میرے مطابق

کھیتوں سے فلک بوس عمارتوں تک: جدید زراعت کا نیا افق

eatisam ul haque saqib

چند روز قبل ایک خبر نظر سے گزری جس میں بتایا گیا تھا کہ چین کے شہر چنگدو میں ایک 20 منزلہ عمودی سپر پلانٹ فیکٹری قائم کی گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک عمارت ہے، مگر حقیقت میں یہ مستقبل کی زراعت کی جھلک پیش کرتی ہے۔ اس منصوبے کو چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز نے تیار کیا ہے، اور اسے دنیا کا پہلا بلند و بالا ذہین عمودی پلانٹ فیکٹری نظام قرار دیا جا رہا ہے۔ خبر پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ زراعت اب صرف کھیتوں، نہروں اور موسموں کی محتاج نہیں رہی بلکہ سائنس، ڈیٹا اور خودکار نظام اس کی نئی بنیاد بن چکے ہیں۔

اس فیکٹری کا بنیادی تصور سادہ ہے : کم زمین پر زیادہ پیداوار۔ مگر اس سادگی کے پیچھے جدید ٹیکنالوجی کا ایک پیچیدہ جال موجود ہے۔ یہاں روشنی مصنوعی ایل ای ڈی سسٹمز سے فراہم کی جاتی ہے، درجہ حرارت کمپیوٹر کنٹرولڈ نظام کے ذریعے متوازن رکھا جاتا ہے، پانی ڈرِپ اور ہائیڈروپونک طریقوں سے ناپ تول کر دیا جاتا ہے، جبکہ غذائی اجزاء بھی خودکار نظام کے ذریعے پودوں تک پہنچتے ہیں۔ یوں ہر پودا ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھتا ہے جو اس کی ضرورت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمارت کی پیداوار کے بارے میں امید ہے کہ یہ روایتی کھیتوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو گی۔

چینی میڈیا کے مطابق اس 20 منزلہ سہولت میں زمین کے استعمال کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ روایتی کھیتوں سے 120 گنا تک زیادہ پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ دعویٰ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر گندم کی افزائش کے لیے یہاں ایک تیز رفتار تحقیقی مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں نئی اقسام کی تیاری کا دورانیہ جو پہلے 8 سے 12 سال ہوتا تھا، کم ہو کر تقریباً ڈیڑھ سال رہ گیا ہے۔ زرعی تحقیق میں یہ رفتار کسی انقلاب سے کم نہیں۔

اسی طرح اس شہر کے و ینجیانگ ضلع میں اسٹرابیری کی کاشت کے تجربات نے بھی سب کو حیران کیا۔ روایتی طریقے میں فی پودا پیداوار تقریباً 300 گرام ہوتی تھی، مگر عمودی فیکٹری کے اندر یہ مقدار بڑھ کر 1500 گرام تک پہنچ گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب پودوں کو مکمل کنٹرول شدہ ماحول میسر ہو تو ان کی صلاحیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

یہ سب کچھ محض ایک عمارت کی کہانی نہیں بلکہ ایک وسیع تر قومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ چین گزشتہ چند برسوں سے غذائی تحفظ کو اپنی قومی سلامتی کے اہم ستون کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات نے اسے مجبور کیا کہ وہ روایتی زراعت کے ساتھ ساتھ جدید اور صنعتی اندازِ کاشتکاری کو بھی فروغ دے۔ عمودی فارمنگ، اسمارٹ گرین ہاؤسز، ڈرون کے ذریعے نگرانی، مصنوعی ذہانت سے بیماریوں کی تشخیص، اور بگ ڈیٹا کے ذریعے فصلوں کی منصوبہ بندی، یہ سب اقدامات اسی سمت میں اٹھائے جا رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ شدید گرمی، بے وقت بارشیں، سیلاب اور خشک سالی دنیا بھر میں فصلوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے میں کنٹرولڈ انوائرمنٹ ایگریکلچر ایک موسم کے سامنے یہ محفوظ متبادل بن کر سامنے آیا ہے۔ عمودی فیکٹریوں میں نہ بارش کا خطرہ ہے، نہ ژالہ باری کا، نہ کیڑوں کا بڑا حملہ۔ اس سے نہ صرف پیداوار مستحکم رہتی ہے بلکہ زرعی ادویات کا استعمال بھی کم ہو جاتا ہے، جو ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس ماڈل سے پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر اس کی زراعت اب بھی بڑی حد تک روایتی طریقوں پر انحصار کرتی ہے۔ اسے پانی کی کمی، زمین کی تقسیم، موسمیاتی تغیر اور جدید تحقیق کی محدود رسائی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ اگرچہ مکمل طور پر 20 منزلہ پلانٹ فیکٹریاں فوری طور پر قائم کرنا ممکن نہ ہو، مگر اس کے بنیادی اصول اپنائے جا سکتے ہیں۔

مثلاً بڑے شہروں میں شہری کاشتکاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ خالی عمارتوں، گوداموں یا حتیٰ کہ چھتوں پر چھوٹے پیمانے کی عمودی فارمنگ متعارف کروائی جا سکتی ہے۔ اس سے سبزیوں اور پھلوں کی مقامی سطح پر پیداوار بڑھے گی اور ترسیل کے اخراجات کم ہوں گے۔ اسی طرح زرعی تحقیقاتی اداروں کو جدید بایوٹیکنالوجی اور کنٹرولڈ انوائرمنٹ لیبارٹریز سے لیس کیا جا سکتا ہے تاکہ نئی اقسام کی تیاری کا عمل تیز ہو۔

پاکستان میں پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ عمودی فارمنگ اور ہائیڈروپونکس میں پانی کی کھپت روایتی کاشت کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوتی ہے کیونکہ پانی ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو محدود پیمانے پر بھی متعارف کرایا جائے تو پانی کی بچت میں خاطر خواہ بہتری آ سکتی ہے۔

البتہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس قسم کے منصوبے ابتدائی طور پر مہنگے ہوتے ہیں۔ توانائی کی ضرورت، جدید آلات اور تربیت یافتہ عملہ، یہ سب سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نجی شعبے، جامعات اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مرحلہ وار پیش رفت کرنی ہو گی۔ چین کے ساتھ زرعی ٹیکنالوجی میں اشتراک پہلے ہی جاری ہے، اسے مزید وسعت دی جا سکتی ہے تاکہ مقامی حالات کے مطابق ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔

چنگدو کی یہ عمودی سپر پلانٹ فیکٹری محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک سوچ کی علامت ہے۔ وہ سوچ جو زراعت کو موسموں کی قید سے نکال کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے ہاتھ میں دے رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب اور ماحولیاتی دباؤ کے پیش نظر ایسے ماڈلز کی اہمیت مزید بڑھے گی۔ اگر پاکستان بروقت منصوبہ بندی کرے اور جدید رجحانات سے فائدہ اٹھائے تو وہ بھی اپنی زرعی بنیاد کو مضبوط بنا سکتا ہے اور غذائی تحفظ کے میدان میں ایک مستحکم مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW