بلاگ

بسنت: امیر خسرو کے گیتوں سے خونی کھیل تک

dr asghar yazdani

برصغیر پاک و ہند کی ہزاروں سالہ تاریخ میں موسموں کی تبدیلی محض ایک جغرافیائی واقعہ نہیں بلکہ ایک عظیم ثقافتی جشن کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں ”بسنت“ کا تہوار ہے، جو سردیوں کی رخصتی اور بہار کی آمد کا اعلان کرتا ہے۔ یہ تہوار اپنی جڑوں میں پری اسلامک پنجابی اور جنوب ایشیائی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ مختلف عوامل کے پیش نظر سرسوں کے پھول، زرد لباس اور پتنگ بازی اس کی پہچان بنے۔ تاہم، اس تہوار کی تاریخ محض موسمی تغیر تک محدود نہیں بلکہ اس میں تصوف کی چاشنی، امیر خسرو کی شاعرانہ عظمت، اور وقت کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے ہولناک سماجی المیے بھی شامل ہیں۔

بسنت کو اسلامی تصوف، بالخصوص سلسلہ چشتیہ میں جو مقام حاصل ہوا، وہ سات سو سال قدیم ایک جذباتی واقعے کا مرہونِ منت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دہلی کے مشہور صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیاء ؒنے اپنے کسی قریبی عزیز کے انتقال پر شدید رنج و ملال کی کیفیت میں کنارہ کشی اختیار کر لی، حتیٰ کہ مریدین ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کو ترس گئے۔ ایسے میں ان کے سب سے چہیتے مرید، شاعر اور موسیقی دان امیر خسرو، اپنے مرشد کی یہ حالت دیکھ کر بے چین رہا کرتے تھے۔ ایک دن امیر خسرو نے دریائے جمنا کے کنارے کچھ ہندو خواتین کو دیکھا جو زرد لباس پہنے، سرسوں کے پھول ہاتھوں میں لیے گیت گاتی ہوئی جا رہی تھیں۔ جب خسرو نے ان سے اس جشن کا سبب پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ بسنت پنچمی ہے اور وہ اپنے دیوتا کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کر رہی ہیں۔ خسرو کے ذہن میں ایک خیال کوندا کہ اگر وہ بھی اسی طرح اپنے مرشد کو خوش کرنے کی کوشش کریں تو شاید ان کی اداسی ختم ہو جائے۔ انھوں نے فوراً زرد لباس پہنا، سرسوں کے پھولوں کا گلدستہ لیا اور والہانہ رقص کرتے، گاتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیاء ؒکے دربار میں حاضر ہوئے :

اشک ریز آمدہ است بہار
ساقیاگل بریز، بادہ بیار

خسرو کی یہ معصومانہ اور والہانہ محبت دیکھ کر حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس واقعے سے درگاہوں پر بسنت منانے کی روایت پڑی، جو آج بھی قائم ہے۔ امیر خسرو کے کہے ہوئے بسنت سے متعلق گیت محض شاعری نہیں بلکہ ہجر و وصال، اور مرید و مرشد کے روحانی تعلق کی دستاویز ہیں۔ ان کے کلام میں زرد رنگ (بسنتی رنگ) کو جو اہمیت حاصل ہے، وہ صوفیانہ فنا اور بقا کی عکاسی کرتی ہے :

”سکل بن پھول رہی سرسوں
بن بن پھول رہی سرسوں ”

یہ خسرو کا وہ شاہکار کلام ہے جسے سات صدیوں سے قوال بسنت کے موقع پر گاتے چلے آ رہے ہیں۔ اس گیت کا اختصاص یہ ہے کہ خسرو نے اس کے ذریعے ہندوستانی لوک روایات کو صوفیانہ رنگ میں ڈھال کر ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کی جس نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کر دیا۔

”آج بسنت منا لے سہاگن، آج بسنت منا لے
انجن منجن کر پیا موری، لمبے نیہر لگائے ”

اس کلام میں ”انجن منجن“ سے مراد ظاہری سنگار کے ساتھ ساتھ باطنی صفائی بھی ہے، تاکہ جب محبوب آئے تو روح اس کے استقبال کے لیے تیار ہو۔ ”تو کیا سووے نیند کی ماتی، سو جاگے تیرے بھاگ سہاگن“ کے ذریعے خسرو غفلت کی نیند سونے والوں کو جھنجھوڑتے ہیں کہ وقت نکل رہا ہے اور بہار (روحانی موقع) ضائع ہو رہی ہے۔

” موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے“

اگرچہ یہ کلام عمومی صوفیانہ کیف و مستی کے لیے مشہور ہے، لیکن اس کا ایک خاص بند بسنت کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے :

ہمری چنریا، پیا کی پگڑیا
وہ تو دونوں بسنتی رنگ دے
تو تو صاحب میرا محبوبِ الٰہی

یہاں ”بسنتی رنگ“ سے مراد وہ رنگ ہے جو حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو پسند آیا تھا۔ مرید کی یہ خواہش کہ اس کی چادر اور محبوب کی پگڑی ایک ہی رنگ کی ہو، ”فنا فی المرشد“ کی حالت کو ظاہر کرتی ہے جہاں مرید اپنی جداگانہ شناخت ختم کر کے مرشد کے رنگ میں رنگ جانا چاہتا ہے۔

بسنت کے حوالے سے ایک اہم حوالہ حقیقت رائے کا بھی دیا جاتا ہے، جو اٹھارہویں صدی کے ایک المیے کی یادگار ہے۔ حقیقت رائے ایک ہندو لڑکا تھا جسے 1742 ء میں ایک گستاخانہ تحریر لکھنے کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی۔ جس دن اسے لاہور میں موت کے گھاٹ اتارا گیا، اس دن بسنت تھی۔ سو اگلے سال کچھ لوگوں نے بسنت کا تہوار اس کی سمادھی پر اکٹھے ہو کر منایا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ بسنت کا تہوار حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے، سراسر جھوٹ اور لغو بات ہے۔ چونکہ حقیقت رائے کی برسی بسنت کے ایام میں آتی ہے اس لیے کچھ لوگوں نے از خود قیاس کر لیا کہ بسنت حقیقت رائے کی یادگار کے طور پر منائی جاتی ہے اور پھر کچھ ملاؤں نے اس غلط نظریے پر خوب دکانیں چمکائیں۔ البتہ لاہور میں حضرت مادھو لعل حسین ؒکے مزار پر لگنے والا ”میلہ چراغاں“ بھی بسنت کی ہی ایک شکل ہے، جہاں صوفیانہ رقص اور دھمال ڈالی جاتی ہے۔

بہار کی آمد کے ساتھ ہی بسنت کا تہوار خوشیوں کی نوید لے کر آتا ہے۔ پاکستان میں لوگ بالخصوص نوجوان بسنت کے آتے ہی رنگ برنگی پتنگیں اڑا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس کے لیے کسی خاص دن کا تعین ضروری نہیں اور نہ ہی خوشی کے اظہار کے لیے کوئی اصول ضابطے لازم ہیں۔ وسط فروری سے وسط مارچ تک آسمان پر خوبصورت رنگوں والی پتنگیں بہت بھلی معلوم ہوتیں تھیں۔ مگر اسے بد قسمتی کہیے کہ بسنت کا تہوار بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اصل صوفیانہ اور ثقافتی روح سے دور ہوتے ہوتے ایک ”خونی کھیل“ کی شکل اختیار کر گیا۔ نوے کی دہائی اور اکیسویں صدی کے آغاز میں لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں ہونے والے واقعات نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

بسنت کی سب سے ہولناک یادیں دھاتی یا کیمیائی ڈور کا استعمال ہے۔ پتنگ بازی میں سبقت لے جانے کے جنون میں ایسی ڈوریں بنائی گئیں جو نہ صرف پتنگوں کو کاٹتی تھیں بلکہ انسانی شہ رگ کو بھی پلک جھپکتے میں ہی کاٹ دیتی تھیں۔ موٹر سائیکل سوار اس کا سب سے زیادہ شکار بنے۔ راہ چلتے ہوئے اچانک گلے میں ڈور پھرنے سے کئی بچے اپنے والدین کی گود میں دم توڑ گئے۔ بسنت کی رات اور دن کو پتنگ کٹنے پر ”بو کاٹا“ کے نعروں کے ساتھ جدید اسلحہ سے ہوائی فائرنگ کی جاتی تھی۔ یہ فائرنگ اکثر جانی نقصان کا باعث اس وقت بنتی، جب اندھی گولیاں دور دراز بیٹھے معصوم شہریوں کو لگتیں۔ اس کے علاوہ، چھتوں پر پتنگ بازی کے دوران ہونے والی تکرار پرانی دشمنیوں کو ہوا دینے لگی، جس کے نتیجے میں کئی مسلح تصادم ہوئے اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ بسنت کے نام پر ہونے والی پارٹیاں رفتہ رفتہ اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے لگیں۔ لاہور کی والڈ سٹی کی چھتوں کو بھاری کرایوں پر بڑی کمپنیوں اور امراء کو دیا جاتا تھا، جہاں بلند آہنگ موسیقی (ڈی جے ) ، رقص اور شراب نوشی کی محفلیں جمتیں۔ اس پارٹی کلچر نے بسنت کی صوفیانہ حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا اور اسے فحاشی کا ذریعہ بنا کر معاشرے کے سنجیدہ حلقوں میں اس کے خلاف شدید نفرت پیدا کر دی۔ ماضی میں بسنت کے دوران ہونے والے حادثات کے اعداد و شمار کو سامنے رکھا جائے تو روح کانپ جاتی ہے۔

یہ ہولناک اعداد و شمار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک تفریحی تہوار کس طرح انتظامی نا اہلی اور سماجی بے راہ روی کی وجہ سے ایک انسانی المیے میں بدل گیا۔

کم و بیش بیس پچیس سال کی طویل پابندی کے بعد فروری 2026 ء میں پنجاب حکومت نے لاہور میں محدود پیمانے پر بسنت منانے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ملک سیاسی کشمکش اور نوجوان نسل ذہنی انتشار کا شکار ہے۔ یہ کشمکش اور انتشار سوشل میڈیا سے عیاں ہے۔ گو کہ حکومت نے بسنت بحالی کا مقصد ثقافتی ورثے کو زندہ کرنا اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ بتایا، تاہم، اس فیصلے کو شدید تنقید اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں حکومت نے ”پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 ء“ کے تحت بسنت کی اجازت دی۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس سے مقامی صنعت، ہوٹلنگ اور سیاحت کو اربوں روپے کا فائدہ ہو گا۔ صرف لاہور میں پتنگوں اور ڈور کی فروخت سے ایک بلین روپے تک کا کاروبار متوقع تھا۔ ماضی کے ہولناک واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس بار سخت ضوابط متعارف کرائے گئے۔ ہر پتنگ اور ڈور کے پنے پر مخصوص QR کوڈ لگانا لازمی تھا تاکہ غیر قانونی مٹیریل کی ترسیل کو روکا جا سکے۔ پتنگوں پر سیاسی پارٹیوں کے پرچم یا تصاویر لگانے پر پابندی لگائی گئی تاکہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈز نصب کرنا لازمی قرار دیا گیا، حکومت نے خود 1.4 ملین راڈز تقسیم کیے۔

بسنت کی بحالی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا کہ یہ تہوار اب غریب کے لیے نہیں رہا، بلکہ یہ صرف ایلیٹ کلاس اورلبرلز کا سٹیٹس سمبل بن کر رہ گیا ہے۔ بسنت کی اصل روح سرسوں کے پھولوں کی گاگریں، گڑوے ناپید ہو چکے۔ حقیقی خوشی کے لیے روٹھوں کو منانے اور دکھی لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنا کسی کو یاد نہیں۔ وہ امن آشتی کے گیت ماضی کا حصہ بن چکے۔ رہ گئیں پتنگیں، ان کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ اور والڈ سٹی کی چھتوں کے کرایوں نے اس تہوار کو اشرافیہ تک محدود کر کے رکھ دیا۔ والڈ سٹی میں ایک چھت کا کرایہ 15 لاکھ سے 25 لاکھ روپے تک پہنچ گیا، جسے بڑی کارپوریٹ کمپنیوں اور بینکوں نے اپنے مہمانوں کے لیے بک کیا۔ عام شہری، جو ماضی کے زخموں کو بھول نہیں پائے تھے، اب بھی سڑکوں پر چلتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔ حفاظتی تدابیر کے باوجود چند ہلاکتوں اور درجنوں لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خونی ماحول کے باعث بند ہو جانے والے تہوار کو بحال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اب تو کوئی عوامی پریشر بھی نہیں تھا اور نئی نسل تو اس سے ویسے ہی بے خبر تھی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پنجاب سرکار نے اپنی مقبولیت کا سکور بڑھانے کے لیے یہ مشکل فیصلہ کیا جس سے سیاسی حریفوں کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کا بھی کام لیا گیا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومتی اہل کار بسنت کی عوامی سطح پر بحالی اور کامیابی کی مبارک بادیں سمیٹ رہے ہیں۔ جب کہ بسنت غربت کے مارے اور ٹیکسوں، جرمانوں کے بوجھ تلے دبے نادار عوام سے دور رہی۔ زیادہ تر غریب لوگوں نے گردن بچانے کے لیے گھر میں محصور ہونے کو عافیت جانا۔ اور کچھ مجبور لوگ موٹر سائیکلوں پر راڈ لگا کر سہمے سہمے اپنی روزی روٹی کے لیے معمول کے کاموں میں مصروف رہے۔ آپ سوشل میڈیا پر دیکھ لیجیے، صرف ایلیٹ کلاس نے ہی چھتیں آباد کیں، فلڈ لائٹس لگائیں، میوزک کے ساتھ دیگر لوازمات کے ساتھ اپنی راتوں کو رنگین بنایا۔ پنجاب حکومت نے اپنے فیصلے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے سرکاری مشینری اور سرمائے کو بے دریغ استعمال کیا گیا۔ وزیروں مشیروں کے ساتھ سرکاری محکموں کے سربراہان کے لیے بسنت کا بھرپور اہتمام لازمی قرار دیا گیا۔ اربوں روپے کے اخراجات سے اس حکومتی بہانے کی قلعی کھل گئی کہ خزانہ خالی ہونے کے باعث سرکاری ملازمین کی پنشنوں اور ان کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی جیبیں کاٹ کر بے تحاشا سرمایہ اپنی مقبولیت کی تشہیر پر ضائع کیا گیا۔ اگر آپ نے بسنت بحال کرنی ہی تھی تو اس کے لیے جگہیں مخصوص کرتے کہ فلاں فلاں کھلی جگہوں پر پتنگیں اڑانے کی اجازت ہو گی۔ کیا برس ہا برس منٹو پارک میں پتنگیں نہیں اڑائی جاتی رہیں۔ اس وقت جب شہر انتہائی گنجان ہو چکا ہے، بجلی کی تاروں کے گھنے جال ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں، ایسے میں چھتوں اور گلی کوچوں میں پتنگ بازی کی اجازت سے کون سے کلچر کی پاسداری مقصود ہے۔

بسنت کی تاریخ امیر خسرو کی صوفیانہ بصیرت سے شروع ہو کر عصرِ حاضر کی انتظامی اور سماجی الجھنوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ امیر خسرو کے گیت ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ تہواروں کا اصل مقصد انسانی روح کی بالیدگی، آپس میں محبت اور مرشدِ حقیقی کی خوشنودی ہونا چاہیے۔ ان کے کلام میں موجود ”سکل بن پھول رہی سرسوں“ اور ”آج بسنت منا لے سہاگن“ جیسے مصرعے ہمیں فطرت کے ساتھ جڑے رہنے کی دعوت دیتے تھے۔ دوسری طرف، ماضی کے ہولناک واقعات ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ جب ایک صحت مند روایت میں جنون، اسلحہ اور اخلاقی بے راہ روی شامل ہو جائے تو وہ رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ 2026 ء میں بسنت کی بحالی کی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اس ثقافتی روایت کو دوبارہ پٹری پر لانا چاہتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار صرف قانون سازی پر نہیں بلکہ عوام کے ذمہ دارانہ رویے پر ہے۔ بسنت کو اگر دوبارہ ”خسرو کی بسنت“ بنانا ہے تو ہمیں شیشہ و کیمیکل والی ڈور، ہوائی فائرنگ اور فحاشی کی محفلوں سے تائب ہو کر اسے دوبارہ زرد پھولوں، صوفیانہ قوالیوں اور ایک پر امن سماجی جشن کی شکل دینی ہوگی۔ مستقبل میں بسنت کی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب اس کا رنگ کسی انسانی خون سے نہیں بلکہ صرف اور صرف سرسوں کے پیلے رنگ اور صوفیانہ عشق کے نور سے منور ہو۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW