زیارت سنڈیمن تنگی اور زیارت کی

کوئٹہ اور گرد و نواح کے علاقے گھومنے کا شوق ہمارے لئے سیاحت کی پیاس بجھانے کے لئے تھا۔ کہ لمبے سفر پہ ڈرائیو کیے دو برس ہو چلے تھے۔ مگر بیگم صاحبہ کو گھر داری کی ایران کے راستے آئی گھریلو اشیا خریدنے کا جنون راضی کر گیا۔ عید کی چھٹیاں بھی چار پانچ بن رہی تھیں۔ فجر سے کافی پہلے ہم گھر سے نکل براستہ جھنگ خانیوال ملتان چھاؤنی کے بچوں کے پارک پہنچے۔ عید کی چھٹی۔ اب سیدھا بھاگم بھاگ علی پور میں ناشتہ کرتے کہیں رکتے، بچوں کو تفریح کراتے صادق آباد کے ہوٹل کے کمرے میں کھانا کھا دو تین گھنٹے استراحت فرما کے تازہ دم تھے۔
روہڑی سے کچھ پہلے ٹرک ڈھابے پہ چارپائیوں پہ بیٹھ ڈرائیور کھانے کے چٹخارے لیے، بچوں کو سکھر بیراج، اس سے نکلی نہروں سکھر ریلوے پل دکھاتے سمجھاتے، پل پل رکتے سکھر شہر میں پوچھتے پچھاتے ایک ہوٹل کے کمرے میں ڈیرہ ڈال چکے تھے۔ سکھر کی گرمی اور حبس اور مچھر۔ بچوں کو بتایا کہ عرب فاتحین نے یہاں پڑاؤ کرتے شدید گرمی کی وجہ سے ”سقر“ یعنی جہنم جیسا گرم کا نام دیا تھا جو سکھر ہو گیا۔ پنکھے کی ہوا بھی جیسے بھٹی کے آگے سے آ رہی ہو۔
ہماری سیاحت کی یادگار گرم مچھر اور حبس والی رات۔ فجر سے پہلے کوئٹہ کے لئے نکل جیکب آباد کا رخ کر چکے تھے۔ سکھر سے اس زمانے، 1981، میں کوئٹہ تک کا سفر سات آٹھ گھنٹے کا بتایا گیا تھا۔ دور دور تک سڑک ویران، دانہ پانی اور پٹرول پمپ کے نام نہ نشان کا بھی ٹرک ڈرائیور ہمیں بتاتے رہتے تھے۔ جیکب آباد سے ناشتہ کر پٹرول سے کار ٹنکی فل اور رستے میں پیٹ پوجا کا کچھ سامان رکھے نکلے۔ دونوں طرف ریت اور ٹیلوں، کہیں کہیں جنگلی جھاڑ جھنکاڑ کا راج۔
کبھی کوئی دور گاؤں سا قصبہ سا نظر آتا۔ سبی سے آگے تک تو گرم تپتی ہوا اور اڑتی ریت دل جسم گرماتی رہی مگر جیسے ہی دور پہاڑیاں نظر آنا شروع ہوئیں ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا بھی آتا۔ جہاں ٹھنڈک ہوتی آرام ہوتا۔ ہم بچوں کو علاقے کی تاریخ رسم و رواج بتاتے جاتے۔ مچھ، یہاں کی کوئلہ کی کانیں اور مچھ جیل کی کال کوٹھریوں سے جڑی داستانیں ان زیادہ دلچسپی اور حیرت کا باعث تھیں۔ ہرنائی وولن ملز کا ملک بھر میں نام تھا۔
پہاڑی علاقے میں چڑھائی اترائی تیز موڑ بچوں نے گلیات سوات میں دیکھ رکھے تھے مگر بنجر پہاڑوں میں اتنے اونچے لمبے پل ان کے لئے دلچسپی کا باعث تھے۔ دور سے ریلوے سرنگ قریب نظر آتی گئی تو بچے ایک برس پہلے کراچی سے کوئٹہ ریل سفر یاد کرنے لگ گئے۔ لمبی سرنگ، آب گُم اور اترائی پہ بے قابو ٹرین کو اونچائی کی طرف موڑنے کا سسٹم یاد کرتے دو بجے بعد دوپہر کے قریب ہم پھر سبحان ہوٹل کے باہر کھڑے تھے۔ پر رونق سڑک پہ درمیانے سے ہوٹل کا خصوصی مزیدار کھانا پھر یہاں لے آیا تھا۔ شام اور اگلا روز کوئٹہ گھومتے اور بیگم کا شوق پورا کرتے شاپنگ ہوتی رہی۔ کار کے پاس آئے تو وائپر کے نیچے نو پارکنگ کے چالان کی چٹ اور کورٹ حاضری کی تاریخ تھی۔ دور کھڑے سنتری جی کی عدالت میں ہی پیشی بھگت لی۔
اگلی صبح ہوٹل چھوڑ ہنؔہ جھیل پہ بچے کشتی میں بیٹھے نظاروں اور درمیان بنے ٹاپو کا مزا لے رہے تھے۔ ہنؔہ لیک انگریز سرکار کی 1894میں بنوائی مصنوعی جھیل ہے جو یہاں زراعت کے پھیلاؤ اور آب پاشی میں دنیا میں مشہور زیر زمین نظام کاریز سسٹم کو پانی کی سپلائی جاری رکھنے کے لئے بنایا گیا۔ انگریز بھاگ گئے اور اس صدیوں پرانے سسٹم کے بھاگ سو گئے۔ تین چار ہزار سے کم ہو بلوچستان کے وڈیروں لٹیروں کی خوراک بنتے یونیسکو کے کنٹرول میں آ، نمونہ کے سو کے لگ بھگ باقی ہیں۔
اوڑک کے چشمے اور نظارے دیکھتے قریبی سیبوں کے باغ میں مالی کھڑا دیکھ کر بچوں کو خود سیب توڑ کر کھانے اور ساتھ کے لینے کی درخواست کی۔ تھیلا بھر لذیذ سیب ساتھ لے ہم دوپہر بعد زیارت قائداعظم ریذیڈنسی کے نزدیک ریسٹ ہاؤس کے منتظم سے رہائشی کمرہ کی درخواست کر رہے تھے کہ گزشتہ سال یہیں جگہ مل گئی تھی۔ ریسٹ ہاؤس باورچی کا بنایا کڑاکے دار کھانا کھا کر گھومتے بازار کی سیر کرتے اور صبح کے لئے چونسہ اور دسہری آم اور پھل لے چکے تھے۔
صبح ہمارا رخ ہماری پچھلے برس کی محبوب ترین سیر گاہ سنڈیمن تنگی کی طرف تھا۔ پچھلے برس ہم ٹرین سے آئے تھے لہذا سامان ہوٹل میں چھوڑ کوئٹہ سے زیارت وین پہ آئے تھے سںڈیمن تنگی بھی وین پہ گئے تھے۔ سنڈیمن تنگی قدرت کا ایک عجوبہ ہے زیارت سے کچھ کلو میٹر دور باغات اور سبزہ کے علاقے میں پہاڑی کے درمیان ایک تنگ سی گلی اندر جاتی ہے۔ دونوں طرف کوئی تین سو فٹ اونچی پہاڑوں کی دیوار جو ہیبت ناک بھی اور خوبصورت بھی۔
کوئی سو فٹ کے لگ بھگ آٹھ دس فٹ چوڑی یہ گلی آ خر آگے جا کر بند ہو جاتی اور اوپر سے چاندی کی سی لکیر بناتی ٹھنڈے یخ پانی کی آبشار نیچے گرتی ہے۔ جہاں حوض بنا ہوا ہے اور ایک نالہ باہر کھلے میدان کی طرف پانی لے جا رہا ہے۔ باہر شدید گرمی کے باوجود تین سو فٹ بلند دیواروں کے اندر یہ تنگ سی گلی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کا مزا دیتی ہے۔ ایک عجوبہ یہ کہ دوپہر کے وقت اس انتہائی تنگ گلی میں سورج کی کرنیں حوض تک پہنچتی رنگ و نور کی چمک دیتی ہیں۔
ہم تھیلے میں ڈالے آم حوض میں ڈال کر گلی کے اندر گھومتے رہے۔ آم یخ ہو چکے تھے۔ باہر نکلے تو ہماری کار سے فاصلے پہ کوئٹہ کالج کے طلباء پکنک کے لئے پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ لمبی لمبی لوہے کی مضبوط ٹی آئرن کے سٹینڈ بنا گاڑی گئی اور ان کے اوپر لمبے مضبوط سریے باندھے ان پہ سالم بکرے آٹھ دس لٹکا کر نیچے آگ کے الاؤ جل چکے تھے۔ ہم نے ان کے متعلق پڑھا تو ہوا تھا۔ یہ دلفریب منظر، مصالحے اور بھُنے جا رہے گوشت کی خوشبوئیں دیکھنے چکھنے کا پہلا موقع تھا۔
گھومتے پھرتے بچوں کے ساتھ کھیلتے تھک کے ابھی تک ٹھنڈے پانی میں رکھے آم پھل اور ریسٹ ہاؤس سے بنوائے پراٹھے نکال کھانے کی تیاری کر رہے تھے کہ سامنے سے دو طالبعلم ایک بھنی ہوئی ران لے ہمیں پیش کرنے آ گئے۔ ان کی چاشنی بھری اپنے دور دراز سے آئے مہمانوں کی ضیافت کی درخواست سے زیادہ روسٹ بکرے کی خوشبو ہم سب کی اشتہا اس پیش کش کو بلا نخرہ دلی شکریہ ادا کرتے قبول کر چکی تھی اور ان سے گپ شپ شروع کرا چکی تھی۔ پینتالیس برس بیت چکے وہ مزا جو اس ران کھانے کا آیا آج بھی ہماری اولاد مل بیٹھے تو یاد کرتی ہے۔
اگلی بعد دوپہر ہمارا پروگرام نزدیکی مشہور (بابا خوارزی نام ہے شاید) مزار جسے عام طور زیارت ہی کے نام سے پکارا جاتا ہے اور زیارت قصبہ کا نام بھی اسی پہ ہے، کی طرف جانے کا تھا اور اس سے اگلی صبح زیارت سے براستہ ڈیرہ غازی خاں مظفر گڑھ فیصل آباد کا رخ رستے میں چند گھنٹے فورٹ منرو کے صحت افزا مقام کا بھی مزا لینا تھا۔ صبح سیر کرتے گھومتے اچانک اپنے سات سالہ بیٹے کو غائب پایا۔ سب کی سٹؔی گم؟ پریشانی میں ادھر بھاگے۔
ہم نیچے بازار کا رخ کر ہی رہے کی بازار سے آتے راستے پہ ایک بزرگ اس کا ہاتھ پکڑے دور سے ریسٹ ہاؤس کی طرف اشارہ کرتے اس کے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرتے واپس جا رہے۔ شیر جوان بازار کو نکل گیا اور واپسی کی راہ بھول گیا۔ ”قائد اعظم کے گھر“ کی نشانی سن کر بزرگ مہربانی کرتے رہنمائی کر گئے۔ جان میں جان آئی۔ دوپہر نیچے بازار جا کے توا مصالحہ والے کٹا کٹ، کباب تکہ سے دوپہر کے کھانے کا مزا لیتے ہوٹل والے سے ڈیرہ غازی خاں کا راستہ پوچھنے سے پہلے ہی میز پہ پڑا اخبار مزا کرکرا کر چکا تھا۔
ایک خشک برساتی نالہ جس میں سے سڑک گزرتی تھے دامن کوہ میں شدید بارشوں سے طوفانی نالہ بن کے رستہ بند کر چکا تھا۔ جو کئی روز بھی بند رہ سکتا تھا۔ واپس ریسٹ ہاؤس آتے سامنے سے اس کا منتظم ہمیں پریشانی میں ڈھونڈتا مل گیا۔ خوش خبری سنائی کہ چند گھنٹے بعد کوئی بڑے صاحب ریسٹ ہاؤس پہنچ رہے ہیں اور ہمیں فوراً کمرہ خالی کرنا ہے۔ برساتی نالہ اور بڑے صاحب کا مداوا کون کرے۔ لہذا زیارت کے پرفضا مزید مقامات کی زیارت کا ارادہ ملتوی کر ہم رات پھر کوئٹہ سبحان ہوٹل آ ٹکے۔ ہمیں کوئٹہ مزید گھومنے کا اور بیگم صاحبہ کو مزید شاپنگ کی موج ہو گئی۔ ہمیں بھی کوئٹہ آٹو پارٹس مارکیٹ جا کراچی مارکیٹ میں بنے دوستوں سے چائے پینے کا موقع ملا۔
اگلی بعد دوپہر ہم واپسی کر چکے تھے اور پھر سکھر میں ایک اور رات سقر جیسی گزرنے کا ہول ذہن میں جا گزین تھا۔ سکھر پہنچتے اندھیرا ہو چکا تھا۔ دائیں طرف نہر کنارے کھانا کھانے کیا رکے، ہماری موجیں لگ گئیں۔ سکھر بیراج سے نکل کے آتی اتنی چوڑی نہر، اور اس پر سے گزر کے آتی ٹھنڈی خوشگوار ہوا کے جھونکے۔ کھری چارپائیوں کے اوپر آلتی پالتے مارے بھوکے پیٹوں میں لذیذ کھانا ٹھونسنا۔ اچانک خیال آیا ہوٹل مالک سے درخواست کہ بھائی اگر ممکن ہے تو ہمیں رات یہیں نہر کنارے ان چارپائیوں پہ سونے دو جو بل ہے میں ابھی ادا کر دیتا ہوں۔
علی الصبح ہم نکل جائیں گے۔ ہوٹل اگر کوئی ائر کنڈیشنڈ ہے بھی تو کیا ہمیں یہ ہوا مست کیے دے رہی ہے۔ شریف آدمی کچھ سوچتے بولا کہ صاحب ایسے اچھا نہیں لگتا۔ میرا گھر نزدیک ہے۔ آپ کار پہ میرے ساتھ چلیں گھر سے بستر کھیس لے آتے ہیں۔ پھر موج سے سوئیں۔ خطرہ کی بھی کوئی بات نہیں۔ ایک گھنٹہ بعد بچے آرام دہ بستروں پہ نہر کی ہلکے بلبوں کی روشنی میں چمکتی ہلکورے لیتی لہروں کے اوپر سے گزر کے آتے ٹھنڈی خوشگوار ہوا کے جھونکوں کی لوری میں خراٹے لے رہے تھے اور ہم نہر کنارے ٹہل کر شکر خدا کر رہے تھے کہ گرم عذاب جیسی رات کی بجائے ہوٹل مالک کی نوازش ہمارے لئے زندگی بھر کے لئے یہ ایک یادگار رات بنا چکی تھی۔
علی الصبح بستر لپیٹ کر ہم واپسی کے سفر پہ رواں تھے۔ اسی ٹرک ڈرائیور ہوٹل پہ پراٹھے چنے کا ناشتہ اور پٹرول پمپ سے کار کی ٹنکی فل کرا ہم نے اپنے نئی راہوں سے گزرنے کا شوق پورا کرنے کے لئے رحیم یار خاں سے براستہ بہاولپور خانیوال کے لئے سٹیرنگ موڑ چکے تھے۔ کوئی نصف سفر طے کیے کار میں پٹرول ڈلوانے کے لئے پٹرول پمپ پہ رکے تو دھماکہ دار خبر ملی کہ عید کی چھٹیاں یا کچھ اور چار پانچ روز سے پٹرول کی کوئی ڈیلیوری نہیں ملی اور آگے بھی کسی پٹرول پمپ پر پٹرول نہیں ہے۔
نواں پواڑا پے گیا۔ اب اگرچہ بظاہر کافی پٹرول تھا مگر بہاولپور ابھی کافی دور تھا۔ ایک نظر پٹرول کی سوئی پہ اور دوسری سڑک پہ لگے کلو میٹر فاصلے پہ۔ دمشق کے قحط میں یاراں عشق فراموش کر چکے تھے۔ ارد گرد کے ماحول میں دلچسپی لیتے اپنا چسکا پورا کرنے کا سواد گُم ہو چکا تھا۔ ہر پٹرول پمپ پہ رکتے، ہاتھ کی کلائی دائیں مڑتی ”ہر جگہ خلاص“ کا اشارہ کرتی اور آگے بڑھ جاتے۔ پٹرول کی سوئی ”ریزرو“ کے نشان کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اور دل ”دھڑکن دھڑکن“ کی طرف۔ رفتار درمیانی کرلی کہ پٹرول کم خرچ ہو۔ کہیں رکنے کا سوال ہی نہ تھا۔ انیس سو ستر میں بھی ایک تجربہ ہو چکا تھا جب سوات جاتے مردان کے بعد، پٹرول پمپ تھے بھی کم اور پٹرول بھی ختم۔ در گئی پن بجلی گھر کا دیکھنا چھوڑنا پڑا۔ پہاڑ کی چڑھائی پہ یہی دھڑکن تھی۔ بس خدا کا کرنا کہ پہاڑ کے دوسری طرف اترائی سے پہلے ادھر سوئی ریزرو کے بھی نصف تک پہنچ چکی تھی کہ ایک پٹرول پمپ نظر آ گیا۔
اب بھی ادھر ریزرو کی بتی سامنے جلی ادھر بہاول پور کے مضافات کے آثار آ گئے۔ مگر پمپ سب ویران۔ فیصلہ کیا کہ رات یہیں ہوٹل میں قیام ہو اگلے روز پٹرول ملا تو گاڑی چل پڑے گی، ورنہ پیدل تو شہر گھومیں گے۔ ہوٹل اچھا آرام دہ نظر آیا کمرے بک کروائے کھانا کھا کر آرام کیا اور کار سٹارٹ کر ارد گرد کی سڑکوں کا جائزہ لینے نکل پڑے کہ پٹرول پمپ ارد گرد کوئی نزدیک ہے تو ان سے معلومات تو لیں۔ پٹرول پمپ سامنے تھا۔ اور جیپ میں پٹرول ڈالا جا رہا تھا۔
”تیری میری گل بن گئی“ قسم کا نعرہ لگا اب ہم ٹنکی فل کرواتے بہاولپور کی سیر بھول ہوٹل آچکے تھے۔ قوم دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ ہماری رائے تھی کہ ہوٹل کا بل تو دے چکے اب رات تک بہاولپور شہر گھوما جائے۔ اور صبح گھر کی راہ لی جائے۔ فریق مخالف کی لیڈر ہماری بیگم کا ماننا تھا کہ شاپنگ تو اب کرنی نہیں صبح بچوں کا سکول ضائع ہو گا۔ لہذا چل چلیے سجناں دے ڈیرے تے۔ ووٹنگ میں چار دو سے ہم ہار چکے تھے لہذا ہوٹل سے ڈیرہ ڈنڈا اٹھا رات ایک بجے فیصل آباد گھر کے گیٹ پر ہماری ٹویوٹا مارک ون کار کا ہارن ہمارا معروف و مشہور نعرۂ مستانہ ”پم پم، پم پمم پم“ بجا کے گیٹ کھلوا رہا تھا۔
پینتالیس برس گزر چکے۔ اپنی پرائی اصلی نقلی دنیا کئی پلٹے کھا چکی۔ ہمیں بھی رب مہربان نے لاتیں مار مار پاکستان سے نکال کر دنیا کے شمال مغربی کنارے الاسکا کے ہبرڈ گلیشئر سمیت ملکوں ملکوں۔ دیس بدیس، شہروں جنگلوں جھیلوں تک گھما جہاں ہماری سیاحت کے شوق کا اپمان رکھا وہیں اپنی قدرت کے مظاہر کو ہمارے لئے مسخر کیا۔ مگر جو لطف سکھر بیراج سے نکلی مغرب کا رخ کرتی ہلکورے لیتے چمکتی لہروں اور ٹھنڈی ہوا سے لوری دیتی نہر کے کنارے تاروں بھرے آسمان کے نیچے رات گزارنے کا آیا وہ نہ بھولے۔
” یہ راتیں، یہ موسم ندی کا کنارا یہ ٹھنڈی ہوا“ آج بھی ”ہمیں نہ بھلانا، ہمیں نہ بھلانا“ کا راگ لئے دل میں اسی ٹھنڈک کا احساس پیدا کرتا ہے۔
