بلاگ

“مریم نواز کا ”ستھرا پنجاب

dr lubna zaheer

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالے ایک سال اور آٹھ ماہ کا عرصہ ہوا ہے۔ اس دوران انہوں نے فلاح عامہ کے بیسیوں منصوبوں کی بنیاد رکھی ہے۔ بیشتر منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کی مثال لیجیے۔ اس پروگرام نے صوبے کے ہزاروں طالب علموں کی فیسوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ شعبہ تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے میں ذاتی طور پر کئی یتیم اور بے سہارا طالب علموں کو جانتی ہوں جو اپنی فیس کی ادائیگی سے قاصر تھے۔ محاورتاً نہیں، واقعتاً اپنی فیس مانگ تانگ کر اداکرتے تھے۔ ہونہار اسکالرشپ کی وجہ سے اب نہایت باعزت طریقے سے ان بچوں کی فیس کی ادائیگی ہوتی ہے۔ یہ اسکالر شپ ان بچوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ بات قابل تحسین ہے کہ حکومت پنجاب نے اس اسکیم پر کوئی سیاسی ٹھپا نہیں لگایا۔ اس اسکیم کو کسی سیاسی شخصیت کے نام سے منسوب نہیں کیا۔ طالب علموں کو بلا امتیاز فیسوں کی رقوم ملتی ہیں۔ میں اس اسکیم کی پہلی افتتاحی تقریب میں موجود تھی۔ اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے بے حد عمدہ بات کہی تھی۔ فرمایا کہ یہ پیسہ میری جیب سے نہیں جا رہا۔ یہ میرے پاس آپ کی امانت ہے۔ آپ مسلم لیگ (ن) کے ووٹر ہیں یا نہیں، اس اسکالرشپ کو سر اٹھا کر وصول کریں۔

آپ مریم نواز شریف کے سیاسی نظریات سے اتفاق کریں یا اختلاف، یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ جب سے انہوں نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے وہ کافی متحرک ہیں۔ 2024 میں جب انہیں اس اہم عہدے کے لئے نامزد کیا گیا تھا تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ صوبہ سنبھالنا کسی خاتون کے بس کا روگ نہیں ہے۔ پارٹی کے اندر بھی چہ مگوئیاں ہوتی رہیں کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کو چلانا گڑیا گڈے کا کھیل نہیں ہے۔ تاہم مریم نواز نے اپنے ناقدین اور مخالفین کو غلط ثابت کیا۔ انہوں نے صوبے میں تحرک اور کارکردگی کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی تقسیم کی لکیریں اس قدر گہری ہیں کہ مخالف سیاسی جماعت یا حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کا رواج نہیں ہے۔ لیکن پنجاب میں تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو وزیر اعلیٰ کے ناقدین بھی اس اقدام کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔ پنجاب کی 65 ہزار مساجد کے آئمہ کرام کے لئے 25 ہزار روپے وظیفہ مقرر کرنے کے فیصلے کو بھی عمومی طور پر سراہا گیا ہے۔

بات کہاں نکل گئی، آج کے کالم میں، میں ستھرا پنجاب کا تذکرہ کرنا چاہتی ہوں۔ گزشتہ دور حکومت میں صوبہ پنجاب میں صفائی کے ناقص انتظامات اکثر زیر بحث رہتے تھے۔ لاہور جیسے صاف ستھرے شہر میں بھی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگ گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے صوبے میں صفائی ستھرائی کے معاملے پر خصوصی توجہ دی۔ اس توجہ کا نتیجہ تھا کہ عید الاضحی کے دنوں میں لاکھوں ٹن آلائشیں بروقت اٹھائی اور ٹھکانے لگائی گئیں۔ برسبیل تذکرہ، وزیر اعلیٰ کے اس کام کو بھی ہر طبقہ فکر کے شہریوں نے سراہا تھا۔ صوبہ پنجاب کے ہر شہر اور گاؤں میں صفائی کے جدید اور منظم نظام کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے دسمبر 2024 میں ستھرا پنجاب پروگرام کی بنیاد رکھی تھی۔ سنتے ہیں کہ صفائی ستھرائی کے ضمن میں یہ منصوبہ پاکستان نہیں، خطے کے بڑے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس پروگرام میں ایک ہی انتظامی چھتری تلے پورے صوبے کی صفائی کی خدمات مہیا ہو رہی ہیں۔ کل 10 ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں صوبے بھر میں متحرک ہیں۔ صوبے کے 36 اضلاع میں ستھرا پنجاب کا نیٹ ورک فعال ہے۔ 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد صفائی کرنے والے اہلکار، 24 سو سے زیادہ انتظامی افسران، 29 ہزار سے زائد گاڑیوں کا فلیٹ، 2 لاکھ 86 ہزار سے زائد آلات اور مشینری، 44 ہزار ویسٹ انکوژرز، 4 سو سے زیادہ عارضی کلیکشن پوائنٹس اور 143 لینڈ فل سائٹس موجود ہیں۔

منصوبے کے آغاز سے اب تک 94 لاکھ 4 ہزار ٹن کوڑا ٹھکانے لگایا گیا ہے۔ شہریوں کی کم و بیش 3 لاکھ 40 ہزار شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس پروگرام سے 12 کروڑ 70 لاکھ کی آبادی مستفید ہوئی ہے۔ اندازہ کیجئے کہ روزانہ کی بنیاد پر 57 ہزار ٹن کوڑا کرکٹ اکٹھا کیا اور ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دروازے سے دروازے تک (door to door) صفائی کا نظام قائم ہے۔ باقاعدگی سے نہروں، نالوں اور سڑکوں وغیرہ کی صفائی کی جاتی ہے۔ پنجاب حکومت نے اس منصوبے کو اپنے ڈیجیٹل گورننس ماڈل سے جوڑا ہے۔ صفائی ستھرائی کے معاملے کی جدید ٹیکنالوجی بشمول جی پی ایس ٹریکنگ، جیو ٹیگڈ تصاویر اور موبائل ایپ کے ذریعے نگرانی ہوتی ہے۔ ہیلپ لائن کی مدد سے عوامی شکایات موصول کی جاتی اور ان کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ کوڑے کرکٹ سے توانائی پیدا کرنے کے لئے عملی اقدامات بھی حکومت کے پیش نظر ہیں۔ اس ضمن میں لکھوڈیر لینڈ فل سائٹ پر بائیو گیس پائلٹ پراجیکٹ اور سندر انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور میں 150 میگا واٹ پاور پلانٹ جیسے منصوبے زیر غور ہیں۔ یعنی یہ منصوبہ صرف کچرا اٹھانے تک محدود نہیں ہے۔ اس منصوبے میں ری سائیکلنگ، توانائی کی پیداوار اور ماحول دوست پالیسیوں کو بھی ترجیح حاصل ہے۔

ہمارے مذہب میں صفائی کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو ستھرا پنجاب منصوبے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بلاشبہ مریم نواز حکومت کا ایک انقلابی اقدام ہے۔ یہ محض صفائی کی مہم نہیں ہے۔ یہ حکمرانی اور ڈیجیٹل گورننس کا ایک نیا ماڈل ہے۔ یہ مہم تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہے تو پنجاب ایک صاف، صحت مند اور خوبصورت صوبے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ دوسرے صوبوں کے عوام پہلے ہی پنجاب کی ترقی کی مثال دیتے ہیں۔ ستھرا پنجاب کی شکل میں صاف ستھری تبدیلی بھی دوسرے صوبوں کے لئے ایک مثال بن سکتی ہے۔ تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ منصوبے کی کامیابی میں عوام بھی اپنا حصہ ڈالیں۔ شہریوں میں صفائی ستھرائی، کچرا الگ کرنے اور ری سائیکلنگ جیسے معاملات کی آگاہی کا فقدان ہے۔ اگر شہری خود اپنے گھروں، گلیوں، محلوں اور بازاروں میں صفائی کا اصول اپنائیں، تو ستھرا پنجاب ایک منصوبہ نہیں بلکہ ہمارا سماجی رویہ بن سکتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW