یمن: حوثیوں کی ناقابلِ تسخیر مزاحمت اور عالمی طاقتوں کی ناکامی

جب 2015 میں سعودی عرب نے ایک الگ عرب اتحادی فورس کے ساتھ یمن پر حملہ کیا تو مقصد حوثیوں کو اقتدار سے ہٹانا تھا۔ دس سال گزرنے کے بعد ، حوثی نہ صرف یمن کے بڑے حصے پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں بلکہ وہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک ناقابلِ فراموش چیلنج بن چکے ہیں۔ ایک چھوٹی سی مزاحمتی تحریک نے دنیا کی سب سے طاقتور بحری افواج کو کھلے سمندر میں چیلنج کیا، انہیں پسپائی پر مجبور کیا اور عالمی تجارت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
حوثیوں کی مزاحمت کا سب سے نمایاں مظاہرہ بحیرہ احمر میں دیکھنے کو ملا۔ اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والے ان حملوں میں حوثیوں نے اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنایا، جو غزہ کی حمایت میں تھے۔ ان کی اہم سمندری کارروائیوں میں عالمی طاقتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل بحری کیریئرز کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے، ان کو جنگی پوزیشن سے پیچھے ہٹانا پڑا
نومبر 2023 : بحیرہ احمر میں اسرائیلی کاروبار سے منسلک کار کیریئر جہاز Galaxy Leader کو کمانڈوز نے ہیلی کاپٹر سے اغوا کر لیا۔ 25 افراد پر مشتمل عملے کو یرغمال بنایا گیا، جو جنوری 2025 میں رہا ہوئے۔
۔ مارچ 2024 : جہاز True Confidence پر میزائل حملہ، جس سے تین بحری عملے کے افراد ہلاک ہوئے۔ یہ پہلا واقعہ تھا جہاں ہلاکتیں ہوئیں۔
۔ جون 2024 : یونانی کوئل کیریئر Tutor کو اینٹی شپ میزائل اور دھماکہ خیز بوٹس سے حملہ کر کے ڈبویا گیا، عملے کا ایک بندہ لاپتا ہوا
۔ اگست 2024 : تیل ٹینکر Sounion پر متعدد حملے، شدید آگ اور ماحولیاتی تباہی کا خطرہ پیدا ہوا
۔ جولائی 2025 : دو جہازوں Magic Seas اور Eternity C پر پیچیدہ حملے، جن میں جہاز ڈوبے اور عملے کے افراد ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ اور عالمی رپورٹس کے مطابق، اکتوبر 2023 سے مئی 2025 تک حوثیوں نے 190 سے زائد حملے کیے، متعدد جہاز ڈوبے یا شدید متاثر ہوئے، کئی بحری عملے ہلاک ہوئے اور عالمی تجارت کو تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچا۔ سویز کینال کی ٹریفک 57 فیصد کم ہوئی۔
حوثیوں نے نہ صرف کمرشل جہازوں بلکہ عالمی بحری افواج کو براہ راست چیلنج کیا۔ انہوں نے امریکی ایئرکرافٹ کیریئرز USS Dwight D۔ Eisenhower اور USS Harry S۔ Truman، برطانوی اور فرانسیسی جنگی جہازوں پر متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے۔ اگرچہ مغربی ذرائع اکثر انہیں ناکام قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں سے عالمی بحری افواج کو مسلسل دفاعی پوزیشنز اختیار کرنی پڑیں، پوزیشنز تبدیل کرنی پڑیں اور کیریئرز کو لے کر بار بار پیچھے ہٹنا پڑا۔ امریکی کیریئرز کو مہینوں تک ریڈ سی میں تعینات رکھا گیا، لیکن حوثیوں کی دھمکیوں اور حملوں سے بچاؤ کے لیے وہ کھلے سمندر میں ”دھول چاٹتے“ نظر آئے۔ یہ وہ طاقتیں تھیں جو دنیا بھر میں اپنی بالادستی کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر ایک محدود وسائل والی مزاحمتی تحریک نے انہیں کھلے سمندر میں گھیرے میں رکھا۔
حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیت ایران کی مدد سے بڑھی، جن کی رینج 2000 کلومیٹر تک ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر براہ راست حملے کیے، تل ابیب تک میزائل پہنچائے۔ مئی 2025 میں عمان کی ثالثی سے امریکہ اور حوثیوں کے درمیان سیز فائر ہوا، جس کے تحت حوثیوں نے امریکی جہازوں پر حملے روک دیے مگر اسرائیل سے منسلک جہازوں اور اسرائیل پر کارروائیاں جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھا۔ یہ حوثیوں کی واضح سفارتی اور عسکری کامیابی تھی۔ عالمی طاقت کو مذاکرات کی میز پر لے آئے۔
اب جنوبی یمن میں نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ دسمبر 2025 میں UAE حمایت یافتہ Southern Transitional Council (STC) نے سعودی حمایت یافتہ فورسز سے حضرموت اور المہرہ صوبے چھین لیے، جو یمن کے تقریباً نصف علاقے پر محیط ہیں۔ STC نے تیل کے کنویں، بندرگاہیں اور سرحدی چوکیاں قبضے میں لے لیں۔ سعودی عرب نے اسے ناجائز قرار دیا، الٹی میٹم دیا اور رپورٹس کے مطابق STC پوزیشنز پر فضائی حملے کیے۔ دونوں ممالک امریکہ سے اسلحہ لیتے ہیں، مگر ان کی پراکسیز آپس میں لڑ رہی ہیں۔ یہ انتشار حوثیوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ ان کے مخالف کیمپ تقسیم ہو کر کمزور پڑ گئے ہیں۔
حوثیوں نے اپنی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط کر لی ہے۔ ایران سمیت دیگر ذرائع سے جدید ٹیکنالوجی مل رہی ہے، جو سعودی اور اماراتی حدود تک رسائی رکھتی ہے۔ اگر جنوبی پراکسیز کی لڑائی جاری رہی تو حوثیوں کی پوزیشن اور زیادہ مستحکم ہو جائے گی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں سعودی اتحادی ہیں، اور عالمی طاقتیں ان دونوں پراکسیز سے حوثیوں کو زیر کرنے کا خواب سجائے ہوئے ہیں، حوثیوں کے خوف اور میزائل رینج کی وجہ امارات اور سعودی عرب کی پراکسیز براہ راست حوثیوں سے نہیں لڑ سکتی، اگر حوثی ڈرون اور میزائلوں سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تباہی پھیلا سکتے ہیں، ان کی معیشت اور سیاحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پراکسیز کو آپس میں لڑا کر اسلحہ فروخت کرنے کا پلان ہے، جس میں انکل سام کامیاب نظر آ رہا ہے
جدید جنگوں کی تاریخ میں یہ ایک نیا باب ہے محدود وسائل والی مزاحمتی تحریک نے عالمی سپر پاورز کی بحری افواج کو پسپائی پر مجبور کیا، ان کی ناکامی کو بے نقاب کیا اور علاقائی اتحادوں کو پارہ پارہ کر دیا۔ جذبہ جہاد، حکمت عملی ہو تو محدود وسائل سے بھی فتح حاصل کی جا سکتی ہے، یمنیوں نے دنیا کو دکھا دیا ہے بزدل معاہدے کرتے ہیں، اور شیر دل فتح حاصل کرتے ہیں
