آرٹ مووی ”شکنتلا دیوی“ یا ”جینئس فیملی“ – ایک ریویو
فلم ”شکنتلا دیوی“ مشہور بھارتی ریاضی دان شکنتلا دیوی کی زندگی پر مبنی کہانی ہے۔ ہندوستان میں یہ فلم ”شکنتلا دیوی“ کے نام سے بنائی گئی۔ جسے یوٹیوب پر ”جینئس فیملی“ کے نام سے ریلیز کیا گیا۔ یہ فلم غیر معمولی ذہانت رکھنے والی عورت کی کامیابیوں کی داستان کے ساتھ ساتھ ایک عورت کی نفسیاتی، جذباتی اور خاندانی زندگی کا گہرا مطالعہ بھی ہے جو دنیا کے لیے ایک انتہائی ذہین شخصیت تھی حساب میں بے انتہا ماہر تھی مگر اپنے دنیاوی رشتوں کی بابت الجھن کا شکار رہتی تھی۔
کہانی بنگلور کی ان تنگ اور غریب گلیوں سے شروع ہوتی ہے جہاں پانچ سالہ شکنتلا اپنی حیرت انگیز ذہانت سے سب کو حیران کر دیتی ہے۔ وہ لمحوں میں وہ ریاضی کے مشکل ترین سوالات حل کر لیتی ہے، مگر اس ذہانت کے پیچھے دکھ، محرومی اور خوف ہے۔ شکنتلا ناصرف ذہین و فطین ہے بلکہ خاندان کے تلخ تجربات نے اسے نڈر اور بے خوف بنا دیا ہے۔
شکنتلا اپنی ماں سے اس لیے نفرت کرنے لگتی ہے کہ وہ اس کے باپ کی ہر اچھی بری بات پر آمنا صدقنا کہتی ہے۔ شکنتلا ریاضی کے شوز کر کے خوب پیسہ کماتی ہے مگر اس کا باپ اس کی بیمار بہن شاردا کا علاج نہیں کرواتا۔ شاردا کی موت پر اس کا علاج نہ کروانے اور باپ کے سامنے نہ بولنے کی وجہ سے وہ ماں سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ شکنتلا کو اپنی ماں پر اس بات کا غصہ تھا کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے کبھی آواز نہیں اٹھا سکیں اور نہ ہی اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لیے کوئی مضبوط موقف اختیار کر سکیں۔ شاردا کی موت کے وقت شکنتلا اپنی مرتی ہوئی بہن سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ اپنی ماں کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور ایک دن ایک ایسی ”بڑی عورت“ بنے گی جو اپنی ماں جیسی کمزور نہیں ہو گی۔ یہی لمحہ دراصل شکنتلا کی پوری شخصیت کی بنیاد بنتا ہے۔ وہ طے کر لیتی ہے کہ وہ کبھی کسی پر انحصار نہیں کرے گی، کبھی کمزور نہیں پڑے گی اور ہمیشہ اپنی شرائط پر زندگی گزارے گی۔
شکنتلا کے والد، شکنتلا کو ریاضی شوز کے ذریعے پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ شکنتلا کو اسکول نہیں بھیجتے۔ ان کے نزدیک تعلیم سے زیادہ اہم وہ رقم تھی جو شکنتلا اپنی ذہانت کے ذریعے گھر لا سکتی تھی۔ شاردا کی بیماری کے دوران ان کی بے حسی بھی انتہائی تکلیف دہ انداز میں سامنے آتی ہے، جب وہ یہ کہہ کر علاج سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں کہ جو جانے والا ہے اسے بچانے کے چکر میں زندوں کو نہیں گنوایا جا سکتا۔ شکنتلا کے والد نے ہی اس کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ وہ ایک ”جینئس“ ہے، مگر اسی رویے نے اس کے اندر کامیابی کی ایسی بھوک پیدا کر دی جو بعد میں اس کے رشتوں پر غالب آ جاتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ شکنتلا کی شہرت ہندوستان سے نکل کر لندن تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک ٹی وی شو میں کمپیوٹر کی غلطی پکڑنے والا منظر فلم کے یادگار ترین مناظر میں شامل ہے جہاں دنیا اسے ”ہیومن کمپیوٹر“ کا خطاب دیتی ہے۔ شکنتلا ایک ایسی عورت ہے جو آزادی، شہرت اور اپنی شناخت کو ہر چیز پر ترجیح دیتی ہے۔ وہ روایتی عورت بننے کے بجائے اپنی شرائط پر زندگی جینا چاہتی ہے۔
فلم میں شکنتلا اور اس کے شوہر پریتوش بنرجی کے تعلق کو نہایت خوبصورتی اور حقیقت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ شکنتلا پہلی ملاقات میں ہی پریتوش کی ذہانت اور شخصیت سے متاثر ہو جاتی ہے اور بے ساختہ کہتی ہے کہ اسے ایک ایسے ہی ذہین اور خوبصورت مرد کا بچہ چاہیے۔ جب پریتوش اسے بتاتا ہے کہ اس کے والدین اس رشتے کے خلاف ہو سکتے ہیں تو شکنتلا واضح کرتی ہے کہ اسے دنیا کی پرواہ نہیں، وہ صرف پریتوش کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ شکنتلا کی محبت کسی سہارے یا ضرورت کی محتاج نہیں تھی۔ ایک موقع پر وہ پریتوش سے کہتی ہے ”تمہاری ضرورت نہیں تھی پریتوش، پیار تھا تم سے۔“
مگر یہی محبت بعد میں دونوں کی مختلف شخصیات کے باعث بکھرنے لگتی ہے۔ پریتوش ایک پُرسکون اور مستحکم زندگی چاہتا ہے۔ وہ ایک ”درخت“ کی طرح ایک جگہ جڑ پکڑ کر رہنے والا انسان ہے، جبکہ شکنتلا ایک ”طوفان“ یا ”بنجارے“ کی طرح پوری دنیا گھومنا چاہتی ہے۔ وہ اپنی ریاضی، اپنی شہرت اور اپنی آزاد زندگی کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی اختلاف ان کے رشتے میں دراڑ پیدا کرتا ہے۔
فلم کا سب سے جذباتی پہلو شکنتلا، اس کی بیٹی انوپما (انو) اور پریتوش کے درمیان تعلقات ہیں۔ جب شکنتلا انو کو لے کر لندن منتقل ہو جاتی ہے تو انو اپنے والد سے دوری برداشت نہیں کر پاتی۔ وہ اپنے والد کو خط لکھتی رہتی ہے۔ وہ لکھتی ہے کہ ”ڈیئر بابا، لندن ویسا بالکل نہیں ہے جیسا کتابوں میں لکھا ہوتا ہے۔ یہاں صرف دو موسم ہیں، بارش اور سردی۔ میں روزانہ آپ کے خط کا انتظار کرتی ہوں۔“ وہ اپنے والد سے التجا کرتی ہے کہ وہ اسے اس مسلسل سفر والی زندگی سے نکالیں کیونکہ وہ صرف ایک ”اپنے اسکول“ میں پڑھنا چاہتی ہے۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ پریتوش باقاعدگی سے انو کو خط لکھتا تھا مگر شکنتلا وہ خطوط اسے نہیں دیتی تھی تاکہ انو جذباتی طور پر تقسیم نہ ہو۔
فلم میں انو کی شادی کا قصہ بھی ایک اہم موڑ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ انو کی ملاقات اجے سے ہوتی ہے تو شکنتلا علم الاعداد اور نجومی بصیرت کے ذریعے فوراً پیشگوئی کر دیتی ہے کہ یہی لڑکا ایک دن ان کا داماد بنے گا۔ وہ اجے کی ذہانت اور شخصیت سے متاثر بھی ہوتی ہے۔ مگر جب شادی کے بعد رہائش کا سوال سامنے آتا ہے۔ تو اجے لندن شفٹ ہونے سے انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ انو اس کے ساتھ بنگلور میں رہے گی تو شکنتلا شدید ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔ شکنتلا انو سے کہتی ہے ”تمہارے لیے میں نے اپنے شوز، اپنی ریاضی اور سب کچھ چھوڑ دیا، اور اب تم مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو؟“
وہ انو کو جذباتی طور پر مجبور کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یہاں تک دھمکی دیتی ہے کہ اگر وہ اجے کے ساتھ گئی تو وہ لندن میں اپنا کاروبار بھی کھو دے گی۔ مگر انو اپنی ماں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتی ہے۔ وہ دو ٹوک انداز میں کہتی ہے کہ شکنتلا اسے پہلے ہی اس کے والد سے دور کر چکی ہے، مگر اب وہ اسے اپنے پیار سے محروم نہیں کرنے دے گی۔
شکنتلا کی شدید مخالفت کے باوجود انو اجے سے شادی کر لیتی ہے اور اپنی آزاد زندگی کا آغاز کرتی ہے۔
فلم میں ایک اور نہایت طاقتور منظر وہ ہے جب شکنتلا اپنی کتاب کی تشہیر کے لیے پریتوش کے بارے میں یہ افواہ پھیلاتی ہے کہ وہ ہم جنس پرست تھا۔ انو اس بات پر اپنی ماں پر شدید غصہ کرتی ہے اور اپنے والد کے وقار کا دفاع کرتی ہے۔ مگر پریتوش یہاں بھی شکنتلا کی فطرت کو سمجھتے ہے اور اس سے نفرت نہیں کرتا۔ برسوں بعد بھی شکنتلا کے دل میں پریتوش کی یاد باقی رہتی ہے۔ جب وہ اپنے داماد اجے کو دیکھتی ہے تو کہتی ہے کہ وہ انہیں پریتوش کی یاد دلاتا ہے۔ فلم کا نقطہ عروج عدالت کا منظر ہے جہاں ماں اور بیٹی ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔ شکنتلا پہلی بار اعتراف کرتی ہے کہ شاید وہ ویسی ماں نہیں بن سکی جس کی انو کو ضرورت تھی۔ اس دوران انو بھی ایک بیٹی کی ماں بن جاتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ایک عورت ماں کے ساتھ ایک عورت بھی ہوتی ہے مگر اولاد اسے ہمیشہ ماں کی نظر سے دیکھتی ہے۔ وہ خود شکنتلا سے ٹوٹ کر محبت کرتی ہے مگر اس بات کا انو کو کبھی احساس نہیں ہوتا۔ شکنتلا خود انو کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے۔ عدالت میں دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتیں۔ شکنتلا اپنی تمام غلطیوں کا اعتراف کر لیتی ہے اور انو شکنتلا کے بیگ میں ”بلیک بک“ دیکھتی ہے جس میں انو کی بچپن سے جوانی کی تمام کامیابیوں کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اختتام میں جب شکنتلا دیوی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جاتا ہے تو وہ اعتراف کرتی ہے کہ اس نے اپنی ماں کو غلط سمجھا اور اپنی بیٹی کو بھی غلط سمجھا۔ یہی منظر فلم کا اصل نچوڑ ہے۔ انو، جو کبھی اپنی ماں سے نفرت کرتی تھی، آخرکار یہ سمجھ جاتی ہے کہ اس کی ماں ایک عام عورت نہیں بلکہ ایک ایسی جینئس تھی جو زندگی کو اپنے طریقے سے جینا جانتی تھی۔
مجموعی طور پر ”شکنتلا دیوی“ / ”جینئس فیملی“ صرف ایک ریاضی دان کی کہانی نہیں بلکہ عورت کی آزادی، محبت، انا، ماں بیٹی کے پیچیدہ تعلق، باپ کی سخت مزاجی، خاموش قربانیوں، جذباتی تنہائی اور اپنی شناخت کی تلاش کی ایک نہایت حساس اور متاثر کن داستان ہے۔ یہ فلم ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ غیر معمولی لوگ اکثر اپنی ذاتی زندگی میں کتنے تنہا اور غیر متوازن ہو جاتے ہیں۔
فلم کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ آخر میں شکنتلا کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی ماں کو ہمیشہ صرف ایک ”ماں“ کے طور پر دیکھا، کبھی ایک ایسی عورت کے طور پر نہیں سمجھا جس کی اپنی مجبوریاں، خوف اور کمزوریاں بھی ہو سکتی تھیں۔ یہی احساس فلم کو صرف ایک خاندانی تنازع کے بجائے عورت کی نسل در نسل چلنے والی خاموش قربانیوں کی کہانی بنا دیتا ہے۔

