
28 فروری، 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر مربوط فضائی حملے کیے۔ پہلے 12 گھنٹوں میں انہوں نے ایران کے 900 سے زائد اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں جہاں فوجی و جوہری تنصیبات سمیت اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، وہیں ایران کے سپریم لیڈر، علی خامنہ ای، سمیت دیگر مرکزی قیادت کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔
ایران نے بھی خطے میں موجود امریکی تنصیبات، اسرائیل اور امریکہ کے اتحادیوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا آغاز کیا اور آبنائے ہرمز کو آبی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا۔ اس کے بعد ایک ایسے بحران نے جنم لیا جس نے اگلے چالیس روز تک خطے میں تباہی مچانے کے علاوہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قلت پیدا کر دی اور عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
امریکہ اور اسرائیل نے بنیادی طور پر اس جنگ کے تین اہداف مقرر کیے تھے۔ پہلا، اسلامی رجیم کی تبدیلی؛ دوسرا، جوہری تنصیبات کا خاتمہ؛ تیسرا، میزائل پروگرام کو محدود کرنا۔
آئیے، سب سے پہلے رجیم کی تبدیلی پر بات کر لیتے ہیں :
1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور ایک اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ آیت اللہ خمینی اس نئے نظام کے تحت پہلے سپریم لیڈر بنے اور ایران کی سیاسی و مذہبی قیادت ان کے ہاتھ میں آ گئی۔ 1989 میں ان کا انتقال ہوا تو علی خامنہ ای نئے سپریم لیڈر منتخب ہوئے، جو 28 فروری 2026 کو اپنی ہلاکت تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔
1979 سے لے کر آج تک امریکہ اور ایران کے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ ایران اور امریکہ میں خطے کی پالیسیوں کو لے کر شدید اختلاف پائے جاتے ہیں۔ یورپ بھی اسلامی حکومت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور خلیجی ممالک کے بھی ایران کے ساتھ تعلقات خوش گوار نہیں ہیں۔
علاوہ ازیں، اسرائیل اور ایران میں اس قدر مخالفت ہے کہ ایران اسرائیل کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتا، اور ہر فورم پر فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل بھی ایران کی مخالفت میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، چاہے وہ سفارتی سطح پر ہو یا خطے میں ایران کے مفادات کو نقصان پہنچانا۔
1979 سے لے کر آج تک امریکہ، اسرائیل، یورپ اور گلف ریاستوں کی پالیسی رہی ہے کہ کسی طریقے سے ایران میں اسلامی حکومت کی تبدیلی کو ممکن بنایا جا سکے، چاہے اس کے لیے ’عرب بہار‘ کی طرز پر بغاوت کروائی جائے، سفارتی سطح پر اسے تنہا کیا جائے یا ناگزیر حالات میں طاقت کے استعمال سے رجیم کی تبدیلی کو ممکن بنا لیا جائے۔
سابق امریکی صدور ایران کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرتے رہے، لیکن جب ٹرمپ پہلی بار اقتدار میں آئے تو انہوں نے ایران کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے کو ختم کر دیا۔ اس کے باوجود کہ ایران نے اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ روس، چین فرانس اور ایک غیر مستقل رکن جرمنی کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کو بھی قبول کر لیا تھا۔
بالآخر، اس بار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، صدر ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب رہے اور کئی مہینوں کی خفیہ منصوبہ بندی کے بعد رجیم کی تبدیلی کے لیے ایران پر مربوط حملہ کر دیا گیا اور پہلے ہی روز علی خامنہ ای سمیت پچاس سے زائد اہم شخصیات کو ہلاک کر دیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ مقصد پورا ہوا جس کے لیے یہ بساط بچھائی گئی تھی؟ تو جواب ہے : نہیں! ابھی تک ایران میں رجیم نہیں بدلی۔
درست اندازہ لگانے میں امریکہ، اسرائیل اور اتحادیوں سے چوک ہو گئی۔ ان کے سامنے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے تھے، ان سے انہوں نے یہ مفروضہ قائم کر لیا کہ ایرانی حکومت کے خلاف عوام میں ماضی کی نسبت آج زیادہ مخالفت پائی جاتی ہے۔ اِدھر ہم حملہ کر کے قیادت کو ہٹا کر نظام کو مفلوج بنائیں گے اور اُدھر معاشی بدحالی سے ستائے عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اقتدار پر قابض ہو جائیں گے، اور پھر ایسی حکومت تشکیل دے دی جائے گی جو خطے میں امریکی مفادات کی مخالفت نہ کرے اور اسرائیل کو بھی جس سے خطرہ نہ ہو۔
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو آسان حریف تصور نہیں کیا۔ اس کے برعکس ایرانی یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے اور نظام کو مفلوج بنانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ اس لیے انہوں نے ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بروقت تیاری کی اور ایسا دفاعی نظام تشکیل دیا جس نے چالیس روز تک ایران کا بھرپور دفاع کیا اور امریکہ و اتحادیوں کو کوئی بڑی تزویراتی کامیابی حاصل نہ کرنے دی۔
دوسرا مقصد: کیا جوہری پروگرام کا خاتمہ ہوا؟ جواب ہے نہیں۔
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ایران کے جوہری مراکز پر شدید حملے کیے ہیں اور انہیں تباہ کر دیا ہے۔ اگر یورینیم افزودگی کی یہ تنصیبات ختم کر دی گئی ہیں تو پھر مذاکرات کا سارا زور اس بات پر کیوں ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام بند کرے، جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی ضمانت دے اور افزودہ کی گئی یورینیم امریکہ کے حوالے کرے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ایران کے پاس وہ علم، تکنیک اور سینکڑوں کی تعداد میں ایسے سائنس دان موجود ہیں جو جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں، باوجود اس کے کہ ماضی میں اسرائیل ایران کے بے شمار سائنس دان قتل کر چکا ہے۔ ہاں، البتہ ایران اپنے ملکی مفاد کی خاطر یہ فیصلہ ضرور کر سکتا ہے کہ وہ عارضی طور پر یورینیم کی افزودگی کو روک دے، لیکن مستقل بنیادوں پر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس بارے میں ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام این پی ٹی کے ضوابط کے مطابق ہے اور سول جوہری پروگرام کو جاری رکھنا اس کا حق ہے۔
تیسرا اہم مقصد، جس کو بنیاد بنا کر ایران پر حملہ کیا گیا، وہ ہے ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا۔ کیا ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کیا جا سکا؟ جواب ہے نہیں۔
جیسے ہی جنگ شروع ہوئی، امریکہ اور اسرائیل کا پلڑا بھاری دکھائی دیا۔ دونوں ممالک نے مربوط حملے کیے اور پہلے ہی دن ایران کو بھاری نقصان پہنچا دیا۔ ایران کی فوجی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائل محفوظ رکھنے کے زیرِ زمین ٹھکانے اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکی اور اسرائیلی قیادت کی طرف سے بیانات کی ایک مہم چلائی گئی اور عالمی سطح پر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایران بہت جلد شکست تسلیم کر لے گا۔
پھر جو ہوا، سب نے دیکھا، اور مسلسل چالیس روز تک دیکھا۔ ایران نے جہاں خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، وہیں اسرائیل پر بھی میزائل اور ڈرونز کی بارش کی۔ یہ الگ بات ہے کہ اسرائیل کو زیرِ زمین بنکروں کی وجہ سے ایران کے مقابلے میں کم جانی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن اس کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایران صرف اسرائیل کی طرف میزائل اور ڈرونز کی سو سے زائد لہریں بھیج چکا ہے۔ آغاز میں اسرائیل نے اپنے دفاعی نظام آئرن ڈوم کی بدولت بہت سے میزائل حملوں کو ناکام بنایا، لیکن یہ حملے اتنے شدید اور مسلسل تھے کہ جنگ بندی تک جاری رہے اور اسرائیل کا کوئی بھی مقام ان میزائلوں کی رینج سے محفوظ نہ رہا۔
ایران کے پاس میزائل اور ڈرونز کا کتنا اسٹاک پائل موجود ہے اور کہاں کہاں موجود ہے، یہ کوئی نہیں جانتا سوائے ایرانی احکام کے۔ حالاں کہ امریکہ اور اسرائیل نے بہت سے زیرِ زمین ٹھکانوں، لانچرز اور سرنگوں میں موجود اسٹاک کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے، لیکن اس کے باوجود سی آئی اے نے دورانِ جنگ ہی امریکی حکومت کو یہ رپورٹ پیش کر دی تھی کہ اب تک ایران کے میزائلوں کے صرف تیسرے حصے کو ہی تباہ کیا جا سکا ہے۔
جنگ سے قبل امریکہ و اتحادیوں کا دعویٰ تھا کہ ایران کے پاس تقریباً 2500 میزائل ہیں، لیکن آزاد ذرائع کا ماننا ہے کہ ایران 6000 سے زائد میزائلوں کا اسٹاک پائل رکھتا ہے۔ ان میں کلسٹر وارہیڈ سمیت مختلف رینج اور رفتار کے بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔ ان میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج 2000 کلومیٹر اور رفتار 17000 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی جاتی ہے۔
اگر ڈرونز کی بات کی جائے تو ایران کے پاس جدید ترین ڈرون موجود ہیں۔ ان میں نگرانی اور حملہ کرنے کی دونوں صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن جو ڈرون اس جنگ میں گیم چینجر ثابت ہوئے وہ ایران کے خودکش ڈرون ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ عام حالات میں ایران ایک ماہ میں 300 سے 500 خودکش ڈرون تیار کر سکتا ہے، جب کہ ہنگامی حالات میں یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔
چنانچہ یہ دعویٰ کرنا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو مکمل طور پر تباہ یا محدود کر دیا گیا ہے، محض قیاس آرائی ہے۔ ایران نے سالہا سال ان حالات سے نمٹنے کی تیاری کی ہے۔
ایرانی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ائرفورس کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا، البتہ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہو کر اپنے دفاع کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے طاقت کا بھرپور استعمال کر کے دیکھ لیا ہے، مگر وہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ نہ رجیم بدلا، نہ نظام مفلوج ہوا، اور نہ ہی عوام سڑکوں پر نکلے۔ البتہ سول انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، اسکولوں میں کم عمر بچیاں بھی نشانہ بنیں، اسپتالوں پر حملے کیے گئے، عام شہری ہلاک ہوئے اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا، لیکن ایرانی ڈٹے رہے۔ بالآخر چالیس روز کی شدید لڑائی کے بعد تمام فریق اس بات پر متفق ہو گئے کہ عارضی جنگ بندی کر دی جائے اور تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جائے۔
عالمی رہنماؤں اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ اس جنگ میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ اسی لیے ٹرمپ کی خواہش ہے کہ اس صورتِ حال کو مذاکرات کی میز پر کامیابی میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اس نے مسلسل دباؤ اور سخت بیانیہ اپنا رکھا ہے تاکہ یہ تاثر قائم کیا جا سکے کہ امریکہ اپنی شرائط منوانے کی پوزیشن میں ہے۔
اس کے برعکس ایران نے اپنے سول جوہری پروگرام پر امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی سخت شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں ڈیڈ لاک برقرار رہا اور بات چیت میں تعطل آ گیا۔ البتہ ایران نے جنگ بندی تک آبنائے ہرمز سے آبی آمد و رفت کی مشروط اجازت دے دی۔
امریکہ نے جنگ بندی کا فائدہ اٹھایا اور اپنی شرائط منوانے کے لیے گلف آف عمان میں ایران کی بحری ناکہ بندی کر دی۔ اس کے باوجود پاکستان کی مثبت سفارت کاری کی بدولت ایران ایک بار پھر اسلام آباد آنے پر آمادہ ہو گیا، لیکن اسی دوران یہ خبر بھی سامنے آ گئی کہ امریکہ نے ایک ایرانی بحری جہاز کو گلف آف عمان سے گزرتے ہوئے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس واقعے کے بعد حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے اور ایران نے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ممکن ہے ایران اپنے سول جوہری پروگرام کو عارضی طور پر روکنے کے لیے آمادہ ہو جائے، لیکن ابھی بھی وہ امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی طویل مدت تک یورینیم کی افزودگی روکنے کی شرط کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جہاں تک امریکہ کے بحری دباؤ کا تعلق ہے تو اسے ایک تزویراتی اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور دونوں ممالک کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو امریکہ اسے اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرے گا اور بیانیہ اپنائے گا، چونکہ ایران نے امریکہ کی شرائط مان لیں ہیں اس لیے اب ناکہ بندی کا جواز باقی نہیں رہا۔
دوسری جانب ایران بھی اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی وہ مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا۔ اگر ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کھلوائے بغیر امریکی دباؤ میں آ کر مذاکرات کے لیے راضی ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ سفارتی سطح پر ناکامی سے دوچار ہو گا۔ اس لیے وہ میدانِ جنگ میں حاصل کی گئی برتری کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرے گا۔
البتہ اس دوران ایک مثبت پیش رفت ضرور ہوئی ہے ٹرمپ نے پاکستان کے مشورے پر جنگ بندی کی مہلت کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ اس تنازعے سے واقعی نکلنا چاہتی ہے تو اسے ایران کی بندرگاہوں سے آنے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی فوراً ختم کرنا ہو گی تاکہ ایران کو مذاکرات کے لیے قائل کیا جا سکے اور ایران کو بھی بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا ہوں گے تا کہ اس تنازعے کا مستقل اور دیرپا حال نکالا جا سکے۔
