عبدالخالق جونیجو کی شخصیات پر لکھے خاکوں پر مشتمل سندھی کتاب ”اُتساہیندڑ انسان“ (حوصلہ افزا انسان)

عبدالخالق جونیجو سندھ کی قوم پرست، ترقی پسند اور فکری سیاست کا ایک معتبر اور محترم نام ہیں۔ وہ گزشتہ نصف صدی سے سندھ کے سیاسی، سماجی اور فکری منظرنامے پر سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی تصنیف ”اتساہیندڑ انسان“ (حوصلہ افزا انسان) محض چند نامور اور گمنام کرداروں کے خاکوں پر مشتمل مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ بیسویں اور اکیسویں صدی کی سندھی قوم پرستی، قومی تحریک، بائیں بازو کی جدوجہد، اور انسانیت پسندی کی ایک لافانی تاریخی و سیاسی دستاویز ہے۔ مصنف نے اس کتاب کو اپنے فکری استاد، جی ایم سیّد اور عظیم کسان رہنما ’بابائے سندھ‘ کامریڈ حیدر بخش جتوئی کے نام منسوب کیا ہے۔ جونیجو صاحب نے اپنی زندگی کا ایک بڑا فیصلہ، یعنی سرکاری انجینئر کی نوکری ترک کر کے کل وقتی سیاسی کارکن بننا، کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی زندگی سے حوصلہ پا کر اور ان سے متاثر ہو کر ہی کیا تھا، جس کا عکس اس کتاب کی روح میں جا بجا نظر آتا ہے۔
اس کتاب کا بنیادی فلسفہ اور مرکزی خیال تاریخ میں فرد کے کردار کے گرد گھومتا ہے۔ مصنف نے جارج پلیخانوف کے مارکسی نظریات اور نطشے کے ’سپرمین‘ والے تصوّر کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی فرد اکیلے تاریخ کا رخ نہیں موڑ سکتا، بلکہ غیر معمولی انسان وہ ہوتے ہیں جو معروضی حالات کو سمجھ کر سماج کے ارتقائی سفر کو مہمیز دیتے ہیں اور انقلاب کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ اس کتاب میں 26 مضامین کے ذریعے ایسے ہی 24 بیش قدر کرداروں کو پیش کیا گیا ہے۔ جن میں سے کچھ عالمی سطح کے انقلابی ہیں، تو کچھ سندھ کی گلیوں، گوٹھوں اور جیلوں میں گمنامی کی زندگی گزارنے والے سچے اور مخلص سیاسی کارکن ہیں۔
کتاب کے مضامین اور موضوعات کا تنقیدی و فکری جائزہ لیا جائے تو اس کتاب میں شامل 26 مضامین کا آغاز ”کارل مارکس: بڑا انسان، بڑی زیادتیاں“ کے عنوان سے شامل مضمون سے ہوتا ہے، جس میں کارل مارکس کے فکری قد کاٹھ کے جائزہ لیا گیا ہے۔ جونیجو صاحب لکھتے ہیں کہ مارکس انسانی تاریخ کا وہ چمکتا ستارہ ہے جس نے انسانی سماج کے سفر کی سائنس کو دریافت کیا۔ مصنف کا شکوہ ہے کہ جہاں سرمایہ دارانہ نظام نے مارکس کے ساتھ زیادتیاں کیں، وہیں خود مارکس کے پیروکاروں نے بھی اس کے نظریات کو جمود کا شکار بنا کر اس کے ساتھ بڑی نا انصافی کی ہے۔ کتاب کے دوسرے مضمون ”کاسترو جو پیغام ائیں اساں جو وچن“ (فیدل کاسترو کا پیغام اور ہمارا وعدہ) میں کیوبا کے انقلابی رہنما فیدل کاسترو کی استعمار دشمنی اور مستقل مزاجی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، اور اس عزم کو دہرایا گیا ہے کہ دنیا کے مظلوم طبقات کے لیے کاسترو کا پیغام آج بھی مشعلِ راہ ہے۔ خالق صاحب کا مذکور تیسری شخصیت سردار عطا اللہ مینگل ہیں۔ ان پر تحریر کردہ مضمون میں سردار عطا اللہ مینگل کے ذریعے مصنف نے بلوچستان کے حقوق، مظلوم قومیتوں کے دکھ اور وفاق کے نام پر ہونے والی نا انصافیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اپنے چوتھے مضمون بعنوان ”عاصمہ جہانگیر: ایک مزاحمتی کردار“ میں مصنف، عاصمہ جہانگیر کو پنجاب کے اندر ایک طاقتور ”مزاحمتی اور انسانی حقوق کا استعارہ“ قرار دیتے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ چھوٹے صوبوں کے مظلوموں اور لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کی۔
کتاب میں شامل سندھ کے معروف دانشور، جناب محمد ابراہیم جویو پر لکھا گیا ایک مضمون بعنوان ”محمد ابراہیم جویو: ائیں سندھ“ (محمد ابراہیم جویو اور سندھ) کتاب کے بہترین مضامین میں سے ایک ہے۔ مصنف انہیں جدید سندھ کا معمار اور روشن خیالی (Enlightenment) کی تحریک کا روحِ رواں قرار دیتے ہیں۔ جویو صاحب کی کتاب ”فکر جی آزادی“ (فکر کی آزادی۔ سندھی ترجمہ) کا ذکر کرتے ہوئے جونیجو صاحب بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے سندھی قوم کو علم و ادب کے ذریعے بیدار کیا اور تحریکِ پاکستان کے تاریخی تناظر میں سندھ کے حقوق کی درست تشریح کی۔ رسول بخش پلیجو اور عبدالواحد آریسر پر تحریر شدہ الگ الگ مضامین میں مصنف نے ان دونوں میں فکری تضادات اور ہم آہنگی کا ذکر کیا ہے۔ جس میں رسول بخش پلیجو کو جدید سندھ کی سیاسی بیداری کا ایک اہم محرک قرار دیا گیا ہے، جنہوں نے سیاست کو عوامی رنگ دیا۔ دوسری طرف عبدالواحد آریسر کی علمیت، شرافت اور فکری بلندی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے رقم کیا ہے کہ آریسر صاحب، جی ایم سید کے فکری وارث تھے۔ خالق صاحب نے نظریاتی اختلافات کے باوجود آریسر کے ساتھ اپنے گہرے قلبی اور فکری تعلق کا تذکرہ نہایت دردمندی سے کیا ہے۔
کتاب کی سب سے بڑی علمی اور اخلاقی خوبصورتی یہ ہے کہ مصنف نے صرف بڑے ناموں پر نہیں لکھا، بلکہ تحریک کے ان گم گشتہ ہیروز کو بھی یاد کیا ہے، جنہیں مورخین بھول چکے ہیں۔ اس ضمن میں جونیجو صاحب نے اپنی اس کتاب میں جُمن دربدر، گدا خاصخیلی، اور علن تھیبو جیسے گمنام اور مخلص کارکنان کو بھی نہایت ستائش کے انداز میں یاد کیا ہے۔ حال ہی میں بچھڑنے والے ماما جُمن دربدر کو یاد کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ وہ سندھ کے ایسے مثالی عوامی فنکار، شاعر اور کارکن تھے، جنہوں نے اپنی مسکراہٹوں اور گیتوں کے پیچھے قوم کا درد چھپا رکھا تھا۔ گدا خاصخیلی کا ذکر کرتے ہوئے جونیجو صاحب فرماتے ہیں کہ وہ ایک عوامی شاعر، انقلابی کارکن اور دانشور تھے جنہوں نے غربت اور کسمپرسی کے باوجود کبھی اپنے اصولوں کا سودا نہیں کیا اور مقتدر حلقوں کے سامنے ہمیشہ سچ بولتے رہے۔ علن تھیبو اور عبدالقیوم منگی کا ذکر صاحبِ کتاب کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ یہ ایسے سچے کارکن تھے جو اندر خواہ باہر دونوں سے اُجلے تھے۔ عبدالقیوم منگی کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ جیسے ان کے کپڑے ہمیشہ صاف ہوتے تھے، ویسے ہی ان کا من بھی ہر قسم کے بغض اور کینے سے پاک تھا۔
ڈاکٹر ارباب کُھہاوڑ پر مصنف نے تین مضامین تحریر کیے ہیں، جبکہ کراچی کے نامور مُورخ گل حسن کلمتی پر مصنف کا تحریر شدہ خاکہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ وہ ڈاکٹر ارباب کُھہاوڑ کو ”سندھ کا صالح فرزند“ کہتے ہیں، جنہوں نے ون یونٹ کے خلاف تحریک میں تاریخی کردار ادا کیا۔ جبکہ گل حسن کلمتی پر لکھی گئی تحریر میں کلمتی کی لکھی کراچی کی تاریخ، اس کی قدیم سندھی شناخت اور انگریز استعمار کے خلاف یہاں کے باسیوں کی قربانیوں کا تفصیلی و تاریخی احاطہ کیا گیا ہے۔
اس کتاب میں مصنف نے انسانیت کے عظیم علمبردار عبدالستار ایدھی کو بھی بہت ہی اونچے الفاظ میں یاد کیا ہے۔ ان پر لکھے اپنے مضمون ”ایدھیٔ کھے سندھ جی منجتا“ (ایدھی کو سندھ کی ستائش) میں مصنف رقم طراز ہیں کہ ایدھی صاحب کا فلسفہ کسی ایک مذہب یا نسل تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ صوفیائے سندھ کے 8 ہزار سالہ انسانیت دوست پیغام کی ایک عملی اور مجسم صورت تھے۔ مذکورہ شخصیات کے علاوہ مصنف نے اس کتاب میں عثمان بلوچ، یوسف مستی خان، نور الدین سرکی، مولانا عزیز اللہ بوہیو، مولا بخش لغاری، الطاف قادری، شفیع محمد سندھی، ڈاکٹر خیر محمد جُونو اور اللہ رکھیو گورڑ پر بھی مضامین تحریر کیے ہیں، جن میں ان شخصیات کی ذاتی، پیشہ ورانہ خوبیوں اور ان کے قومی کارکن کے کردار کو بہت ہی عمدہ الفاظ میں سراہا گیا ہے۔
اس کتاب میں شامل نثر کے معیار اور اسلوبِ نگارش کا جائزہ لیا جائے تو عبدالخالق جونیجو کی نثر نگاری کی چند نمایاں خصوصیات میں ان کی سادگی اور سلاست، دردمندی اور تاثراتی اسلوب ان کی نمایاں نثری خوبیاں ہیں۔ مصنف کا اسلوب دقیق یا لغت زدہ نہیں ہے۔ وہ نہایت سادہ، سلیس اور عام فہم سندھی میں بڑے بڑے فلسفیانہ اور سیاسی نظریات کو قاری کے دل میں اتار دیتے ہیں۔ تحریر میں غیر جانبداری کا یہ عالم ہے کہ جونیجو صاحب نے جہاں شخصیات کی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے، وہیں ان کے فکری تضادات یا سیاسی کوتاہیوں پر بھی معروضی تنقید کی ہے۔ ان کا قلم کسی شخصیت کی اندھی عقیدت میں نہیں ڈوبا، بلکہ ایک سچے محقق کی طرح انصاف کرتا ہے۔ تاثراتی اسلوب کی خوبی ان کی تحریر میں یوں موجود ہے کہ جب مصنف اپنی تحریر میں اپنے ساتھی کارکنوں کی غربت، ان کے گھروں میں آٹے گھی کے نہ ہونے، اور جیلوں کی اذیتوں کا ذکر کرتے ہیں، تو ان کی نثر میں ایک ایسا سوز اور دردمندی پیدا ہو جاتی ہے جو قاری کی آنکھیں نم کر دیتی ہے۔ وہ شاہ لطیف اور شیخ ایاز کے ابیات کا ایسا برجستہ استعمال کرتے ہیں کہ نثر کا حسن دوچند ہو جاتا ہے۔
گویا ”اتساہیندڑ انسان“ محض یادوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ سندھ کی سیاسی تاریخ کا نچوڑ ہے۔ عبدالخالق جونیجو نے اس کتاب کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا ہے کہ قومیں صرف مادی ترقی سے نہیں، بلکہ بلند کردار، سچے آدرشوں اور قربانی دینے والے انسانوں کے دم سے زندہ رہتی ہیں۔ یہ کتاب سندھ کے سیاسی اور ادبی حلقوں میں ایک گراں قدر اضافہ ہے، جو اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا اردو اور انگریزی میں بھی ترجمہ کیا جائے تاکہ پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین سندھ کی مخلصانہ تحریکوں اور اس کے لازوال کرداروں سے واقف ہو سکیں۔ عبدالخالق جونیجو صاحب دلی داد کے مستحق ہیں، جنہوں نے اس قحط الرجال کے دور میں اتنی شاندار اور متاثر کن کتاب لکھی اور شائع کی۔


