میرے مطابق

منزل سے پہلے کا امتحان

Dr Shabbir Ahmad Aakash

زندگی میں کچھ سفر فاصلے سے نہیں، کیفیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ چند گھنٹوں پر مشتمل ہوتے ہیں مگر یادوں میں عمر بھر چلتے رہتے ہیں۔ ایبٹ آباد سے پشاور تک کا یہ سفر بھی بظاہر چند گھنٹوں کا تھا، مگر احساس میں ایک عہد پر محیط ہوا۔ رات ہی اطلاع مل گئی تھی کہ مختلف مقامات پر راستے بند ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ ہمارے ہاں عام روش یہی ہے کہ امکانات اکثر و بیشتر حقیقت میں بدل جاتے ہیں۔ خیر یہی سوچا کہ تاخیر مناسب نہیں، اور ہلکی پھلکی تیاری میں لگ گیا۔ کپڑے استری کیے اور ایک چھوٹا سے بیگ میں زادِ راہ بندھ لیا۔ موبائل پر الارم لگا کر سونے کی تیاری کی۔ ہمسرِ حیات نے یاد دہانی کروائی کہ کل انھوں نے روزہ بھی رکھنا ہے اسی لیے صبح سحری کے لیے جلدی جاگنا ہے۔ یوں سفر اور عبادت ایک ہی صبح کے دو عنوان بن گئے۔ آنکھیں بند کیں تو نظم کے یہ مصرعے زگ زیگ کی شکل میں سامنے ابھرنے لگے۔ اٹھ کر انہیں ترتیب دینے لگ گیا۔

حرفوں کی ایک کہانی تھی
جو لفظوں میں کہیں کھو گئی،
وہ لفظ
جو میری زندگی کا اثاثہ تھے،
میرے ہونے کی دلیل تھے،
میرے لیے معنی رکھتے تھے۔
میرے لفظ
زندگی کی علامت تھے،
ظلم کے خلاف بغاوت تھے،
سچ اور جھوٹ کے درمیان
کھینچی ہوئی وہ لکیر تھے
جسے میں یقین سمجھتا تھا۔
مگر وقت کی ایک ضرب پڑی
اور وہ ٹوٹ گئے۔
ایسے ٹوٹے
کہ پھر سنبھل نہ سکے۔
میرے لفظ
کوئی شیشے کی کرچیاں تو نہ تھے
جنہیں میں چُن چُن کر جوڑ لیتا۔
یہ تو بہہ گئے
دریا کے پانی کی طرح
اور صحرا کی ریت میں
آہستہ آہستہ زائل ہو گئے۔
اب
میرے ہاتھوں میں خاموشی ہے
اور دل میں ایک خالی کمرہ
جس میں میرے بے معنی لفظ رہتے ہیں۔
میرے لفظ۔
میرے لفظ۔

چار بجے کے قریب موبائل نے ہلچل مچائی تو نیند نے کچھ مزاحمت کی، مگر ارادہ غالب آ گیا۔ ناشتے اور سحری کی تیاری ساتھ ساتھ ہوتی رہی۔ ہم نے ناشتہ کیا، انہوں نے سحری کی۔ نماز ادا کی اور ایک خاموش سی دعا کے ساتھ گھر سے نکل آئے۔ پارکنگ سے گاڑی نکالنا پہلا امتحان ثابت ہوا۔ آگے کریں تو رکاوٹ، پیچھے جائیں تو دیوار۔ کچھ لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے سفر شروع ہونے سے پہلے ہی رک گیا ہو۔ سوئے ہوئے چوکیدار کو جگایا تو اس کی انتھک مدد نے ہمارے لیے آسانی پیدا کی اور یوں راستہ کھل گیا اور شاید یہی اس سفر کی تمثیل بھی تھی کہ کبھی کبھی معمولی مدد بڑے تعطل کو ختم کر دیتی ہے۔ صبحِ کاذب کی مدھم روشنی میں ایبٹ آباد کی سڑک جاگ رہی تھی۔ ہزارہ موٹر وے انٹرچینج پر پہنچے تو رکاوٹیں قطار در قطار کھڑی تھیں۔ اطلاع ملی کہ راستہ بند ہے۔ وجہ پوچھی تو جواب ندارد۔ لمحہ بھر کے لیے توقف ہوا، مگر ارادہ سلامت تھا۔ جی ٹی روڈ کی سمت گاڑی موڑی اور چل پڑے۔ رش کم تھا تو ایکسیلریٹر پر زور زیادہ پڑ رہا تھا مگر جوں ہی ایبٹ آباد بائی پاس کے نزدیک پہنچا تو دیوہیکل ٹرکوں کی لمبی قطار سامنے تھی۔ دھواں، شور اور آہستہ آہستہ سرکتا ہوا ہجوم۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہر گاڑی اپنے اندر ایک الگ کہانی سموئے منزل کی طرف بڑھ رہی ہو۔ بقول مجروح سلطان پوری

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

لیکن یہ ایک عجیب کارواں تھا۔ ایک دوسرے سے کوئی شناسائی نہ تھی، بس راستہ ایک تھا اور منزلیں مختلف۔ اب صبح کی روشنی اچھی خاصی ہو چکی تھی اور ہر طرف آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ نہ جانے کب سے لوگ ٹریفک کے اژدہام میں پھنسے ہوئے تھے۔ ڈرائیور حضرات بار بار اپنی گاڑیوں سے نیچے اترتے اور پل کی طرف جھانک کر دیکھتے کہ کب راستہ کھلے گا اور سفر کا آغاز ہو گا۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ ٹھیک سے کم ہی لوگوں کو اس بابت علم تھا۔ ایک راہگیر نے جاتے جاتے اتنی بات کی کہ ایک ٹرک کا قد پل سے ذرا اونچا ہے، اسی وجہ سے اتنا رش ہے۔

بالآخر کوئی ایک گھنٹے اور بیس منٹ بعد ٹریفک رواں ہوئی اور ہم شاہ مقصود انٹرچینج پر پہنچ گئے، اور برہان کے پاس جا کر سانس لی۔ جب میں نے پشاور کی طرف مڑنا چاہا تو آگے موٹروے پولیس کی ایک گاڑی کھڑی تھی اور ترچھی لائن میں کو نز رکھی ہوئی تھیں۔ میں سمجھا کہ یہاں بھی معاملہ گڑبڑ ہے۔ ہمت کر کے آگے بڑھا اور بڑھتا ہی چلا گیا۔ انہوں نے مجھے روکا نہیں اور میں رکا نہیں، تو میں مطمئن ہو گیا کہ آگے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

جونہی میں نے تھوڑا ہی راستہ طے کیا تھا، ایک گاڑی میرے پاس سے بڑی تیز رفتاری سے گزر گئی۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی گاڑی نظر نہیں آئی۔ پہلے تو میرا خیال تھا کہ آگے ٹریفک ہوگی۔ کافی مسافت طے کرنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ موٹر وے کے دونوں اطراف کوئی بھی گاڑی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی آدمِ ذات مجھے نظر آیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں اکیلا ہی محوِ پرواز تھا اور موسیقی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

عجب دنیا ست، این دنیا
یکی بیچارہ و تنہا
یکی لب تشنہ در صحرا
یکی بی درد و بی پروا
عجب دنیاست این دنیا

بس موسیقی اپنے انجام کو پہنچی اور راستہ پھر بند اور ہم آسمان سے زمین پر آ گئے اور جی ٹی نے پھر ہمارے سوئے ہوئے مقدر کو جگا دیا۔ راستے میں تین شناسا ایسے ملے کہ سفر تنہائی سے رفاقت میں بدل گیا۔ گاڑیاں دو تھیں، سو دو دو کا گروہ بن گیا۔ کبھی فون پر حال احوال، کبھی اشاروں سے رابطہ۔ یہ بھی ایک طرح کی ہم سفری تھی۔ بحیثیت ہم سفر دل میں ایک انجانا سا بوجھ بھی تھا کہ سب ساتھ رہیں، کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ مگر سفر ہمیشہ ترتیب کا پابند نہیں ہوتا۔ چھچھ انٹر چینج سے چلتے چلتے غورغشتی، غازی اور صوابی سے ہوتے ہوئے ہم پشاور کی جانب گامزن تھے اور ایک مقام پر وہ دوست ہم سے بچھڑ گئے۔ موبائل لوکیشن بھیج کر ان کی جگہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ ہم مشرق کی طرف جا رہے ہیں اور وہ مغرب کی طرف رواں دواں ہیں۔ ہم انھیں بیچ راستے میں چھوڑنا نہیں چاہتے تھے مگر لگتا تھا کہ وہ بھی دشت و صحرا میں خاک چھاننے کا شوق رکھتے ہیں۔

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں
ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں

سڑکوں کی حالت بھی انسانی مزاج جیسی تھی۔ کہیں ہموار، کہیں شکستہ۔ کبھی ایک کلومیٹر تک یوں لگتا جیسے ابھی بلیک ٹاپ ڈالا گیا ہو، اور اگلے ہی لمحے جھٹکے یاد دلاتے کہ ہم کسی اور دنیا میں داخل ہو چکے ہیں۔ گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے دل میں عجیب سی یکسانیت اترتی رہی۔ منزل سامنے نہیں تھی، مگر سفر جاری تھا۔ ”جب سے چلے ہیں گھر سے مسلسل سفر میں ہیں“ ۔ وقت جیسے پھیلتا جا رہا تھا۔ تین گھنٹے کا راستہ سات گھنٹوں میں ڈھل گیا۔ ہر انٹرچینج پر امید بندھتی کہ شاید آگے راستہ کھلا ہو، اور ہر بار ایک نئی آزمائش منتظر رہتی۔ مگر امید کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔

بالآخر شام کی تھکن میں ڈوبی ہوئی روشنی کے ساتھ پشاور کی حدود نمودار ہوئیں۔ شہر ویسا ہی تھا۔ مصروف، بے چین، مگر اپنے اندر ایک مانوس اپنائیت لیے ہوئے۔ یوں لگا جیسے منزل نے بانہیں پھیلا کر استقبال کیا ہو، مگر سفر کی تھکن ابھی جسم میں موجود تھی۔ یہ سفر محض ایبٹ آباد سے پشاور تک کا نہ تھا؛ یہ ارادے، صبر، رفاقت اور امید کا سفر تھا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Ijaz Ur Rehman
Ijaz Ur Rehman
3 months ago

بہت بہترین روداد سفر۔ زبردست طرز تحریر۔ ہر محوسفر شخص کے احساسات اور جزبات کی دلکش ترجمانی۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW