لوک گیت

خیبر پختونخوا میں ہندکو ادب کے ساتھ ساتھ پشتو ادب میں بھی لوک گیتوں کی ایک قدیم اور مضبوط روایت موجود ہے۔ جس طرح ہندکو ادب میں لوک گیت اور ماہیا اہم مقام رکھتے ہیں، اسی طرح پشتو ادب میں بھی لوک گیت، ٹپہ اور مصرعہ جیسی اصناف صدیوں سے مقبول چلی آ رہی ہیں۔ پشتو زبان و ادب اپنے دامن میں ایک وسیع تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی ورثہ سموئے ہوئے ہے۔ ان لوک گیتوں میں نہ صرف عوامی جذبات اور احساسات کی ترجمانی ملتی ہے بلکہ یہ اپنے ماحول، ثقافت، تہذیب و تمدن اور معاشرتی زندگی کی بھرپور عکاسی بھی کرتے ہیں۔ محمد افضل رضا اپنی کتاب ”پشتو لوک ادب“ میں لوک گیتوں کے حوالے سے لکھتے ہیں ”پشتو لوک ادب میں سب سے نمایاں مقام پشتو لوک گیتوں کو حاصل ہے۔ لوک گیت انگریزی زبان میں Folk Lore کہلاتے ہیں۔ Folk کے لغوی معنی عوام اور Lore کے معنی علم ہیں، لیکن اصطلاح میں اس سے مراد عوامی شاعری ہے۔“
لوک گیت کسی بھی قوم اور زبان کے حقیقی تہذیبی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں انسانی جذبات، احساسات اور معاشرتی رویّے اپنی اصل صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ روزمرہ زبان، خوب صورت تشبیہات، استعارات اور دلکش الفاظ و تراکیب ان گیتوں کو مزید پُراثر بنا دیتے ہیں۔ ان میں تصنع، مبالغہ آرائی اور بناوٹ کی بجائے فطری پن اور سادگی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عوامی زندگی، رسوم و رواج، طرزِ فکر اور معاشرتی اقدار کی موثر ترجمانی کرتے ہیں اور ان کے ذریعے کسی بھی قوم کی سماجی و ثقافتی زندگی کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ لوک گیتوں کی اہمیت کے حوالے سے فارغؔ بخاری لکھتے ہیں ”ان میں حسن و عشق کے زمزمے، پنگھٹ کی چوری، چھپی ملاقاتوں کی کہانیاں، تنگ دل اور ظالم جفاکشوں کا رونا، غربت اور بدحالی، بھوک اور ننگ و ناموس کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ کسانوں اور مزدوروں کی دم توڑتی حسرتوں کے نقوش بھی ان میں محفوظ ہیں۔ جاگیرداروں، زمین داروں اور حکمرانوں کے مظالم کی خونچکاں داستانیں بھی ان کا حصہ بنتی ہیں۔ خوشی و غم، دوستی و دشمنی، مرگ و شادی، غرض ہر قسم کے انسانی محسوسات و تاثرات کی ایسی سادہ اور فطری عکاسی اگر کسی صنفِ سخن میں ممکن ہے تو وہ لوک گیت ہی ہیں۔“
بہر حال، ان تمام خوبیوں کے باوجود لوک گیتوں کی اصل اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ کسی بھی قوم کے ثقافتی اور تہذیبی شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پشتو ادب میں ”سندرہ“ کے لفظ سے مراد لوک گیت لیا جاتا ہے۔ یہ ان اشعار یا مصرعوں کو کہا جاتا ہے جو خواتین گیتوں کی صورت میں گاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں اس لفظ کے مفاہیم مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر قندھار میں خواتین کے گائے ہوئے گیت ”بدلہ“ کہلاتے ہیں، جبکہ باجوڑ میں ”بدلہ“ کا لفظ صرف مردانہ گیتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پشتو لوک گیت گانے والے کو ”سندر غاڑے“ یا ”مجلسی“ کہا جاتا ہے۔ سندرہ اور بدلہ کے مفہوم میں فرق کے حوالے سے محمد افضل رضا لکھتے ہیں ”سندرہ کو سندرہ اس لیے کہتے ہیں کہ پشتو کے قریبی پہاڑی علاقوں میں بولی جانے والی قدیم دردی زبان میں ’سندری‘ معشوق کو کہتے ہیں۔ چونکہ گیتوں میں عموماً معشوق سے متعلق جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے، اس لیے ان گیتوں کو سندرہ کہا جاتا ہے۔“
پشتو لوک گیت کئی نمایاں خصوصیات کے حامل ہیں۔ پشتون قوم کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے اور اسی طرح ان کے لوک ادب کی روایت بھی نہایت قدیم ہے۔ سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے یہ گیت عوامی حافظے کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ گیت عوامی زبان میں تخلیق اور پیش کیے جاتے ہیں۔ ان میں موسیقی کے پیچیدہ اصولوں یا عروضی پابندیوں کی سختی نہیں پائی جاتی، کیونکہ ان کے تخلیق کار عموماً عوامی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی سادگی اور بے ساختگی ان کی اصل قوت ہے۔ درحقیقت یہ گیت عوام کے دل کی آواز، ان کے دکھ سکھ اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔
جس طرح ہندکو ادب میں ماہیا ایک مقبول صنف ہے، اسی طرح پشتو ادب میں ٹپہ، لنڈی اور مصرعہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ محمد افضل رضا ”پشتو لوک گیت“ میں لکھتے ہیں ”پشتو شاعری کی ابتدا ٹپہ یا لنڈی سے ہوئی، جو لوک گیتوں کی اہم ترین صنف ہے۔ چونکہ اس کا پہلا مصرع مختصر ہوتا ہے، اس لیے اسے لنڈی کہا جاتا ہے۔ پہلے مصرعے میں نو اور دوسرے میں تیرہ سیلاب ہوتے ہیں۔ لنڈی کو ٹپہ بھی کہا جاتا ہے۔“
ہندکو ماہیا اور پشتو ٹپہ موضوعات اور جذباتی اظہار کے اعتبار سے ایک دوسرے سے گہری مماثلت رکھتے ہیں۔ دونوں اصناف صدیوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی آ رہی ہیں اور عوامی جذبات کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں۔ ان میں انسانی زندگی کے مختلف پہلو، معاشرتی اقدار، روایات، محبت، فراق، امید، محرومی اور ثقافتی شعور نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ گزرنے کے باوجود ان کی تازگی اور اثر انگیزی برقرار ہے۔
پشتو ٹپوں کے موضوعات نہایت وسیع ہیں۔ ان میں مذہبی، معاشرتی، تاریخی، عشقیہ، طنزیہ، سیاسی اور اخلاقی موضوعات کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات اور داخلی کیفیات کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔ محبت، انتظار، جدائی، وفا، غیرت، حسن و جمال، فطرت، وطن سے محبت اور انسانی رشتوں کی نزاکت جیسے موضوعات ان کا خاص حصہ ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پشتو ٹپے نہ صرف ادبی سرمایہ ہیں بلکہ پشتون ثقافت اور تہذیبی شعور کے بھی اہم نمائندہ ہیں۔
اس کے برعکس جب ہندکو لوک ادب کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے ”ماہیا“ ذہن میں آتا ہے۔ ماہیا لوک شاعری کی نہایت مقبول، دلنشیں اور موثر صنف ہے۔ صدیوں گزرنے کے باوجود اس کی تازگی، اثر انگیزی اور عوامی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اگرچہ ماہیا دیہی زندگی کی پیداوار ہے تاہم اس کی فنی ساخت، اثر آفرینی اور جذباتی گہرائی ہمیشہ توجہ کا مرکز رہی ہے۔
پاکستان کے تقریباً تمام علاقوں کے لوک ادب میں ماہیا کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔ ہزارہ کے علاقے میں بھی اس صنف نے ہر دور میں عوامی جذبات اور معاشرتی زندگی کی ترجمانی کی ہے۔ ماہیا جہاں انسانی احساسات کا آئینہ دار ہے، وہیں زندگی کے مختلف موضوعات کا عکاس بھی ہے۔ اس میں محبت، ہجر، وصال، طنز و مزاح، خوشی و غم اور انسانی کیفیات نہایت سادہ مگر موثر انداز میں پیش کی جاتی ہیں۔
ماہیا عام طور پر دو یا تین مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق اس کا پہلا مصرع مختصر اور دوسرے مصرعوں سے معنوی طور پر مربوط ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر :
بلی کوٹھے تے سپ کھاہدا
جوگیا سٹ سنگلاں
لکھی کتھوں پرت کھاہدا
لاری آئی کشمیر بچو
آپ نینھ آندے او
گلاں کرو تصویر بچو
ان ماہیوں میں نہ صرف جذباتی کیفیت نمایاں ہے بلکہ معنوی ربط بھی واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔ ماہیا اپنی سادگی، بے ساختگی اور عوامی رنگ کی بدولت لوک ادب کی ایک زندہ اور متحرک صنف کے طور پر آج بھی موجود ہے۔ پشتو ٹپوں کی طرح ہندکو ماہیوں میں بھی مختلف النوع موضوعات پائے جاتے ہیں۔ ان میں عشق و محبت، ہجر و وصال، مذہبی عقیدت، اخلاقیات، وطن دوستی، بہادری، غیرت، دعائیہ جذبات اور محبوب کی درازیٔ عمر جیسے مضامین نمایاں ہیں۔ پنجابی اور اردو ادب میں بھی ماہیا ایک اہم صنفِ سخن کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر بشیر سیفی پنجابی ماہیے کے بارے میں لکھتے ہیں ”پنجابی ماہیے کا مرکز و محور ’ماہی‘ یعنی محبوب ہے۔ اس میں زیادہ تر محبوب کے ہجر و فراق، ملاقات کی آرزو اور انتظار کی کیفیات کی ترجمانی کی جاتی ہے۔“
اسی طرح ریاض احمد کے مطابق ”ماہیا پنجابی زبان کی ایک مقبول لوک دھن ہے جس کے بول عوامی فن کاروں نے ترتیب دیے ہوتے ہیں، اس لیے اس میں عروضی پابندیوں کا تقاضا بے معنی محسوس ہوتا ہے۔“
ماہیا صدیوں سے پنجاب، ہزارہ اور پوٹھوہار کے عوامی ادب کا اہم حصہ چلا آ رہا ہے۔ بظاہر بعض اوقات اس کے مصرعے محض تک بندی محسوس ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت ان میں گہری معنویت اور جذباتی ربط موجود ہوتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے دیگر لوک اصناف سے ممتاز بناتی ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر لکھتے ہیں ”اظہارِ محبت کے لیے تین مصرعوں پر مشتمل پنجابی اور سرائیکی کی یہ مقبول صنفِ سخن اردو میں بھی مستعمل ہے۔ ابتدا میں ماہیا صرف محبوب کے حوالے سے جذباتی اظہار تک محدود تھا، مگر اب اس کے موضوعات میں وسعت پیدا ہو چکی ہے۔“
اردو ادب میں اخترؔ شیرانی اور چراغؔ حسن حسرت کے بعد متعدد شعرا نے ماہیا نگاری کو فروغ دیا۔ موجودہ دور میں بھی یہ صنف مقبول ہے اور کئی شعرا اس میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ماشاءالله ،جناب۔۔بہت خوب لکھا ہے