بلاگ

جدید سائنس اور صحت: بڑھاپے کے اثرات میں کمی کی داستان

dr santosh kamrani

کیا واقعی جدید سائنس اور طب نے انسانی صحت اور عمر کے معیار کو اس حد تک بدل دیا ہے کہ بڑھاپے کے آثار آج ماضی کے مقابلے میں کم نمایاں دکھائی دیتے ہیں؟ یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی حیاتیاتی اور سماجی تبدیلیاں پوشیدہ ہیں۔ اگر ہم چند صدیوں پیچھے جائیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ماضی میں بڑھاپا صرف عمر کا مرحلہ نہیں بلکہ کمزوری، بیماری اور جلد زوال کا دوسرا نام تھا۔ غذائی قلت، ناقص حفظانِ صحت، صاف پانی کی عدم دستیابی اور علاج کی محدود سہولیات نے انسانی جسم کو وقت سے پہلے تھکا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انیسویں صدی کے اختتام تک دنیا کے بیشتر خطوں میں اوسط انسانی عمر چالیس سے پچاس برس کے درمیان رہی۔

جدید دور میں یہ منظرنامہ نمایاں طور پر بدل چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2023 تک عالمی اوسط عمر بہتر ہو کر تقریباً تہتر برس تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ کسی ایک طبی دریافت کا نتیجہ نہیں بلکہ ویکسی نیشن، اینٹی بایوٹکس، صاف پانی، بہتر غذائیت اور صحتِ عامہ کے منظم نظام کی مشترکہ پیداوار ہے۔ چیچک کے خاتمے سے لے کر بچوں کی شرحِ اموات میں تاریخی کمی تک، جدید طب نے انسانی جسم کو بیماری کے بے رحم چکر سے کسی حد تک آزاد کیا ہے۔ اینٹی بایوٹکس کی دریافت، خاص طور پر پینسلین، نے انفیکشنز کو وہ مہلک طاقت نہ رہنے دی جو کبھی بڑھاپے کو وقت سے پہلے مسلط کر دیتی تھی۔

غذائیت میں بہتری نے اس حیاتیاتی تبدیلی کو مزید تقویت دی ہے۔ جدید غذائی سائنس یہ واضح کر چکی ہے کہ متوازن خوراک نہ صرف بیماریوں سے بچاو میں مدد دیتی ہے بلکہ خلیاتی سطح پر عمر بڑھنے کے عمل کو بھی سست کر سکتی ہے۔ بحیرہ روم کی غذا، جس میں زیتون کا تیل، مچھلی، دالیں، سبزیاں اور تازہ پھل شامل ہیں، دل کی صحت کے حوالے سے سب سے زیادہ زیرِ مطالعہ غذائی نمونوں میں شامل ہے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی طویل المدت تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرزِ خوراک پر عمل کرنے والوں میں قلبی امراض کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس خلیات کو آکسیڈیٹو تناو¿ سے بچاتے ہیں، جو عمر رسیدگی کا ایک اہم حیاتیاتی سبب سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ڈی این اے کی مرمت کے عمل کو براہِ راست "فعال” کرنا ایک پیچیدہ اور محتاط دعویٰ ہے جسے سائنس ابھی تحقیق کے مرحلے میں رکھتی ہے۔

طب کے میدان میں ہونے والی پیش رفت نے بڑھاپے کے تجربے کو بھی بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں جیسی حالتیں جو کبھی خاموش قاتل سمجھی جاتی تھیں، آج ادویات اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے قابلِ قابو ہو چکی ہیں۔ کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات نے لاکھوں افراد کو دل کے دورے اور فالج سے بچایا ہے، جیسا کہ معروف طبی جرائد میں شائع ہونے والے بڑے میٹا اینالیسس ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح اینٹی ہائپرٹینسو ادویات کے استعمال سے فالج کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی تصدیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے طویل المدت اعداد و شمار سے ہوتی ہے۔

ذہنی صحت کے شعبے میں بھی عمر رسیدگی کو نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ نیورو سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دماغ جامد نہیں بلکہ اس میں لچک موجود ہوتی ہے، جسے دماغ کی لچک (Neuroplasticity) کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق دماغ نئی معلومات اور تجربات کے ذریعے عمر کے کسی بھی حصے میں نئے اعصابی رابطے بنا سکتا ہے۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ مسلسل ذہنی سرگرمیاں، سماجی روابط اور سیکھنے کا عمل ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ نئی زبانیں سیکھنا یا موسیقی میں مشغول ہونا بھی ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔ جاپان میں بزرگوں کے لیے قائم کمیونٹی سینٹرز اور سماجی نیٹ ورکس اس بات کی عملی مثال ہیں کہ سماجی تنہائی کم کر کے ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

جلد کی صحت کے حوالے سے بھی جدید علم نے بڑھاپے کے ظاہری آثار کو محدود کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے مضر اثرات اب سائنسی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہیں۔ باقاعدہ سن اسکرین کا استعمال نہ صرف جھریوں کی رفتار کو کم کرتا ہے بلکہ جلد کے سرطان کے خطرے کو بھی گھٹاتا ہے۔ اگرچہ کاسمیٹک مصنوعات کے دعوے اکثر مبالغہ آمیز ہوتے ہیں، لیکن سورج سے تحفظ اور آلودگی سے بچاو¿ کے بنیادی اصول جلد کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ تمام ترقیاں صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں رہیں۔ برصغیر جیسے خطوں میں بھی صحتِ عامہ کی اسکیموں نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو طبی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کی ہے۔ بھارت میں آیوشمان بھارت پروگرام کے تحت کروڑوں افراد کو علاج کی سہولت میسر آئی، جس سے ہسپتال کے اخراجات میں نمایاں کمی ہوئی۔ غذائی سپلیمنٹ، جیسے وٹامن ڈی اور کیلشیم، نے ہڈیوں کی صحت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے، اگرچہ انہیں مکمل علاج کے طور پر پیش کرنا سائنسی طور پر درست نہیں۔

سائنسی تحقیق نے طویل عمری کے جینیاتی پہلوو¿ں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ FOXO3 جیسے جینز اور ٹیلومیرز (Telomeres) پر ہونے والی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ جینیات اور طرزِ زندگی کا امتزاج عمر کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے۔ جاپان کے اوکیناوا کے باشندے، جو اعتدال پسند غذا اور جسمانی سرگرمی کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی نمایاں مثال ہیں۔

مستقبل میں، سائنس دان عمر رسیدگی کو محض ناگزیر حقیقت کے بجائے ایک قابلِ مطالعہ حیاتیاتی عمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ میٹفورمن جیسی ادویات اور جین ایڈیٹنگ کی ٹیکنالوجیز پر تحقیق جاری ہے، اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ انسان عمر بڑھنے کے عمل کو مکمل طور پر قابو میں لے لے گا۔ تاہم، یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ جدید سائنس نے بڑھاپے کو کمزوری کی علامت کے بجائے ایک نسبتاً صحت مند اور فعال مرحلے میں بدلنے کی سمت اہم قدم اٹھا لیا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW