میرے مطابق

جیفری ایپسٹین: امریکی ایلیٹ کلب کا راسپوتین یا طبقہ اشرافیہ کا استعارہ

Abdul Sattar

دولت ، طاقت اور سرمائے کا ارتکاز جہاں اور بہت ساری قباحتوں کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے وہیں اس کی کوکھ سے ایک ایسا طبقہ ظہور میں آتا ہے جو معاشرتی قوانین سے بالاتر ہوتا ہے ، یہ معاشرے کا ایک ایسا نادیدہ طبقہ ہوتا ہے جو سماجی ستونوں کو اپنے بل بوتے پر سہارنے کی پوری طاقت رکھتا ہے ، معاشرتی ڈھانچہ اور یہ ایلیٹ کلب اس قدر باہم مربوط ہوجاتے ہیں کہ ان کے الگ ہونے سے معاشرتی جڑوں میں ارتعاش کی سی کیفیت کے پیدا ہونے کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے ، ملک کے وسیع ترین مفاد میں اور نظریہ ضرورت ایسے شبد اسی صورتحال کی کوکھ سے ہی تو جنم لیتے ہیں ، ہر معاشرے میں یہ ایلیٹ کلب پایا جاتا ہے اور ان کی جڑیں سماج میں اس قدر سرایت کر جاتی ہیں کہ یہ ایک طرح سے نظام کا جزوِ لاینفک بن جاتے ہیں ۔
اس ایلیٹ کلب میں سرمایہ دار ، بااثر مذہبی پیشوا اور سیاستدان شامل ہوتے ہیں جو اس کلب کے غبارے میں آکسیجن بھرنے کا سبب بنتے ہیں اور یہ ایک طرح سے طاقت گڑھ بن جاتا ہے جہاں نظامی و انتظامی اکائیوں کو بھی ماتھا ٹیکنا پڑتا ہے ، یکساں انصاف ، قانون کی حکمرانی ، روٹی ، کپڑا اور مکان کے دعوے اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر سماج ایسے خیالات و عہد و پیماں سب انسانی وہم ، سراب اور دھوکا ہیں ، بظاہر تو انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے لیکن کچھ افراد کی سہولت کی خاطر یہ پٹی ہٹا دی جاتی ہے ۔
مائٹ از رائٹ کا اصول تو آفاقی ہے اس کی حقیقت سے انکار بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ، اب تک کی دنیا میں تو طاقت نے ہی اندھیر نگری برپا کر رکھی ہے ، روس کا راسپوتین ہو یا امریکہ کا ، یہ مخصوص طاقتور نظام کے ہی تو انڈے بچے ہیں اور یہ معاشرتی راسپوتین مختلف لبادوں میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں ، یہ معاشرے میں اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی ان کی عیش و عشرت کی خاطر اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنا پڑتی ہے ۔
راسپوتین ہو یا جیفری ایپسٹین ، پیشوائیت و روحانیت کے لبادے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے ہیں ، راسپوتین روحانیت کے ذریعے ہی تو شاہی خاندانوں میں داخل ہوا تھا اور پھر اس کی جنسی کہانیوں کو کوئی خاطر میں ہی نہیں لاتا تھا ، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ، ہائی فائی سیکس ٹریفکنگ کیس کا مرکزی کردار بننے سے پہلے ایپسٹین ایک ریاضی کا استاد اور سرمایہ کار تھا ، پرتعیش پارٹیز اور ذاتی جیٹ رکھنے والے کی حیثیت سے خاصا مشہور تھا ، اس کی اٹھک بیٹھک سیلیرٹیز اور معاشرے کے ہائی پروفائل افراد کے ساتھ تھی ، سماجی سطح پر تو وہ ہائی پروفائل تھا ہی لیکن اس کی نجی زندگی خاصی پرائیویٹ اور پراسراریت سے بھرپور تھی ، گھریلو ہدایت نامے کے مطابق سٹاف کو گھر میں ہونے والی سرگرمیوں کے متعلق گونگے بہرے بن کر رہنے کی سخت تاکید تھی اور کہا جاتا ہے کہ ملازمین کو ہدایت تھی کہ وہ کبھی بھی اپیسٹین کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش مت کریں ۔
نابالغ بچے بچیوں کا نیٹ ورک چلانے کے علاوہ ان کے ساتھ جنسی زیادتیاں کرتا تھا ، یہ امریکی سماج کا اس قدر بااثر ترین کردار تھا جس کی جنسی سرگرمیاں نوشتہ دیوار تھیں اور اشرافیہ اس کی مکروہ سرگرمیوں سے آگاہ تھی ، ایلیٹ کلب کے لیے قوانین دنیا بھر میں ایک سے ہی ہوتے ہیں ، بند کمروں اور دروازوں کے پیچھے بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جس کی عوام کو بھنک تک لگنے نہیں دی جاتی ۔
سوال یہ ہے ہمارے ہاں آخر کیوں ایپسٹین فائلز کا شور مچا ہوا ہے ؟
نابالغ بچوں سے جنسی زیادتیاں کرنے والے پیڈوفائل کا تعلق کہیں سے بھی ہو وہ مجرم ہی کہلائے گا اور ایسے شخص کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے ، ہمارے ہاں تو مدرسہ ، اسکول اور یونیورسٹی تک محفوظ نہیں ہے ، یہاں تو شاید ہی کوئی بچہ یا بچی ایسی ہو جس تک استحصال کی کسی نا کسی صورت میں معاشرتی شکاریوں کے ہاتھ نہ پہنچے ہوں ، ان معاشروں کا ہم سے کیا واسطہ ، وہ تو ویسے بھی ہماری نظروں میں عیاش ، ہوس پرست اور جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔
ہم تو چوزن ون ہیں نا!
ہر طرح کے اصلاحی بندوست سے آراستہ ہونے کے علاوہ یہاں خانقاہوں اور درگاہوں کی بھرمار ہے ، تو پھر یہاں کیوں جنسی زیادتیوں کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ؟
اپنے مسائل کو چھوڑ کر ایپسٹن فائلز کا رونا دھونا کیوں ؟
اگر کفار کا معاشرہ مثالی نہیں ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اس قابل ہے کہ اس کو بطور ماڈل کے کفار کے سامنے پیش کیا جا سکے؟

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW