قرۃ العین حیدر کی فنی جہات ناول ”آخر شب کے ہمسفر“ کے تناظر میں

اردو ناول کی تاریخ میں قرۃ العین حیدر ایک عہد ساز شخصیت ہیں جنہوں نے اس صنف کو داستان گوئی کے روایتی دائرے سے نکال کر عالمی ادب کے ہم پلہ لا کھڑا کیا۔ ان کا ناول ”آخر شب کے ہمسفر“ ( 1979 ء) ان کے فکری ارتقاء کا ایک اہم سنگِ میل ہے، جو بنگال کی ایک صدی پر محیط سیاسی اور تہذیبی تاریخ کا ایسا مرقع ہے جس میں وقت کی جبریت اور انسانی خوابوں کی شکست و ریخت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مصنفہ نے اس ناول میں نہ صرف بنگال کی انقلابی تحریکوں کی عکاسی کی ہے بلکہ تقسیمِ ہند اور قیامِ بنگلہ دیش جیسے عظیم انسانی المیوں کو بھی اپنے مخصوص اسلوب میں سمو دیا ہے۔ قرۃ العین حیدر کے ہاں تاریخ محض گزرے ہوئے واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو حال کے بطن میں موجود رہتی ہے، اور انہوں نے اردو ناول کو ”جدیدیت“ کی وہ لہر عطا کی جس نے اسے زمان و مکاں کی قید سے آزاد کر کے فلسفیانہ جہتوں سے روشناس کرایا۔
ان کے تمام ناولوں میں ”وقت“ ایک کلیدی کردار کی حیثیت رکھتا ہے، جسے وہ لکیری ترتیب کے بجائے ایک دائرے کی صورت میں دیکھتی ہیں جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے میں پیوست نظر آتے ہیں۔ ”آخر شب کے ہمسفر“ میں وقت کی یہ بالا دستی اس طرح نمایاں ہوتی ہے کہ کردار اپنے انقلابی جذبوں اور آدرشوں کے باوجود وقت کی تندوتیز لہروں میں تنکوں کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک تاریخ انسانیت کی اس نا اہلی کا دوسرا نام ہے کہ وہ اپنے ماضی سے سبق سیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہتی ہے اور خود کو دہراتی ہے۔ ان کے فن کا ایک اور نمایاں پہلو برصغیر کی مشترکہ ”گنگا جمنی تہذیب“ پر مبنی نظریہ ہے۔ وہ تقسیمِ ہند کے نتیجے میں ہونے والی تہذیبی شکستگی کو ایک بڑے المیے کے طور پر دیکھتی ہیں، جہاں مچھلی بھات، ٹیگور کی موسیقی اور بنگالی زبان تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں سیاست تقسیم کر دیتی ہے۔ ناول کا عنوان فیض احمد فیض کے مشہور شعر کے مصرعے سے لیا گیا ہے، جو ان انقلابی نوجوانوں کا غماز ہے جنہوں نے 1940 ء کی دہائی میں روشن صبح کا خواب دیکھا تھا، لیکن وقت کی گرد نے انہیں اس طرح بکھیر دیا کہ جب منزل کا وقت آیا تو وہ یا تو نظریاتی طور پر تبدیل ہو چکے تھے یا پھر مصلحت پسندی کی نذر ہو گئے تھے۔
ناول کا کینوس 1939 ء سے شروع ہو کر 1971 ء کے بعد تک پھیلا ہوا ہے، جس کا پلاٹ روایتی کہانیوں کی طرح ہموار نہیں بلکہ یادوں، خطوط، ڈائریوں اور شعور کی رو کے تلازمات کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ اسے بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ؛ پہلا حصہ 1940 ء کی دہائی میں ڈھاکہ کے خوشحال ہندو گھرانے ”چندر کنج“ سے شروع ہوتا ہے جہاں انقلابی تحریکوں کا آغاز اور دیپالی و ریحان کی ملاقات ہوتی ہے۔ دوسرا حصہ تقسیمِ ہند اور 1950 ء کی دہائی کے پس منظر میں ہجرت کے المیے، نظریاتی تبدیلیوں اور مشرقی پاکستان کی تشکیل پر محیط ہے۔ جبکہ تیسرا حصہ 1971 ء کی جنگ اور بعد کے دور پر مشتمل ہے جس میں بنگلہ دیش کا قیام، کرداروں کی جلا وطنی اور لندن و جرمنی کے احوال شامل ہیں۔ ابتدائی ابواب میں جزئیات نگاری کمال کی ہے جہاں دیپالی سرکار بنگال کی انڈر گراؤنڈ انقلابی تحریک کا حصہ بنتی ہے اور ریحان الدین احمد ایک کٹر مارکسی انقلابی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ تقسیم کے بعد دیپالی کا خاندان کلکتہ منتقل ہو جاتا ہے جبکہ ریحان پاکستان کی سیاست میں شامل ہوتا ہے، اور اختتام 1971 ء کے المیے پر ہوتا ہے جہاں پرانے انقلابی ساتھی اب ایک دوسرے کے لیے اجنبی یا دشمن بن چکے ہیں اور لندن یا جرمنی میں بیٹھ کر ماضی کی راکھ کرید رہے ہیں۔
کرداری سطح پر، قرۃ العین حیدر کے کردار مخصوص عہد، طبقے یا فکری لہر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دیپالی سرکار ناول کی ہیروئن ہے جو بنگال کے متوسط طبقے کی نمائندہ ہے اور روایت و جدت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے ؛ اس کا سفر ایک پرجوش انقلابی سے ایک حقیقت پسند کاسموپولیٹن عورت تک کا ہے جو اپنی یادوں کے سہارے جیتی ہے۔ اس کے برعکس، ریحان الدین احمد کا کردار ان انقلابیوں پر گہری تنقید ہے جو مصلحت پسندی کا شکار ہو کر بتدریج اقتدار کی راہداریوں میں گم ہو جاتے ہیں اور وہی نوابی طرزِ زندگی اختیار کر لیتے ہیں جس کے خلاف انہوں نے جدوجہد کی تھی۔ اوما رائے کا کردار حسد اور فکری کھوکھلے پن کی علامت ہے جو زندگی کے آخری حصے میں تمام تر کمیونزم کے باوجود دوبارہ مذہب کی پناہ میں چلی جاتی ہے۔ روزی بنرجی کا کردار بنگال کے کرسچن اور اینگلو انڈین طبقے کی سماجی اور معاشی محرومیوں کی تصویر ہے، جبکہ جہاں آراء (قدامت پسند اور صابر مسلم لڑکی) اور یاسمین (باغی اور جدید نسل کی ڈانسر) ایک ہی خاندان کی دو مختلف نسلوں اور تبدیل ہوتی ہوئی ذہنی کیفیات کا بہترین تقابل پیش کرتی ہیں۔
اسلوبیاتی طور پر، مصنفہ نے شعور کی رو (Stream of Consciousness) کو ایک موثر بیانیہ حربے کے طور پر استعمال کیا ہے جہاں وقت کی لہریں حال سے ماضی کی طرف لے جاتی ہیں اور انسانی نفسیات کی گہرائیوں کو آشکار کرتی ہیں۔ انہوں نے خطوط اور ڈائریوں کی تکنیک سے کرداروں کے نجی احساسات کو ظاہر کیا ہے، اور بنگالی ماحول پیدا کرنے کے لیے وہاں کے مخصوص الفاظ، محاورات، رسوم و رواج اور مناظر کی ایسی جزئیات نگاری کی ہے کہ پورا منظر قاری کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ ان کی پیش کش میں سینماٹوگرافک تکنیک نمایاں ہے جہاں واقعات کی ترتیب میں ”کٹ اور پیسٹ“ کا تاثر ملتا ہے جو بیانیے کو سست ہونے نہیں دیتا۔ تاریخی دستاویزی حیثیت سے یہ ناول برطانوی راج کے خلاف مسلح جدوجہد، نکسل باڑی تحریک اور ڈھاکہ کے قدیم محلات کے بکھرنے کے ذریعے مشترکہ تہذیب کی شکست و ریخت کو واضح کرتا ہے۔ فکری نتائج کے اعتبار سے یہ ناول مکافاتِ عمل اور ”ہوم لیس نیس“ (جلا وطنی اور شناخت کا بحران) کے گہرے فلسفے کو اجاگر کرتا ہے کہ انسان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود تاریخ کے جبر اور وقت کی بے رحم لہروں سے آزاد نہیں ہو سکتا۔
اگر ”آگ کا دریا“ اور ”آخر شب کے ہمسفر“ کا تقابل کیا جائے تو جہاں ”آگ کا دریا“ بدھ مت سے لے کر 1947 ء تک کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ پر پھیلا ہوا ہے اور اساطیری تجرید پر مبنی ہے، وہاں ”آخر شب کے ہمسفر“ تقریباً تہائی صدی ( 1939 ء سے 1971 ء) کے دورانیے میں خاص طور پر بنگال کے جغرافیائی مرکز پر مرکوز ہے اور دستاویزی حقیقت نگاری کا شاہکار ہے۔ یہ ناول قرۃ العین حیدر کا وہ لازوال فن پارہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ آخر شب کے ہمسفر وہی ہوتے ہیں جو اندھیرے کے باوجود صبح کی امید نہیں چھوڑتے، لیکن جب وہ صبح طلوع ہوتی ہے تو وہ ان کے خوابوں کی تعبیر نہیں ہوتی بلکہ ایک نیا موڑ ہوتی ہے۔ یہ ہر اس معاشرے کی کہانی ہے جو تبدیلی کی تڑپ رکھتا ہے لیکن وقت کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے، اور یہ اردو کے ان چند ناولوں میں شامل ہے جن پر جتنی بھی تحقیق کی جائے، نئے ابعاد روشن ہوتے چلے جاتے ہیں۔
