپنی میں ہائرنگ سے متعلق تھا۔ بڑی کمپنیز، بڑے ادارے ایک خصوصی سائیکالوجی ٹیسٹ رکھتی ہیں جو اس قدر جلد امیدواران کو فلٹر کرتا ہے کہ عقل بھی دنگ رہ جائے۔
جی تو قارئین! فی زمانہ آس، امید، محنت، سمجھداری اور پوزیٹو تھنکنگ کا زمانہ ہے۔ جھگڑے، لڑائی، منفیت، کاہلی، سستی اور دوسروں پر بے جا تنقید قدر کھو دیتی ہے۔ وائرل تو ہو جاتی ہے ظاہر ہے ہم اس وقت ویورشپ کے کمال دور میں جی رہے ہیں جہاں الگورتھم آخر کو جتنا بھی سمجھدار کیوں نہ ہو لیکن یہ روبوٹک اینالیسز اس بات کی تمیز نہیں کر سکتا کہ کون سی بات زیادہ لوگوں تک پہچانے کے قابل ہے اور کون سی نہیں۔ بس لگائی بھجھائی کی فطری صفت انسانی کسی بھی ویڈیو، کالم، شو کلپ کو زیادہ سے زیادہ دیکھنا شروع کرتی ہے اور یہ لیجیے اب الگورتھم صاحب لگ گئے کام پر۔ ٹک ٹک ٹک۔ اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ بھائی یہ تو بہت مہان ویڈیو ہے اسے اسی گھنٹے ملین بلین لوگوں تک پہچانا ہے۔ اب یہ اس آڈیو، ویڈیو، کالم، کتاب یا شو کلپ کا مقدر ہے کہ وہ پوزیٹو ہے یا نگیٹو۔ پوزیٹو ہے تو زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں، منفی ہے تو بس لوگ برائے شغل اور وقت گزاری دیکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
سوال کچھ یہ ہے کہ آخر سوشل میڈیا کہ اس طوفان میں کس طرح اپنے الگورتھم کا قبلہ درست کیا جائے؟
اس کا حل انتہائی سادہ ہے۔ اس سے پہلے کہ میں حل بتاؤں ایک چھوٹی سی بات سن لیجیے۔
ہوا کچھ یوں کہ کوئی سات آٹھ سال پہلے کی بات ہے کہ میرے پاس ٹی وی چینلز کے کسی کرائم شو کا ایک کلپ آ گیا۔ وہ جب پورا سنا تو ایک حیرت انگیز مشاہدہ کیا۔ یہ تب کی بات ہے جب الگورتھم ٹیکنالوجی نے عوام میں نئے نئے قدم جمائے تھے۔ یا عوام میں شعور بڑھنے لگا تھا اور الگورتھم بھی تجربات کر رہا تھا۔ اس کے بعد میرے پاس تقریباً آٹھ دس مزید چینلز کے صرف کرائم شوز کے کلپس آنے لگے۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ وہ ایک ویڈیو جو تھی ایک منٹ کی، پوری دیکھ لی تھی تو اس سے ہمارے الگورتھم صاحب چوکنے ہو گئے اور یہ فوراً لگ پڑے کام پے۔ ڈھونڈ ڈھانڈ کے چھوٹے سے چھوٹے چینل کی معمولی سی چوری کی خبر بھی میری وال پر لے آئے۔
مجھے ادراک ہوا کہ نہ بھائی یہ تو غلط بات ہے۔ ہمارے الگورتھم صاحب اب اپنی طرف سے جی جان، سر توڑ اور بھاگ دوڑ کر کے اس کوشش میں لگ گئے ہیں کہ نہ صرف ملک پاکستان بلکہ براعظم ایشیا، افریقہ، امریکہ حتی کے انٹارکٹیکا کی برفوں پر کسی پینگوئن نے بھی اگر دوسرے پینگوئن کی برف چرائی یا اسے دھکا دیا تو وہ رپورٹ بھی مجھے ہی لا کے دکھانی ہے۔
اب ری ایکٹ کرنے کی باری ہماری تھی۔ سو ہم سر جھکائے، دست بستہ الگورتھم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یوں گویا ہوئے کہ :
مہاراج! غلطی ہو گئی۔ ایک منٹ کی جرم و سزا پر مبنی صرف ایک عام سی ویڈیو دیکھ لی تھی اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اب آپ مجھے نیٹ فلکس کی منی ہائسٹ کے تانے بانے بھی پیش کرنے لگ جائیں۔ براہ کرم ہاتھ ہولا رکھیں اور اب جو میں آپ کو بتاؤں پلیز مجھے وہی کچھ دکھایا جائے۔ اور اس کے بعد میں نے درج ذیل چینلز سرچ کیے، موضوعات پر گوگل کیا، ٹی وی شوز دیکھے اپنے پسندیدہ سنگرز کی البمز اپنی YT MUSIC میں ایڈ کیں۔ میرا دلچسپی والا مواد کچھ یوں تھا جس کو میں نے اپنے سوشل میڈیا پر زندہ کیا۔
Taimoor AKA MOORO کے ولاگز
Wild Lens With Abrar
Camping vidoes
Biking, hiking tips and tricks
شوز میں ;
”Aap ki Adalat“ by Rajat Sharma
”Lallantop“ by Suarabh dewdi
”Coffe with Karan“
”Mazaq Raat“ by Wasy Chuadhry
”Hansna mana hy“ by Tabish Hashmi
Kapil Sharma show
Khan Sir
”Satyamy wajeety“ by Aamir khan
”Big Boss“ by Salman khan
”Kya ap panchwen pass hain?“ by Shahrukh khan
”The Anupam Kher Show“
پوڈ کاسٹس میں ؛
Nadir Ali podcast
Ahmad Butt Podcast
Paras Chabra podcast
نیوز میں ؛
پی ٹی وی
Radio Pakistan
بی بی سی URDU، English
DW germny
Voice of America
Algazera
اسی طرح سائنس، جیوگرافی، سیاحت، مطالعہ پاکستان پر میں نے اتنے اچھے مواد دیکھے کہ میرا اپنا الگورتھم نہ صرف حیران رہ گیا بلکہ ایک طرح سے مجھ سے معافی بھی مانگی اور پھر ایسا حیران کن کام کیا کہ میں خود حیران۔ الگورتھم نے میری جینوئن دلچسپی کی چیزیں اتنی محنت سے اور دور دراز کے علاقوں اور چینلز سے میرے سامنے لا کر رکھیں کہ مانو دل خوش ہو گیا۔
اب واپس آتے ہیں اپنے اسی سوال پر امید ہے آپ کو بھولا نہیں ہو گا؛ سوال کچھ یہ ہے کہ آخر سوشل میڈیا کے اس طوفان میں اپنے الگورتھم کا قبلہ کس طرح درست کیا جائے؟
تو معزز پڑھنے والو! اسی سوال کے جواب کو میں نے آپ کے سامنے مفصل ایک کہانی کی صورت میں رکھ دیا ہے۔ یعنی فضول چیز کو بالکل بھی ویوز نہیں دینے۔ یہ آپ سب اور خصوصاً طلبا و طالبات ایک چیز پلے سے باندھ لیں کہ گند میں کودنے سے اپنا نقصان ہوتا ہے لہذا اپنا آپ صاف رکھیں، جسم کے ساتھ ساتھ دماغ بھی، سوچیں بھی۔ اور ”صاف ہی رکھیں اپنا دامن!“
انشاءاللہ آپ کا نیٹ، آپ کا سوشل میڈیا ہی آپ کی مثبت جانب رہنمائی کرے گا اگر آپ ایک بار اس واضح کر دیں کہ آپ کو کیا چاہیے۔ اس کے لئے یہ قدم بھی اٹھائیں ؛
1۔ فضول لوگوں کو فوراً ان فرینڈ کریں۔
2۔ فضول گروپس، پیجز کو فوراً ان فالو کریں۔
3۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں کیٹیگری وائز لوگ رکھیں۔ فیملی، فرینڈز، پوزیٹو گروپس، پیجز
4۔ کسی بھی جھگڑے پر ویڈیو کو مت دیکھیں۔ بلکہ ایسی ویڈیوز، پوسٹ کو رپورٹ کریں اور Not Interested پر کلک کریں فوراً۔
اس طرح کے اقدامات سے آپ کے پرسنل اکاؤنٹس بہت مثبت نظر آئیں گے اور آپ کے لئے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
