کالم۔گوشہ ادب

سردیوں کی رات، پورا چاند، آگ اور بوڑھے درخت کا نروان!

jami chandio

انسان کا ماضی کے ساتھ رشتہ بڑا عجیب ہے۔ ماضی اگر دکھ دینے والا بھی ہو تب بھی انسان اسے بھلانا نہیں چاہتا۔ یادیں انسانی زندگی کی سب سے بڑی متاع اور اثاثہ ہوتی ہیں، جنہیں وہ دل کی الماری میں سنبھال کر رکھتا ہے۔ زندگی کی ایک عجیب حقیقت یہ ہے کہ انسان حال کے ساتھ اپنا نامیاتی رشتہ قائم کرنے کے بجائے ماضی اور مستقبل سے رشتہ جوڑ لیتا ہے۔ مستقبل دراصل اس کی وجودی تشویش کا نام ہے، اور ماضی وہ چیز ہے جو ایک ایسی گزری ہوئی حقیقت ہے جو بار بار یاد آتی اور دل موہ لیتی ہے۔ شاید انسانی لاشعور حقیقتِ حال کو نہیں بلکہ ماضی ہی کو اصل حقیقت سمجھتا ہے۔ مستقبل بہرحال ایک تخیلاتی یا ادراکی حقیقت ہے، اور ماضی اگرچہ گزر چکا ہوتا ہے مگر انسان اسے چھوڑنا اور بھلانا نہیں چاہتا۔ ماضی انسان کو اپنے وجود کا سایہ محسوس ہوتا ہے، اور اپنے سائے سے کوئی الگ نہیں ہو سکتا۔

مجھے بھی ماضی سے بہت انس ہے، اسی لیے مجھے بوڑھے انسان، عمر رسیدہ درخت، قدیم عمارتیں، پرانے برتن، پرانا فرنیچر، پرانی لوک کہانیاں، کلاسیکی اور قدیم عوامی ادب، مذاہب، قدیم شہر اور پرانی کتابیں بے حد پسند ہیں۔ ان سب میں ماضی زندہ محسوس ہوتا ہے ؛ ان کے ذریعے ماضی کو چھوا، دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بوڑھے لوگوں کے چہروں کی جھریوں میں ماضی کے داستان صاف دکھائی دیتی ہیں۔ قدیم شہروں کی تنگ گلیاں اور گھروں کی پرانی بوڑھی اینٹیں خاموشی سے عظیم داستانیں سناتی ہیں۔ جدید عمارتوں کے پاس سنانے کو کچھ نہیں ہوتا؛ ان کے جھروکوں میں کبوتروں اور چڑیوں کے گھونسلے تک نہیں ہوتے۔ نیا پن صرف ظاہر میں ہوتا ہے، اس لیے نئی عمارتیں باطن سے محروم ہوتی ہیں، جب کہ پرانی عمارتوں کی اینٹوں کے درمیان بھی صدیوں کے مشاہدات تھکے ہوئے فقیروں کی طرح سوئے ہوتے ہیں۔

دنیا کی سیاحت میں مجھے ہمیشہ قدیم شہروں کی گلیاں ہی لبھاتی ہیں۔ کئی قدیم شہروں سے میں وعدہ کر کے آتا ہوں کہ ان کے حضور میں دوبارہ آؤں گا اور زیادہ وقت گزاروں گا، یا بار بار لوٹوں گا؛ جیسے روم، وینس، وائمار، پراگ، بوداپسٹ، بریتسلاوا، ایمسٹرڈیم، کیمبرج، ادیس ابابا، یزد، اصفہان، ایفیسس اور بے شمار دوسرے شہر۔ جان رسکن نے لکھا تھا کہ قدیم شہر وہ لائبریریاں ہیں جن میں انسانیت کے خواب محفوظ ہوتے ہیں۔ وکٹر ہیوگو کے مطابق پرانے شہر انسانی یادداشت کے آثارِ قدیمہ ہیں۔ ان شہروں کی اینٹوں اور دیواروں میں قدیم انسانوں کے ہاتھوں کے نشان اور پتھریلے راستوں میں ان کے قدموں کے عکس آج بھی سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔ میں انہیں اپنی نگاہوں کے لمس سے محسوس کر سکتا ہوں۔ ایڈورڈ گبن نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب زوالِ سلطنتِ روم میں لکھا تھا کہ قدیم شہروں کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ طاقت فانی ہے مگر حسن کو دوام حاصل ہے۔

اسی طرح میرا رشتہ پرانے اور بوڑھے درختوں سے بھی بہت گہرا ہے۔ میں گھنٹوں انہیں تکتا رہتا ہوں۔ ان کی شاخیں بڑی رازدان ہوتی ہیں ؛ ان کا بلند قد ایک ہی وقت میں آسمان کو بھی دیکھتا ہے اور زمین کو کسی شفیق بزرگ کی طرح قدیم قصے بھی سناتا ہے۔ 1991ء میں جب میں حسن درس کے ساتھ مغربی بنگال میں شانتی نکیتن گیا تھا تو وہاں کے قدیم برگد کے درخت مجھے سب سے زیادہ بھائے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان کی لٹکتی جڑوں میں ماضی جھوم رہا ہو۔

ہیر آباد کے ایک پرانے پیپل کے درخت سے تو میرا دل کا رشتہ ہے۔ ہر بار وہاں سے گزرتا ہوں تو اسے گھور کر دیکھتا ہوں، اور وہ بھی مسکرا کر جواب دیتا ہے جیسے شفقت بھرا سلام کر رہا ہو۔ 1992 ء میں لکھے گئے میرے سفرنامے ”ٹیگور کے دیس میں!“ میں جب میں نے اس بوڑھے درخت کا ذکر کیا تھا تو ہیر آباد سے ہجرت کر کے بھارت جانے والوں ادیبوں کے دل بھر آئے تھے۔ تقسیم سے پہلے یہاں بسنے والوں میں سے اب بس وہی ایک درخت باقی ہے۔

حیدرآباد سے جامشورو آ بسنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کوٹری سے میرا نیا تعلق جڑ گیا۔ میں جب بھی حیدرآباد جاتا ہوں تو کوٹری کے پل سے گزرتا ہوں، جس کے دونوں سروں پر کھڑے پرانے درخت مجھے اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ یہ درخت دریا کے دوست ہیں۔ جب دریا میں پانی نہیں ہوتا تو مجھے شاہ لطیف کا سر ڈہر یاد آتا ہے، جہاں لطیف سائیں نے کنڈی کے بوڑھے درختوں سے مخاطب ہو کر سوکھے ہوئے دریا اور ندیوں کے احوال پوچھے ہیں کہ بوڑھے درختو بتاؤ کہ جب یہاں پانی بہتا تھا تب یہاں کیسا سماں تھا اور تم اب ان کے بغیر اپنی راتیں کیسے گزارتے ہو؟

گہرے شاعر اور ادیب درختوں کے درد کو بھی محسوس کر لیتے ہیں، جیسے شاہ لطیف نے سر ڈہر میں کیا ہے۔ لطیف سائیں کنڈی کے بوڑھے درخت سے اس کی عمر پوچھتے ہوئے کہتے ہیں کہ بتاؤ جب ہاکڑہ یا سرسوتی بہتا تھا تب تمہاری عمر کتنی تھی؟

جو لوگ درختوں سے بات نہیں کر سکتے، وہ شاید خود سے بھی کبھی بات نہیں کر پاتے۔ خلوت دراصل خود کلامی ہی کی ایک صورت ہے۔ گزشتہ برس میں نے ایسے ہی بوڑھے کنڈے درخت اپنے دوست رزاق درس کے گاؤں میں دیکھے تھے، جن کی عمر شاہ لطیف سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ رزاق درس کی بیٹی بختاور خوبصورت کہانیاں لکھتی ہے ؛ اس کے تخیل پر ان بوڑھے درختوں کا اثر ضرور ہو گا، جو صدیوں سے اس کے گھر کے پیچھے کھڑے ہیں۔ ان درختوں نے اپنی تیز ہواؤں کے شور میں اسے ہاکڑہ کی بے شمار کہانیاں سنائی ہوں گی۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں قدیم زمانے میں ہاکڑہ دریا موجزن تھا۔ جب میں نے وہ درخت دیکھے تھے تو لطیف سائیں کی کلاسیکی مصوری جیسی سطریں ایک الم ناک منظر بن کر میرے سامنے آ کھڑی ہوئی تھیں۔

صدیوں کی لوک دانائی کہتی ہے کہ قدیم درختوں کی چھاؤں میں صدیاں سانس لیتی ہیں۔ شیخ سعدی نے کہا تھا کہ پرانے درخت انسان کو صبر سکھاتے ہیں۔ سدھارتھ نے بہار کے اُروِیلا جنگل میں ایک قدیم درخت کے نیچے چھ برس غور و فکر میں گزارے۔ مہاویر قدیم درختوں کو ماضی کے داناؤں کے نئے جنم سمجھتا تھا۔ چینی دانا لاؤ تزُو گھنے قدیم درختوں کو روحانی وجود مانتا تھا اور کہتا تھا کہ درخت باہر کی تیز دھوپ سہتے ہوئے بھی اپنے نیچے بیٹھنے والوں کو سایہ عطا کرتے ہیں۔

درحقیقت درخت فطرت سے صرف زمین، ہوا اور سورج مانگتے ہیں، اور بدلے میں پرندوں، انسانوں، جانوروں، کیڑوں اور مسافروں کو ممتا جیسی گھنی چھاؤں سمیت سب کچھ دے دیتے ہیں۔ خلیل جبران نے کہا تھا کہ درخت وہ نظمیں ہیں جو زمین آسمان کی طرف دیکھ کر لکھتی ہے۔ مجھے جنگل اسی لیے بھی پسند ہیں کہ وہ فطرت کی زندہ آثارِ قدیمہ ہوتے ہیں۔ میں اکثر حیدرآباد کے میانی جنگل اسی جذبے کے تحت جاتا ہوں۔ حال ہی میں اردو کی ادیبہ ثمینہ نذیر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمارے پاس آئیں، تو ہم سب میانی جنگل گئے اور دریا کے بند تک پیدل چلے۔

میرا خیال ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے زمین کو برباد کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے فطرت کی ہر شے کو بازار کا مال بنا دیا ہے۔ ہم آئندہ نسلوں کو سلامتی کے تحفے کے طور پر درخت دے سکتے ہیں۔ ہزاروں برسوں تک انسانیت دریا، جھیلیں، درخت اور زمین سنبھال کر آگے منتقل کرتی رہی۔ آج مشینوں کے ساتھ جینے والے انسان کو درختوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، اور یہی اس کے وجودی بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔

اب بہار کا موسم آنے والا ہے، اور بہار کا تصور درختوں کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ہم بہار کا استقبال اپنے گھروں اور محلّوں میں درخت لگا کر بھی کر سکتے ہیں۔ درختوں سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں : جرات، کیونکہ وہ طوفانوں سے لڑتے ہوئے بھی اسی شان سے کھڑے رہتے ہیں ؛ صبر اور نرمی، کیونکہ ان کی شاخیں اسی لچک کے باعث تیز ہواؤں میں بچ جاتی ہیں۔ ان سے لینے کے بجائے دینے کا ہنر سیکھا جا سکتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ درخت شکایت نہیں کرتے۔ وہ اپنی استقامت اور نرمی کے توازن سے زندگی کے جھٹکے سہ کر جیتے رہتے ہیں۔ وہ بے گھر پرندوں کو پناہ اور تھکے ہوئے انسانوں، جانوروں اور کیڑوں کو سایہ دیتے ہیں۔ درخت جیوت کے محفوظ گاؤں ہوتے ہیں، شاید درخت ہی وہ واحد آشرم ہیں جہاں پرندے، جانور اور انسان ایک ساتھ پناہ لیتے ہیں۔

کل سردیوں کی رات ہم ٹنڈو الہٰیار میں آموں کے گھنے باغات کے درمیان اپنے دوست مخدوم علی ولہاری کے گاؤں میں آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھے تھے۔ چاروں طرف آم، بادام، نیم اور دیگر اقسام کے بلند، گھنے اور قدیم درخت تھے۔ اوپر پورے چاند کی چاندی جیسی چمکتی روٹی، اور ہمارے درمیان آگ کا الاؤ۔ زرتشتی آگ کی پوجا نہیں کرتے، بلکہ اسے سچ کا استعارہ، اہورا مزدا کی جھلک اور باطن کی پاکیزگی کی علامت سمجھتے ہیں، کیونکہ آگ کبھی گدلی نہیں ہوتی۔ آگ کے پاس زبان نہیں مگر وہ بولتی ہے ؛ اس کے ہاتھ پاؤں نہیں مگر وہ رقص کرتی ہے۔ رقص کے بغیر آگ کا وجود ممکن ہی نہیں۔ قدیم زمانے میں آگ کو حکمت بھی سمجھا جاتا تھا۔ آج انسان کا رشتہ آگ سے بھی ٹوٹتا جا رہا ہے۔

اس رات آگ اور بوڑھے درختوں کی سوکھی لکڑیوں کا ایک عجیب سنگم تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو نئی معنویت عطا کی۔ آگ کو بھڑکنے کے لیے معرفت درکار ہوتی ہے، جو لکڑی کی صورت میں ملتی ہے۔ جیسے جیسے پرانے درختوں کی سوکھی شاخیں آگ میں جا کر صدیوں کی خاموشی توڑتے ہوئے چٹخنے لگیں، ویسے ویسے مجھے محسوس ہوا کہ وہ سدھارتھ کی طرح اسی جنم میں اپنا نروان پا کر خاموش ہو رہی ہیں۔ میں صبح تک ان جلتی ہوئی بوڑھی شاخوں کو دیکھتا رہا اور ان کے نروان کا مشاہدہ کرتا ہوا اس وجودی تجربے کا ایک غیر علانیہ حصہ بنا رہا۔

ایک طرف میں، سیف سمّیجو، رفیق منگی، سکندر بلوچ اور میاں مخدوم علی ولہاری گفتگو میں مصروف تھے، اور دوسری طرف پوری رات سردی، چاند، آگ اور جلنے والی سوکھی لکڑیوں کی اپنی ایک پُرلطف محفل جاری تھی۔ میں دونوں محفلوں میں شامل تھا اور میرے دوستوں کو آخر تک اس کا احساس نہ ہو سکا۔

Loading

Facebook Comments Box

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور ادبی نقاد ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ Jami8195@gmail.com chandiojami@twitter.com
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW