میرے مطابق

گلگت بلتستان میں تعلیمی انقلاب

dr uzma saleem

گلگت بلتستان کا حسن کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ خاص طور پر موجودہ موسم میں دنیا بھر کی توجہ ان علاقوں کی جانب ہو جاتی ہے۔ جہاں سیاحوں کی نظریں خوش نما مناظر کی جانب کھنچی جاتی ہیں، وہیں صبح سویرے کا ایک منظر بھی توجہ ھاصل کرتا ہے۔ جب سینکڑوں طلبا و طالبات اپنے اپنے تعلیمی اداروں کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں۔ اکثر سیاح اس منظر پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور دنیا بھر کو بتاتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں تعلیم کا تناسب پاکستان کے دوسرے ترقی یافتہ صوبوں سے زیادہ ہے۔ ابتدائی طور پر یہ بیان صرف ہنزہ کے لیے دیا جاتا تھا، لیکن اب گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں صورت ِ حال تیزی سے تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے ان خطوں میں تعلیم کے میدان میں خدمات انجام دینے کے باوجود، صبح کا یہ خوش کن منظر کبھی کبھی حیران کر دیتا ہے۔ دل میں ایک تسکین بھی ہوتی ہے کہ ارد گرد بہت سے چراغ اجالا کر رہے ہیں اور اس تعلیمی انقلاب کے نتائج مزید بہتر ہوں گے۔

ایک جائزہ لیا جائے تو ان علاقوں میں تعلیمی میدان کا ماضی خشک رہا ہے۔ ابتدا میں کشمیر اور پاکستان کے دوسرے صوبوں میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان رہا۔ جو خال خال ہی دیکھنے میں آتا۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی یا دیگر منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے لوگ بھی باہر سے ہی آتے رہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، جب میٹرک تک کے امتحانات دوسرے بورڈ لیا کرتے تھے۔ یہاں اسکول کی سطح تک کے اساتذہ تو موجود تھے، البتہ کالج کی سطح پر محرومی کا سامنا تھا۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ مقامی افراد کی توجہ تعلیم کی جانب مول ہوئی ہے اور تعلیم ان کی پہلی ترجیح بن گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے یہاں انڈسٹریل زون موجود نہیں، ملازمتوں کے لیے سرکار کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔ ماضی کی محرومیوں سے باہر نکلنے کے لیے، معاشی سطح پر خود انحصاری کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ سو، یہاں کے باسی بھی اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر، تعلیم میں ہی ڈھونڈ رہے ہیں۔

موجودہ تعلیمی انقلاب کی بنیاد میں مقامی اور غیر مقامی افراد کے علاوہ کئی تنظیموں کا بھی حصہ ہے۔ ان میں سے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام سرِ فہرست ہے۔ سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ ان کے قائم کردہ اسکول، آرمی پبلک اسکول، اور دیگر کئی تنظیموں نے بھی تعلیمی شعور بخشا۔ تاہم انقلابی صورتِ حال یہاں پہلی یونی ورسٹی بننے کے بعد ہی پیدا ہوئی۔ 2002 ؁ ٗ وہ سال تھا، جب یہاں اس یونی ورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کیڈٹ کالج اسکردو کا قیام عمل میں آیا، جو پورے ملک میں توجہ کا باعث بنا۔ بعد ازاں قراقرم یونی ورسٹی کے سب کیمپس کو بنیاد بنا کر بلتستان یونی ورسٹی عمل میں آئی۔ اس وقت تک بھی تعلیمی منظر نامہ کچھ الجھا الجھا سا رہا۔ تعلیمی بورڈ، امتحانات، کالج اور یونی ورسٹی کی کارکردگی الگ الگ سمتوں میں چلتی رہی۔

پاکستان کے دیگر صوبوں کے تعلیمی منظر نامے کو یہاں کے لوگ رشک سے دیکھتے رہے اور ان کے بنائے گئے نمونوں پر ہی عمل پیرا رہے۔ اسکول کی سطح پر پھر بھی کچھ قابلِ ذکر کام ہوا البتہ کالج اور یونی ورسٹیاں حسب ِ معمول ابتدائی مسائل کا شکار رہیں۔ کیونکہ کالج اور اسکول ایک ہی شعبے کے تحت چلتے رہے۔ اس دوران بیورو کریسی، تعلیمی، سیاسی اور سماجی کارکنوں کی پوری کوشش رہی کہ تعلیمی ڈگر سیدھی ہو سکے۔ اللہ اللہ کر کے گلگت بلتستان نے بھی وہ وقت دیکھا، جب اسکول، کالج، یونی ورسٹی، سب کا الگ الگ میدان مقرر ہوا۔ یونی ورسٹیوں کی سینیٹ کمیٹی، سینڈیکیٹ، اکیڈمک کمیٹی اور ایچ ای سی کے روابط مضبوط ہوئے۔ کالج کی سطح پر ہایئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا اور اسکولوں کی انتظامیہ الگ ہو گئی۔

بہ ظاہر یہ سب کچھ بہت اچھا ہوا، ایک طویل عرصے کی جد و جہد رنگ لائی۔ لیکن جیسے ہر انقلاب کے بعد ہوتا ہے، کچھ معاملات الٹ پلٹ بھی ہوئے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ گلگت بلتستان ہایئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اپنی الگ پہچان بنا رہا ہے۔ اس کی باگ ڈور بہت سے باشعور اور تجربہ کار افراد کے ہاتھ میں ہے۔ تاہم کئی میدانوں میں اس موقع پر توجہ کی ضرورت ہے۔ تا کہ اس شعبے کے بنیاد اتنی مضبوط ہو کہ اسے آنے والے برسوں میں وسیع میدان ملے۔ گلگت بلتستان کے طالب علم جو علم کی پیاس لیے اندرون اور بیرونِ ملک بھٹکتے رہے، اپنی اگلی نسلوں کو اسی دہلیز پر تمام سہولیات فراہم کر سکیں۔ موجودہ صورتِ حال میں درج ذیل اقدامات کی شدت سے ضرورت ہے تا کہ مزید وقت ضائع کیے بغیر ہم تعلیمی منظر نامے کو قابلِ توجہ بنا سکیں :

1۔ کالج کی سطح پر تمام کالجوں کو اسی طرح یکساں پہچان دی جائے۔ جس طرح پاکستان کے دوسرے صوبوں میں رائج ہے۔ یعنی دو سطحیں، ایسوسی ایٹ کالج اور ڈگری کالج۔ تاکہ ہر سطح کے کالج کو اس کے مطابق بجٹ مل سکے۔

2۔ نئے تعلیمی نظام یعنی بی، ایس، اور اے ڈی پی کی تعلیم، سمیسٹر سسٹم، اور اور ان کے تقاضوں کے مطابق ہر سال اسٹاف کی ٹریننگ کا انعقاد ضروری خیال کیا جائے۔

3۔ ایچ ای سی کے اصولوں کے مطابق بی ایس اور اے ڈی پی کے لیے ایم اے، ایم ایس سی کی تعلیم ناکافی ہے۔ اس لیے جن کالجوں میں یہ پروگرام شروع کیے جائیں، ان کے اساتذہ کو مزید تعلیم کے لیے چھٹیوں کو یقینی بنا یا جائے۔

4۔ نئی ڈگریوں میں کورس ورک کے ساتھ ساتھ ریسرچ پر زور دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے کم از کم ایک ایک ریسرچ اسسٹنٹ متعلقہ لیب میں موجود ہونا چاہیے۔

5۔ جو اساتذہ نئے کورس پڑھا رہے ہوں، ان کی سالانہ رپورٹ میں ان کی اپنی ریسرچ اور آرٹیکلز کے بارے میں بھی پوچھا جائے۔

6۔ آئندہ بننے والے کالجز میں کلاس رومز کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل لیب کی ضرورت کو سمجھنا بھی ضروری ہے، اسی کے مطابق نئے اسٹاف کی بھرتی کو یقینی بنا یا جائے۔

7۔ نصابی سطح پر یونی ورسٹیوں اور کالج کو ہم آہنگ بنایا جائے۔

8۔ گلگت بلتستان ہایئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان ہایئر ایجوکیشن کمیشن بنانے کی ضرورت ہے تا کہ ایچ ای سی کی فنڈنگ میں یہ صوبہ، باقی علاقوں سے پیچھے نہ رہ جائے۔

9۔ ایک اکیڈمک ڈائریکٹر کو مسلسل یونی ورسٹی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے۔

10۔ اب گلگت بلتستان میں اہلِ علم اتنی استعداد رکھتے ہیں کہ وہ نصاب سازی کی جانب توجہ کر سکیں۔ تعلیمی نصاب میں گلگت بلتستان کی معاشرتی، تاریخی، سیاسی، سماجی، سیاحتی جھلکیوں کو پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

درج بالا کچھ تجاویز پر غور کرنے کی اس لیے ضرورت ہے کہ تعلیمی انتظامی ڈھانچہ اپنے پاؤں پر جلد سے جلد کھڑا ہو سکے۔ ایک زمانے تک تقلید کی روش عام رہی لیکن اب مسائل کا دور گزر چکا ہے اور میسر وسائل سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگر اب بھی ہم نے نئی راہیں تلاش نہ کیں تو ہم آئندہ نسل کے مجرم ٹھہریں گے، وہ نسل، جس میں قابلیت اور جذبے کی کمی نہیں، وہ صرف مواقع کی تلاش میں ہیں۔ اگر انہیں مواقع اپنے گھر کی دہلیز پہ مل جائیں تو موجودہ تعلیمی انقلاب اپنی غرض و غایت میں مزید مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW