بلاگ

پوچا کہانی

sheikh laeeq ahmad

پچھلے سال ڈیڑھ سال میں ہندوستانی پنجاب پولیس کے متعلق یہ ویڈیو ریل کوئی پانچویں مرتبہ سامنے آئی تھی۔ ہنسی تو اب بھی ویسی ہی آئی مگر اب کے ساتھ کچھ مراقبے کی سی حالت وارد ہو گئی۔ القا ہوا کہ بھائی زندگی میں جس چیز کا ساتھ سب سے زیادہ رہا وہ تو یہی ”پوچا لگانا“ ہے

پہلے ویڈیو کہانی۔ تھانیدار صاحب فون پر نائب تھانیدار سے ”ارے بھئی کتنی دیر تجھے قتل کی جائے واردات کی طرف گئے ہو چکی، ابھی تک رپورٹ نہیں دی“

نائب تھانیدار ”جی میں کافی دیر سے آیا کھڑا ہوں۔ اندر خاتون نے اپنے شوہر کو گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔ وہ فرش پہ پوچا لگا رہی تھی اور خاوند باوجود روکنے اندر آ گیا تھا“

تھانیدار ”تو پھر قاتلہ کو آلۂ قتل کے ساتھ گرفتار کر لیا؟“

” جی نہیں۔ پوچا ابھی گیلا ہے اور پستول اس کے ہاتھ میں“ ۔ اب اس مراقبے کی سی حالت میں اپنے انتہائی بچپن سے پوچا لگتے ایسی وارداتیں دیکھتے آنے کی کی کہانیاں سامنے آتی گئیں۔ بس تب پستول تو ہوتا نہیں تھا آنکھوں کے تیر اور زبان کے خنجر قسم کے ہتھیار ہوتے تھے۔

گو پوچا لگانا ازمنۂ قدیم سے ہی گھروں عمارتوں میں شروع ہو چکا ہو گا مگر ہم صرف اپنے دیکھے کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے بچپن کے زمانے تک دیہات کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں تک میں بھی کچے مکان ہوتے تھے۔ سیمنٹ کا رواج عام ہونے تک پکے مکان کی تعمیر میں بھی چکنی مٹی کے گارے کا استعمال اینٹوں میں ہوتا۔ اسی مٹی اور گندم کا بھوسہ ( توڑی ) اور گوبر کو ملا گارے کی طرح گوندھ کچی دیواروں، کچی چھتوں اور فرش پہ لپائی کی جاتی جو خاصی دیر پا اور بارش وغیرہ کا مقابلہ کر سکتی۔ اب اس لپائی کے اوپر گارے کو پتلا کر بالٹی میں ڈال سطح کو مزید ہموار اور خوبصورت بنانے کے لئے اس لپائی کے اوپر بڑے بڑے پرانے کپڑے یا ٹاٹ لے بھگو اسی طرح دائیں بائیں پھیرا جاتا جیسے کار کے وائپر چلتے ہیں۔ حسب ذوق دائرے یا مختلف ڈیزائن بھی نکالے جاتے۔ بس اصل پوچا یہی تھا جو عموماً گھر کی خواتین کی ذمہ داری تھی۔ یہ پوچا دیواروں اور چھتوں پر بھی چلتا مگر صحن اور فرش میں روزانہ یا ہفتہ وار حسب ضرورت پھیرا جاتا۔ ظاہر ہے پوچا لگاتی خاتون، ماں بہن بیوی، ملازمہ، کوئی ہو، پوچا سوکھنے سے پہلے کبھی کسی کو اس پہ قدم رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ساری محنت اکارت جاتی۔ بس یہاں سے ہی نینوں کے تیر، گھورتی، شعلے اگلتی آنکھوں تک سے لے پھول جھڑتی زبان، غصہ سے لال گال سے آگے نکلتے گھریلو عام ہتھیاروں سے ترقی کرتے اب بات شاید زمانۂ جدید کے ہتھیاروں اور فلمی ٹوٹوں اور پستول والی ریل تک آ پہنچی۔ گو بچپن میں لکڑی سے جلنے والے چولہے کے ساتھ پڑی پھُکنی یا چمٹا وغیرہ ماں کی جانب سے مع ”وے بھڑ نہ ہویا“ قسم کے پلوتے منہ سے جھڑتے ہم پر بھی پھینکا جاتا رہا جب ہم باہر سے کھیلتے آتے اور اور اپنے ایک کنال کے گھر کے بیشتر حصہ کچے صحن میں پوچا لگتے یا ابھی گیلے پوچے پہ قدم رکھ دیتے، مگر اب سمجھ آتی ہے کہ ماں کا نشانہ ہمیشہ غلط کیوں ہوتا تھا۔

اینٹوں کے سادہ فرش کا رواج پڑا تو اکثر بچوں کی ڈیوٹی نلکا چلا پانی کی بالٹیاں بھر پہنچانے پہ لگتی۔ خواتین ایک ہاتھ سے مگ وغیرہ سے پانی نکال ڈالتیں اور دوسرے سے جھاڑو چلاتی دھوتیں۔ پانی کی بچت مقصود یا مثلاً دور یا چھت وغیرہ پر جھاڑو پھیر بات گیلے کپڑے سے پوچا لگانے پہ آجاتی۔ بعض علاقوں یا برادریوں میں خواتین کا ذوق سیمنٹ سے جوڑ ٹیپ (ٹیپ) کیے اینٹوں کے فرش پہ سرخ رنگ یا گیری سے پوچا دینے پہ لے آیا۔ اس میں چنیوٹ اور بھیرہ پنڈی بھٹیاں وغیرہ قسم کے علاقے پیش پیش تھے۔ ٹائل سے بنی چھتوں والے گھروں میں نیچے سے چھت پہ شہتیروں کڑیوں کے درمیان سے سرخ رنگ کی گئی ٹائلوں کو دیکھنے کا اپنا مزا آتا۔ ( گزشتہ اکتوبر میں پاکستان پنڈی بھٹیاں انیس سو سینتیس میں ماں کے بنوائے گھر کو موجودہ مالکوں سے اجازت لے اندر سے دیکھنے گئے تو نظریں خود بخود چھت کی طرف سرخ ٹائلیں دیکھنے اٹھ گئیں۔ مگر بچپن کے ساتھ بچپن کی یادوں کے نقش بھی مٹ چکے تھے ) ۔ اب خود ہی سوچئے، تازہ پھیرے گئے سرخ رنگ پہ آپ کے گندے جوتے آئیں تو قتل تو بنتا ہے۔ جوتے اتار کے آئیں تو پاؤں کے تلے ایڑیوں پہ سرخ مہندی لگتی۔ ہمارا بچپن تو اس گیری سے رنگین کپڑوں پہ لگے داغوں کی یاد سے بھرپور ہے۔ شکر یہ کہ رنگ کچا تھا یعنی دھونے سے صاف ہوجاتا۔ تاہم کبھی خود بھی شرارتا ”لیٹ بیٹھ کپڑے رنگین دھبے دار کیے جاتے یعنی یہ فرش گندا کرنے سے روکنے کا بدلہ دھلائی کی بے گار سے لیا جاتا۔

وقت آگے نکلا تو سیمنٹ کے فرش سے بڑھتے چپس والے، ماربل والے اور اب قیمتی ٹائلوں والے فرش تک بات پہنچ چکی۔ مگر پوچا اب بھی اپنی قدر بنائے وہیں قائم ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ظالم بلکہ ”جُلمی بالما“ کے پوچا لگاتے ”ساجن جی آئے“ کے بعد کے لاڈ پیار کی داستانیں بھی۔

ویسے اب ”مختارے نے گل اگے ودھا لئی اے“ یعنی پوچا ماڈرن ہو گیا ہے۔ پاؤں سہارے زمین پہ بیٹھ آگے آگے ہوتی پوچا لگاتی تھکی ہاری پوچا لگانے والی کے ہاتھ میں ڈنڈے کے ساتھ نیچے بندھی ستلیوں یا کپڑے کی کترنوں سے بنا موپ کھڑے ہو کے پوچا لگواتا ہے اور سامنے اس پوچا لگانے والے موپ کو دھونے والی بالٹی کے اندر ہی اسے نچوڑ نے کا پاؤں سے دبا نے یا بجلی سے چلنے والا نظام آ گیا ہے۔ اور آگے بڑھتے کچھوے کی سی شکل کا الیکٹرک خودکار پوچا لگانے والا ”جھا چوہا“ قسم کے مختلف موپر مہمانوں کی موجودگی میں آزادی سے گھومتے، ٹکراتے، مڑتے، خود کار آگے پیچھے ہوتے، پوچے کا متبادل بن چکے۔ ایک عزیز کے گھر ایسے خودکار موپر کو صفائی کرتے دیکھ خیال آیا کہ اسے ایجاد کرنے والے کو بھی پوچا لگانے والی، پستول، ڈنڈا، یا آنکھیں دکھاتی ہو گی یا کفگیر کی چوٹ لگی ہوگی۔

زمانہ جتنا مرضی آگے بڑھ چکا مگر اس پوچے کا ہمارا بلکہ سب کا نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے۔ ”جہاں ہم جاتے ہیں، وہیں چلے آتے ہو“ والا۔ کسی دفتر، کاروباری ادارے میں جاؤ، کسی شاپنگ مال میں جاؤ، رقبہ کی مناسبت سے ہاتھ میں پکڑا عام یا مشینی پوچا دان، چھوٹے ٹریکٹر سائز کی مشین پوچا پھیرتی نظر آ جائے گی۔ فرق یہ کہ ادھر پستول کی بجائے۔ ”فرش گیلا ہے“ کی تختی رکھ دی جاتی ہے۔ اور بندہ اسی کو تنا ہوا پستول سمجھتے بچ کے گزرتا ہے۔ ہاں تو بریمپٹن کے جس کمیونٹی سنٹر میں ہم ورزش یا واک کے لئے جاتے ہیں اس میں بہت سے کھیلوں، تیراکی کے تالابوں، عوام کی تقریبات یا مل بیٹھنے، پارٹی کرنے کے کمروں کے علاوہ اندر سے یخ منجمد برف کے شفاف فرش والے دو بہت بڑے سٹیڈیم نما ہال ہیں۔ جن میں سکیٹنگ اور آئس ہاکی کا انتظام ہے۔ ہر کھیل ختم ہونے کے بعد یا وقفہ کے دوران ایک روڈ رولر جیسی بڑی مشین پورے فرش جسے آئس رنک ( ر کے نیچے پیش ) کہا جاتا ہے کو بالکل پوچا لگانے کی طرح اسے ہموار کرتی چمکاتی لشکاتی ہے۔ ہائے اوئے پوچے، ”جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔

موجودہ دور کی آسمان کو چھوتی ہر طرف شیشہ لگی عمارتوں نے اوپر سے نیچے کی طرف کے پوچے کو متعارف کرایا ہے۔ عمارت کی چھت پہ لگی مشینری سے سانپ کی طرح ہلکورے کھاتے مضبوط رسوں سے لٹکتے انتہائی محفوظ لباس یا گیئر پہنے، خصوصی ٹریننگ لئے کارکن اپنی کٹ میں خود کار وائپر لئے نیچے آتے جاتے دائیں بائیں کی کھڑکیوں یا شیشے صاف کرتے آتے ہیں۔ دوبئی کی شارع شیخ راشد بن المکتوم پہ تقریباً اسی منزلہ ہائی رائیز ٹاور بلڈنگ کی چھت سے رسہ پکڑ ہوا سے سانپ کی طرح لہراتے، اپنا توازن برقرار رکھتے کارکنوں کو سامنے اپنی قیام گاہ سے شیشے کھڑکیاں صاف کرتے دیکھتے جو ہول اٹھا آج بھی اس کی یاد کپکپی لگا دیتی ہے۔ پوچا لگانے کا یہ انداز ”ہیں مشکل بہت بندۂ مزدور کے اوقات“ کی صحیح تصویر ہیں۔ پتہ چلا کہ برج خلیفہ کے باہر سال بھر اوپر آسمان کی بلندیوں سے نیچے کی طرف شیشے صاف کرتے ہلتی چیونٹیاں نظر آنے والے یہ افراد سال بھر کام کرتے ہیں اور چار ماہ میں اوپر سے نیچے صفائی ہوتی ہے۔ اور ساتھ ہی دوسرا دور شروع۔ گویا پورے برج خلیفہ کو باہر سے سال میں تین بار پوچا لگایا جاتا ہے۔

کچے گھروں اور فرش سے شروع ہوا پوچا اوپر بیان کردہ مراحل سے گزرتا پوچا اب قوموں کی زندگی کا بھی مستقل ساتھی بن چکا۔ محاورے اور استعارہ کے طور اکثر شعبہ ہائے حیات میں پوچے کا طوطی بول رہا ہے۔ ایک عزیز کو یو ایس اے فون کرتے اس کی بیگم کا پوچھا تو جواب تھا، ”جی وہ ڈریسنگ ٹیبل پہ بیٹھی ہے۔ سہیلی گھر جانا ہے لہذا پوچا پھیرا جا رہا ہے“ بیوٹی پارلرز کی تو شہرت ہی بطور پوچا کارنرز ہو چکی کہ اتنا لیپ کیا جاتا ہے کہ خاوند بھی پہچان نہیں پاتا۔

زوال پذیر معاشروں میں ہر کوئی دوسرے کو دغا دیتے یہی سمجھتا ہے کہ اس کو دغا نہیں دیا جاسکتا مگر وہ خود سب کو پوچا لگا سکتا ہے۔

” کیے کرائے پر پوچا پھیر دینا“ اور ”پونچھ پانچھ پوچا پھیر سب لے بھاگنا“ کی کرامات کسے معلوم نہیں۔ کاروبار سے سیاست تک کا یہ سب سے کارگر ہتھیار بن چکا۔ اکثر ترقی یافتہ ملکوں کی معیشت کی مضبوطی اور استحکام، اکثر ترقی پذیر اور کرپشن کے طوق لئے ممالک میں پھیرے جاتے ایسے پوچے ہی کی مرہون منت ہے۔ کرپشن، لوٹ مار اور چوری کی کمائی ان کے ملکوں میں پہنچتی اور پھلتی پھولتی اور معیشت کو پُھلانے میں مدد گار ہوتی ہے۔

تو ہو گئی نا بات سچ کہ پوچا لگانا یا پھیرنا یا اس کی حوصلہ افزائی کرنا، ہمارے زندگی بھر کے ساتھی ہونے کے ساتھ مملکتوں تک کا بھی دیرینہ ساتھی ہو چکا۔

” ہر رنگ میں لگتے پوچے، دنیا میں کم نہ ہوں گے۔ افسوس ہم نہ ہوں گے“

مراقبہ ختم اور بھوک زوروں کی۔ نیچے ڈنر کے لئے بھاگے۔ نصف سیڑھیاں ہی اترے ہوں گے کہ بیگم ہاتھ میں لمبے ڈنڈے والا موپ لئے ٹائلوں پہ پوچا لگاتے سیڑھیوں کے نزدیک پہنچ چکی تھیں۔ ان کی آواز کی گونج اور نگاہوں کی گھوری کی بجائے نظر دوبارہ ہاتھوں پہ پڑی۔ پستول تو نہیں تھا۔ ڈنڈا تو تھا۔ ہم پوچے سے گیلے حصے کو پھلانگتے ڈرائنگ روم کے صوفے پہ دبک چکے تھے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW