میرے مطابق

تنہا مگر کامیاب

dr nazar haffi

 

اِن دنوں اتحاد دیگر ریاستوں کی نہیں بلکہ امریکہ کی ضرورت ہے۔ چالیس روزہ جنگ کے بعد اب امریکہ کو از سرِنو بیوقوف قسم کے کچھ اتحادی چاہئیں۔ ایسے اتحادی کہ وہ اپنے دفاع کے بجائے امریکہ کے دفاعی اخراجات ادا کرنے کے لئے اُس کا اتحادی بنیں۔ ایران نے ایک درس تو ساری دنیا کو دیا ہے کہ وہ قومیں زیادہ طاقتور ہوتی ہیں جو کم لڑتی ہیں لیکن زیادہ تیاری کرتی رہتی ہیں۔ اسی تیاری کے باعث ایران کا وسیع و عریض سمندر امریکہ کے لئے بہت تنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ اتنا تنگ کہ امریکہ کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

اکیلے ایران کے مقابلے میں ایک سُپر طاقت کہلانے والا امریکہ اس وقت سب کو انتہائی کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ کمزوری بھی ایسی کہ امریکہ کے اتحادی اور دوست کہلانے والے اب امریکہ سے دور بھاگ رہے ہیں۔ کبھی اپنے استحکام کے لئے دیگر ممالک امریکہ کا اتحادی بننا ضروری سمجھتے تھے جبکہ اب ریاستوں کے استحکام کے لئے اُن کا امریکہ سے دور رہنا ضروری ہو گیا ہے۔

نہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے امریکہ کو کوئی سنجیدہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ یورپ امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ یورپ نے واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے اُس کا کوئی تعلق نہیں لہذا اس نے واشنگٹن کی مالی و سیاسی باج طلبی کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کیا۔ اب ساری دنیا پر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ کا غیر منطقی، غیر متوازن اور بوسیدہ اتحاد اس شکست کے بعد کسی کام کا نہیں رہا۔ گویا سب کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ اتحاد کے نام پر امریکہ دیگر ریاستوں کا فقط عرق نچوڑنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اتحادیوں کا عرق نچوڑنے کے چکر میں امریکہ اس جنگ میں بھاری اخراجات اٹھانے کے باوجود کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ اسی طرح سفارتی مذاکرات کے بہانے ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کا رُک جانا بھی دراصل امریکی شکست کا ثبوت ہے۔ اس کے بعد دنیا میں چاہے جو بھی ہو جائے اب ہر ملک کو اپنے مفادات اور اپنی سلامتی کی قیمت خود ادا کرنا ہو گی۔ اب ایران کی مانند ہر ریاست کی اپنی عسکری طاقت ہی اُس کی بقا کی ضمانت اور اپنی سفارتی و سیاسی قوت ہی اُس کے وقار کی علامت ہے۔

امریکہ اور صہیونی ریاست کے خلاف تنہا اسلامی جمہوریہ ایران نے کامیابی پر کامیابی حاصل کر کے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکہ جب خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتا تو وہ دوسروں کی کیا حفاظت کرے گا۔ چالیس روزہ جنگ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب دنیا کی تمام ریاستوں کو ایران کی مانند مضبوط ہونا ہو گا تاکہ وہ امریکہ سے مدد مانگنے کے بجائے خود اپنی جغرافیائی سرحدوں سے باہر بھی اپنا حصہ، اپنا اثر، اور اپنا مقام حاصل کر سکیں۔ بلا شُبہ اس جنگ کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کے لیے امریکی اتحاد میں شمولیت اور امریکہ کے ساتھ دوستی اُن کی اوّلین ترجیح نہیں رہی۔

ایک طرف ٹر ٹر نے کئی مرتبہ بڑے طمطراق سے یہ دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کو ”مکمل طور پر تباہ“ کر دیا گیا ہے اور امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے جبکہ دوسری طرف ٹر ٹر بار بار یہ اعلان کر رہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازرانی کا تحفظ مطلوب ہے تو امریکی اتحادیوں کو اس کی قیمت بھی ادا کرنا ہو گی، اپنی عسکری قوت میدان میں لانی ہو گی، اور واشنگٹن کو سیاسی و تجارتی مراعات بھی دینی ہوں گی۔ ایرانی بحری غلبے کے باعث امریکی دعووں کے کھوکھلے پن کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوٹ چکا ہے۔ ساری دنیا یہ تماشا دیکھ رہی ہے کہ ہرمز کے گہری پانیوں میں امریکہ کے پاس کسی کو دینے کے لئے کچھ نہیں، وہ واویلا کر رہا ہے کہ اگر تحفظ چاہیے تو قیمت ادا کیجئے، سلامتی چاہیے تو اپنا حصہ ڈالئے ورنہ اپنی راہ لیجیے اور مجھے بھی اس دلدل سے نکالیے۔

دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ اگر ایران کا تیل فروخت نہ ہوا تو دوسروں کا تیل بھی محفوظ نہیں رہے گا، اور آبنائے ہرمز نیز باب المندب کی بندش سوائے ایران کے کوئی اور نہیں کر سکتا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کئی بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران خطے میں کمزور ہو گیا ہے۔ اب دنیا پوچھتی ہے کہ اگر ایران واقعی کمزور ہو گیا ہے تو پھر خطے میں امریکی اڈوں پر کس نے اپنی دھاک بٹھا رکھی ہے؟ اگر ایران بے اثر ہو چکا ہے تو پھر کس قوت نے حزب اللہ اور انصار اللہ جیسے مزاحمتی محاذوں کو امریکہ اور اسرائیل کے مقابل صف آرا کر رکھا ہے؟

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں تنِ تنہا ایران نے یہ منوا لیا ہے کہ جدید دور میں عسکری برتری اتحادیوں کی تعداد اور لمبے لمبے بحری جہازوں سے نہیں بلکہ دشمن کی طاقت میں عدم توازن پیدا کرنے کی صلاحیت سے حاصل ہوتی ہے۔

ایران نے انقلابِ 1979 کے بعد آٹھ برس تک بعثی حکومت کے مقابل ڈٹ کر مزاحمت کی اور اپنی سرزمین کا تحفظ کیا۔ بعد ازاں رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی قیادت اور شہادت سے ایران کی دفاعی قوت میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے، یہاں تک کہ آج ایران ایک ناقابلِ تسخیر طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آ گیا ہے۔ آج دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ ایران کی عسکری قوت صرف ٹینکوں اور جنگی جہازوں پر منحصر نہیں بلکہ یہ دور مار میزائلوں، بغیر پائلٹ طیاروں اور غیر متوازن بحری حکمتِ عملی پر قائم ہے۔ ایران نے بڑے بحری بیڑوں کے بجائے جدید انداز میں تیز رفتار کشتیوں، چھوٹی آبدوزوں اور بحری میزائلوں پر توجہ دی تاکہ آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں دشمن کے توازن کو بگاڑا جا سکے۔ آج ساری دنیا یہ مان رہی ہے کہ میدانِ جنگ میں امریکہ کے بجائے ایران کی جنگی حکمت عملی کامیاب ہے۔

اسی طرح دفاعی میدان میں بھی ایران نے ایک کثیر سطحی و کثیر جہتی حفاظتی نظام تشکیل دے رکھا ہے، جس میں طویل فاصلے کے فضائی دفاعی سسٹم، درمیانی درجے کے حفاظتی ہتھیار، جدید ریڈار، اور بغیر پائلٹ طیاروں و کروز میزائلوں کا مقابلہ کرنے والی صلاحیتیں شامل ہیں۔ ایران کی دفاعی حکمتِ عملی میں ”غیر عسکری دفاع“ کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ غیر عسکری دفاع سے مراد ایسے اقدامات ہیں جن کے ذریعے قومی ڈھانچے، شہری مراکز اور عوامی نظام کو جنگی حالات میں محفوظ رکھا جا سکے۔

امریکہ و ایران کا جنگی تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مضبوط بنیادی ڈھانچہ، قومی اتحاد اور عوامی آمادگی کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ ٹر ٹر کے بیانات کو اب کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا جبکہ ایرانی مسلح افواج پورے اعتماد کے ساتھ کھلے الفاظ میں دشمن کو للکارتی اور نشانہ بناتی ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ طاقت کے گھمنڈ میں ہر طرف اپنا غلبہ پھیلانے کی خواہش میں امریکہ نے دنیا بھر میں اپنی مرکزی حیثیت کھو دی ہے۔ ٹر ٹر کے اقدامات نے ساری دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آج کی دنیا میں ہر ریاست کو امریکی اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے ایران کی مانند اپنی سلامتی، اپنی آزادی اور اپنے قومی وقار کی حفاظت خود کرنا ہو گی۔ موجودہ عالمی نظام میں ایران کی طرح ریاستوں کی اپنی طاقت ہی اُن کی بقا کی ضمانت اور اپنی دفاعی آمادگی ہی اُن کی قومی خودمختاری کی بنیاد ہے۔

ایران مذکورہ بالا اصول کے تحت اپنی دفاعی قوت کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے، اور اس کا دعویٰ ہے کہ اُس کی دفاعی صلاحیتیں امریکہ و اسرائیل کے اندازوں سے کہیں زیادہ بہتر اور موثر ہیں۔ اب دنیا کی ریاستیں امریکہ سے مدد مانگنے کے بجائے ایران کی طرح مستقل ہونے کا سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ یہ سوچ تنہا ایران نے ساری دنیا کو دی ہے کہ خشکی تو خشکی ہے جو سمندری راستہ بھی تجارت کے لیے کھولا جاتا ہے، وہی جنگ کے لیے بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ یوں جو وسائل ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے ضروری ہوتے ہیں، ضرورت پڑنے پر وہی وسائل جنگ کے سب سے موثر ہتھیار بن سکتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW