اقبال کا خواب اور عصرِ حاضر کی حقیقت: کیا تہران عالمِ مشرق کا جنیوا بن سکتا ہے؟
علامہ محمد اقبال کا فکری ورثہ اپنے اندر ایسی معنوی گہرائی رکھتا ہے جو ہر دور میں نئے زاویوں سے اپنی اہمیت منواتا ہے۔ ان کا معروف شعر
طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
محض ایک شعری تخیل نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت سیاسی و تہذیبی ویژن کی ترجمانی کرتا ہے۔ اقبال نے یہ بات اس زمانے میں کہی جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد دنیا ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہی تھی، اور مغربی طاقتیں ”لیگ آف نیشنز“ کے پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی سیاست کو اپنے مفادات کے تابع کر رہی تھیں۔ اس تنظیم کا مرکز جنیوا میں قائم تھا، جو بظاہر عالمی امن کا علمبردار مگر درحقیقت طاقتور اقوام کے مفادات کا محافظ تھا۔ اسی پس منظر میں اقبال نے مشرق، بالخصوص عالمِ اسلام، کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم کا تصور پیش کیا۔
اگر اقبال کے اس شعر کو گہرائی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کا اصل مدعا کسی ایک شہر کو مرکز بنانا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی فکری و تہذیبی وحدت کی تشکیل تھی جو مشرقی اقوام کو مغربی غلبے سے نکال کر خودمختاری اور خوداعتمادی کی راہ پر گامزن کرے۔ ”طہران“ دراصل ایک علامت ہے۔ ایک ایسے مرکز کی علامت جہاں سے مشترکہ فکر، اجتماعی حکمتِ عملی اور متحدہ نصب العین جنم لے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے ”شاید“ کا لفظ استعمال کیا، جو اس خواب کی نزاکت اور اس کے عملی تقاضوں کی پیچیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔ گویا وہ خود بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ محض خواہشات یا جذبات اس خواب کی تعبیر کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اقبال نے یہ تصور 1936 ء میں پیش کیا، جب عالمی سیاسی نقشہ آج سے یکسر مختلف تھا۔ اس وقت پاکستان معرضِ وجود میں نہیں آیا تھا، ایران میں بھی بادشاہت قائم تھی اور 1979 ء کا اسلامی انقلاب بھی وقوع پذیر نہیں ہوا تھا۔ اس انقلاب نے نہ صرف ایران کے داخلی سیاسی و سماجی ڈھانچے کو یکسر بدل دیا بلکہ عالمِ اسلام میں فکری و مسلکی تقسیم کو بھی ایک نئی جہت دی۔ ایران ایک مخصوص نظریاتی ریاست کے طور پر ابھرا، جس نے اپنے داخلی نظام کو ایک خاص فکر کے تحت منظم کیا۔ اس کے نتیجے میں جہاں داخلی استحکام کی ایک شکل سامنے آئی، وہیں بین الاقوامی سطح پر ایک نئی نوعیت کی کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔
موجودہ دور میں بعض حلقے اقبال کے اس شعر کو ایران کے موجودہ کردار، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کی کشیدگی، کے تناظر میں پیش کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ شاید تہران عالمِ مشرق کے ”جنیوا“ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ تاہم یہ تجزیہ زیادہ تر جذباتی نوعیت کا ہے اور زمینی حقائق سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا۔ کسی بھی ملک کا اس نوعیت کا عالمی مرکز بننا صرف اس کی مزاحمتی پالیسی یا عسکری طاقت پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے وسیع تر قبولیت، غیر جانبداری، اور مختلف ریاستوں کے درمیان اعتماد سازی ناگزیر ہوتی ہے جو اس وقت مسلم دنیا میں واضح طور پر مفقود دکھائی دیتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ حالات میں اسلام آباد ممکنہ طور پر عالمِ اسلام کے لیے ایک ”جنیوا“ کا کردار ادا کر سکتا ہے؟ جس کی ابتدائی جھلک ثالثی اور سفارتی کوششوں کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ پاکستان، ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ، جغرافیائی لحاظ سے بھی ایک اہم محلِ وقوع رکھتا ہے جو اسے ایک ممکنہ ”غیر جانبدار پلیٹ فارم“ کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان خود داخلی سیاسی عدم استحکام، معاشی چیلنجز، علاقائی کشیدگیوں اور عالمی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اس کے لیے ایک مکمل طور پر خودمختار اور متفقہ عالمی مرکز کا کردار ادا کرنا فی الحال ایک مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔
مزید برآں، عالمِ اسلام کی مجموعی صورتحال اس خواب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مختلف مسلم ممالک اپنے اپنے قومی مفادات، علاقائی ترجیحات اور عالمی اتحادوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ کہیں مسلکی تقسیم غالب ہے تو کہیں سیاسی مفادات کا ٹکراؤ نمایاں ہے۔ اس باہمی عدم اعتماد نے کسی بھی مشترکہ پلیٹ فارم کے قیام کو نہایت دشوار بنا دیا ہے۔ جب تک یہ بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، اس وقت تک کسی ایک شہر یا ملک کو ”جنیوا“ کا درجہ دینا محض ایک نظریاتی بحث ہی رہے گا۔
اقبال کے تصور کو موجودہ دور میں زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے ظاہری پہلو سے آگے بڑھ کر اس کی روح کو سمجھیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ”طہران“ یا ”اسلام آباد“ عالمِ مشرق کا جنیوا بن سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا مشرقی اقوام اپنے اندر وہ فکری، اخلاقی اور سیاسی ہم آہنگی پیدا کر سکتی ہیں جو اس خواب کی بنیاد ہے؟ اگر یہ ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو جغرافیہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے، اور کوئی بھی مقام اس مرکز کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اقبال کا یہ خواب آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے، مگر اس کی تعبیر کے لیے درکار شرائط ابھی پوری نہیں ہو سکیں۔ اقبال نے ہمیشہ داخلی اصلاح، فکری بیداری اور عملی جدوجہد کو ہر بڑی تبدیلی کی بنیاد قرار دیا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”عالمِ مشرق کا جنیوا“ کسی مخصوص شہر کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی کیفیت کا عنوان ہے جہاں اتحاد، اعتماد اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر ایک نیا عالمی کردار جنم لے۔ جب تک یہ عناصر موجود نہیں ہوتے، تب تک نہ تہران اور نہ ہی اسلام آباد اس خواب کی مکمل تعبیر بن سکتے ہیں۔ البتہ اگر مستقبل میں حالات بدلتے ہیں اور مشرقی اقوام اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ وژن پر متفق ہو جاتی ہیں، تو بعید نہیں کہ اقبال کا یہ ”شاید“ کسی دن ”یقین“ میں ڈھل جائے۔

