بلاگ

اردو ادب کا ”اعتبار“ رخصت ہوا

Shakeel khursheed

اعتبار ساجد سفرِ آخرت پہ روانہ ہو گئے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔

سال بھر پہلے ایک شام اچانک وٹس ایپ کے ایک گروپ میں شامل پایا گیا جو ہماری رہائشی سوسائٹی کے کچھ احباب نے تشکیل دیا تھا۔

شرکائے گروپ کے ناموں پر نظر دوڑائی تو دفعتاً ایک نام پر آ کر ہاتھ، نظر، دھڑکن سبھی کچھ تھم گیا۔

اب نام کوئی شکیل، جمیل، خلیل جیسا ہوتا تو اور بات تھی، لیکن نام تھا اعتبار ساجد۔ کیا وہی اعتبار ساجد؟ ڈرتے جھجکتے پوچھ لیا کہ کیا ہمیں دنیائے سخن میں اردو زبان و ادب کا اعتبار قائم رکھنے والے اعتبار ساجد صاحب سے ہم نشینی کی سعادت نصیب ہو رہی ہے؟ اور اثبات میں جواب پا کر ہم نے فوراً زانوئے تلمذ طے کرتے ہوئے اپنے تئیں اپنے آپ کو اعتبار صاحب کے حلقہ ارادت میں شامل کر لیا۔ یہ میری خوش نصیبی اور اعتبار ساجد صاحب کی بندہ پروری تھی کہ یہ وٹس ایپی شناسائی جلد ہی بالمشافہ نیاز مندی کے رشتے میں تبدیل ہو گئی۔ وہ دن اور آج کا دن، اعتبار ساجد صاحب کا دستِ شفقت مجھے ہر نئے راستے پر رہنمائی کرتا رہا۔ چند ماہ پہلے ان کی جانب سے ایک تقریب میں مجھے بھی لب کشائی کا حکم ہوا تو یکے بعد دیگرے کئی کیفیات دل پر گزر گئیں

اولاً تو ایک لطیف سرشاری کے جذبے نے اپنے سحر میں لے لیا کہ اس ناچیز کو دنیائے ادب میں سند کا درجہ رکھنے والی ہستی نے اس قابل سمجھا کہ اپنی مجلس میں اذنِ کلام دیا۔

ساتھ ہی ہیجان اور کپکپاہٹ نے آن لیا کہ اس آفتابِ سخن کو میں ہیچمدان کیا چراغ دکھا پاؤں گا۔

پھر ایک گونہ اعتماد نے یوں سنبھالا دیا کہ اگر دنیائے شعر و سخن کے عظیم جوہری نے اس قابل سمجھا ہے تو تراش و خراش اور زینت و زیبائش بھی انہی کی ذمہ داری ٹھہرے گی۔

لیکن جو آخری کیفیت وارد ہو کر تھم سی گئی وہ ایک عالمِ تحیر کی کیفیت تھی جس نے مبہوت کر کے رکھ دیا کہ مجھے اس شخصیت کے بارے میں بولنا تھا جن پر مقالہ لکھ کر درجنوں طلبہ پی ایچ ڈی اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کرچکے تھے۔

جن پر ایک سے زیادہ ڈاکیومنٹری فلمیں بن چکی تھیں۔
جن پر ملک کے معتبر اخبارات و رسائل خصوصی ایڈیشن شائع کرتے تھے۔
جو پی ٹی وی کے درجن بھر سے زائد ڈراموں کے ڈرامہ نویس تھے۔

ایک احساسِ تفاخر کہ مجھے اس ہستی کا تعارف کروانا تھا جو غزل کے شاعر بھی تھے، نظم کے استاد بھی، اور جن کی شاعری، ڈراموں، ناولوں، افسانوں، کالموں اور بچوں کے ادب پر مشتمل ادبی، تحقیقی و تنقیدی تصانیف کی تعداد ساٹھ سے تجاوز کر چکی تھی۔

جو صحافت، درس و تدریس اور شو بز جیسے شعبوں میں اپنی طویل خدمات سرانجام دے چکے تھے۔

وہ تقریب اعتبار ساجد صاحب کی مسلسل گرتی ہوئی صحت کے باعث دو دفعہ کینسل ہوئی۔ کسے خبر تھی کہ ان کی تقریب میں ان کے تعارف کے لئے تیار کی گئی میری تیاری ان کے لئے میری تعزیتی تحریر بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ اعتبار ساجد صاحب کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اگلی منزلوں کو آسان فرمائے۔

میں اعتبار ساجد صاحب کی خدمات اور ان کی تصانیف کی شماریات پر وقت ضائع نہیں کروں گا کیونکہ یہ سب تو اب ایک کلک پر ہمارے موبائل اور کمپیوٹرز کی سکرینوں پر آ موجود ہوتا ہے۔

آج اس غمناک دن پر مجھے یاد آ رہا ہے وہ عہد ساز انسان، جو ایک شفیق باپ تھا۔ جو ایک دِلجُو استاد تھا اور ایک نہایت ہی نفیس انسان تھا۔ جو اتنا منکسر المزاج تھا کہ محبوب سے تقاضائے الفت بھی کرتا تو پہلے اس کی فرصت کا خیال کرتا۔

”تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو“

اور اتنا قناعت پسند کہ جہاں خلقت ایک جنبشِ ابرو پر عمریں نچھاور کر دینے کو بے تاب ہو وہاں فرمائش کی تو بس اتنی سی کہ

” میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو“

اعتبار ساجد صاحب شستہ، شائستہ اور دھیمے لہجے کے شاعر تھے، یوں تو ان کی پہچان رومانوی شاعری تھی لیکن ان کی شاعری کا مفصل مطالعہ کریں تو ان کے مضامین میں رومانویت کے ساتھ ساتھ عصری معاملاتِ زندگی پر ایک گہری کمنٹری بھی ملتی تھی۔ البتہ لطف کی بات یہ تھی کہ ان سماجی، معاشرتی ناہمواریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی زبان و بیان کی شگفتگی اور شائستگی، لہجے کا دھیما پن برقرار رہتا ہے۔ جیسے ان کی یہ نظم۔ عکس بندی

پرائے گھر کی بیٹی جل رہی ہے اچھا موقع ہے
بجھا دو پیاس شعلوں کی کنستر ڈال دو اس پر
سلگتے بین سن کر اب نہیں بیدار ہوگی وہ
کہانی سو گئی، پھولوں کی چادر ڈال دو اس پر
اک اسٹریچر کے پہیے گھومتے ہیں برن یونٹ میں
یہ منظر ڈھانپ دو اچھا سا منظر ڈال دو اس پر

ملاحظہ کیجیئے کہ اس خوفناک معاشرتی لعنت پر بات کرتے ہوئے بھی لہجے کی شگفتگی اور متانت کیسے برقرار رہی۔ نہ کوئی چیخ ہے نہ اُدھم نہ شعلہ بیانی۔ لیکن ایک سرجن کے نشتر کی طرح تیز دھار، لہجہ اتنا تیز کہ ناسور کو کاٹ کر پھینک ڈالے لیکن جسم کو درد کا احساس تک نہ ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں بات کرنے کے اس ڈھنگ کو رائج کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج اردو ادب کے قحط الرجال کے دور میں تو اعتبار ساجد صاحب کا دم ہمارے لئے غنیمت تھا ہی، لیکن جب اردو ادب کا آسمان فراز، امجد اسلام امجد اور احمد شہزاد اور افتخار عارف جیسے ستاروں کی کہکشاں سے جگمگا رہا تھا، اعتبار صاحب کا آفتاب اس دور میں بھی افقِ سخن کو تابندہ کیے ہوئے تھا۔ جناب اعتبار ساجد کا پہلا مجموعہ کلام 1978 میں شائع ہوا یعنی ان کی ادبی زندگی کا سفر قریب پانچ دہائیوں پر محیط ہے۔ یہ کہنا ہر گز مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ اردو کے قدر دانوں کی ایک سے زیادہ نسلوں کا اردو ادب پر اعتبار، اعتبار ساجد صاحب کی تخلیقی کاوشوں کا مرہون منت رہا۔

پچھلے ایک سال میں ان کی صحت مختلف عارضوں کے باعث مسلسل گرتی جا رہی تھی۔ لیکن اپنے فن سے ان کا لگاؤ دیکھیں کہ آخری وقت تک وہ تخلیقِ ادب میں مصروف رہے۔ اس بیماری کی حالت میں بھی وہ اپنی نئی کتاب پر کام کر رہے تھے، جو معلوم ہوا کہ اس وقت زیرِ طباعت ہے۔

نیک اور سعادت مند اولاد اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہوتا ہے۔ اعتبار ساجد صاحب اس انعام سے مالا مال تھے۔ میں ذاتی طور پر ان کے دونوں صاحبزادوں کی سعادت مندی اور خدمت گزاری کا گواہ ہوں۔ اللہ ان کی اولاد اور دیگر اہلِ خانہ کو اس کا صلہ دے، اور ان کو اس سانحے سے صبرِ جمیل کے ساتھ عہدہ برا ہونے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے۔ البتہ یہاں میں شہرِ لاہور کے ادبی منظرنامے کی بے حسی کا گلہ ضرور کروں گا، آج ان کی تدفین پر گنتی کے چار پانچ شعرا اور لکھاریوں کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔

آج ان کی رحلت پر یہ تحریر قلم بند کرتے ہوئے میں بیک وقت اپنے لئے خوش نصیبی اور بد نصیبی کا احساس لئے ہوئے ہوں۔ خوش قسمت اس لئے کہ اعتبار ساجد صاحب کی زندگی کے آخری کچھ مہینوں میں ان سے نیاز مندی حاصل ہوئی۔ ان چند مہینوں میں متعدد ملاقاتوں میں ان سے بہت کچھ اکتسابِ فیض ہوا۔ بد نصیب اس لئے کہ یہ ساتھ اگر کچھ عرصہ اور مل جاتا تو وہ مجھ پتھر کو پارس کر جاتے۔ اللہ کی مشیت کے آگے ہم سب بے بس ہیں۔

اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین۔
یقیناً آج اردو ادب کا ”اعتبار“ اٹھ گیا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW