ٹافیوں سے ”ملائی کھاجا“ تک جشن آزادی کا ایک سفر
14 اگست 2025 کی صبح کا آغاز نماز فجر سے ہوا۔ جس کے بعد پاکستان کی سلامتی کی ڈھیروں دعائیں مانگیں۔ امسال بھی جامعہ کراچی کی پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا نعت رسول مقبول پیش کی گئی جس کے بعد شیخ الجامعہ نے آزادی کے حوالے سے خطاب کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض مسجل پروفیسر ڈاکٹر عمران صدیقی نے انجام دیے۔ ٹھیک آٹھ بجے ایڈمنسٹریشن بلاک میں شیخ الجامعہ نے پرچم کشائی کی۔ تقریب کے اختتام پر غیر تدریسی عملے، اساتذہ اور طلبہ کو ڈھاکہ سویٹ کی مٹھائی ”ملائی کھاجا“ پیش کی گئی۔ جس نے ان ٹافیوں کی یاد تازہ کر دی جو ہمیں 14 اگست کے دن گورنمنٹ اسکول کی مارننگ اسمبلی کے بعد ملا کرتی تھیں۔
ڈھاکہ سویٹ کا ڈبہ دیکھ کر مشرقی پاکستان کی یاد آ گئی۔ جب پاکستان کا ایک ٹکڑا اس سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ آج بھی ڈھاکہ میں محصورین پاکستان کے نام سے کیمپوں میں لوگ پاکستان کی محبت دل میں لیے بیٹھے ہیں۔ وہ مائیں، بہنیں، بیٹیاں جو اکہتر کی جنگ کے ہولناک دور سے گزر کر پاکستان پہنچیں آج بھی مشرقی پاکستان اور ڈھاکہ کی یاد دل میں بسائے بیٹھی ہیں۔
ہم نے پرائمری سے سیکنڈری تک جشن آزادی ہمیشہ انتہائی ذوق و شوق سے منایا۔ بچپن میں تمام بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر جھنڈیاں لگاتے اور صبح اٹھنے پر وہ بھیگی ہوئی یا زمین پر گری ہوئی ملتیں۔ کالج کے زمانے میں جشن آزادی کا فنکشن پہلے ہی منعقد ہو جایا کرتا تھا اور 14 /اگست کو عام تعطیل ہوا کرتی تھی۔ جامعہ کراچی میں ہر سال جشن آزادی انتہائی ذوق و شوق سے منایا جاتا ہے۔ ہمارے زمانہ ٔ طالبِ علمی میں بھی اس کا انعقاد بھرپور طریقے سے ہوا کرتا تھا اور آج بھی یہ سلسلہ اسی زور و شور سے جاری و ساری ہے جو طلبہ میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرتا ہے۔
سبز ہلالی پرچم لہرانے کی تقریب کے بعد مشیرِ اُمورِ طلبہ جامعۂ کراچی کی جانب سے بھی ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں ہر سال کی طرح امسال بھی اپنے شعبوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات میں میڈل تقسیم کیے گئے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ہر سال پرفارمنس کی بنا پر، ڈین کی سطح پر بہترین استاد کا ایوارڈ، بہترین سیکیورٹی کے عملے کا ایوارڈ، بہترین کلرک کا ایوارڈ، بہترین سوئیپر کا ایوارڈ، بہترین پیون کا ایوارڈ، بھی دیے جائیں تاکہ عملے کی پرفارمنس میں بہتری پیدا ہو۔
آج کی تقریب میں مختلف ملی نغمے اور تقاریر پیش کی گئیں۔ جامعہ کراچی کے طلبہ کی جانب سے بنایا گیا ایک قومی نغمہ بھی پیش کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر شیخ الجامعہ نے جشن آزادی کی خوشی میں کیک کاٹا۔
کئی سالوں سے کراچی کا موسم انتہائی گرم ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے 14 اگست کا فنکشن گرمی کی وجہ سے طبیعت کی خرابی کا سبب بن جاتا ہے۔ جو اساتذہ اور طلبہ اور غیر تدریسی عملہ اس جشن میں شامل ہوتے ہیں وہ دھوپ کی شدت کی وجہ سے شدید سر درد اور گرمی کی وجہ سے بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج بھی یہ جشن کئی گھنٹے جاری رہا اور اس میں شامل ہونے والے کئی طلبہ اور اساتذہ کی طبیعت سورج کی شدت اور گرمی کی وجہ سے خراب ہوئی۔ امید ہے کہ آئندہ سالوں میں اس حوالے سے کوئی بہتر حل نکالا جائے گا۔
کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے پر یہ اندازہ ہوا کہ چھوٹے علاقوں میں باجوں کا زور زیادہ رہا۔ انھیں علاقوں کا دورہ کرنے پر یہ علم بھی ہوا کہ سب سے بڑا باجا 500 روپے کا ہے۔ گلستان جوہر کے مقامی پارک میں پاکستان سے دس پندرہ سال چھوٹے اور پاکستان کے ہم عمر حضرات نے پارک میں پرچم کشائی کی اور قومی ترانہ پڑھا۔ نیز جشن آزادی کی خوشی میں انھوں نے شرکاء کے لیے کھانے پینے کا اہتمام بھی کیا۔ ان تمام بزرگوں کی خوشی دیدنی تھی۔
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کے دلوں میں حب الوطنی کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے بعد مناسب ملازمت نہیں ملتی تو وہ پاکستان سے ہجرت کو ترجیح دیتے ہوئے یورپ اور عرب امارات کی جانب اڑ جاتے ہیں۔ اسکالر شپ اور گرانٹ اور امیگریشن کے نام پر پاکستان کا ایک بہت بڑا تعلیم یافتہ طبقہ، یورپ کی جانب تواتر سے ہجرت کر رہا ہے۔ جبکہ ان پڑھ، مزدور اور محنت کش طبقہ، غیر قانونی ذرائع سے جان ہتھیلی پہ لے کر یورپ جانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستانی عوام، سیوریج، بجلی، پانی، ٹیکس اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے خوش امیدی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس امید پر کہ پاکستان کا مستقبل روشن اور تابناک ہو گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی پاکستان اور اس کے عوام پر اپنا فضل قائم و دائم رکھے۔
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

