ایک شاعر یا ادیب کی حقیقی عظمت کیا ہے؟

مسرور خان ہم پاکستان و ہندوستان میں عموماً ان شاعروں یا ادیبوں کو عظیم سمجھتے ہیں جنہیں عوامی شہرت نصیب ہو جاتی ہے یا جنہیں خوب ہی ایوارڈز وغیرہ سے نوازا جاتا ہے یا جن پر مستقل کتابیں، تھیسس لکھے جاتے ہیں یا ریسرچ وغیرہ کی جاتی ہے یا جنہیں ایک مستقل اعلیٰ ترین معیار سمجھ لیا جاتا ہے اور جن سے دیگر شاعروں یا ادیبوں کا تقابل کیا جاتا ہے اور ان کے مقامات کا تعین کیا جاتا ہے اور جن پر تنقید کرنے یا غیر جانبدارانہ تبصرہ کو قطعی طور پر ممنوع تصور کیا جاتا ہے اور یوں وہ ’علیہ السلام‘ کے منصب پر پہنچا دیے جاتے ہیں اور ان پر تنقیدی گفتگو کرنے والے کا اکثر و بیشتر مذاق اڑایا جاتا ہے اور شخصیت پرستی کی روایت کو قائم و دائم رکھنا اخلاقی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ کے لیے ایک شاعر، ادیب یا دانشور کی حقیقی عظمت کیا ہے؟

(مسرور خان)
بلند اقبال: میرے خیال میں یہ مسائل ان معاشروں کے ہیں جہاں کی عوام و خواص ایک طویل عرصے سے شخصیت پرستی کی طاقتور جین کے زیراثر رہنے کی وجہ سے بیماری کی حد تک زخم خوردہ ہو چکی ہے۔ اس کروموسومل جین میں مذہبی فکر کا بھی ایک گہرا کردار ہے کہ یہ وہ اسی ’تربیت کے اثر میں‘ ہر اس شخصیت کو جن سے وہ متاثر ہو جاتے ہیں ان سے ایک اندھی پرستش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست، ادب، فائن آرٹ حتی کہ سوشل دنیا میں بھی شخصیات، ایک پیغمبرانہ سا مقام حاصل کر لیتی ہیں۔ اچھا یہ مسائل مغربی دنیا میں بھی ایک طویل عرصے تک رہے ہیں مثلاً ایک ہزار برس تک ارسطو اور افلاطون کی فکر کو فکر و شعور کی دنیا میں چیلنج کرنا بھی کچھ ایسا ہی تھا جیسے عیسیٰ و موسیٰ کے خلاف بغاوت بلند کر دینا مگر پھر گلیلیو اور فریڈرک نطشے جیسے لوگ آئے اور انہوں نے ساری بساط الٹ کر رکھ دی اور ان بڑے فلاسفرز کو بھی ان کی صحیح جگہ پر پہنچا دیا۔ مگر ہمارے یہاں یہ بیماری ابھی بھی موجود ہے اور ہم آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ بڑا ادیب زیادہ ایوارڈز اور زیادہ شہرت رکھنے والے شخص کو ہی کہا جاتا ہے۔
جب کبھی بھی بات ایک حقیقی یا نامیاتی دانشور، شاعر اور ادیب کی آتی ہے تو سیدھا سادا ایک ہی سوال ہمارے ذہن میں آتا ہے کہ کیا واقعی کسی ادیب، شاعر یا دانشور پر زیادہ لکھا جانا اس کی عظمت کا ثبوت ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ سا ہے، مگر اس کے اندر ایک گہرا فکری اضطراب چھپا ہوا ہے۔ یعنی کیا شے اہم ہے؟ یعنی کسی ادیب، شاعر یا دانشور پر تحقیق و تالیف کا ہجوم یا اس کے کلام کے معنی کی گہرائی؟ دنیا میں ایسے کئی ایک نام ہیں جن پر صدیوں سے لکھا جا رہا ہے مثلاً مغرب میں ولیم شیکسپئر، فیدر دستووسکی یا پاکستان و ہندوستان میں مرزا غالب اور محمد اقبال، ان پر ہزاروں کتابیں، لاکھوں مقالے، اور بے شمار تشریحات موجود ہیں اور ہر دور نے انہیں اپنے انداز میں سمجھنے کی کوشش کی لیکن آخر میں سوال یہی رہا کہ کیا یہ سب کچھ ان کی عظمت کا ثبوت ہے یا ہماری اپنی بے بسی کا؟
ایک عام ادیب کو ایک بار پڑھا جاتا ہے، سمجھ لیا جاتا ہے، اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن ایک عظیم ادیب کو بقول کسے بار بار پڑھا جاتا ہے اور ہر بار وہ پہلے سے زیادہ اجنبی محسوس ہوتا ہے یوں ایک مقام آتا ہے جہاں تحقیق شروع ہوتی ہے یعنی تحقیق عظمت کو پیدا نہیں کرتی ہے بلکہ عظمت تحقیق کو جنم دیتی ہے۔ مگر پھر یاد رہے کہ ایک عظمت نصابی بھی ہوتی ہے جو حقیقی عظمت سے قطعی مختلف ہوتی ہے یعنی کبھی کبھی کسی ادیب کو نصاب، سیاست، یا سماجی رجحانات کے ذریعے بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اس پر تحقیق ہوتی رہتی ہے مگر وہ تحقیق اکثر زندہ سوالات سے نہیں بلکہ مردہ تکرار سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے میں بدقسمتی سے الفاظ تو رہ جاتے ہیں مگر روح غائب ہو جاتی ہے اور ہم یہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ تکرار ہی عظمت ہے۔ اسے ہم ایک خاموش عظمت کہہ سکتے ہیں دوسری طرف کچھ ادیب ایسے ہوتے ہیں جن پر زیادہ نہیں لکھا جاتا ہے اور جنہیں نصاب میں بھی جگہ نہیں ملتی ہے مگر ان کے چند الفاظ ہی انسان کے اندر ایک انقلاب برپا کر دیتے ہیں۔
میرے لیے یہی وہ عظمت ہے جو بیرونی شور نہیں کرتی مگر اندر سے انسان کو بدل دیتی ہے۔
اس لحاظ سے میرے لیے عظیم ادیب وہ نہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہو بلکہ وہ ہیں جن کے الفاظ وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہوں، جو انسان کے اندر ایسے سوال جگائے جن کا جواب آسان نہ ہو اور جو قاری کو سکون نہیں بلکہ بے چینی دے اور جنہیں سمجھنے کے بعد بھی نہ سمجھنے کا احساس باقی رہے مطلب میرا یہی ہے کہ اصل جواب یہ نہیں کہ ’کتنا لکھا گیا؟ بلکہ یہ ہے کہ کتنا باقی رہ گیا ہے جو ابھی تک لکھا نہیں جا سکا؟ کیونکہ عظمت وہ نہیں جو بیان ہو جائے بلکہ وہ ہے جو ہر بیان کے بعد بھی خاموش رہے۔
