بلوچستان: درد کا رشتہ، انصاف کی تلاش
آزاد کشمیر میں حالیہ، غیر متوقع بے اطمینانی ملک کی سیاسی اور حکمرانی کی روح کے لیے ایک نہایت اہم اور روشن مثال کا درجہ رکھتی ہے۔ ہاں مگر ان کے لیے جو اس وطن عزیز کا صحیح معنوں میں درد رکھتے ہیں۔ وہاں کے واقعات نے ملک بھر کے عوام کے ذہنوں پر ایک گہرا سوال ثبت کر دیا ہے : اپنی عوام کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری کی بجائے ان کی اپنی ہی حکومت کس حد تک جا سکتی ہے؟ یہ نوٹ کرنا انتہائی اہم ہے کہ یہ مطالبات سرحد کے اس پار دیکھی جانے والی خود ارادیت کی جدوجہد سے بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ ایک تلخ اور عجیب کوفت یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کی حکومتوں کے ردِ عمل میں ایک پریشان کن مشابہت پائی جاتی ہے۔ ظلم، تشدد اور اختلاف رائے کو کچلنے کے ذریعے طاقت کا ایک جیسا اظہار۔
اگرچہ خوش قسمتی سے مظفرآباد میں مذاکرات کے ذریعے ایک عارضی حل کے آثار نظر آ رہے ہیں، تاہم یہ واقعہ ملک کے ایک گہرے، زیادہ پریشان کن دوہرے پن کے سامنے آئینہ تھما رہا ہے۔ ہم جیسے بلوچستان میں بیٹھے دور سے مشاہدہ کرنے والوں کے دل میں گہری بے چارگی اور الجھن جنم لیتی ہے جب ہم کشمیر اور بلوچستان میں اختلاف رائے کے ساتھ برتاؤ کا موازنہ کرتے ہیں۔ یہیں پر اصل تضاد کارفرما ہے : ایک ہی خود مختار ریاست کے دو خطے، جو جائز شکایات رکھتے ہیں، ان کے ساتھ یکسر مختلف حکومتی حکمت عملیاں اور، سب سے بڑھ کر، قومی میڈیا میں متضاد بیانیے برتے جاتے ہیں۔
یہ تقابلی نظر ہم پر ایک پریشان کن حقیقت مسلط کرتی ہے۔ ریاست کی انسانی جان کی قدر اور بے اطمینانی کے حل کا پیمانہ یکساں نہیں ہے۔ یہ ہمدردی اور سیاسی مصلحت کی متغیر اسکیل پر کام کرتی ہے۔ یہ دوہرا رویہ لازمی طور پر ایک گروہ (بلوچ) میں نظر اندازی کے جذبات کو تیز کرتا ہے جبکہ دوسرے گروہ (کشمیریوں ) کے لیے ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ یہاں مقصد کشمیر میں ہونے والے دکھ کی اہمیت کو کم کرنا نہیں ہے۔ ہر کھوئی ہوئی جان ایک المیہ ہے۔
بلکہ یہاں یہ سوال اٹھانا ہے کہ انصاف اور قومی ہمدردی کے ترازو بلوچستان کے لیے مختلف کیوں ہیں؟ اس دوغلے رویہ نے تو شہریت کی ایک مضر درجہ بندی کو جنم دیا ہے : فیڈریشن کے اندر ایک گروہ پیدائشی طور پر ”حب الوطنی کا حق“ رکھتا ہے، جبکہ دوسرے کو مسلسل قسمیں اٹھا کر پاکستانی ہونے اور اپنی وفاداری ثابت کرنی پڑتی ہے، `جیسے شک کا کلنک ان (بلوچ) کے ماتھے پر ہو۔
لہٰذا، بنیادی مسئلہ صحیح اور غلط کے سطحی موازنے سے بالاتر ہے۔ یہ برتاؤ تصور کی تعمیر میں بسا ہوا ہے۔ عوام کے حقیقت کے تصور کو مستقل پروپیگنڈے کے ذریعے کس طرح تشکیل دیا جا رہا ہے جو منظم طور پر بلوچ عوام کو ”دوسرا“ ثابت کرتا ہے؟ المیہ یہ ہے کہ جہاں ان سے ہر موڑ پر حب الوطنی کی قسمیں کھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، وہیں ریاست کے اقدامات انہیں مسلسل بیگانہ بناتے ہیں۔ گمشدہ عزیزوں کے لیے بلوچ خواتین کی طویل، پرامن بے قراری، بغاوت کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کے گہرے بحران کی غماز ہے۔ ان کے آئینی دائرے میں رہنے والے مظاہرے کے جواب میں حل پیش کرنے کے بجائے، غلط معلومات کا ایک ایسا آلہ استعمال کیا گیا جو ان کی پرامن پکار کو بدنام کرنے پر تلا ہوا ہے۔
یہاں یہ کہنا بھی لازمی ہے کہ وطن عزیز کے بارے میں سنجیدہ حلقے اس بارے فکرمند ہیں۔ یہ صورتحال جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے ہر فرد کے لیے ایک بنیادی سوال کھڑا کرتا ہے : ایک ریاست جو قانون کی حکمرانی اور جمہوری عمل کی پابندی کا دعویٰ کرتی ہے، اپنے سب سے کمزور، پرامن مدعیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے؟ اب تک کا تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ وفاق کی بنیادوں۔ اس کی پارلیمنٹ، اس کی سینیٹ، اس کے اسٹیبلشمنٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی اور خلوص سے سلجھانے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔
”لاٹھی“ پر انحصار، طاقت پر سیاسی عمل کو ترجیح دینا، ایک ناکام حکمت عملی ہے جو یہ سوال پیدا کرتی ہے : آخر یہ کب تک چل سکتا ہے؟ یہ موازنہ محض مظفرآباد کے حالیہ واقعات سے کہیں آگے کا احاطہ کرتا ہے ؛ یہ بلوچستان کے عوام کے اجتماعی شعور میں پیوست ایک گہری اور درد ناک داستان کی گونج ہے۔ ایسے ہی واقعات کا ایک اچھی طرح سے دستاویزی سلسلہ موجود ہے، جو ایک ہی المیے کی دھیمی سی صدا ہے۔
اس کا ایک انتہائی تکلیف دہ مظاہرہ ان گنت چیک پوسٹوں پر ہونے والی تفتیش کی روزمرہ رسم ہے، جہاں ایک مقامی شخص کو اپنے ہی آبائی گھر کی نظر کے سامنے وردی میں ملبوس ایک غیر مقامی شخص سے باز پرس کا سامنا ہوتا ہے۔ سوالات۔ ”تم کون ہو؟ کہاں سے آ رہے ہو اور کہاں جا رہے ہو؟“ ۔ محض سوال نہیں ہیں۔ یہ ایک دہکتا ہوا لوہا ہیں، جو کان میں گھس کر ذہن میں ہمیشہ کے لیے پیوست ہو جاتا ہے، اپنی ہی زمین پر ایک اجنبی بنے رہنے کا ایک مستقل یاد دہانی کرنے والا۔
تحفظ کے نام پر کھڑی کی گئی اس قابو پانے کی حکمت عملی سے امن نہیں پھوٹتا۔ بلکہ، یہ ان لوگوں کے خلاف کڑوی نفرت کی فصل اگاتی ہے جنہیں محافظ سمجھنے کے بجائے قبضہ گیر سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان کے لوگوں نے جمہوریت کی ایک مخصوص قسم کی گہری ناکامی کو دیکھا ہے۔ ایسی جمہوریت جہاں ایک منتخب نمائندہ بھی اپنے ہی علاقے میں حفاظت اور عزت کے ساتھ سفر نہیں کر سکتا اور اسے سرکاری کارندے کے سامنے سر جھکانا لازمی ہے۔
بلوچستان کے تناظر میں سیاسی منظر نامہ جمہوری مشاورت کا میدان نہیں بلکہ مستقل عدم استحکام کا ایک تھیٹر نظر آتا ہے۔ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ صوبائی حکومت کے مختصر اور پراگندہ تاریخ میں بلوچستان کی حکومت کو کتنی بار بے دخل کیا جا چکا ہے؟ ایک قلم کے محض ایک حرکت کے ذریعے، منتخب اسمبلیوں کو ختم کر کے رکھ دیا گیا ہے، جس سے عوام کے ووٹ کو ایک عارضی دستاویز بنا دیا گیا ہے جسے خفیہ ہاتھ ازسرِ نو لکھ سکتے ہیں۔
یہ لہولہان سرزمین بار بار کے احتجاجوں اور دیرینہ بغاوتوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ زور کے ذریعے اختلاف رائے کو کچلنے کا ایک المناک تجربہ۔ اسے مزید کتنی ہلچل کو برداشت کرنا پڑے گا؟ ایک ایسے دور میں جو تہذیب اور جمہوری اقدار کا دعویدار ہے، رکاوٹ اور تشدد کے اس چکر کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ شکایات، چاہے کتنے ہی گہرے ہوں، انہیں بندوق کی گولی کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت کے میز کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ تاریخ کا اٹل فیصلہ واضح ہے : تمام تنازعات کا حتمی حل بکتر بند گاڑیوں میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے، جہاں پائیدار امن کو صبر سے تعمیر کیا جاتا ہے، جبری طور پر مسلط نہیں کیا جاتا۔
ایک ایسی قوم ہونے کے ناتے جس کے اندر اور باہر بے شمار چیلنجز ہیں، پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایسی اندرونی دراڑیں اور محسوس کی جانے والی نا انصافیاں ایسی کمزوریاں ہیں جنہیں مخالفین اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس خطرناک زوال کے پیش نظر فوری اور گہری اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ایک نئے سماجی معاہدے کے سوا کچھ نہیں۔ ایسا معاہدہ جو تمام عوام کی شکایات کو یکساں مساوات کی بنیاد پر حل کرے، اور بلوچستان کے ہر شہری کو مشتبہ نظر سے دیکھنے کے بجائے، قومی ساخت کا ایک قابل احترام اور لازمی حصہ تسلیم کرے۔
آگے کا راستہ ایک بنیادی طور پر نئے تصور کا متقاضی ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ حقیقی شناخت چاہیے ؛ زبردستی کی گئی قسمیں نہیں، بلکہ حاصل کردہ اعتماد درکار ہے۔ ریاست کے طاقتور حلقوں کو اس دوہرے معیار کی تباہ کن منافقت کا سامنا کرنا ہو گا، جو اس کے اپنے سیاسی جسم کے ایک حصے کو بیگانہ بنا رہی ہے۔ بالآخر، انتخاب ان دو راستوں میں سے ہے : یا تو ایسی پالیسی جاری رکھی جائے جو بیگانگی اور مایوسی کو جنم دیتی ہے، یا پھر ایک بہادر سیاسی عمل کو اپنایا جائے جو شکایات کو انصاف کے ساتھ حل کرے، محض طاقت کے بل پر نہیں۔ وفاق کی روح اس بات پر منحصر ہے کہ کیا وہ اپنے تمام عوام میں یکساں انسانیت دیکھ سکتا ہے، اور ایک مٹھی بند ہاتھ یعنی آہنی مکا کے بجائے، ایک کھلے ہاتھ اور سننے والے کان کے ساتھ جواب دے سکتا ہے۔

