پاکستان کے بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانے کی وجوہات اور بچنے کا راستہ

جب بھی پاکستان کا نام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے سے خبروں کی زینت بنتا ہے تو ایک سوال بار بار ابھرتا ہے : آخر ملک کو ہر چند سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف سے رجوع کیوں کرنا پڑتا ہے؟
بظاہر اس کا جواب مالی بحران، زرمبادلہ کی کمی یا بیرونی قرضوں کے دباؤ میں تلاش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور ساختی نوعیت کی ہے۔
اصل مسئلہ خود آئی ایم ایف نہیں۔ یہ ادارہ عموماً اس وقت سامنے آتا ہے جب کسی ملک کا معاشی ڈھانچہ اپنی مالی اور بیرونی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان موجودہ پروگرام سے کب نکلے گا، بلکہ یہ ہے کہ ملک اس مسلسل چکر سے کیسے باہر آئے جس میں وہ ہر چند سال بعد دوبارہ واپس آ جاتا ہے۔
یہ چکر کیسے بنتا ہے؟
پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً ایک ہی پیٹرن پر چلتی رہی ہے۔
جب معاشی سرگرمی میں تیزی آتی ہے تو مارکیٹ میں اعتماد بڑھتا ہے، کھپت میں اضافہ ہوتا ہے اور درآمدات تیزی سے اوپر جاتی ہیں۔ ایندھن، مشینری اور صارف اشیا کی طلب بڑھنے لگتی ہے۔
لیکن اسی رفتار سے برآمدات نہیں بڑھتیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں آ جاتے ہیں، روپے کی قدر کمزور ہونے لگتی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کو فوری مالی سہارا درکار ہوتا ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں آئی ایم ایف ایک آخری سہارے کے طور پر سامنے آتا ہے۔
بحران وقتی طور پر ٹل جاتا ہے، مگر چند سال بعد وہی مسائل دوبارہ سر اٹھا لیتے ہیں۔
بنیادی مسئلہ کہاں ہے؟
پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ملک دنیا سے جتنا کماتا ہے، اس سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔
برآمدات کا دائرہ محدود ہے اور زیادہ تر چند روایتی شعبوں، خصوصاً ٹیکسٹائل، تک محدود ہے، جبکہ درآمدات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔
جب بھی معیشت میں تیزی آتی ہے، درآمدات فوراً بڑھ جاتی ہیں، مگر برآمدی آمدن اسی تناسب سے نہیں بڑھتی۔ یہی عدم توازن ہر چند سال بعد ادائیگیوں کے بحران کو جنم دیتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، پاکستان کی ترقی زیادہ تر کھپت پر مبنی رہی ہے، نہ کہ پیداواری سرمایہ کاری اور برآمدات پر۔
مالیاتی کمزوری کیوں برقرار رہتی ہے؟
معاشی بحران کا دوسرا بڑا سبب سرکاری مالیات کی کمزوری ہے۔
پاکستان میں ٹیکس وصولی کا نظام طویل عرصے سے محدود اور غیر موثر رہا ہے۔ آمدنی اور دولت کے کئی بڑے شعبے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، جبکہ دوسری طرف اخراجات مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔
ان میں قرضوں کی ادائیگی، سبسڈیز، سرکاری اداروں کے نقصانات اور توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ شامل ہیں۔
یہ تمام عوامل بجٹ خسارے کو ایک مستقل مسئلہ بنا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت مزید قرض لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
توانائی کا شعبہ کیوں اہم ہے؟
توانائی کا شعبہ پاکستان کی مالی مشکلات میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
بجلی کی ترسیل میں نقصانات، نرخوں کے نظام میں بگاڑ اور گردشی قرضہ طویل عرصے سے قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔
جب تک اس شعبے میں اصلاحات، بہتر حکمرانی اور موثر وصولیوں کا نظام نافذ نہیں ہوتا، معاشی استحکام محض ایک عارضی کیفیت ہی رہے گا۔
اس چکر سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
اگر پاکستان واقعی آئی ایم ایف پر انحصار کے اس چکر سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے وقتی ریلیف سے آگے بڑھ کر بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
سب سے اہم قدم برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی ہے۔
ملک کو ایسی سمت میں لے جانا ہو گا جہاں ترقی کا انحصار درآمدی کھپت کے بجائے برآمدی پیداوار پر ہو۔ اس میں اعلیٰ قدر کی مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زرعی پراسیسنگ اور خدمات کی برآمدات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور پالیسی تسلسل بھی ناگزیر ہیں۔
اصل سوال: پروگرام سے نکلنا یا بحران سے؟
پاکستان ماضی میں کئی بار آئی ایم ایف پروگرام مکمل کر چکا ہے، مگر پھر واپس جانا پڑا۔
اسی لیے اصل کامیابی کسی ایک پروگرام کے خاتمے میں نہیں، بلکہ اس بحران کے مستقل چکر سے نکلنے میں ہے۔
جب تک معیشت اپنی ترقی خود فنانس کرنے، برآمدات بڑھانے اور مالی نظم قائم رکھنے کے قابل نہیں ہوتی، ہر پروگرام کی تکمیل اگلے بحران سے پہلے ایک وقفہ ہی ثابت ہو سکتی ہے۔
بالآخر پاکستان کی معاشی خودمختاری اسی وقت ممکن ہوگی جب ملک ایک مضبوط، پیداواری اور برآمدات پر مبنی معیشت تعمیر کر لے۔
ڈاکٹر غلام محی الدین پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر ماہرِ معاشیات ہیں اور اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہیں۔
