پیپلز پارٹی کا ویژن: خودمختار عورت

پاکستان میں خواتین کی خودمختاری کی بات کرنا آسان ہے، مگر اسے عملی شکل دینا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی بے شمار خواتین ایسی ہیں جو اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار محض سیاسی دعووں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عملی اقدامات کے ذریعے خواتین کو با اختیار بنانے کی کوشش کی ہے۔ اور یہی پہلو اسے دیگر جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے۔
یہ سفر دراصل شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے شروع ہوتا ہے، جب پہلی بار ریاستی سطح پر یہ سوچ سامنے آئی کہ خواتین کو قومی ترقی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ بھٹو صاحب نے نہ صرف خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کیے بلکہ انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کی راہ بھی ہموار کی۔ یہ ایک ایسی بنیاد تھی جس پر آنے والے ادوار میں خواتین کے حقوق کی عمارت کھڑی ہوئی۔
پھر یہ داستان شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں ایک نئی روح کے ساتھ آگے بڑھی۔ بینظیر بھٹو صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھیں بلکہ وہ خود ایک علامت تھیں۔ ایک ایسی علامت جو اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستانی عورت ہر میدان میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ ان کے دور میں خواتین کے لیے پولیس تھانے، بینک اور صحت کے شعبے میں خصوصی اقدامات کیے گئے۔ مگر اصل بات یہ تھی کہ انہوں نے خواتین کو اعتماد دیا۔ یہ احساس کہ وہ کمزور نہیں بلکہ معاشرے کی برابر کی شریک ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ جب بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی قیادت سنبھالی تو اس وژن کو ایک نئی سمت ملی۔ خاص طور پر سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایسے کئی اقدامات کیے جن کا اثر عام خواتین کی روزمرہ زندگی میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ”گلابی بس سروس“ ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے ہزاروں خواتین کو محفوظ اور باعزت سفر کی سہولت فراہم کی۔ یہ صرف ایک بس نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ کہ عورت گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں، وہ سڑکوں پر بھی اتنی ہی با اعتماد ہے۔
اسی طرح ”گلابی اسکوٹی اسکیم“ بھی ایک انقلابی قدم ہے، جس کے ذریعے خواتین کو اپنی نقل و حرکت میں خودمختاری حاصل ہو رہی ہے۔ ایک لڑکی جب اپنی اسکوٹی پر خود کالج یا دفتر جاتی ہے تو وہ صرف سفر نہیں کر رہی ہوتی بلکہ وہ ایک روایت کو توڑ رہی ہوتی ہے۔ وہ یہ ثابت کر رہی ہوتی ہے کہ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔
معاشی میدان میں بھی پیپلز پارٹی کے اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبے نے لاکھوں خواتین کو مالی خودمختاری دی ہے۔ جب ایک عورت کے ہاتھ میں اپنی کمائی یا امداد آتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکتی ہے بلکہ اپنے فیصلے خود کرنے کا حوصلہ بھی پاتی ہے۔ یہ خودمختاری دراصل ایک خاموش انقلاب ہے جو گھروں کے اندر سے شروع ہو کر پورے معاشرے کو بدل رہا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی کوششیں جاری ہیں۔ سندھ میں لڑکیوں کے لیے وظائف، اسکولوں کی بہتری اور دیگر سہولیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو خواتین ہر میدان میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ روشنی ہے جو خودمختاری کی راہ کو روشن کرتی ہے۔
تاہم، سچ یہ بھی ہے کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ آج بھی دیہی علاقوں میں بے شمار خواتین بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، سماجی رویے بدلنے میں وقت لگتا ہے، اور بعض اوقات قوانین پر مکمل عملدرآمد بھی ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ ایک واضح سمت کا تعین کرتے ہیں۔
خواتین کی خودمختاری صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ نیت اور تسلسل سے حاصل ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس میدان میں جو عملی اقدامات کیے ہیں۔ چاہے وہ قانون سازی ہو، معاشی معاونت ہو یا گلابی بس اور گلابی اسکوٹی جیسے منصوبے۔ وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو تبدیلی ممکن ہے۔ ایک ایسا پاکستان جہاں خواتین خودمختار ہوں، دراصل وہی پاکستان ہے جو ترقی اور خوشحالی کی حقیقی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
