میں، جو میں نہیں ہوں
مسٹر جعفری روزانہ صبح سات بجے اٹھتا تھا۔ یا شاید وہ جعفری نہیں تھا۔ اسے یاد نہیں تھا کہ اس کا نام جعفری کس نے رکھا تھا، یا کیا یہ نام اس کا تھا بھی یا نہیں۔ دراصل، کسی کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ اپنے گھر سے نکل کر دفتر جاتا۔ وہ ایک بہت بڑے، بھیڑ بھرے دفتر میں کام کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک میز تھی، ایک کمپیوٹر تھا، اور ایک نامکمل فائل ہمیشہ اس کی میز پر پڑی رہتی تھی۔ دفتر میں کسی نے آج تک اسے نام سے نہیں پکارا تھا۔
جب وہ پہلی بار کام پر آیا تھا، تو اس کے باس نے اس سے پوچھا تھا۔ تم کون ہو؟ جعفری نے جواب دیا تھا۔ میں؟ میں تو بس ایک نیا ملازم ہوں۔ باس نے سر ہلایا تھا۔ ہاں ٹھیک ہے۔ جاؤ اور کام کرو۔ اور اس کے بعد کسی نے کبھی اسے ذاتی طور پر مخاطب نہیں کیا۔ اگر باس کو اس سے کوئی کام ہوتا، تو وہ ہمیشہ قریب ترین خالی کرسی کی طرف دیکھتا اور کہتا۔ ادھر جو بھی بیٹھا ہے، فائل لے آؤ۔ اور جعفری، چونکہ وہ وہاں بیٹھا ہوتا تھا، فائل لے جاتا تھا۔ اگر کوئی میٹنگ میں اس کی رائے مانگتا، تو وہ میز کی طرف دیکھ کر کہتے۔ میز کے کونے میں بیٹھے ہوئے سائے۔ اس پر تمہاری کیا رائے ہے؟ جعفری کی عدم شناخت اب دفتر کی عملی زندگی کا ایک آسان اصول بن چکی تھی۔
جعفری کی عدم شناخت صرف دفتر تک محدود نہیں تھی۔ ایک دن وہ سڑک پر چل رہا تھا۔ اچانک ایک سائیکل سوار نے اسے ٹکر ماری۔ سائیکل سوار غصے سے چلایا۔ ابے او! تم اندھے ہو؟ سڑک پر چلتے ہوئے نظر نہیں آتا کیا؟ جعفری کھڑا ہو گیا۔ اور سائیکل سوار کو مسکرا کر کہا۔
یوں پکارے ہیں مجھے کوچہ جاناں والے
پھر تھوڑے سے وضاحتی لہجے میں کہا۔ میں تو سامنے ہی تھا، جناب۔ سائیکل سوار الجھن کا شکار ہو گیا۔ اس نے جعفری کو گھور کر دیکھا، گویا اسے یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو کہ جعفری کی شکل کیسی ہے۔ ہاں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ یہاں کوئی نہیں تھا۔ سائیکل سوار نے زور دے کر کہا۔ یہ میری غلطی نہیں ہو سکتی۔ یہاں کوئی ٹھوس شے موجود ہی نہیں تھی۔ تم ایک بصری مغالطہ ہو۔ اور یہ کہتے ہوئے سائیکل سوار تیزی سے چلا گیا۔ جعفری کو یہ سن کر کوئی دکھ نہیں ہوا۔ بلکہ اسے کچھ سکون ملا۔ کم از کم سائیکل سوار نے اس کی عدم موجودگی کو تسلیم تو کیا۔
جعفری کا سب سے بڑا مسئلہ اس دن سامنے آیا جب وہ ایک کرائے کے مکان میں شفٹ ہو رہا تھا۔ مکان مالک نے پوچھا۔ آپ کا نام؟ جعفری نے کہا۔ جعفری۔ مکان مالک نے رجسٹر میں دیکھا۔ اس نام کا تو کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے کبھی یہاں رہنے کی درخواست دی ہو۔ مگر میں تو ابھی آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ جعفری نے اصرار کیا۔ جی نہیں، آپ سامنے نہیں کھڑے۔ مالک نے جواب دیا۔ آپ تو دراصل ایک قانونی خالی جگہ کو پُر کر رہے ہیں۔ آپ نے جو کرایہ دیا ہے، وہ بھی دراصل آپ نے نہیں، بلکہ آپ کی بے نامی نے دیا ہے۔ جعفری نے سر ہلایا۔ یہ بات بہت منطقی لگ رہی تھی۔ وہ بغیر کسی ریکارڈ یا معاہدے کے اس مکان میں رہنے لگا، اور اس طرح وہ ملکیت کے نظام میں ایک فلسفیانہ سوراخ بن گیا۔
ایک صبح جعفری جب کام پر گیا، تو اس کی میز پر ہلچل مچی ہوئی تھی۔ باس اور سارے ملازمین گھبراہٹ میں تھے۔ باس نے سامنے دیوار پر لگے ایک کاغذ کی طرف اشارہ کیا اور کہا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کون، مگر کوئی گم ہو گیا ہے۔ دیوار پر ایک گمشدگی کا اشتہار لگا تھا جس پر جعفری کی تصویر لگی تھی۔ اشتہار پر موٹے حروف میں لکھا تھا۔ تلاش گمشدہ۔ ایک شخص جو کسی کو یاد نہیں۔ پہچان۔ اس کی کوئی خاص پہچان نہیں۔ وہ ہمیشہ وہی کرتا تھا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ کوئی اسے نام سے نہیں پکارتا تھا۔ وہ دراصل ہمارے دفتر کا فعال خاموش حصہ تھا۔ جو بھی اسے ڈھونڈے، براہ کرم ہمیں بتائے تاکہ ہم یہ ثابت کر سکیں کہ وہ حقیقت میں موجود تھا۔
جعفری نے وہ اشتہار پڑھا۔ وہ اپنی ہی تصویر دیکھ رہا تھا، جو دراصل اس کی واحد قابلِ شناخت چیز تھی۔ باس نے ادھر ادھر دیکھا اور زور سے کہا۔ اوئے! جو بھی وہاں میز پر بیٹھا ہے۔ جعفری نے کہا۔ جی جناب۔ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے؟ باس نے پوچھا۔ جعفری نے اشتہار کی طرف اشارہ کیا۔ یہ تو میں ہوں، جناب۔ بوس نے جعفری کو بغور دیکھا، اور پھر اشتہار میں لگی تصویر کو دیکھا۔ اس نے سر ہلایا اور کہا۔ نہیں، نہیں، تم وہ نہیں ہو سکتے۔ یہ شخص تو گمشدہ ہے۔ اور تم تو یہاں موجود ہو۔ تم گمشدہ شخص کی طرح غیر اہم لگتے ہو، مگر تم وہ نہیں ہو۔ وہ شخص دراصل ہمارے وجود کا کرب تھا۔ یہ کہہ کر باس چلا گیا۔ باقی ملازمین نے جعفری کو نظرانداز کر دیا۔
جعفری واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا، اور پھر سے وہ ’جو بھی وہاں بیٹھا ہے‘ بن گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی عدم شناخت ہی اس کی سب سے بڑی شناخت ہے۔ اس نے میز پر رکھے گمشدگی کے اشتہار کا ایک کونہ موڑا، اور فیصلہ کیا کہ وہ کبھی گمشدہ نہیں ہو گا۔ وہ ہمیشہ وہیں بیٹھا رہے گا۔ ایک ناقابل یقین، مزاحیہ، مگر مکمل طور پر موجود، غیر موجود شخص۔
