بلاگ

کیا خلیجی کشیدگی سے پاکستان میں پیٹرول، بجلی اور مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے؟

Dr Ghulam Mohey ud din

اگر آپ نے پچھلے چند دنوں میں پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں، سوشل میڈیا پر بڑھتی تشویش، یا بازار میں قیمتوں کے حوالے سے نئی بے چینی محسوس کی ہے، تو یہ محض اتفاق نہیں۔ خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد سپلائی خدشات نے پاکستان میں ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے : کیا ملک ایک نئے مہنگائی کے طوفان کی طرف بڑھ رہا ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے کیونکہ گزشتہ تین سے چار دنوں میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ پہلے مارچ کے آغاز میں حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا، جس کے بعد پیٹرول 321 روپے فی لیٹر سے اوپر چلا گیا۔

اس کے بعد صرف چند ہفتوں میں حالات مزید بگڑے اور دو روز قبل حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 42.7 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 458.40 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا، جبکہ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا۔

اس اضافے کے بعد ملک بھر میں عوامی ردعمل، احتجاج اور پیٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ پھر حکومت نے جزوی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد نئی قیمت تقریباً 378 روپے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ تاہم، یہ کمی بھی گزشتہ ماہ کے مقابلے میں قیمتوں کو کافی بلند سطح پر رکھتی ہے۔

اصل بحران کہاں سے پیدا ہوا؟

خلیج میں حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو شدید جھٹکا دیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت حالیہ دنوں میں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل سپلائی کے متاثر ہونے کے خدشات نے مارکیٹ میں مزید بے یقینی پیدا کی ہے۔

پاکستان چونکہ اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی سپلائی روٹس سے حاصل کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں ہر جھٹکا براہِ راست مقامی قیمتوں میں منتقل ہوتا ہے۔

یہ صرف عالمی مارکیٹ کا مسئلہ نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے درآمدی انحصار اور معاشی کمزوری کا مسئلہ بھی ہے۔

پیٹرول مہنگا ہو تو عام آدمی پر کیا اثر پڑتا ہے؟

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ پیٹرول مہنگا ہونے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں پر پڑتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں وسیع ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو :

· مال برداری لاگت بڑھتی ہے
· سبزی، آٹا، چاول اور چینی مہنگی ہوتی ہے
· پبلک ٹرانسپورٹ کرائے بڑھتے ہیں
· صنعتی پیداواری لاگت اوپر جاتی ہے

یعنی پیٹرول پمپ پر لگنے والا price shock چند دنوں میں بازار، راشن اور گھریلو بجٹ تک منتقل ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ حالیہ ایندھن اضافہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح کو دوبارہ دوہرے ہندسوں میں دھکیل سکتا ہے۔

بجلی کے بل کیوں مزید بڑھ سکتے ہیں؟

اصل خطرہ صرف پیٹرول نہیں، بجلی بھی ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا ایک اہم حصہ imported fuel، LNG اور فرنس آئل سے جڑا ہوا ہے۔ جب عالمی تیل اور گیس قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاور سیکٹر کی لاگت بھی بڑھتی ہے۔ اس کا اثر آئندہ مہینوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، QTA اور ٹیرف رویژن کی صورت میں صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، آج کا تیل shock اگلے مہینے کے بجلی بل میں نظر آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ خلیجی بحران صرف پیٹرول تک محدود نہیں بلکہ گھریلو بجلی کے بلوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔

روپے اور معیشت پر دباؤ

زیادہ مہنگا تیل خریدنے کے لیے زیادہ ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ اس سے :

· ڈالر کی طلب بڑھتی ہے
· روپے کی قدر کمزور ہوتی ہے
· درآمدی مہنگائی مزید اوپر جاتی ہے

یہی وجہ ہے کہ خلیجی کشیدگی پاکستان کے لیے صرف توانائی بحران نہیں بلکہ کرنٹ اکاؤنٹ، زرمبادلہ ذخائر اور exchange rate risk بھی ہے۔ اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو اس کا اثر آئی ایم ایف پروگرام، مالیاتی خسارے اور شرحِ سود پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آج پیٹرول 80 روپے کم ہوا یا کل پھر کتنا بڑھے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے اپنی معیشت کو ایسے بیرونی جھٹکوں کے لیے تیار کیا ہے؟ جب تک :

· توانائی کے متبادل ذرائع
· renewable energy transition
· strategic oil reserves
· درآمدی انحصار میں کمی

پر سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوتی، خلیج کی ہر کشیدگی پاکستان میں پیٹرول، بجلی اور مہنگائی کے ایک نئے طوفان کو جنم دیتی رہے گی۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو ہر عالمی بحران کو پاکستان کے گھریلو بجٹ کا مسئلہ بنا دیتی ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW