اداریہ۔کالم۔

امریکی استعماریت کے مدمقابل ایرانی تسلط کا خواب

syed mujahid ali

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والے اقتصادی بحران اور مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازعہ کی قیمت پوری انسانیت ادا کر رہی ہے۔ تاہم دوسری طرف تہران سے سامنے آنے والے بیانات سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ایران امریکی عسکری طاقت کو خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے نکال کر خود علاقے میں سلامتی و تحفظ کا ذمہ دار بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے بیانات سے یہ اندازہ کرنا دشوار نہیں ہے کہ ایرانی لیڈر امریکی جارحیت و استعماریت کا مقابلہ کرنے ہی کی بات نہیں کرتے بلکہ وہ اب خود کو اس علاقے میں فیصلہ ساز قوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ رویہ درحقیقت تسلط، سیاسی بالادستی اور عسکری بلیک میل کی وجہ بنتا ہے۔ ایران پر امریکی حملے کو غلط قرار دیتے ہوئے درحقیقت اسی اصول کی نشاندہی کی جاتی ہے کہ امریکہ کو بالادست قوت ہونے کے باوجود یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی مرضی مسلط کرنے یا کسی ملک کو ایک خاص طرح کے فیصلوں پر مجبور کرنے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کرے۔ اسی اصول کی بنیاد پر پوری دنیا امریکی حملوں کو غلط قرار دیتی ہے اور امریکہ کے طرز عمل میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔

ایران کو ملنے والی ہمدردی یا دوسرے لفظوں میں امریکہ کے قریب ترین یورپی حلیفوں کی طرف سے اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے سے گریز کی وجہ یہی اصول تھا کہ امریکہ کو ایک خود مختار ملک پر حملہ کر کے طاقت کے بل بوتے پر مرضی مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اصولی موقف کو عالمگیر تائید و حمایت حاصل ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ حتی کہ اس بحران میں ایران کی سفارتی مدد میں پیش پیش رہنے والے ممالک مثلاً چین و روس وغیرہ بھی ایران کو ایٹم بم بنانے کا حق دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ایران ماضی قریب میں مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس فتوی کے ہوتے ایران کبھی جوہری طاقت نہیں بنے گا۔ یہی دنیا کے لیے سب سے بڑی ضمانت ہونی چاہیے۔

اس کے باوجود ایران نے مئی 2018 میں ٹرمپ کی طرف سے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدہ کو مسترد کرنے کے بعد عالمی نگرانی سے انکار کیا اور یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا۔ ماہرین کے خیال میں اس سطح کو بم کے لیے درکار 80 یا 90 فیصد تک لے جانے میں چند ماہ کی محنت درکار ہوتی ہے۔ بلکہ بعض ماہرین تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم بھی ’ڈرٹی بم‘ بنانے اور تابکاری پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کے مستقبل کا سوال کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ایران اس ساڑھے چار سو کلو یورینیم کی ملکیت سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔

اس پس منظر میں رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی طرف سے مستقبل کے عزائم کے بارے میں بیان درحقیقت خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ پر ایرانی تسلط کا خواب بیان کرتا ہے۔ ایران کی موجودہ عسکری و معاشی حالت میں اس خواب کی تکمیل ممکن دکھائی نہیں دیتی لیکن ایران جیسے بڑے ملک کے لیڈر کی طرف سے آبنائے ہرمز کے لئے نئے اصول و ضوابط بنا کر پورے علاقے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی باتیں پورے ریجن کے دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجانے سبب بنیں گی۔ مجتبی خامنہ کا تازہ بیان اس لحاظ سے مختلف اور پریشان کن ہے کہ اس میں امریکہ کو تباہ کرنے کے نعرے لگانے کے علاوہ پورے ریجن پر ایران کا تسلط نافذ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

یوم خلیج فارس کے موقع پر اپنے پیغام میں ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ ’خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا باب تحریر کیا جا رہا ہے۔ خلیج فارس کا روشن مستقبل امریکہ سے پاک ہو گا۔ اس خطے کے روشن مستقبل میں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ آبنائے ہرمز کے نئے نظام پر عملدرآمد سے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔ خلیج فارس میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ یہاں امریکی موجودگی ہے۔ امریکی اڈے خطے کے ممالک کی سلامتی کو یقینی نہیں بنا سکتے۔ ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور دشمن کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کے استحصال کو ختم کرے گا۔ ایک دوسرے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ فساد برپا کرنے والے غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ کے سوا کچھ نہیں ہے‘ ۔

امریکی بحریہ کو تباہ کرنے کا ایسا ہی دعویٰ پاسداران کے ایک جنرل کے بیان میں بھی سامنے آیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر برگیڈئیر جنرل سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ ’ہم نے خطے میں آپ کے فوجی اڈوں کا انجام دیکھا، اور ہم آپ کے جنگی بحری جہازوں کا انجام بھی دیکھیں گے‘ ۔ یہ براہ راست امریکی بحری بیڑے کو غرق کرنے کی دھمکی ہے۔ اگرچہ یہ دعویٰ ایران کی عسکری صلاحیت سے مماثلت نہیں رکھتا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ایرانی لیڈر دنیا بھر کی پریشانی اور شدید دباؤ کے باوجود امن کی بجائے جنگ، تباہی اور تسلط کی بات کر رہے ہیں۔ ایسے بیان دیتے ہوئے ایرانی لیڈروں کو یہ احساس بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی خود مختاری کی دہائی دیتے ہوئے خطے کے تمام ممالک کے خود مختارانہ فیصلوں پر حکم صادر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ورنہ کون سا ملک کس ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتا ہے اور کس ملک کو اپنی سرزمین پر اڈے بنانے کی اجازت دیتا ہے، اس کا فیصلہ تہران میں موجود لیڈر نہیں کر سکتے۔

معروضی حالات اور دنیا میں پائی جانے والی معاشی پریشانی کے ماحول میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئیتریس نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کی موثر بندش عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے‘ ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہی پابندیاں ہٹا بھی دی جائیں تو بھی سپلائی چینز کو بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیل، گیس، کھاد اور دیگر اہم اشیا کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس سے توانائی، نقل و حمل، صنعت اور خوراک کی منڈیوں میں خلل پیدا ہوا ہے۔ ’ہر تنازع کی طرح آبنائے ہرمز تنازعہ کی قیمت بھی پوری انسانیت ادا کر رہی ہے۔ اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے‘ ۔

اس دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے فون پر بات کے ذریعے امریکہ مخالف سفارتی محاذ قائم کرنے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے بھارت کے وزیر خارجہ سے بات کی اور آج سویٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ لیکن ایرانی لیڈر یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی عالمی تنہائی کی واحد وجہ یہ ہے کہ ایران کی انقلابی حکومت نے گزشتہ 47 سال میں اعتماد سازی کی بجائے انتشار اور بلیک میلنگ کی پالیسی اختیار کی۔ اب بھی آبنائے ہر مز کے سوال پر وہ پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا ایران کی مرضی مسلط کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کوئی لیڈر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی متوازن اور حقیقت پسندانہ باتوں پر غور کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

انہیں یا تو امریکہ کو ’شکست‘ دے کر مشرق وسطی پر ایران کی دھاک بٹھانے کی جلدی ہے یا وہ اپنے ملک میں سیاسی اختلاف کرنے والوں کو پھانسیاں دے کر عوام میں خوف اور دہشت قائم رکھنے کا اقدام کر رہے ہیں۔ آج ہی ایرانی عدلیہ کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں اصفہان میں احتجاج کرنے والے ایک 21 سالہ نوجوان کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ نوجوان کا نام ساسان آزادوار جونغانی بتایا گیا ہے ۔

اپنے نوجوانوں کو پھانسی دینے والی اور خطے پر تسلط قائم کرنے کا خواب دیکھنے والی ایرانی قیادت کے پاس اپنے عوام کی بہبود اور فلاح کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ دنیا کی تکلیف میں اپنی راحت کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW