بلاگ

باطن کی بھکشو، سوز کی سرسوتی: لتا منگیشکر

jami chandio

کیلنڈر کی تاریخ بتاتی ہے کہ آج کے دن، چار برس قبل 2022 میں لتا منگیشکر اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ کیلنڈر خواہ کبھی جھوٹ نہ بولیں، مگر وہ حیات، موت اور فنا کا سراغ نہیں دیتے۔ کیلنڈر تو محض تاجروں اور وقت کو جنس سمجھنے والوں کے کام آتے ہیں؛ وجود کی تفہیم اور ادراک رکھنے والوں کے لیے نہیں۔ کتنے ہی لوگ سانس لیتے ہوئے بھی اپنے اندر مر چکے ہوتے ہیں، مگر کیلنڈر کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی کیلنڈر کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ جن کے جسم سرد ہو کر بظاہر دنیا چھوڑ جاتے ہیں، ان کے وجود کی خوشبوئیں پھر بھی یہیں بسی رہتی ہیں۔

اقبال نے کہا تھا:

زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انہی اجزا کا پریشاں ہونا

مگر اقبال بھی شاید اس نکتے تک نہ پہنچ سکے کہ جسم کے اجزا کے بکھرنے یا سرد پڑ جانے سے جسم تو فنا ہو جاتا ہے، مگر وجود فنا نہیں ہوتا۔ وجود محض روح بھی نہیں، جسے وہمی فکر تو کیا جدید فلسفے کا بانی ڈیکارٹ بھی روح کو بھی وجود سمجھ بیٹھا تھا۔ کچھ لوگ محض ہڈی، چمڑی اور گوشت کا مجموعہ نہیں ہوتے کہ ان کے سرد پڑنے سے وجود بھی مٹ جائے۔ ان کے وجود کا معنوی اور جمالیاتی جوہر نسلوں اور عہدوں تک سلامت رہتا ہے۔ جسم کو فنا ہے، مگر وجود کے جوہر کو لازم نہیں کہ فنا ہو۔ اسی لیے بلھے شاہ نے کہا تھا:

بلھیا اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور

بڑے لوگوں کو اپنے وجود کے جوہر کی دوامیت کا شعور ہوتا ہے، جیسا کہ اس شعر میں بلھے شاہ کو ہے۔ جان ڈان نے بھی کہا تھا:

"Death, thou shalt die.”

یعنی یہ موت کو کوسنا نہ تھا، بلکہ یہ یقین تھا کہ اے موت! آخرکار تو بھی مر جائے گی۔ وجود کے جوہر کے معنی میں کچھ لوگ موت کو تو نہیں روک سکتے، مگر فنا کو ضرور مات دے دیتے ہیں۔ میں یہ بات ولیم بلیک کی خیال پسندی کے مفہوم میں نہیں کہہ رہا، جس نے کہا تھا:

"Man has no Body distinct from his Soul;

For that called Body is a portion of Soul!”

میں وجود کے جوہر کی بات کر رہا ہوں۔ صوفیوں کے ہاں بقا کا تصور نہایت خیال پسند لیکن دلکش اور منفرد ہے؛ یعنی ذات کی نفی میں وجودی بقا کی دریافت۔ خیال پسندی کے حوالے سے یہ حسین تصور ہے، مگر حقیقت پسندی یا وجود کی مادی تفہیم کے لحاظ سے ہرگز نہیں۔ اقبال پر مسلم تہذیبی نرگسیت غالب تھی اور وہ نطشے سے بھی متاثر تھے، اسی لیے انہوں نے زندگی کی معنویت اور دوام کو ان دونوں افکار کے امتزاج میں اپنی فرضی انا کی تلاش میں ڈھونڈا۔ یہاں تک کہ انہوں نے جنت و دوزخ کو بھی ذہنی مقامات قرار دیا، جو ان کی تشکیل کردہ انا کی دریافت سے مشروط تھے۔

اگرچہ میر تقی میر رسمی معنوں میں باقاعدہ صوفی نہیں ہیں لیکن ان کا وجودی تصور وحدت الوجود کے زیادہ قریب ہے۔ ان کے نزدیک موت زندگی کے سفر میں محض سانس لینے کا وقفہ ہے، اسی لیے کہا:

موت اک ماندگی کا وقفہ ہے۔

یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

غالب، میر کے برعکس، زیادہ سیکولر اور حقیقت شناس شاعر تھے، اسی لیے وہ موت کو "مرگِ ناگہانی” یعنی اچانک وارد ہونے والے حادثے سے تعبیر کرتے ہیں۔ مگر غالب کو بھی یہ مرگِ ناگہانی فنا نہ کر سکی۔ یہی دوام وجودی جوہر کا فنا سے انکار ہے۔ دنیا کے تمام عظیم لوگ، ہر شعبے میں، اسی طرح ہوتے ہیں؛ اسی لیے وہ فنا کی نفی کا اثبات بن جاتے ہیں۔ آواز کی دنیا میں لتا منگیشکر بھی ایسی ہی تھیں۔

آکاش انصاری نے اپنی ایک شاندار نظم میں اس وجودی جوہر کی بقا کے بارے میں کہا تھا کہ:

جدائی کی ویران
چاندنیوں میں،
کسی دور دراز اسٹیشن سے
مدھم سروں میں
لتا، گیت میرا کا گنگناتی ہے….
کیا!
اس گیت کو موت آ سکتی ہے؟
یہ سب کیا ہے؟
یہ جیون محض کوئی شبنم نہیں،
نہ ریت پر لکیر،
نہ ہوا کا جھونکا!

لتا کی آواز، سر اور سوز، بے ثباتی کی نفی کا اثبات ہیں۔ ان کی آواز شاید دنیا کے تمام معصوم اور مدھر سروں کے امتزاج سے تخلیق ہوئی تھی۔ فریدالدین عطار کی منطق الطیر میں جو تیس پرندے سات وادیوں سے گزر کر وحدت میں "سی مرغ” بن گئے تھے، گویا مرنے سے پہلے انہوں نے وہ آواز لتا منگیشکر کو امانت کے طور پر سونپ دی تھی، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ آواز لافانی ہو گی۔

یونانی اساطیر میں سائرنز کے پرندے کا ذکر ہے، جن کی آواز میں ایسا سحر تھا کہ مسافر اپنی منزلیں بھول جاتے تھے۔ اسی طرح اورفیوس کی بانسری کا وہ سر تھا جو وقت کو منجمد کر دیتا، پتھر پگھلا دیتا اور درخت سر جھکا کر اسے سننے لگتے۔ قدیم ہندی اساطیر میں کرشن کی بانسری میں بھی یہی سحر تھا۔ میں نے نیپال میں جوگ ناتھ مندر میں بانسری بجانے والے ایک جوگی سے پوچھا تھا کہ بانسری میں یہ سوز کہاں سے آتا ہے؟ اس نے کہا تھا کہ بانسری اندر سے خالی ہوتی ہے، ہجر کی کیفیت کی مانند؛ اسی لیے درد بھرا سوز پیدا کرتی ہے۔ واقعی، سکھ بھرا ہوا ہوتا ہے، اس لیے سوز اس کے نصیب میں نہیں ہوتا۔

قدیم زمانے سے انسان نے سریلے آواز کو کتنے ہی معنوی استعارے عطا کیے ہیں۔ اینکی کا سر تخلیق کا محرک، آئسس درد کا مداوا، اوڈن علم و عرفان اور حضرت داو¿د سر کے ذریعے یادِ الٰہی کا استعارہ ہیں۔ لتا منگیشکر ان تمام قدیم صوتی اساطیر کی زندہ صورت تھیں۔

ترانوے برس کی طویل عمر میں انہوں نے اسی برس گیت گائے۔ کیسی کارج بھری یہ زندگی تھی! زندگی کے جتنے رنگ اور کیفیات ہیں، انہوں نے سب کو اپنے لازوال گیتوں میں امر کر دیا۔ جب وہ گاتی ہیں:

میرے پیار کی عمر ہو اتنی صنم
تیرے نام سے شروع، تیرے نام پہ ختم!

دعا یہاں نئی کیفیاتی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ "جب پیار کیا تو ڈرنا کیا” سماج کی تمام بندشوں سے آزادی کا اعلان بن جاتا ہے۔ برصغیر میں عورت ہمیشہ محبت اور اظہارِ ذات کی علامت رہی ہے؛ رادھا، شکنتلا، دروپدی، میرا بائی، سوہنی، ہیر، مارئی اور سسئی؛ سب وجودی آزادی کی علامتیں ہیں۔

"تم آ گئے ہو، نور آ گیا ہے” یا "کورا کاغذ تھا یہ من میرا” جیسے گیت محبت کی لطافت کے امر اظہارات ہیں۔ جب تک دنیا میں محبت باقی ہے، یہ گیت بھی باقی رہیں گے۔ جہاں انہوں نے "سجدہ” میں ہجر کے درد کو روحانی سروں میں ڈھالا، وہیں جوانی کی بے پروائی اور شوخی کے بھی ان گنت گیت گائے۔ دنیا کے جاہل فاتح لاشیں گنتے ہیں؛ لتا کی عظمت یہ تھی کہ انہیں اپنے گیت گننے کی حاجت ہی نہ رہی۔

لتا منگیشکر کو ہمیشہ اپنی منگیشکر ذات پر فخر رہا۔ منگیشکر کا مطلب ہے مانگنے والا، جیسے بدھ کے بھکشو، جو باطن کے کیف مانگنے والے ہوتے ہیں۔ شاھ لطیف نے بھی اپنے س±ر پربھاتی میں جاجک ذات کا ذکر کیا ہے۔ بظاہر مانگنے والے، حقیقت میں دینے والے ہوتے ہیں۔ دنیا کو مدھر سر عطا کرنے سے بڑھ کر حسین تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ لتا نے دنیا سے کیا لیا؟ یہ دنیا ان کا قرض کبھی ادا نہیں کر سکتی۔ ان کی باطنی فقیری یہی تھی کہ وہ خود کو منگیشکر کہتی تھیں۔

اصل مانگنے والا وہ نہیں جس کے ہاتھ یا جھولی پھیلی ہو، بلکہ وہ ہے جس کا باطن وجود کا کشکول اٹھائے، لوگوں سے نہیں بلکہ کائنات سے کیف مانگتا ہے۔ اسی لیے شاہ لطیف نے کہا تھا کہ:

جنہیں سکون نہیں، انہیں چارن کہتے ہیں،
جو ریگستانوں میں راستے پوچھتے ہیں، کندھوں پر کینرا اٹھائے۔

لتا کو بلبلِ ہند کہا گیا، مگر ان کے گلے میں کوئل سے لے کر ہر حسین آواز کا سوز تھا۔ قدرت نے کائنات کے تمام سروں کو سمیٹ کر ان کی آواز کو تخلیق کیا تھا۔ دلیپ کمار نے کہا: "لتا کی آواز قدرت کا معجزہ ہے۔” استاد بڑے غلام علی خان نے فرمایا: "وہ کبھی بھولے سے بھی غلط سر میں نہیں جاتیں۔” جاوید اختر نے کہا: "جیسے ایک سورج اور ایک چاند ہے، ویسے ہی لتا منگیشکر ایک ہی ہیں۔” نرگس دت کے نزدیک لتا کی آواز خود ایک مندر تھا جہاں بھگوان سر جھکائے انکو سنتے ہیں. نور جہاں نے کہا: "ایسی آواز آج تک پیدا نہیں ہوئی۔”

میری زندگی کی ایک بڑی خو ش بختی یہ تھی کہ میں نے ایک مرتبہ ان سے فون پر بات کی اور انکی لافانی آواز سنی. 1991 میں میں، حسن درس اور ایک دوست بمبئی میں تھے اور ہمارہ خواہش تھی کہ لتاجی سے ملاقات کی جائے، بمبئی میں مقیم سندھی ادیب شیام جئے سنگھانی نے نمبر دیا. لتا سے فون پر گفتگو کا وہ لمحہ میرے لیے آج بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ وہ پونے میں تھیں اور ان سے میری بات ہوئی۔ افسوس کہ جس دن انہوں نے ممبئی میں واپس آنا تھا اس سے ایک دن پہلے ہمیں ممبئی سے دہلی واپس جانا تھا۔ وہ معصوم مدھر آواز آج بھی میرے کانوں میں اسی تازگی کے ساتھ محفوظ ہے۔

لتا منگیشکر سرسوتی کا نیا جنم تھیں۔ ویدوں میں سرسوتی ایک مقدس دریا ہے، جس کے بہاو¿ میں سر اور سوز تھا۔ سرسوتی کے ہاتھ میں وینا تھی، آوازوں کی وحدت کی علامت۔ پاکیزگی، موسیقی، بہاو¿ اور وحدت، یہ سب لتا کے وجود کی نشانیاں تھیں۔ سرسوتی کا دریا اگرچہ ڈھائی ہزار برس قبل خشک ہو گیا، مگر اس کے جوہر نے لتا منگیشکر کی صورت میں نیا جنم لیا تھا، اور وہ پ±نر جنم اسی برس تک دنیا کو معطر کرتا رہا۔

یہ بھی کتنا حسین اتفاق ہے کہ لتا کی برسی بسنت کے موسم میں آتی ہے۔ انہیں دیکھنا ہو تو بسنت کی شفق کے گیڑو رنگ میں دیکھنا چاہیے۔ یوں لگتا ہے جیسے ان کی آواز رنگوں میں ڈھل گئی ہو، کہ فطرت ایک ہی روپ دوبارہ کسی کو عطا نہیں کرتی!

Facebook Comments Box

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور ادبی نقاد ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ Jami8195@gmail.com chandiojami@twitter.com
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW