بلاگفیچرز

کراچی: صدیوں کی کتھا (قسط 16)

Abubaker Shaikh

میں شاید پہلی بھی کہیں تحریر کر چُکا ہوں کہ، اُنیسویں صدی کی ابتدا جو جمعرات کے دن سے ہوئی تھی اس کے آنے والے برس اس خطہ کے لئے کوئی اچھے ثابت ہونے والے نہیں تھے۔ کیونکہ آنے والے شب و روز میں بڑی اُتھل پُتھل ہونے والی تھی۔ اُس زمانے کی سیاسی صورتحال جاننے کے لئے ہمیں محترم ایم ایچ پنوہر صاحب کا تجزیہ ضرور پڑھنا چاہیے کیونکہ ان ہی حالات کی وجہ سے یہ سب کچھ ہونے والا تھا۔ وہ لکھتے ہیں : ”سب سے پہلے برطانیہ کو اس کی ضرورت تھی کہ، وہ روس کو ’آمو دریا‘ (Oxus River) کے دوسری طرف تک محدود رکھے۔ گزرے واقعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ، روس کا اس خطہ میں آنے کا پورا یقین ہو گیا تھا اس لیے برٹش سرکار نے اس بات کو ترجیح دی کہ افغانستان کو بفر اسٹیٹ (حائلی ریاست) کی حیثیت دے کر ہندوستان کا سرحدی بیلٹ چمن، زاہدان اور خیبر لک تک اپنا اثر رسوخ قائم کرے کہ روس کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔ اس سرحد کو قائم رکھنے کے لئے برٹش سرکار کو بڑی محنت کرنی پڑی، معاشی حوالے سے اور نفسیاتی حوالہ سے بھی۔“ اس حوالے سے ہم چیتن لال ماڑیوالا سے بھی ایک تفصیلی بات کرنے والے ہیں، لیکن اس سے پہلے میں شاہ شجاع کا مختصر سا ذکر ضرور کرنا چاہوں گا، کیونکہ آگے آنے والے برسوں میں یہ کمپنی سرکار کا ایک زبردست مہرہ ہو گا۔ اور افغانستان کی حکومت بھی اسے ملے گی۔

سندھ کے امیروں کی اِس سے کچھ زیادہ ہی لگتی تھی۔ میر مراد علی خان نے یہ سوچا کہ افغان پر سدوزئی خاندان کو برطرف کر کے بارکزئی خاندان کو تخت پر بٹھایا جائے، اس کے متعلق مشاورت کی گئی، یہ شاید پوٹنجر کے جانے کے بعد جلدی ہی ہوا ہو گا۔

شاہ شجاع شاید پہلی بار 1806 ء میں اپنے وزیر شیر محمد کے ساتھ، خراج کی وصولی کے لئے شکارپور میں آیا تھا، دوسری بار وہ 1810 ء میں شکارپور آیا۔ تخت چھن جانے کے بعد شاہ شجاع پورے تیس برس لاہور، شکارپور، حیدرآباد، خیرپور اور لدھیانے تک سفر کرتا رہا۔ میر صاحبوں کی نا اتفاقی اور ایک دوسرے سے زیادہ حاصلات کے جنگل میں سندھ کے وسائل لُٹتے رہے۔ گزرے وقتوں اور حادثوں سے میر صاحبوں نے کچھ سیکھنے کی شاید کوشش ہی نہیں کی۔ 1818 ء میں، شاہ شجاع اور اُس کا بیٹا رستم ہمیں شکارپور میں نظر آتے ہیں۔ 1820 ء میں جب پیسے کم پڑنے لگتے ہیں تو شاہ شجاع، درگاہ شہباز قلندر پر حاضری دینے کے بہانے پہنچ جاتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ، سیوہن تک آئے ہیں تو حیدرآباد کتنی دور ہے۔

”تاریخ تازہ نواء معارک“ کے مصنف لکھتے ہیں : ”شاہ شجاع کو کسی مصلحت کے سبب، میر مراد علی خان نے حیدرآباد آنے کی دعوت دی، مگر یہ پتہ نہ چل سکا کہ آخر کیا بات تھی جس کے لئے یہ دعوت دی گئی۔ 1832 ء میں منزلیں مارتا، شاہ شجاع لدھیانہ سے سندھ حیدرآباد پہنچا جس کی آمد پر حیدرآباد کے امیر خوش تھے جبکہ خیرپور کے تالپور ناراض تھے مگر میر مراد کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکے۔

1832 ء میں وزیر مشیر نواب ولی محمد خان لغاری نے وفات پائی۔ اور 1833 ء میں میر مراد تالپور نے یہ جہان چھوڑا۔ اسی وقت شاہ شجاع شکارپور میں ہی تھا، حالات تیزی سے بدل رہے تھے اور میر صاحبان کے ہاتھوں سے پھسلتے جاتے تھے۔ گوری سرکار نے رنجیت سنگھ کو سندھ کے حاکموں کے لئے ایک پریشر کے طور پر استعمال کیا، محض اس لیے کے افغانستان کو بفر زون بنانے کے لئے جب تک دریائے سندھ کا راستہ گوری سرکار کے ہاتھ میں نہیں آتا تب تک وہ حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

رنجیت سنگھ کے حملے کے ڈر سے، گوری سرکار جب چاہتی تھی میروں سے معاہدہ کروا لیتی تھی۔ اور جب چاہتی اُس سے مُکر جاتی اور نیا معاہدہ کر لیتی۔ شاہ شجاع، شکارپور میں سیاہ و سفید کا مالک بن کر بیٹھ گیا۔ حالات ایسے تھے کہ سب غُبار میں لپٹا نظر آتا تھا۔ انسان کا دفاعی نظام کچھ حالتوں میں زیادہ دیر تک دباؤ برداشت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جہاں ہر مسئلے کا حل، تازے سُرخ خون کی دھار ہو، اُس معاشرے میں بارود اور تلواروں کو کوکھ کی اولاد سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اور جنگ کے میدان جو اَنا کی تسکین کے سوا کُچھ نہیں، اُن کو سینچنے کے لئے سر قلم کیے جاتے ہیں اور بہتا خُون اِن اناؤں کی جڑوں کو تقویت دیتا ہے۔ یہ کیسی زمین ہوئی جہاں فقط نفرت ہی اُگتی ہے۔ کہ جنگ کے میدانوں میں وجود مٹ جاتے ہیں اور فقط نام رہ جاتے ہیں۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں اس دردناک جنگ کا مختصر احوال رحیم داد مولائی شیدائی کے لفظوں میں آپ کو سُناتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں : ”کھرڑی والی جنگ، 1834 ء، شکارپور سے 24 میل کے مفاصلے پر سکھر میں لگی۔ تالپوروں کی ہزاروں کی فوج کو شاہ شجاع کی تین ہزار فوج نے شکست دی۔“ یہ سندھ کے لئے بڑا المیہ تھا۔ اس جنگ پر ہم کبھی تفصیل سے ضرور بات کریں گے۔

آخرکار تالپوروں نے پیر میاں نظام الدین اور پیر میاں غلام محی الدین سرہندی کو ثالث بنا کر فیصلہ کیا۔ بات وہیں پر ختم ہوئی جہاں سے شروع ہوئی۔ یعنی ’زر‘ ۔ فیصلہ ہوا کہ: میروں کو پانچ لاکھ روپے اور پانچ سو اُونٹ دینے پڑیں گے اور میروں کا خاص آدمی (بہادر خان کھوکھر) خراسان تک ساتھ چلے گا اور بہادر خان کے ساتھ ایک سو میروں کے لوگ ساتھ ہوں گے۔ ”

شاہ شجاع جب خراسان پہنچا تو، امیر دوست محمد خان نے اُسے کہیں ٹکنے نہیں دیا۔ شجاع ’سالور‘ کے قلعے پہنچا تو وہاں شہزادے کامران کے ڈر سے ’قلات‘ کی طرف بھاگا۔ مگر وہاں بھی قدم نہ جما سکا۔ گنجابہ (بھاگناڑہ) سے ہوتا ہوا پھر سندھ آیا۔ اور گھومتا گھامتا 29 رمضان 1250 ( 29 جنوری 1835 ء بروز جمعرات) کو حیدرآباد پہنچا۔ جہاں میروں نے مہمان نوازی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ مگر تالپوروں نے پیسے نہیں دیے اور جان چھڑانے کے لئے صلاح دی کہ: ’فی الوقت آپ اپنے لشکر سمیت لدھیانے جائیں۔ کچھ وقت کے بعد آپ جو کہیں گے وہ کیا جائے گا‘ ۔ اسی حوالہ سے شاہ شجاع لکھتے ہیں ”میں جیسلمیر اور بیکانیر سے سفر کرتا ہوا، 17 ذوالقعدہ 1250 ( 17 مارچ 1835 ء بروز منگل) میں لدھیانے پہنچا۔“

اب اس حوالے سے کچھ باتیں ایلائیس البانیا سے بھی سُن لیں جس نے اس حوالے سے ایک مشہور کتاب تصنیف کی تھی۔ وہ لکھتی ہیں : ”جب 1819 ء میں کمپنی سرکار نے سندھ کے جنوب قریب میں کَچھ پر قبضہ کیا تو جیمس برنس نے لکھا تھا: ’یہ مغرور قبائلی سردار ہماری سلطنت کی وسعت اس طرف بڑھتے ہوئے شک اور خطرے کی نظر سے دیکھتے ہیں‘ ۔ تو جب کمپنی سرکار کو سندھ میں بیوپار کے لئے اجازت ملنے میں سخت دشواریاں پیش آنے لگیں تو ایک ہی راستہ بچتا تھا اور وہ تھا جنگ۔ اور خوش قسمتی سے 1830 ء میں مراسلہ موصول ہوا جس میں یہ تحریر تھا کہ، سندھ کو آسانی کے ساتھ فتح کیا جا سکتا ہے۔

اس پیغام میں سندھ پر قبضہ کرنے کی تفصیلات یعنی روڈ میپ کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ، سندھ کی حکومت ’سازشی اُصولوں‘ پر قائم ہے، حملہ کرنے کا مضبوط سبب یہ بتایا گیا کہ، سندھ کے امیر دوہری پالیسی رکھتے ہیں اور کمپنی سرکار کے لئے سازشیں کرنے میں مصروف ہے۔ اس پیغام میں امیروں کا یہ قصور بھی شامل کیا گیا تھا کہ، زرخیز زمینوں کو زراعت کے لئے استعمال کرنے کے بجائے شکارگاہیں قائم کی گئی ہیں۔ اور عوام کے دلوں میں اس حکومت کے لئے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اس ساری کتھا کا مقصد فقط سندھو ندی کو محفوظ بنانا تھا اور اس میں جہاز رانی اہم مقصد تھا اور اسی عمل کے نتیجے میں ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اور یہ مضبوط بنانا اس لیے ضروری تھا کہ، شمال کی طرف سے برطانوی راج کو روس سے سب سے زیادہ خطرہ تھا۔

اس مراسلہ کا آخری حصہ، آنے والے دوسرے خطروں کی نشاندہی پر مشتمل تھا۔ فوجی ماہرین کو سندھ پر حملہ کرنے کے حوالے سے اختلافات تو ضرور تھے مگر وہ سارے اس بات پر ایک ساتھ سر دھنتے تھے کہ، کامیابی کی صورت میں ملک دفاعی لحاظ سے انتہائی مضبوط ہو جائے گا اس لیے دریائے سندھ کی دفاعی حوالہ سے اہمیت انتہائی اہم ہے۔ سر جان میلکم نے یہ تسلیم کیا کہ: ’روس ہندوستان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور ابھی تک ایسا ارادہ رکھتا ہے۔ ‘ سر جان میکڈونلڈ نے اس سے بھی زیادہ خطرات سے خبردار کیا تھا اور تجویز دی تھی کہ: ’ان علاقوں کی درست معلومات حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مغرب کے ملکوں کی طرف جاسوسوں کو روانہ کیا جائے، سندھو ندی کی گہرائی، کشتیوں اور جنگی حوالے سے موجود سہولیات کے بابت مکمل اور حقیقی بنیادوں پر معلومات اکٹھی کی جائیں۔ ‘ اس لیے کمپنی کے ذہن میں یہ تصور بالکل جڑیں پکڑ چکا تھا کہ، 30 ہزار روسی فوج کا لشکر ہندو کش پہاڑیوں سے کسی وقت بھی ہندوستان پر حملہ کر سکتا ہے۔

چیتن لال ماڑیوالا لکھتے ہیں : ’ایران کے دربار میں رہنے والے انگلینڈ کے سفیر نے 1836 ء میں یہ بات کہی کہ روس کی فوجیں کیسپیئن سمندر کے مغرب میں چھاؤنی قائم کر کے بیٹھی ہیں۔ ان سے ماسکو بہت بہت دور ہے جب کہ اٹک اور سندھو انتہائی نزدیک ہیں، اور اگر تھوڑا سنجیدگی سے سوچا جائے تو سکھوں کی راجدھانی لاہور ان کو سینٹ پیٹرزبرگ سے بھی نزدیک ہے۔ بڑی تعداد کی فوج یہ پسند کرے گی کہ دُور سے قریب جانا اچھا۔ اور اگر روس کا ایرانی دربار میں اثر دیکھا جائے یا اگر وہ اپنے نمائندے کو کابل دربار بھیجیں تو ایسی صورت میں، ایشیا میں روسی طاقت کو اچھے طریقے سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اور ہم جانتے ہیں کہ روس ایران کی ساری طاقت کو نابود کر چکا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ایران انگلینڈ کا اتحادی تھا مگر جب اُس پر مُشکل دن آئے تو ہم نے اُس کی کوئی مدد نہیں کی، بلکہ ہم آنکھیں موندے ایرانیوں کی پریشانیوں کو ٹالتے رہے جبکہ ہمارے اُن کے ساتھ دوستی اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے معاہدے تھے۔ روس نے جب یہ حالت دیکھی تب اُس نے جیسے چاہا ایران کو احکامات دیے۔ 1838 ء میں ایران نے جو ہرات پر حملہ کیا وہ بھی روس کے اشارے پر کیا گیا تھا۔ انگلینڈ کے مدبروں کا یہ خیال ہے کہ اگر، ایران سیاسی یا جغرافیائی طور پر روس کے سامنے جھُک گیا تو ہندوستان میں کمپنی سرکار کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچے گا۔‘

برنس نے بھی 1836 ء میں، روس کے سفیر وکووچ کو افغانستان کے حکمران دوست محمد کے دربار میں دیکھا تھا اور وہ پوری کوشش کر رہا تھا کہ، افغانستان بھی اُس کا ساتھ دے تو زبردست ہو جائے گا۔ اس لیے ہندوستان کی کمپنی سرکار کو افغانستان اور ایران کے درباروں سے روس کے اثر کو ختم کرنے کے لئے سخت محنت کرنی پڑ رہی تھی۔ اور اس اثر کو ختم کرنے کے لئے پہلی افغان جنگ کے متعلق سوچنا شروع کیا اور اس کے لئے 1833 سے لے کر 1838 تک سندھ کے لئے جو حکمت عملی طے کی گئی تھی، کہ شمال مغرب کی سرحدوں تک پہنچنے کے لئے روڈ میپ بنایا گیا اور اُس پر عمل کیا گیا۔

1832 ء کے معاہدے جو سندھ، بہاولپور اور لاہور سے کیے گئے تھے، ان معاہدوں اور بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے اور کمپنی سرکار کے کیے گئے ہندوستان پر قبضے اور ساتھ میں معاہدوں سے مُکر جانے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کی روایت نے ان تینوں حکومتوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے تھے۔ اور شکوک کو ذہنوں میں پیدا ہونے کے لئے حقائق بھی موجود تھے۔ جیسے : ٹیکس پر نظر رکھنے کے لئے مٹھن کوٹ کے مقام پر کمپنی کا بندہ مقرر ہو گا۔ مٹھن کوٹ جس جگہ پر ہے جہاں پر سندھ، بہاولپور اور پنجاب کی سرحدیں آ کر ملتی تھیں۔ اور پھر انڈس ڈیلٹا جہاں سندھو دریا سمندر سے جا ملتا ہے اُس کے اہم مقام پر بھی کمپنی سرکار اپنا بندہ مقرر کرے گی اور وہ بندہ سندھو دریا میں داخل ہونے والی کشتیوں سے ٹیکس وصول کرے گا۔ ایک ایسا اور عملدار فیروز پور کے نزدیک ہری۔ کے گھاٹ پر مقرر کیا جائے گا جو دریا میں داخل ہونے والی کشتیوں سے ٹیکس لے گا۔ وہاں تقرریاں کچھ اس طرح سے ہوئیں :کمپنی نے ڈیلٹا میں جو اپنا آدمی مقرر کیا وہ آغا عظیم الدین حسین تھا جو اُتر پردیش کا رہنے والا تھا اور اُس کی تنخواہ 250 روپے مقرر کی گئی یہ تقرری 1835 کے ابتدائی مہینوں میں ہوئی۔ مُنشی جیٹھانند بھی کمپنی کا مقامی نمائندہ تھا جس کو بالکل ابتدا میں 1833 میں 150 ماہوار تنخواہ پر رکھا گیا تھا جو جہاز رانی کے متعلقہ کاموں میں مدد کرتا اور ملتی ہدایات پر ریکارڈ رکھتا۔ مٹھن کوٹ میں لیفٹیننٹ میکسن کو مقرر کیا گیا جو سارے مقامات پر مقرر کیے گئے لوگوں پر نظر رکھتا تھا۔ اور جب کشتی رانی کے انتظامات مکمل ہو گئے تو شائع ہونے والے گزیٹئروں میں اس کے متعلق، انگریزی، گجراتی اور فارسی زبانوں میں معلومات شائع کی گئیں۔

1835 ء میں بمبئی کے ایک ایرانی بیوپاری کو کمپنی سرکار نے سندھ میں دریا کے راستے بیوپار کرنے کے لئے پاسپورٹ جاری کیا، اس بیوپاری کا نام محمد الرحیم شیرازی تھا، یہ 1835 کے ابتدائی مہینوں میں ہوا، شیرازی کا گماشتہ محمد طاہر سامان لے کر حیدرآباد پہنچا، سندھ کے امیروں کی طرف سے اُس کی زبردست پذیرائی کی گئی اور اُس کو حیدرآباد کے علاوہ قریب کے کئی اور شہروں میں بھی بیوپاری کوٹھی کھولنے کی اجازت دی گئی۔ اس طرح ہندوستان اور سندھ کے بیچ میں ایک نیا بیوپاری سلسلہ چل پڑا۔ اور کئی بیوپاریوں نے سندھ کی مارکیٹوں میں مال انڈیل دیا اور جو چیزیں یہاں بنتیں یا اُگتیں اُن کو بمبئی کی مارکیٹ تک لے جاتے۔ بیوپاریوں کے لئے یہ زبردست تھا۔ کمپنی سرکار کے ریکارڈ کے مطابق: بیوپار کے اس سلسلے میں بیس سے ایک سو ٹن تک وزن اُٹھانے والی کشتیاں چلنے لگیں، ان کشتیوں کی آوت جاوت شاہ بندر اور زیادہ کراچی تک تھی، اس کے بعد سندھ کے دوسرے شہروں تک پہنچنے کے لئے سمندر اور سمندر سے سندھو دریا کے مختلف بہاؤں کے راستے چھوٹی کشتیاں سامان دینے اور لے جانے میں مصروف رہتیں۔

کمپنی سرکار کے مطابق تجارتی آمد و رفت میں کچھ رکاوٹیں اور تھیں جن کے لئے انڈس ڈیلٹا کا سروے کرنا ضروری سمجھا گیا۔ مگر پوٹنجر جانتا تھا کہ، حالات اتنے اچھے نہیں تھے کہ ایک اور سروے کے لئے سندھ کے امیروں کو کہا جائے کیونکہ رنجیت سنگھ اور سندھ کے امیروں کے دل ابھی کمپنی سرکار سے مطمئن تھے کہ نئے سروے کی بات کی جائے۔ پھر 1835 ء میں ایک حادثہ ہوا جس کی وجہ سے سروے کی بات کے لئے راستے کُھلے۔ ہوا کچھ اس طرح سے کہ، ایک کشتی سامان لاد کر کَچھ جا رہی تھی مگر خراب موسم کی وجہ سے ڈولتی ڈولتی سندھ کے سمندری کنارے جہاں دریائے سندھ کے بہاؤ سمندر میں گرتے تھے وہاں ریت میں دھنس گئی جسے سندھ حکومت نے ضبط کر لیا۔ اس حادثہ کے بعد سروے کے لئے راستہ صاف ہوا اور الیگزینڈر برنس کو ایک بار پھر سندھ جانے اور سروے کے لئے کہا گیا۔

ایلائیس البینیا برنس کے متعلق ہمیں بتاتی ہیں کہ: ”برنس کا نام الیگزینڈر برنس تھا، اس لیے اُس کے کام کو دیکھتے ہوئے اُس کو اس کے یونانی ہم نام“ الیگزینڈر دی گریٹ ”کے نام سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ برنس نے تو فقط یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جدید زمانے کا وہ پہلا یورپین ہے جس نے سندھو ندی پر بحری سفر کیا ہے۔ وہ اس دعویٰ کی تصدیق کچھ اس طرح کرتا ہے کہ، لاہور میں تقریباً روز ہمیں یہ بتایا جاتا تھا کہ، میں دوسرا سکندر اعظم ثانی ہوں، جس نے اتنا بڑا مُشکل سفر کیا ہے۔ لندن میں تو برنس کے اس سفرنامے (ٹریولز ٹو بخارا) نے دھوم مچا دی تھی۔ یہاں تک کہ برطانوی پریس نے اسے ’انڈس برنس‘ کا نام تک دے دیا۔ فرینچ اور برطانوی جیوگرافیکل سوسائٹیوں نے اسے اس سفر کے لئے میڈل دیے۔ ’اسپیکٹیٹر‘ میگزین نے تو یہاں تک لکھا کہ ’الیگزینڈر یونانی نے تو سندھو ندی کا سیدھا سفر کیا کہ وہ نیچے بہنے والے بہاؤ پر تھا پر ہمارے الیگزینڈر نے تو بہاؤ کے مخالف میں سفر کیا۔‘

چلئے البینیا سے کچھ وقت کے لئے اجازت لیتے ہیں، اور الیگزینڈر برنس کے اُس سفر جو اُس نے 1835 ء میں انڈس ڈیلٹا سے شروع کیا تھا وہاں چلتے ہیں اور اس دوران ممکن ہے کہ ہماری ملاقات ہمارے پرانے ساتھی ناؤنمل سے بھی ہو جائے۔ چلئے جلدی ملتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ برنس کیسے سندھ پہنچ کر اپنا سفر یا جسے اگر سروے کہا جائے تو وہ زیادہ مناسب ہو گا، وہ کس طرح کرتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW